واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > مزاحیہ ادب



مزاحیہ ادب مزاحیہ ادب


ہوا میں تجھے کیسے اچھالوں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-01-11, 10:56 AM   #1
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ہوا میں تجھے کیسے اچھالوں

ہوا میں تجھے کیسے اچھالوں

تحریر: محمودالحق

مری کے پہاڑوں پر گنگناتی فلمی ہیروئین پانچ سات سہیلیوں کے درمیان موج مستی کا گیت آلاپ رہی ہوتی ۔ تو درختوں کی اوٹ سے چند اوباش نکل کر رنگ میں بھنگ ڈالنے پہنچ جاتے ۔آپس کی بات تو تکار سے بڑھتے بڑھتے ہاتھ پکڑنے تک جا پہنچتی تو لڑکیوں کا ہاتھ جوتے کو ہاتھ میں لینے تک جا پہنچتا ۔ اور چھترول شروع ہونے سے کبھی پہلے کبھی بعد میں اوباش گرتے پڑتے بھاگ کھڑے ہوتے ۔
ایسے فلمی مناظر اکیسویں صدی میں ریلیز ہونے والی فلموں میں عکس بند نہیں کئے جاتے ۔کیونکہ اب عشقیہ داستانوں پر مبنی کہانیاں پزیرائی نہیں پاتیں ۔اس تابوت میں آخری کیل اسی کی دہائی میں مولا جٹ فلم میں دارو نے ٹھونک دیا تھا ۔جب ماکھا جٹ ناک پہ جوتے کا نشان لے کر آیا تھا ۔اور نوری نت نے دارو کو ذلت کے نشان کو مٹانے پر شاباشی دی تھی ۔ستر اسی کی دہائی میں ایسے حقیقی واقعات کے بھی چشم دید گواہ ہوں گے ۔جو سرراہ جوتا بازی کی کرشمہ سازی دیکھ چکے ہوں ۔گواہ تو شائد حکمران پارٹی کے قائد کو مخالف اتحاد کی طرف سے جوتے دیکھانے کے بھی ہوں ۔ جنہیں چمڑا مہنگا ہونے سے مراد لے لیا گیا ۔
غرض جوتا سازی کی صنعت ہو یا جوتا بازی ۔اس کے مختلف ادوار ہیں ۔اب اگر پولیس کے زیر استعمال چھتر کی بات کی جائے تو وہ ایسا ہے کہ جسے کبھی پہنا نہیں جا سکتا ۔پھر بھی اسے چھتر کہا جاتا ہے ۔شائد اس کے پڑنے کی آواز جوتے پڑنے سے ملتی جلتی ہے ۔
بیسویں صدی سے اکیسویں صدی میں جو روایات من و عن منتقل ہوئیں ۔ ان میں سر فہرست پولیس کا چھتر ہے ۔ دوسری طرف سیاسی طور پر جوتا بازی کبھی بھی اچھا شغل نہیں رہا ۔مگر گزشتہ چند سالوں میں اس صنعت کو خاصی شہرت و پزیرائی حاصل ہو چکی ہے ۔
اکثر دو مد مقابل ٹیموں کے درمیان ٹاس کے ذریعے سکہ اچھال کر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کون پہلی باری کا حقدار ہے ۔لیکن انفرادی اور اجتماعی طور پر جوتا ایسا تاثر نہیں رکھتا ۔ کیونکہ وہ اچھل کر ہی فیصلہ دے دیتا ہے ۔
ایک بات تو طے ہے کہ روزمرہ استعمال میں رہنے والا مقبولیت کی چوٹیاں سر کرنے کا عزم رکھتا ہے ۔ جوتے کی نوک پہ رکھنے کے محاورے سے جس نے تذلیل کی گہرائیوں کو چھوا۔ اب وہ ہواؤں میں اچھل اچھل کر خوشیوں میں پھولے نہیں سماتا ۔ بحرحال جوتا پڑنے سے اچھلنے کا درد جھیلنا زرا مشکل دیکھائی دیتا ہے ۔
اچھے نتائج کا نکلنا بعید از قیاس نہیں ۔ جوتا بازی سے دیکھنے والے ضرور سبق حاصل کرتے ہیں ۔جیسا کہ ہم نے میٹرک سائنس میں فسٹ ڈویژن میں پاس کیا ۔اتنی تفصیل تو دینا ضروری ہو گیا کہ کہیں ہمیں جوتا بازی کا شکار نہ سمجھ لیا جائے ۔ ایسا تجربہ زندگی میں دیکھنے سے زیادہ نہیں ۔گلے سے نکلنے والی ہائے ہائے سننے سے تو آنکھوں میں اندھیرا چھا جاتا تھا ۔
جب نویں جماعت کے آغاز میں نئے کمانڈر ان چیف انگلش کے ٹیچر نے چارج سنبھالا ۔ تو بچپن سے ہی کمزور یادداشت رکھنے والے اس رنگیلے کھیل کے زیر عتاب آئے ۔دونوں ٹانگوں کے نیچے سے دونوں کان پکڑنا بھاری بھر کم موٹوں کے لئے پہلے ہی کسی سزا سے کم نہیں تھا ۔اوپر سے دفعہ 12 لگنے سے سزا با مشقت بھی ہو جاتی ۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ٹیچر باٹا کا 12 نمبر پہنتے تھے ۔
اب جب کہ جوتا سازی ایک منعفت بخش کاروبار کے بعد جوتا بازی قبولیت عام کی سند حاصل کرتی تلوار بنتی جارہی ہے ۔ جو تلوار جیسی دھار تو نہیں رکھتی مگر زخم اس سے بھی کہیں گہرا دیتی ہے ۔اور اس پر مرہم رکھنا ابھی وقت نے سیکھا نہیں ہے ۔
اگر ملکی سربراہان اور سیاسی قائدین پر یہ دفعہ عوامی مینڈیٹ سے نافذالعمل ہو گئی ۔ تو امید کی جا سکتی ہے کہ اچھی یادداشت رکھنے والے ضرور امتحانات میں فسٹ کلاس حاصل کریں گے ۔ اور کمزور خلیفے اچھے اداروں کی رکنیت کے اہل نہیں ہوں گے بلکہ قابل ہی نہیں ہوں گے ۔ کیونکہ قابلیت کے لئے جہالت کے اندھیرے دور کرنے ضروری ہیں ۔
یونیورسٹی میں پڑھنے والے نہر کنارے چلتے چلتے محبوبہ کو منا بنا کر ہوا میں اچھالنے کی خواہش کریں اور محبوبہ منا بننے پر اعتراض کی بجائے اچھالے جانے پر خوش ہو ۔ تو منے کو اپنا حق یوں اچھال کر استعمال کرنے والوں پر اعتراض ضرور ہو گا ۔
اب اعتراض ہوتا ہے تو ہوتا رہے ۔خوشیوں کے لمحات بچے ہی کتنے ہیں ۔ جو اعتراضات کی بھینٹ چڑھا دیں ۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے کہاں سب بچے ہیں ۔انھیں بھی تو خوراک اچھال اچھال کر ہی دی جارہی ہے ۔اور وہ منے کی طرح اپنی آغوش میں سما لیتے ہیں ۔ جن کے اپنے جگر گوشے منے خوفناک سیلابی ریلے اپنے ساتھ بہا کر لے گئے ۔اور وہ کچھ نہ کر سکے ۔
ان کے چاروں اطراف اس قدر پانی ہے کہ ان کے بہتے آنسو کسی کو دیکھائی ہی نہیں دیتے ۔




آگے داخلہ منع ہے !


کئی ماہ پہلے لکھا گیا تھا ۔ لیکن شائد پاک نیٹ پر پوسٹ نہیں ہو سکا ۔ اگر پہلے ہو چکا ہو تو معزرت ۔ خاموشی سے بغیر شکریہ کا بٹن دبا کر نیوے نیوے ہو کر نکل جائیں ۔ کیونکہ میری تحریروں میں چسکے والی کوئی شے نہیں پڑھتے آپ ۔
"اچھی شیرنگ ہے" کے کمنٹس یہاں شئیر نہ کریں ۔ تنبیہ نہیں درخواست ہے ۔ کیونک یہ کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہے ۔


پڑھنا نہیں منع تھا
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (06-01-11), نورالدین (10-01-11), تانیہ رحمان ستارہ (06-01-11), عدنان دانی (06-01-11), عروج (06-01-11)
پرانا 06-01-11, 11:21 AM   #2
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,240
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھی تحریر ہے محمود بھائی
مشتاق احمد یوسفی کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں فلموں میں اگر کسی ہیروین کا کرتہ
غلطی سے بھی ہیرو کے ہاتھ سے لگ جائے تو ہیروین ایک گز چھلانگ لگا کر کہتی ہے
" جان کھٹ لے بے ایماناں "
اور نزدیک ترین درخت کے تنے سے بغل گیر ہو جاتی ہے۔
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا
مت سوچو !
عدنان دانی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (06-01-11), بزم خیال (06-01-11)
پرانا 06-01-11, 02:02 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عدنان دانی مراسلہ دیکھیں
بہت اچھی تحریر ہے محمود بھائی
مشتاق احمد یوسفی کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں فلموں میں اگر کسی ہیروین کا کرتہ
غلطی سے بھی ہیرو کے ہاتھ سے لگ جائے تو ہیروین ایک گز چھلانگ لگا کر کہتی ہے
" جان کھٹ لے بے ایماناں "
اور نزدیک ترین درخت کے تنے سے بغل گیر ہو جاتی ہے۔
ھاں ایسا ھی دیکھا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (06-01-11), بزم خیال (10-01-11)
پرانا 10-01-11, 09:05 AM   #4
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عدنان دانی مراسلہ دیکھیں
بہت اچھی تحریر ہے محمود بھائی
مشتاق احمد یوسفی کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں فلموں میں اگر کسی ہیروین کا کرتہ
غلطی سے بھی ہیرو کے ہاتھ سے لگ جائے تو ہیروین ایک گز چھلانگ لگا کر کہتی ہے
" جان کھٹ لے بے ایماناں "
اور نزدیک ترین درخت کے تنے سے بغل گیر ہو جاتی ہے۔
گاؤں کی الہڑ مٹیار دیکھنے میں ماڈل نظر آتی تھی ۔ اب کیسی ہوتی ہے ہماری فلمی ہیروئین ۔ اب تو جان کڑ لیتی ہو گی بے ایمان کی ؟
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا
عدنان دانی (10-01-11)
پرانا 10-01-11, 09:28 AM   #5
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,240
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ٹھیک کہا آپ نے ، شیخ صاحب نے میڈیا کو آذادی کیا دی کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب تو گھر والوں کے ساتھ ٹی بھی دیکھی نہیں جاتی۔
مجھے تو پرانے زمانے والے الف نون اور جنجال پورہ بہت پسند ہے۔
عدنان دانی آف لائن ہے   Reply With Quote
عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (10-01-11)
پرانا 10-01-11, 09:42 AM   #6
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آزادی تو ایسی ہی ہوتی ہے ۔ مطبل شرم کاہے کی ۔
الف نون کی کیا بات تھی ۔
الف کا تو پتہ نہیں نون تو آج بھی پنجاب میں موجود ہے ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (10-01-11)
جواب

Tags
color, کلاس, گئی, ٹانگوں, پولیس, پوسٹ, پاک, وقت, واقعات, منتقل, انگلش, بچپن, بازی, تحریر, جیسی, خلاف, دیں, درخواست, زندگی, سائنس, شروع, عوامی, عزم, صنعت, صدی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ریمنڈ جیسے کئی امریکی طالبان کی صفوں میں شامل ہو چکے : ذرائع گلاب خان خبریں 0 28-02-11 06:23 AM
::::::: میں اُس سے کیسے مانگوں ؟ ::::::: عادل سہیل دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات 9 13-06-10 09:21 AM
میں کیسے بتاوں میرے لیے کیا ہو تم Ashfaq Ahmed قہقہے ہی قہقے 9 18-12-09 06:33 PM
ہم اپنے آپ کو جنوں کی ایذا سے کیسے بچائیں چیتا چالباز جادو کا اسلامی علاج 0 31-12-08 06:38 AM
میں اپنی کمائی کیسے کیش کروں راجہ صاحب معلومات پاک۔نیٹ اور شعبہ تدریس 56 03-12-08 03:40 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:53 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger