![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#16 | |||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
7:160 اور ہم نے انہیں گروہ در گروہ بارہ قبیلوں میں تقسیم کر دیا، اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کے پاس (یہ) وحی بھیجی جب اس سے اس کی قوم نے پانی مانگا کہ اپنا عصا پتھر پر مارو، سو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، پس ہر قبیلہ نے اپنا گھاٹ معلوم کرلیا، اور ہم نے ان پر اَبر کا سائبان تان دیا، اور ہم نے ان پر منّ و سلوٰی اتارا، (اور ان سے فرمایا) جن پاکیزہ چیزوں کا رزق ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے کھاؤ، (مگر نافرمانی اور کفرانِ نعمت کر کے) انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کر رہے تھے وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُواْ مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـكِنْ كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ 2:57 اور (یاد کرو) جب ہم نے تم پر (وادئ تِیہ میں) بادل کا سایہ کئے رکھا اور ہم نے تم پر مَنّ و سلوٰی اتارا کہ تم ہماری عطا کی ہوئی پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ، سو انہوں نے (نافرمانی اور ناشکری کر کے) ہمارا کچھ نہیں بگاڑا مگر اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ قَدْ أَنْجَيْنَاكُم مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَوَاعَدْنَاكُمْ جَانِبَ الطُّورِ الْأَيْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى 20:80 اے بنی اسرائیل! (دیکھو) بیشک ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات بخشی اور ہم نے تم سے (کوہِ) طور کی داہنی جانب (آنے کا) وعدہ کیا اور (وہاں) ہم نے تم پر من و سلوٰی اتارا فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِي الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَى إِنِّي أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ 28:30 جب موسٰی (علیہ السلام) وہاں پہنچے تو وادئ (طور) کے دائیں کنارے سے بابرکت مقام میں (واقع) ایک درخت سے آواز دی گئی کہ اے موسٰی! بیشک میں ہی اللہ ہوں (جو) تمام جہانوں کا پروردگار (ہوں) ہر نیا طالب علم جس نے تعلیم رٹا سے کی ہو جب میدان میں اترتا ھے تو وہ خود کو دنیا علوم میں ماسٹر سمجھتا ھے، وہ کوئی بھی نیا سوال کرتا ھے یہ جان کر کہ اس کا جواب بس اسے ہی معلوم ھے، پھر جب جواب مل جائے تو اگلی نششت میں جو لکھتا ھے اپنی عقلمندی کا ثبوت بھی خود ہی فراہم کرتا ھے۔ کہنے سننے کے لئے جب تک فرینڈلی گفتگو نہ ہو ایسا ہی ہوتا ھے، ابھی علم کے میدان اور بھی ہیں۔ والسلام
__________________
|
|||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() |
قرآن سے حوالہ عنائت فرمائیے کہ "حوا" کون تھیں؟ ان کا نام کس کس آیت میں آیا ہے ؟ یا " کس آیت میں ان محترمہ کا قصور بیان ہوا ہے کہ ہم جانیںکہ ان کا کونسا قصور ہے جس کی وجہ سے ان کو خیانت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے ؟ اور جس کی وجہ سے عورتیں اپنے شوہروںسے خیانت کی مرتکب ہوتی ہیں ۔۔۔
والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 24-01-12 at 11:04 AM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (24-01-12), حیدر Rehan (24-01-12) |
|
|
#18 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اگر آپ حواؑ کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہوں تو ازراہ کرم یہ چونکہ نیا موضوع ہو جائے گا، اسے اگر نئے موضوع ہی میں ڈسکس کر لیں تو بہتر ہے۔ ورنہ یہاں کھچڑی بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65] |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#19 |
|
Senior Member
![]() |
پھر سے پڑھئے ۔۔۔۔ بات یہ ہے کہ حوا کا حوالہ بھی اسی دھاگے میںموجود ہے۔ رانا عمار کے ابتدائی دھاگے کی پہلی لائین پڑھئے۔
قران حکیم میں "حوا" نام کا ذکر نہیں ۔ اور نا ہی ان محترمہ کے کسی منافقت کا کوئی ذکرہے۔۔۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا علم نبی اکرم کو کیسے ہوا؟؟؟جب کہ نبی اکرم غیب کے علم کے بناء وحی کے دعوے دار نہیں ہیں۔ اللہ تعالی کا فرمان قرآن تو دونوں کی بات کرتا ہے ۔ البتہ "حوا" اور حوا کا جرم --- تحریف شدہ تورات میں ضرور پایا جاتا ہے ۔ کیا حدیث ، ان کتب کی تفسیر ہے ؟؟؟ یقین آگیا ![]() حوالہ : 7:21 تا 7:26 وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ اور ان دونوں سے قَسم کھا کر کہا کہ بیشک میں تمہارے خیرخواہوں میں سے ہوں 7:22 فَدَلاَّهُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْءَاتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ پس وہ فریب کے ذریعے دونوں کو اتار لایا، سو جب دونوں نے درخت (کے پھل) کو چکھ لیا تو دونوں کی شرم گاہیں ان کے لئے ظاہر ہوگئیں اور دونوں اپنے (بدن کے) اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے، تو ان کے رب نے انہیں ندا فرمائی کہ کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت (کے قریب جانے) سے روکا نہ تھا اور تم دونوں سے یہ (نہ) فرمایا تھا کہ بیشک شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے 7:23 قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ دونوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی؛ اور اگر تو نے ہم کو نہ بخشا اور ہم پر رحم (نہ) فرمایا تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے قصور تو دونوںکا ہے ۔ "آدم "کا بھی اور ان کی زوجہ کا بھی۔ تو یہ جرم "صرف حوا" کا جرم کیسے بن گیا ؟؟؟ کچھ نا کچھ دال میں کالا ہے ۔۔ اگر یہ روایت قرآن کی کسی آیت کی تفسیر ہوتی تو ضرور بالضرور --- ان دونوں -- کا جرم ثابت ہوتا۔۔۔۔ بات ساری یہ ہے کہ یہ روایت خاصطور پر "تحریف شدہ توریت " کی تفسیر ہے ۔۔ کیوں؟ اس لئے کہ توریت بھی اللہ تعالی کی نازل کی ہوئی تھی اور اگر اس میں یہ واقعہ موجود تھا تو پھر قرآن کے مطابق دونوں کا قصور تھا۔ لیکن توریت میں ایسا نہیں ۔ تحریف شدہ توریت میںیہ "حوا" کا قصور ہے ۔۔۔ لہذا یہ روایت یقینی طور پر تحریف شدہ توریت کی تفسیر ہے ۔ کہ قرآن تو فرقان ہے ۔ ایک اور ثبوت کہ کتب روایات تحریف شدہ مواد سے بھرپور ہیں ۔۔۔ ممکن ہے سراسر جھوٹ سے ۔۔۔؟؟ کیا کتب روایات ، تحریف شدہ توریت و انجیل کی آئینہ دار اور ان کتب کی تفسیر ہیں ؟ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 24-01-12 at 11:53 AM. |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (24-01-12) |
|
|
#20 |
|
Senior Member
![]() |
رہ گئی گوشت کے سڑنے کی بات تو اس روایت کو پھر پڑھئے۔ کہ گوشت کا سڑنا بنی اسرائیل کی وجہ سے ہے۔ یعنی ۔۔۔ ہی ہی ۔۔ ہی ہی ۔۔۔ بنی اسرائیل نا ہوتے تو گوشت سڑا ہی نہیںکرتا ؟؟؟ ہی ہی --- ہی ہی --- ؟؟؟
|
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (24-01-12) |
|
|
#21 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جاری موضوع میںسے کسی ایک جملہ کو پکڑ کر اس پر نئی بحث کا دروازہ کھول لینا ہی خلط مبحث کہلاتا ہے۔ خیر، آپ سے اسی قسم کی توقع کی جا سکتی ہے۔
اقتباس:
ہمارا تو عقیدہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی قرآن کے علاوہ بھی نازل ہوا کرتی تھی۔ لہٰذا ہم اگر حوا ؑ کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر مان لیں تو محرف تورات پر عمل کرنے والے ٹھہریں۔ اور آپ اگر خالص اپنی عقل کی بنا پر اسی محرف تورات سے جوزف کارپینٹر کو ’خلاف قرآن‘ عیسیٰ علیہ السلام کا باپ ثابت کرنے پر تل جائیں، تو عین مفکر قرآن ٹھہریں۔ اقتباس:
معاف کیجئے گا احادیث کو جھوٹ کا پلندہ کہنے والوں کی اپنی جہالت، ضد اور عناد ہے، ورنہ اس اعتراض کی حقیقت کچھ بھی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ حدیث میں یہ کہاں کہا گیا ہے کہ آدم ؑ کا قصور ہی نہیں تھا؟ حدیث کے الفاظ تو فقط اتنے ہیں کہ: نحوه يعني لولا بنو إسرائيل لم يخنز اللحم ولولا حوائ لم تخن أنثی زوجها اگر یہودی نہ ہوتے تو گوشت کبھی نہ سڑتا اور اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔ اس حدیث میں نہ تو قصہ آدم و حوا کا ذکر ہے، نا یہ کہ اللہ کی نافرمانی میں قصور کس کا تھا اور کس کا نہ تھا۔ نہ ہی آدم ؑ کو ان کے قصور سے بری الذمہ قرار دیا گیا ہے۔ یہاں صرف شوہر کی خیانت میں اولیت کا مصداق حوا کو قرار دیا گیا ہے۔ اب اسے ہی جہالت کہتے ہیں کہ آپ عدم ذکر کو نفی ذکر پر محمول کرنے لگ گئے ہیں۔ کسی چیز کا ذکر نہ ہونا الگ بات ہے اور اس کا انکار کرنا الگ بات ہے۔ یہاں آدم علیہ السلام کے قصور کا ذکر ہی نہیں ہے، نا یہ کہ ان کے قصور کا انکار کیا گیا ہو۔ آپ ایک چیز کا دعویٰ کر کے ثبوت دوسری چیز کا پیش کر رہے ہیں۔ جی ان کتب احادیث میں تو قرآن ہی کی تفسیر ہے، البتہ آپ ہی کے دماغ میں بت خانہ ہے تو ہم کیا کہیں۔ وہی بات کہ کسی حدیث کی درست شرح پیش کر بھی دی جائے تو جتنی نفرت، تعصب اور عناد آپ کے دل میں کتب احادیث کے بارے میں پایا جاتا ہے، جس کا آپ پرچار کرتے رہتے ہیں، اس کی بنیاد پر آپ کو تو یہ جھوٹ ہی کا پلندہ لگنا ہے۔ بہت تھوڑا سا وقت رہ گیا ہے خاں صاحب، آنکھ بند ہوگی تو سب کچھ خود ہی روشن ہو جائے گا اور پھر کف افسوس ملنا کسی کے کام نہ آئے گا۔ |
||
|
|
|
| شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (24-01-12) |
|
|
#22 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیحاسناد سے ثابت شدہ کسی حدیث کا، جس کی شرح پیش کرنے کے بعد کسی قسم کا اعتراض بھی باقی نہیںرہتا، اور نہ یہ خلاف قرآن ہی ہے، پھر بھی اس کا مذاق اڑانا، اس سے آپ کی ذہنی و نفسیاتی کیفیت کا اندازہ ہو جاتا ہے، اور آپ کے اس دعویٰکی صحت کا اندازہ بھی ہو جاتا ہے کہ آپ صرف خلاف قرآن، احادیثکے منکر ہیں۔ ہم پناہ چاہتے ہیںاللہ کے غضب اور قہر سے جو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ کسی بات کا مذاق اڑانے پر نازل ہو سکتا ہے۔ اور آپ پر اتمام حجت پیش کرتے ہوئے آپ کے باطل افکار و عقائد سے برات کا اعلان کرتے ہیں۔
|
|
|
|
| شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (24-01-12) |
|
|
#23 |
|
Senior Member
![]() |
فاروق بھائی اپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ان روایات سے جان چھڑا لینی چاہیے لیکن مسلہ یہ ہے کہ اگر بے چارے مسلمان یونہی ایک ایک کرکے ایسی کہانیوں سے جان چھڑاتے گئے تو رہ کیا جائےگا ؟؟
یہی کہانیاں تو کتابوں میں بھری ہیں اور ان ہی کے زریعے تو حکومت کر رہے ہیں۔ امت نے اپنا بہت زور لگا کر سینکڑوں کتابوں میں سے چند کتابوں یعنی صحاح ستہ کو چنا اور باقیوں کو ضعیف قرار دے دیا۔ اور اب آپ صحاح ستہ کو بھی رد کرنے کا کہہ رہے ہیں ۔۔۔اب ان میں سے کتنی بچیں گئیں ![]() ![]() ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جو کتابیں امت نے رد کردیں تھی ان تمام کتابوں سے صحیح احادیث جمع کرتے کرتے صحاح ستہ تک پہچتے پھر کہتے کہ ان میں سے بھی چھانٹی کرنی ہے تو ریکشن اس قدر برا نہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر اپ نے معاملہ الٹ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپ نے پہلے سب کا انکار کیا پھر چھانٹی کرنے بیٹھ گئے ۔ اگرچہ میری نظر میں آپکا محنت کرنا درست ہے مگر چونکہ اپ کا مقصد غلط ہے اس لیے خود آپکی محنت آپکے کام نہی آئےگی اور اللہ اور رسول ص کی راہ میں خدمت کرنا نہی کہلائے گی۔ خیر میرے حساب سے یہ موضوع تو فاروق بھائی اور راعنا عمار کے حق میں چلا گیا۔ |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (24-01-12) |
|
|
#24 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جناب من حضرت عیسٰی علیہ السلام کے والد گرامی کا نام قرآن سے بتا دیں جو رانا صاحب بضد ہیں اور آپنے بھی ایک مراسلہ میں اسے مانا، انتظار کروں گا زندگی کے خاتمہ تک اگر مل گیا تو جزاک اللہ خیر۔ والسلام |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#25 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
جواب آپ کی توقع سے بڑھ کر دیا ھے اس پر آگے کچھ نہیں آتا اس لئے باہر کیوں نکل گئے محترم؟ Storage of Surplus Edibles for Seven Years is a Divine Order on National Level يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِي سَبْعِ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنْبُلَاتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ لَعَلِّي أَرْجِعُ إِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ ( 12:46 ) (غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں)۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں "O Joseph!" (he said) "O man of truth! Expound to us (the dream) of seven fat kine whom seven lean ones devour, and of seven green ears of corn and (seven) others withered: that I may return to the people, and that they may understand." قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلِهِ إِلَّا قَلِيلًا مِمَّا تَأْكُلُونَ ( 12:47 ) انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے تو جو (غلّہ) کاٹو تو تھوڑے سے غلّے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا (Joseph) said: "For seven years shall ye diligently sow as is your wont: and the harvests that ye reap, ye shall leave them in the ear,- except a little, of which ye shall eat. ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِمَّا تُحْصِنُونَ ( 12:48 ) پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے "Then will come after that (period) seven dreadful (years), which will devour what ye shall have laid by in advance for them,- (all) except a little which ye shall have (specially) guarded. (یوسف نے) کہا، (''اس خواب کی تعبیر اور اس کی بنا پر جو کچھ تمہیں کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ) تم لوگ سات سال متواتر کھیتی باڑی کرتے رہو گے (اور ان برسوں میں خوب بڑھتی ہوگی) پس (جب فصل کاٹنے کا وقت آیا کرے تو) جو کچھ کاٹو تو اسے اس کی بالیوں ہی میں لگا رہنے دو (تاکہ اناج گلے سڑے نہیں،) مگر تھوڑی مقدار کے جو تمہاری خوراک کے لئے (ضروری) ہو۔ [٤٧] سیدنا یوسف کا خواب کی تعبیر ' اس کا علاج اور پیش آنیوالے سب حالات بتلا دینا:۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے فوراً اس خواب کی تعبیر بتا دی۔ پھر صرف تعبیر ہی نہیں بتائی بلکہ اس پیش آنے والی مصیبت کا ساتھ ہی ساتھ علاج بھی تجویز فرما دیا اور یہی وہ پیغمبرانہ فراست یا اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ علم تھا جو آپ کے انتہائی بلندیوں پر پہنچ جانے کا پہلا زینہ ثابت ہوا۔ آپ نے اس ساقی کو بتایا کہ دیکھو! تم پر سات سال خوشحالی کا دور آئے گا۔ اس دور میں تم کفایت شعاری سے کام لینا۔ جتنا غلہ ان سالوں میں پیدا ہو اس میں سے بقدر ضرورت استعمال کرنا، باقی غلہ بالیوں میں ہی رہنے دینا۔ ان سات سالوں کے بعد سات سال قحط سالی کا دور آئے گا اس دور میں تم وہ غلہ استعمال کرنا جو تم نے پہلے سات سالوں میں بالیوں میں محفوظ رکھا ہوگا۔ بالیوں میں محفوظ رکھنے کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ غلہ کو کیڑا نہیں لگے۔ دوسرے اس کا بھوسہ قحط سالی کے دور میں تمہارے جانوروں کے کام آئے گا اور یہ بالیوں میں محفوظ شدہ غلہ تمہارے قحط سالی کے سالوں کو کفایت کر جائے گا۔ بلکہ اگلے سال کی فصل کے بیج کے لیے بھی بچ جائے گا۔ (ف123) اس زمانہ میں خوب پیداوار ہوگی ، سات موٹی گائیوں اور سات سبز بالوں سے اسی کی طرف اشارہ ہے ۔ (ف124) تاکہ خراب نہ ہو اور آفات سے محفوظ رہے ۔ (ف125) اس پر سے بھوسی اتار لو اور اسے صاف کر لو ، باقی کو ذخیرہ بنا کر محفوظ کر لو ۔ He said, ‘You shall sow — that is, [go ahead and] sow — seven years consecutively — and this was the interpretation of the seven fat ones — but that which you reap, leave it in the ear, lest it spoil, except for a little which you eat: thresh it. ٤٨۔١ حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے علم تعبیر سے بھی نوازی تھا، اس لئے وہ اس خواب کی تہ تک فورا پہنچ گئے انہوں نے موٹی تازہ سات گایوں سے سات سال مراد لئے جن میں خوب پیداوار ہوگی، اور سات دبلی پتلی گایوں سے اس کے برعکس سات سال خشک سالی کے۔ اسی طرح سات سبز خوشوں سے مراد لیا کہ زمین خوب پیداوار دے گی اور سات خشک خوشوں کا مطلب یہ ہے کہ ان سات سالوں میں زمین کی پیداوار نہیں ہوگی۔ اور پھر اس کے لئے تدبیر بھی بتلائی کہ سات سال تم متواتر کاشتکاری کرو اور جو غلہ تیار ہو، اسے کاٹ کر بالیوں سمیت ہی سنبھال کر رکھو تاکہ ان میں غلہ زیادہ محفوظ رہے، پھر جب سات سال قحط کے آئیں گے تو یہ غلہ تمہارے کام آئے گا جس کا ذخیرہ تم اب کرو گے۔ ٤٨۔٢ مِمَّا تُحصنُوْنَ سے مراد وہ دانے ہیں جو دوبارہ کاشت کے لئے محفوظ کر لئے جاتے ہیں۔ (ف126) جن کی طرف دبلی گائیوں اور سوکھی بالوں میں اشارہ ہے ۔ (ف127) اور ذخیرہ کر لیا تھا ۔ ( ف 128 ) بیج کے لئے تاکہ اس سے کاشت کرو ۔ ٤٩۔١ یعنی قحط کے سال گزرنے کے بعد پھر خوب بارش ہوگی، جس کے نتیجے میں کثرت پیداوار ہوگی اور تم انگوروں سے شیرہ نچوڑو گے، زیتوں سے تیل نکالو گے اور جانوروں سے دودھ دوہو گے۔ خواب کی اس تعبیر کو خواب سے کیسی لطیف مناسبت حاصل ہے، جسے صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ ایسا صحیح وجدان، ذوق سلیم اور ملکہ راسخ عطا فرما دے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو عطا فرمایا۔ ف۲ سو ساقی کی درخواست پر حضرت یوسف نے اپنے مکارم کی بناء پر صرف خواب کی تعبیر بتانے ہی پر اکتفاء نہیں کیا۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تدبیر بھی بتا دی۔ اور ساتھ ہی ساتھ ایک خوشخبری بھی سنا دی۔ سو آپ نے اس سے فرمایا کہ تم لوگ سات سال تک لگاتار کاشت کرتے جاؤ گے۔ تو اس دوران جو فصل تم کاٹو، اس میں سے جتنا تم کو اپنی غذائی ضرورتوں کیلئے درکار ہو وہی نکال کر صاف کر لو۔ باقی سب غلہ اسکی بالیوں کے اندر ہی چھوڑتے جاؤ۔ تاکہ وہ آئندہ آنے والے مشکل وقت کیلئے محفوظ رہے اور یہ اس لئے کہ غلہ جب تک بھوسے اور بالیوں کے اندر ہوتا ہے محفوظ رہتا ہے، اور اس وقت تک وہ گھن اور کیڑوں مکوڑوں کی آفتوں سے بچا رہتا ہے سبحان اللہ ! قدرت کی عظمت شان کے کیا کہنے؟ نیز فرمایا کہ اسکے بعد جو سات سال سخت قحط کے آئیں گے وہ اس تمام غلے کو چٹ کر جائیں گے جو تم لوگوں نے اس سے پہلے ذخیرہ کیا ہوگا۔ بجز اسکے اس تھوڑے سے حصے کے جو تم لوگوں نے حسب تدبیر محفوظ رکھا ہوگا۔ اور اس کے بعد خوشخبری یہ سنائی کہ اسکے بعد ایک سال خوشحالی کا ایسا آئے گا کہ اس میں خوب بارش برسے گی۔ جس سے انگوروں کی فصل خوب بار آور ہوگی اور لوگ خوب اس کو نچوڑیں گے۔ ف٢ یوسف علیہ السلام نے تعبیر بتلانے میں دیر نہ کی نہ کوئی شرط لگائی، نہ اس شخص کو شرمندہ کیا کہ تجھ کو اتنی مدت کے بعد اب میرا خیال آیا۔ اس سے انبیاء علیہم السلام کے اخلاق و مروت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پھر وہ صرف خواب کی تعبیر مانگتا تھا۔ آپ نے تین چیزیں عطا فرمائیں۔ تعبیر، تدبیر، تبشیر، آپ کے کلام کا حاصل یہ تھا کہ سات موٹی گائیں اور سات ہری بالیں سات برس ہیں، جن میں متواتر خوشحالی رہے گی، کھیتوں میں خوب پیداوار ہوگی، حیوانات و نباتات خوب بڑھیں گے، اس کے بعد سات سال قحط ہوگا جس میں سارا پچھلا اندوختہ کھا کر ختم کر ڈالو گے۔ صرف آئندہ تخم ریزی کے لیے کچھ تھوڑا سا باقی رہ جائے گا۔ یہ سات سال دبلی گائیں اور سوکھی بالیں ہیں جو موٹی گائیوں اور ہری بالوں کو ختم کر دیں گی۔ تعبیر بتلانے کے دوران میں حضرت یوسف نے ازراہ شفقت و ہمدردی خلائق ایک تدبیر بھی تلقین فرما دی کہ اول سات سال میں جو پیداوار ہو اسے بڑی حفاظت سے رکھو اور کفایت شعاری سے اٹھاؤ۔ کھانے کے لیے جس قدر غلہ کی ضرورت ہو اسے الگ کر لو اور تھوڑا تھوڑا احتیاط سے کھاؤ۔ باقی غلہ بالوں میں رہنے دو تاکہ اس طرح کیڑے وغیرہ سے محفوظ رہ سکے۔ اور سات سال کی پیداوار چودہ سال تک کام آئے۔ ایسا نہ کرو گے تو قحط کا مقابلہ کرنا دشوار ہوگا۔ یہ تعبیر و تدبیر بتلانے کے بعد انہیں بشارت سنائی جو غالبا آپ کو وحی سے معلوم ہوئی ہوگی یعنی سات سال قحط رہنے کے بعد جو سال آئے گا اس میں حق تعالیٰ کی طرف سے فریاد رسی ہوگی اور خوب مینہ برسے گا۔ کھیتی باڑی، پھل میوے نہایت افراط سے پیدا ہوں گے، جانوروں کے تھن دودھ سے بھر جائیں گے۔ انگور وغیرہ نچوڑنے کے قابل چیزوں سے لوگ شراب کشید کریں گے۔ یہ آخری بات سائل کے حسب حال فرمائی۔ کیونکہ وہ یہ ہی کام کرتا تھا۔ ف۲ سو ساقی کی درخواست پر حضرت یوسف نے اپنے مکارم کی بناء پر صرف خواب کی تعبیر بتانے ہی پر اکتفاء نہیں کیا۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تدبیر بھی بتا دی۔ اور ساتھ ہی ساتھ ایک خوشخبری بھی سنا دی۔ سو آپ نے اس سے فرمایا کہ تم لوگ سات سال تک لگاتار کاشت کرتے جاؤ گے۔ تو اس دوران جو فصل تم کاٹو، اس میں سے جتنا تم کو اپنی غذائی ضرورتوں کیلئے درکار ہو وہی نکال کر صاف کر لو۔ باقی سب غلہ اسکی بالیوں کے اندر ہی چھوڑتے جاؤ۔ تاکہ وہ آئندہ آنے والے مشکل وقت کیلئے محفوظ رہے اور یہ اس لئے کہ غلہ جب تک بھوسے اور بالیوں کے اندر ہوتا ہے محفوظ رہتا ہے، اور اس وقت تک وہ گھن اور کیڑوں مکوڑوں کی آفتوں سے بچا رہتا ہے سبحان اللہ ! قدرت کی عظمت شان کے کیا کہنے؟ نیز فرمایا کہ اسکے بعد جو سات سال سخت قحط کے آئیں گے وہ اس تمام غلے کو چٹ کر جائیں گے جو تم لوگوں نے اس سے پہلے ذخیرہ کیا ہوگا۔ بجز اسکے اس تھوڑے سے حصے کے جو تم لوگوں نے حسب تدبیر محفوظ رکھا ہوگا۔ اور اس کے بعد خوشخبری یہ سنائی کہ اسکے بعد ایک سال خوشحالی کا ایسا آئے گا کہ اس میں خوب بارش برسے گی۔ جس سے انگوروں کی فصل خوب بار آور ہوگی اور لوگ خوب اس کو نچوڑیں گے۔ ٤٩۔١ یعنی قحط کے سال گزرنے کے بعد پھر خوب بارش ہوگی، جس کے نتیجے میں کثرت پیداوار ہوگی اور تم انگوروں سے شیرہ نچوڑو گے، زیتوں سے تیل نکالو گے اور جانوروں سے دودھ دوہو گے۔ خواب کی اس تعبیر کو خواب سے کیسی لطیف مناسبت حاصل ہے، جسے صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ ایسا صحیح وجدان، ذوق سلیم اور ملکہ راسخ عطا فرما دے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو عطا فرمایا۔ (ف129) انگورکا اور تِل زیتون کے تیل نکالیں گے ، یہ سال کثیر الخیر ہوگا ، زمین سرسبز و شاداب ہوگی ، درخت خوب پھلیں گے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام سے یہ تعبیر سن کر واپس ہوا اور بادشاہ کی خدمت میں جا کر تعبیر بیان کی ، بادشاہ کو یہ تعبیر بہت پسند آئی اور اسے یقین ہوا کہ جیسا حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایا ہے ضرور ویسا ہی ہوگا ۔ بادشاہ کو شوق پیدا ہوا کہ اس خواب کی تعبیر خود حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی زبان مبارک سے سنے ۔ سُوْرَةُ یُوْسُف حاشیہ نمبر :41 یعنی آپ کی قدرو منزلت جان لیں اور ان کو احساس ہو کہ کس پایہ ے آدمی کو انہوں نے کہاں بند کر رکھا ہے، اس طرح مجھے اپنے اس وعدے کے ایفاء کا موقع مل جائے جو میں نے آپ سے قید کے زمانہ میں کیا تھا۔ [٤٨] اس آیت کے مطابق سیدنا یوسف نے جو خوشخبری سنائی یہ بادشاہ کے خواب یا اس کی تعبیر کا حصہ نہیں تاہم اللہ نے جو علم آپ کو عطا فرمایا تھا۔ اس کے مطابق آپ نے لوگوں کو یہ بشارت بھی دے دی کہ ان چودہ سالوں کے بعد پندرہواں سال ایسا آئے گا جس میں خوب باران رحمت ہوگی اور جن جن چیزوں کو نچوڑ کر ان سے روغن یا رس حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ایسے سب غلوں اور پھلوں کی افراط سے پیداوار ہوگی۔ کھیتی باڑی بکثرت ہوگی۔ جانوروں کے تھن دودھ سے بھر جائیں گے اور بالخصوص انگور وغیرہ کو نچوڑ کر لوگ شراب کشید کریں گے۔ یہ آخری بات سائل کے حسب حال بیان فرمائی کیونکہ وہ یہی کام کرتا تھا۔
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" |
||
|
|
|
|
|
#26 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھیا مراسلے دو کوٹ کئے اور جواب میں کتاب لگا دی وہ بھی غیر متعلقہ، بھیا جو پوچھا ھے اس پر ایک ایک لائن میں جواب دے دیتے کسی بھی سوال کا جواب پوری کتاب نہیں ہوتا کتاب میں ہزاروں سوالات کے جوابات تلاش کئے جاتے ہیں۔ گوگل لنک اور کتابیں میں بھی تلاش کر سکتا ہوں اور آپ سے بہتر مگر اپنے قلم سے مختصر خلاصہ پیش کر دیا کریں یا سوال نہ پوچھا کریں اور لگے رہیں۔ شکریہ والسلام |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (24-01-12), حیدر Rehan (25-01-12) |
|
|
#27 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
’’مریم کا نکاح کس نے پڑھا، گواہ کون کون تھے؟ حق مہر کتنا تھا؟‘‘ محترم! آپ بزرگ ہیں، بزرگوں والی بات کریں، بچوں والی باتیں نہ کریں میں پھر عرض کرتا ہوں کہ آپ حافظِ قرآن ہیں، قرآن نے جتنے انبیاء علیہم السلام کا ذکر کیا ہے ان کے ناموں کی ایک جدول بنا لیں، پھر ہر نبی کے نام کے ساتھ، سامنے اس کے باپ کا نام، اس کی ماں کا نام لکھ کر ان کی بیوی کا نام درج کر دیں، نیز نکاح خواں، گواہوں کے نام اور حق مہر کی نشان دہی بھی فرما دیں اور عیسیٰ ؑ والا خانہ خالی رہنے دیں، اس کو حافظ عنایت اللہ مرحوم سے پر کرائیں گے اور میں ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ یہ خانہ میں پر کرا دوں گا اگر یہ ممکن نہ ہوا تو میں خود موجود ہوں آپ فکر نہ کریں جب میں نے نعرہ لگایا ہے کہ اَنَا بِہٖ زَعِیْمٌ تو یہ میری ذمہ داری ہے آپ اپنا کام کریں ان شاء اللہ باقی ماندہ ہو جائے گا۔ بصورتِ دیگر جس نبی علیہ السلام کے باپ کا نام آپ درج نہ کر سکے تسلیم کرنا ہو گا کہ اس کا باپ نہیں جس کی ماں کا نام نہ ہو سکا یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ اس کی ماں نہیں جس کی بیوی والا خانہ خالی رہا اس کی بیوی نہ ہو گی، خواہ اولاد موجود ہو اور جس کے گواہوں اور نکاح خواں اور حق مہر کا پتہ نہ چل سکا اس کے بارے میں کیا تسلیم کرنا ہو گا؟ بات بالکل ظاہر ہے اگرچہ ان کی اولاد کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہو۔ اوہام پرستی پر اصرارِ معجزات |
||
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (25-01-12) |
| کمائي نے rana ammar mazhar کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 25-01-12 | کنعان | حضرت عیسٰی علیہ السلام کے والد گرامی کا نام قرآن سے بتا دیں | 0 |
|
|
#28 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کتب روایات، تحریف شدہ توریت و انجیل کی آئینہ دار اور ان کتب کی تفسیر کیوں ہیں ؟ 43 - انبیاء علیہم السلام کا بیان : (585) بنی اسرائیل کے واقعات کا بیان حدثنا أبو عاصم الضحاک بن مخلد أخبرنا الأوزاعي حدثنا حسان بن عطية عن أبي کبشة عن عبد الله بن عمرو أن النبي صلی الله عليه وسلم قال بلغوا عني ولو آية وحدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج ومن کذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 689 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 2 ابو عاصم ضحاک بن مخلد اوزاعی حسان بن عطیہ ابوکبشہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری بات دوسرے لوگوں کو پہنچا دو اگرچہ وہ ایک ہی آیت (قرآن) ہو اور بنی اسرائیل کے واقعات (حدیث) بیان کرو اس میں کوئی حرج نہیں اور جس شخص نے مجھ پر قصدا جھوٹ بولا تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔ Narrated 'Abdullah bin 'Amr: The Prophet said, "Convey (my teachings) to the people even if it were a single sentence, and tell others the stories of Bani Israel, for it is not sinful to do so. And whoever tells a lie on me intentionally, will surely take his place in the (Hell) Fire." 38 - علم کا بیان : (45) بنی اسرائیل سے روایت کرنے کے متعلق حدثنا محمد بن يحيی حدثنا محمد بن يوسف عن ابن ثوبان هو عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان عن حسان بن عطية عن أبي کبشة السلولي عن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم بلغوا عني ولو آية وحدثوا عن بني إسرايل ولا حرج ومن کذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار قال أبو عيسی هذا حديث حسن صحيح حدثنا محمد بن بشار حدثنا أبو عاصم عن الأوزاعي عن حسان بن عطية عن أبي کبشة السلولي عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلی الله عليه وسلم نحوه وهذا حديث صحيح جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 578 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 2 محمد بن یحیی، محمد بن یوسف، عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان عابد شامی، حسان بن عطیة، ابوکبشة سلولی، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھ سے (سن کر) دوسروں تک پہنچاؤ اگرچہ ایک آیت (قرآن) ہو اور بنی اسرائیل سے حدیث روایت کرو اس میں کوئی حرج نہیں اور جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں تلاش کرے یہ حدیث حسن صحیح ہے اسے محمد بن بشارد، ابوعاصم سے وہ اوزاعی سے وہ حسان بن عطیہ سے وہ ابوکبشہ سلولی سے وہ عبداللہ بن عمرو سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کی مانند نقل کرتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) said, Convey from me (to the absent) even one verse. And narrate from the Banu Isra’il there is no harm in that. If anyone lies about me deliberately then let him take his seat in Hell.” [Ahmed 6496,Bukhari 3461] |
|
|
|
|
|
|
#29 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
پکی ہوئی بٹیریں :: سلوا بٹیر یا چڑیا کی طرح کا ایک پرندہ تھا جسے ذبح کر کے کھا لیتے تھے۔ ٥٨۔١بعض کے نزدیک اوس جو درخت اور پتھر پر گرتی شہد کی طرح میٹھی ہوتی اور خشک ہو کر گوند کی طرح ہو جاتی۔ بعض کے نزدیک شہد یا میٹھا پانی ہے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں حدیث ہے کھمبی مَن کی اس قسم سے ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی، اس کا مطلب یہ ہے جس طرح بنی اسرائیل کو وہ کھانا بلادقت پہنچ جاتا تھا اسی طرح کھمبی بغیر کسی کے بوئے کے پیدا ہو جاتی ہے۔ سلوا بٹیر یا چڑیا کی طرح کا ایک پرندہ تھا جسے ذبح کر کے کھا لیتے تھے۔ (فتح القدیر) 26 - طب کا بیان : (64) کھمبی اور عجوہ (عمدہ کھجور) حدثنا أبو عبيدة بن أبي السفر أحمد بن عبد الله الهمداني ومحمود بن غيلان قالا حدثنا سعيد بن عامر عن محمد بن أبي عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم العجوة من الجنة وفيها شفا من السم والکمأة من المن وماؤها شفا للعين قال أبو عيسی وفي الباب عن سعيد بن زيد وأبي سعيد وجابر وهذا حديث حسن غريب وهو من حديث محمد بن عمرو ولا نعرفه إلا من حديث سعيد بن عامر عن محمد بن عمرو جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2163 حدیث مرفوع مکررات 6 ابوعبیدہ بن ابوسفر، محمود بن غیلان، سعید بن عامر، محمد بن عمرو، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عجوہ جنت کے میووں میں سے ہے اور اس میں زہر سے شفا ہے اور کھمبی مَن کی ایک قسم ہے (من وسلوی وہ کھانے جو بنی اسرائیل پر اترتے تھے) اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے۔ اس باب میں حضرت سعید بن زید، ابوسعید اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث منقول ہیں۔ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ ہم اسے محمد بن عمرو کی روایت سے صرف سعید بن عامر کی حدیث سے پہچانتے ہیں۔ Sayyidina Abu Huraira reported that Allah’s Messenger said, “Ajwah is from Paradise and it is a cure for poison. And, Kam’ah (truffles) is a kind of Mann and its extract is a cure for the eyes.” [Ahmed 8008] |
|
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (25-01-12) |
|
|
#30 |
|
Senior Member
![]() |
کھانے یا گوشت گوشت کے سڑنے کی وجہ بنی اسرائیل نہیں ہیں۔ گوشت یا کھانے نے تو سڑنا ہی ہے۔ یہ اس سے پہلے بھی سڑتا تھا۔ جب بنی اسرائیل نہیںتھے۔ آخر وہ قومیںکہاں دفن ہیں جن کا گوشت نہیں سڑا اور جو بنی اسرائیل سے پہلے مرگئے۔ اسی طرح کھانا بھی سڑتا تھا ۔ بنی اسرائیل کھانے اور گوشت کے سڑنے کی وجہ نہیں۔۔ یہ کسی بھی نکتہ نگاہ سے درست نہیں۔
اسی طرح "حوا" کا جرم بھی صرف اور صرف اسرائیلیات کا حصہ ہے ۔ قرآن میں اس طرح ایک عورت کے جرم کی کوئی گواہی نہیں ۔ بلکہ دونوں کے جرم کی گواہی ہے ۔ اس میںشبہ نہیں کہ خلاف قرآن روایات ۔ اسلامی نظریات میں اسرائیلیات گھسانے کی ایک کوشش ہے ۔ یہ روایات ، تحریف شدہ انجیل اور تورات کی تفاسیر ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کا فرمان قرآن حکیم ان روایات کے لئے فرقان ہے ۔ اللہ تعالی کے فرمان قرآن پر ایمان نہیںتو مسلمان نہیں ۔ والسلام |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| کھانا خراب, گوشت بدبودار, بنی اسرائیل |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کرپشن سکینڈل نہ ہوتے تو آج حکومت کیساتھ ہوتے ، نواز شریف | جاویداسد | خبریں | 2 | 11-09-10 12:36 PM |
| نہ تھا کچھ تو خدا ہوتا، کچھ نا ہوتا تو خدا ہوتا | The Great | شعر و شاعری | 1 | 14-09-09 02:43 PM |
| جوتا مارنےاور جوتے چاٹنے کافرق | فیصل ناصر | عمومی بحث | 4 | 24-12-08 01:15 PM |
| گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا | خرم شہزاد خرم | دیوان غالب | 0 | 14-12-07 01:38 PM |
| تم جو ہوتے تو ہمیں کتنا سہارا ہوتا | محمدعدنان | شاعری اور مصوری | 2 | 30-09-07 12:30 PM |