واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > مطالعہ حدیث




اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کھانا خراب اور گوشت بدبودار نہ ہوتا !

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-01-12, 04:24 PM   #31
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default سلوا بٹیر پکی ہوئی بٹیریں تھیں یا چڑیا کی طرح کا ایک پرندہ تھا جسے ذبح کر کے کھا لیتے تھے ؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
بھیا مراسلے دو کوٹ کئے اور جواب میں کتاب لگا دی وہ بھی غیر متعلقہ، بھیا جو پوچھا ھے اس پر ایک ایک لائن میں جواب دے دیتے کسی بھی سوال کا جواب پوری کتاب نہیں ہوتا کتاب میں ہزاروں سوالات کے جوابات تلاش کئے جاتے ہیں۔ گوگل لنک اور کتابیں میں بھی تلاش کر سکتا ہوں اور آپ سے بہتر مگر اپنے قلم سے مختصر خلاصہ پیش کر دیا کریں یا سوال نہ پوچھا کریں اور لگے رہیں۔ شکریہ
والسلام
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اس میں‌شبہ نہیں‌ کہ خلاف قرآن روایات، اسلامی نظریات میں اسرائیلیات گھسانے کی ایک کوشش ہے، یہ روایات، تحریف شدہ انجیل اور تورات کی تفاسیر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کا فرمان قرآن حکیم ان روایات کے لئے فرقان ہے ۔
اللہ تعالی کے فرمان قرآن پر ایمان نہیں ‌تو مسلمان نہیں۔
والسلام

اللہ تعالی کے فرمان قرآن پر ایمان نہیں ‌تو مسلمان نہیں۔

کنعان بھیا، تو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ سلوا بٹیر پکی ہوئی بٹیریں تھیں ( تفسیر روح البیان۔ ج 1، پ 1، البقرۃ: 57 ) یا سلوا بٹیر چڑیا کی طرح کا ایک پرندہ تھا جسے ذبح کر کے کھا لیتے تھے (فتح القدیر)۔
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (25-01-12)
پرانا 25-01-12, 05:39 PM   #32
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

اللہ تعالی کے فرمان قرآن پر ایمان نہیں ‌تو مسلمان نہیں۔

کنعان بھیا، تو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ سلوا بٹیر پکی ہوئی بٹیریں تھیں ( تفسیر روح البیان۔ ج 1، پ 1، البقرۃ: 57 ) یا سلوا بٹیر چڑیا کی طرح کا ایک پرندہ تھا جسے ذبح کر کے کھا لیتے تھے (فتح القدیر)۔
السلام علیکم رانا صاحب

آپ نے یہ عبارت جو میرے لئے پیش کی ھے

اقتباس:
اللہ تعالی کے فرمان قرآن پر ایمان نہیں ‌تو مسلمان نہیں۔
غور فرمائیں آپ بھی اسی میں شامل ہیں،

بھیا کنورسیشن میں تو نہ کوئی دلیل اور نہ کو جواب اور اپنے سوالوں پر جواب مانگ رہے ہیں کیا ایسا کبھی ہوا ھے۔

ویسے حالت زار دیکھ کر مرزا قادیانی مردود کا اندازہ کیا جا سکتا ھے کہ اس اکیلے نے بھی اپنے وقت میں ایسا ہی کیا ہو گا۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (25-01-12)
پرانا 25-01-12, 06:23 PM   #33
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default مرزا قادیانی مردود کے مردود ہونے میں کیا شک ہے، وہ بھی جھوٹی حدیثوں پر ایمان رکھتا تھا !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم رانا صاحب
آپ نے یہ عبارت جو میرے لئے پیش کی ھے
غور فرمائیں آپ بھی اسی میں شامل ہیں،
بھیا کنورسیشن میں تو نہ کوئی دلیل اور نہ کو جواب اور اپنے سوالوں پر جواب مانگ رہے ہیں کیا ایسا کبھی ہوا ھے۔
ویسے حالت زار دیکھ کر مرزا قادیانی مردود کا اندازہ کیا جا سکتا ھے کہ اس اکیلے نے بھی اپنے وقت میں ایسا ہی کیا ہو گا۔
والسلام
غلہ سٹور کرنے کا مشورہ تو اللہ کے نبی نے دیا تھا، آپ کہتے ہیں کہ یہ نحوست ہے، اس وقت بھی آپ کا فریج بھرا ہو گا !!!

مرزا قادیانی مردود کے مردود ہونے میں کیا شک ہے، وہ بھی جھوٹی حدیثوں پر ایمان رکھتا تھا !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 25-01-12, 08:06 PM   #34
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
کھانے یا گوشت گوشت کے سڑنے کی وجہ بنی اسرائیل نہیں ہیں۔ گوشت یا کھانے نے تو سڑنا ہی ہے۔ یہ اس سے پہلے بھی سڑتا تھا۔ جب بنی اسرائیل نہیں‌تھے۔ آخر وہ قومیں‌کہاں دفن ہیں جن کا گوشت نہیں سڑا اور جو بنی اسرائیل سے پہلے مرگئے۔ اسی طرح کھانا بھی سڑتا تھا ۔ بنی اسرائیل کھانے اور گوشت کے سڑنے کی وجہ نہیں‌۔۔ یہ کسی بھی نکتہ نگاہ سے درست نہیں۔
حدیث‌ میں‌کہیں‌بھی نہ تو یہ کہا گیا ہے کہ بنی اسرائیل گوشت کے سڑنے کی وجہ ہیں۔ نہ یہ کہا گیا ہے کہ بنی اسرائیل سے قبل گوشت سڑتا ہی نہیں‌تھا۔ حدیث‌کے الفاظ‌ اور تمام احادیث‌ کو سامنے رکھنے پر جو بات واضح ہوتی ہے وہ صرف اتنی ہے کہ بنی اسرائیل گوشت کی ذخیرہ اندوزی کی ابتداء کرنے والوں میں‌شامل تھے، اور یہاں کھانے کے گوشت کی بات کی جا رہی ہے، جیسے کہ حدیث کے الفاظ‌میں‌ للحم کے ساتھ طعام کے الفاظ بھی موجود ہیں، جو ایک دوسرے کی وضاحت کر رہے ہیں۔ اور دوسری حدیث‌میں زیادہ وضاحت ہے کہ اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا، ظاہر ہے جب گوشت ذخیرہ ہی نہیں‌ہوگا تو خراب یا بدبودار بھی نہیں‌ہوگا۔

اس میں‌نہ تو کوئی خلاف قرآن بات ہے، نہ خلاف عقل اور نہ خلاف سائنس۔ لیکن اپنی سوچ کو دوسروں‌کے الفاظ‌میں‌پڑھنے کی عادت کی کرشمہ گری ہے جو ہمارے ان بھائیوں کو دربدر آوارہ کرتی پھرتی ہے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اسی طرح "حوا" کا جرم بھی صرف اور صرف اسرائیلیات کا حصہ ہے ۔ قرآن میں اس طرح ایک عورت کے جرم کی کوئی گواہی نہیں ۔ بلکہ دونوں کے جرم کی گواہی ہے ۔ اس میں‌شبہ نہیں‌ کہ خلاف قرآن روایات ۔ اسلامی نظریات میں اسرائیلیات گھسانے کی ایک کوشش ہے ۔ یہ روایات ، تحریف شدہ انجیل اور تورات کی تفاسیر ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کا فرمان قرآن حکیم ان روایات کے لئے فرقان ہے ۔
الحمدللہ ہم نے اس کی وضاحت گزشتہ پوسٹ‌ میں‌کر آئے ہیں۔ اگر آپ کے پاس اس کا کچھ بھی جواب ہوتا تو کبھی نہ چوکتے اور ایک کے دس بنا کر پیش کرتے۔ چونکہ دل میں آپ کو بھی معلوم ہے کہ اعتراض کی حقیقت کچھ نہیں، اس لئے ہمارے جواب پر تو کچھ نئی گزارشات پیش نہیں‌کرتے اور وہی اعتراض بار بار پیش فرما دیتے ہیں‌تاکہ آپ کے جامد مقلدین کو معلوم رہے کہ خاں‌صاحب فوری جواب دیتے ہیں۔ میں نے تو سنا تھا کہ پاک نیٹ والوں نے خاں‌صاحب کو بہترین جواب دینے والا رکن بھی نامزد کیا تھا، یا شاید ایوارڈ بھی دیا تھا۔ اب بخوبی معلوم ہو رہا ہے کہ بہترین جواب خاں صاحب کیسے دیتے ہیں۔ خود ہی مخالفین کے ذمہ کوئی اقتباس لگا کر تردید کر ڈالتے ہیں، یا گھسے پٹے اعتراض بار بار پیش کرتے رہتے ہیں اور گوئبلز کے مقولہ کہ جھوٹ سو بار بولنے سے سچ ہو جاتا ہے، پر دل و جاں سے ایمان رکھتے ہوئے عملاً اس کا استعمال بھی برمحل کرتے رہتے ہیں۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں

اللہ تعالی کے فرمان قرآن پر ایمان نہیں‌تو مسلمان نہیں ۔
اور ہماری جانب سے آپ کے ایمان میں‌اضافہ کی خاطر قرآن کی آیت کا تحفہ:

فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًاً (النساء: 65)
سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-01-12), کنعان (26-01-12), احمد نذیر (29-01-12), عبداللہ حیدر (26-01-12)
پرانا 25-01-12, 08:44 PM   #35
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اگر فریج نہ ہوتے تو کوئی شخص گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا، ظاہر ہے جب گوشت ذخیرہ ہی نہیں‌ ہو گا تو ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
حدیث‌ میں‌کہیں‌بھی نہ تو یہ کہا گیا ہے کہ بنی اسرائیل گوشت کے سڑنے کی وجہ ہیں۔ نہ یہ کہا گیا ہے کہ بنی اسرائیل سے قبل گوشت سڑتا ہی نہیں‌ تھا۔ حدیث‌کے الفاظ‌ اور تمام احادیث‌ کو سامنے رکھنے پر جو بات واضح ہوتی ہے وہ صرف اتنی ہے کہ بنی اسرائیل گوشت کی ذخیرہ اندوزی کی ابتداء کرنے والوں میں ‌شامل تھے، اور یہاں کھانے کے گوشت کی بات کی جا رہی ہے، جیسے کہ حدیث کے الفاظ ‌میں‌ للحم کے ساتھ طعام کے الفاظ بھی موجود ہیں، جو ایک دوسرے کی وضاحت کر رہے ہیں۔ اور دوسری حدیث ‌میں زیادہ وضاحت ہے کہ اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا، ظاہر ہے جب گوشت ذخیرہ ہی نہیں‌ ہو گا تو خراب یا بدبودار بھی نہیں‌ہوگا۔
اس میں ‌نہ تو کوئی خلاف قرآن بات ہے، نہ خلاف عقل اور نہ خلاف سائنس۔ لیکن اپنی سوچ کو دوسروں‌کے الفاظ‌ میں ‌پڑھنے کی عادت کی کرشمہ گری ہے جو ہمارے ان بھائیوں کو دربدر آوارہ کرتی پھرتی ہے۔
الحمدللہ ہم نے اس کی وضاحت گزشتہ پوسٹ‌ میں ‌کر آئے ہیں۔ اگر آپ کے پاس اس کا کچھ بھی جواب ہوتا تو کبھی نہ چوکتے اور ایک کے دس بنا کر پیش کرتے۔ چونکہ دل میں آپ کو بھی معلوم ہے کہ اعتراض کی حقیقت کچھ نہیں، اس لئے ہمارے جواب پر تو کچھ نئی گزارشات پیش نہیں‌کرتے اور وہی اعتراض بار بار پیش فرما دیتے ہیں‌ تاکہ آپ کے جامد مقلدین کو معلوم رہے کہ خاں‌صاحب فوری جواب دیتے ہیں۔ میں نے تو سنا تھا کہ پاک نیٹ والوں نے خاں‌ صاحب کو بہترین جواب دینے والا رکن بھی نامزد کیا تھا، یا شاید ایوارڈ بھی دیا تھا۔ اب بخوبی معلوم ہو رہا ہے کہ بہترین جواب خاں صاحب کیسے دیتے ہیں۔ خود ہی مخالفین کے ذمہ کوئی اقتباس لگا کر تردید کر ڈالتے ہیں، یا گھسے پٹے اعتراض بار بار پیش کرتے رہتے ہیں اور گوئبلز کے مقولہ کہ جھوٹ سو بار بولنے سے سچ ہو جاتا ہے، پر دل و جاں سے ایمان رکھتے ہوئے عملاً اس کا استعمال بھی برمحل کرتے رہتے ہیں۔
اور ہماری جانب سے آپ کے ایمان میں‌اضافہ کی خاطر قرآن کی آیت کا تحفہ:
فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًاً (النساء: 65)
سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں

اگر فریج نہ ہوتے تو کوئی شخص گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا، ظاہر ہے جب گوشت ذخیرہ ہی نہیں‌ ہو گا تو خراب یا بدبودار بھی نہیں ‌ہو گا۔

میں کہتا ہوں یہ یا فلاں حدیث سچی نہیں آپ کہتے ہیں کہ سچی ہے تو فیصلہ کیسے ہو گا ؟؟؟


فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًاً (النساء: 65)
سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں

قرآن میں تو نہیں کہ انہوں نے گوشت ذخیرہ کیا تھا، اب فیصلہ قرآن سے ہو گا یا کہ ہم کسی اور کو رسول بنا لیں ؟؟؟


قرآن میں تو نہیں کہ انہوں نے گوشت ذخیرہ کیا تھا کون سی فریج میں کیا تھا یا کہ وہ اتنے جاہل تھے کہ انہیں اس بات کا کوئی تجربہ ہی نہیں تھا کہ جب گوشت ذخیرہ ہی نہیں‌ ہو گا تو خراب یا بدبودار بھی نہیں ‌ہو گا۔ ؟؟؟

غلہ تو نوح ؑ نے بھی ذخیرہ کشتی میں کیا تھا !!!


Last edited by rana ammar mazhar; 25-01-12 at 09:02 PM.
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-01-12, 12:06 AM   #36
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
اس وقت بھی آپ کا فریج بھرا ہو گا !!!
یہ آپکی عادت سی بن گئی ھے اس لئے اس پر جزاک اللہ خیر

اقتباس:
مرزا قادیانی مردود کے مردود ہونے میں کیا شک ہے، وہ بھی جھوٹی حدیثوں پر ایمان رکھتا تھا !!!
اس نے قبر کشمیر میں بنوائی اور آپ نے باپ بغیر نام کے اس لئے دونوں میں نسبت تو بنتی نظر آ رہی ھے۔


اقتباس:
( میں خود مریم بنا رہا اور مریمیت کی صفات کے ساتھ نشو و نما پاتا رہا اور جب دو برس گزر گئے تو عیسیٰ کی روح میرے پیٹ میں پھونکی گئی اور استعاراً میں حاملہ ہو گیا اور پھر دس ماہ لیکن اس سے کم مجھے الہام سے عیسیٰ بنا دیا گیا )
کشتیِ نوح ۔ صفحہ نمبر ۶۸ ۔ ۶۹

اقتباس:
رانا جی آپ اپنی تحریر کاپی پیسٹ کرتے ہوئے خود بھی نہیں پڑھتے ، آپ جو لکھتے ہیں اس میں خود ہی پھنس جاتے ہیں
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (26-01-12)
پرانا 26-01-12, 12:07 PM   #37
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کھانا خراب اور گوشت بدبودار نہ ہوتا !

یہ توعقلی بات نہی ہے ۔


اگر اہلسنت و الجماعت میں اجتہاد کا دروازہ کھلا رہتا تو وہ علمائے اہلسنت ایسی روایات کو کتابوں میں تو لکھا رہنے دیتے مگر عام مسلمانوں کے عقائد سے نکل دیتے۔
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (26-01-12)
پرانا 26-01-12, 12:22 PM   #38
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بنی اسرائیل نا ہوتے تو گوشت یا ذخیرہ نہیں‌ سڑتا۔۔۔ لیکن بنی اسرائیل کے ہی ایک اور نبی اکرم حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں یہ آیات دیکھئے

12:47 قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلِهِ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تَأْكُلُونَ
یوسف (علیہ السلام) نے کہا: تم لوگ دائمی عادت کے مطابق مسلسل سات برس تک کاشت کرو گے سو جو کھیتی تم کاٹا کرو گے اسے اس کے خوشوں (ہی) میں (ذخیرہ کے طور پر) رکھتے رہنا مگر تھوڑا سا (نکال لینا) جسے تم (ہر سال) کھا لو

12:48 ثُمَّ يَأْتِي مِن بَعْدِ ذَلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تُحْصِنُونَ
پھر اس کے بعد سات (سال) بہت سخت (خشک سالی کے) آئیں گے وہ اس (ذخیرہ) کو کھا جائیں گے جو تم ان کے لئے پہلے جمع کرتے رہے تھے مگر تھوڑا سا (بچ جائے گا) جو تم محفوظ کر لوگے

ذخیرہ کیا اور سڑا بھی نہیں

کیا بات ہے ۔ کیا روایت خلاف قرآن ہے ؟؟

ابھی تک "حوا" کے "جرم"‌ کی خالص اسرائیلیات کا ثبوت بھی قرآن سے باقی ہے ‌

ثبوت کی جگہ مجھے ڈانٹ‌پھٹکار کر کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بھائی شکاری ،، آپ خود شکار ہو چکے ہیں ۔۔۔ "حوا" کا نام کس قرآن کی آیت میں‌ آیا ہے ۔ حوالہ فراہم کردیجئے۔۔ اور "حوا کے جرم" کا حوالہ بھی۔۔

اس میں شبہ نہیں‌ کے خلاف قرآن روایات ، اسرائیلیات یعنی تحریف شدہ توریت و انجیل کی تفاسیر ہیں ۔۔

نبی اکرم صلعم کی زبان سے ادا شدہ اللہ کے فرمان ، قرآن پر ایمان نہیں تو مسلمان نہیں۔

اسرائیلیات کی تفسیر، یعنی خلاف قرآن روایات ، پر ایمان رکھنے والے مسلمان کس طرح‌؟؟؟؟

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-01-12), حیدر Rehan (26-01-12)
پرانا 26-01-12, 06:31 PM   #39
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں

تو گویا آپ کا اعتراض یہ ہے کہ قرآن دونوں (آدم و حوا) کا قصور ذکر کرتا ہے تو حدیث میں صرف حوا ؑ پر ہی الزام کیوں؟
معاف کیجئے گا احادیث کو جھوٹ کا پلندہ کہنے والوں کی اپنی جہالت، ضد اور عناد ہے، ورنہ اس اعتراض کی حقیقت کچھ بھی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ حدیث میں یہ کہاں کہا گیا ہے کہ آدم ؑ کا قصور ہی نہیں تھا؟ حدیث کے الفاظ تو فقط اتنے ہیں کہ:

نحوه يعني لولا بنو إسرائيل لم يخنز اللحم ولولا حوائ لم تخن أنثی زوجها
اگر یہودی نہ ہوتے تو گوشت کبھی نہ سڑتا اور اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔

اس حدیث میں نہ تو قصہ آدم و حوا کا ذکر ہے، نا یہ کہ اللہ کی نافرمانی میں قصور کس کا تھا اور کس کا نہ تھا۔ نہ ہی آدم ؑ کو ان کے قصور سے بری الذمہ قرار دیا گیا ہے۔ یہاں صرف شوہر کی خیانت میں اولیت کا مصداق حوا کو قرار دیا گیا ہے۔ اب اسے ہی جہالت کہتے ہیں کہ آپ عدم ذکر کو نفی ذکر پر محمول کرنے لگ گئے ہیں۔ کسی چیز کا ذکر نہ ہونا الگ بات ہے اور اس کا انکار کرنا الگ بات ہے۔ یہاں آدم علیہ السلام کے قصور کا ذکر ہی نہیں ہے، نا یہ کہ ان کے قصور کا انکار کیا گیا ہو۔ آپ ایک چیز کا دعویٰ کر کے ثبوت دوسری چیز کا پیش کر رہے ہیں۔
معافی چاہتا ہوں یہ کہنے کی کہ مراسلے میں محض لفاظی ہے سوال کا جواب نہیں ۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (26-01-12)
پرانا 26-01-12, 06:44 PM   #40
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قادیانوں کا نزول و ظہور پرانا نبی و مہدی ہو چکا آپ کا ہونا باقی ہے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
یہ آپکی عادت سی بن گئی ھے اس لئے اس پر جزاک اللہ خیر
اس نے قبر کشمیر میں بنوائی اور آپ نے باپ بغیر نام کے اس لئے دونوں میں نسبت تو بنتی نظر آ رہی ھے۔
قادیانوں میں اور آپ میں فرق صرف اتنا ہے کہ قادیانوں کا نزول و ظہور پہلے والے نبیؑ و مہدی ہو چکا، آپ کا ہونا باقی ہے، دونوں ختم نبوت کے منکر ہیں، اس لئے دونوں میں نسبت تو بنتی نظر آ رہی ھے۔!!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (26-01-12)
پرانا 26-01-12, 06:56 PM   #41
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کنعان بھائی، ثبوت کی جگہ مجھے ڈانٹ ‌پھٹکار کر کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
معافی چاہتا ہوں یہ کہنے کی کہ مراسلے میں محض لفاظی ہے سوال کا جواب نہیں ۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
ثبوت کی جگہ مجھے ڈانٹ‌پھٹکار کر کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بھائی شکاری ،، آپ خود شکار ہو چکے ہیں ۔۔۔
کنعان بھائی، ثبوت کی جگہ مجھے ڈانٹ ‌پھٹکار کر کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (26-01-12)
پرانا 26-01-12, 08:50 PM   #42
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

برادر من خاں صاحب،
بھئی ہم نے تو حدیث‌ ہی کے ذریعہ حدیث‌کی تشریح کر دی ہے۔ اب ہمارا کیا قصور کہ آپ کو صرف مفید مطلب چیزیں‌ بخوبی نظر آتی ہیں،اور اس کے ساتھ جہاں جواب نہ بن پڑے تو اسے اگنور کرتے ہوئے بار بار ایک ہی بات کو گھستے رہنے کے فن میں‌مہارت تامہ بھی آپ کو حاصل ہے۔ خیر، ہمارا کام تو اتمام حجت ہے۔ وہ الحمدللہ ہم کرتے رہیں‌گے۔ حدیث‌میں‌واضح الفاظ‌موجود ہیں:

لولا بنو إسرايل لم يخنز اللحم ولم يخبث الطعام
اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا اور کھانا خراب نہ ہوتا

درج بالا حدیث‌کو مکرر پڑھئے، بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص‌گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا،کیونکہ بنی اسرائیل ہی نے گوشت ذخیرہ کرنا لوگوں کو سکھایا تھا، اور وہی گوشت کی ذخیرہ اندوزی کے بانی تھے ، اور کھانا خراب نہ ہوتا (کیونکہ بنتے ہی کھا لیا جاتا تھا)۔ اگر قرآن سے ثابت ہو جائے کہ بنی اسرائیل سے قبل بھی کوئی قوم گوشت اور کھانا (نا کہ فصلیں اور اناج) ذخیرہ کرتی تھی تو حدیث کا ابطال لازم آئے گا اور اگر تطبیق کی کوئی صورت نہ ہو تو قرآن کو ترجیح دی جائے گی۔

درج بالا حدیث کو نقل کر کے اگر کوئی حدیث کے منہ میں اپنے الفاظ داخل کرتے ہوئے یہ تشریح پیش کرے کہ اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا، سے مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل جراثیموں کی طرح گوشت میں داخل ہو کر کیمیائی عمل کے ذریعے گوشت خراب کرتے تھے یا کرتے ہیں، تو اس جہالت پر مبنی تشریح اور وہ بھی بلا دلیل کو ماننا تو دور کی بات، کوئی سنجیدگی سے سننا بھی گوارا نہیں کرے گا۔ جبکہ اس حدیث کے قائلین نے کبھی اس سے وہ مطلب نہیں لیا جو آپ کشید فرما رہے ہیں۔ ہم حدیث کی تشریح میں دوسری حدیث پیش کر کے اس کی مناسب وضاحت بھی کر دیں تب بھی ناقابل قبول، اور آپ حدیث کے حدود الفاظ سے یکسر پرے، کوئی خارجی مفہوم بلا دلیل پیش فرما دیں تو وہ مان لیا جائے؟ بہت خوب!!

اور یہ بھی نوٹ کیجئے کہ اسی حدیث کا دوسرا جملہ ہماری اس بانی والی تشریح کو مزید پختہ کر دیتا ہے کہ:

ولولا حوا لم تخن أنثى زوجها
اور اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔

ظاہر ہے کہ حوا سے قبل کوئی خاتون نہ تھیں۔ لہٰذا شوہر سے خیانت ان سے قبل کسی نے نہ کی تھی۔ لہٰذا یہاں‌بھی حوا کی جانب خیانت کی نسبت محض ان کے بانی ہونے کی بنا پر ہے، ورنہ ان الفاظ کا کوئی ایسا الٹا مطلب لے لے کہ حوا ہی عورتوں کو شوہروں سے خیانت کی ترغیب دلاتی ہیں، تو یہ بداہتاً باطل ہے۔ ان الفاظ کا بھی فقط یہی مطلب ہے کہ حوا نے شوہر سے خیانت میں پہل کی۔ لہٰذا آج عورت اپنے شوہر کی خیانت کرتی ہے۔

حدیث کی ایسی تشریح کریں جو حدیث کے دونوں جملوں پر یکساں طور پر فٹ بیٹھتی ہو۔ اور وہ تشریح یہی ہو سکتی ہے کہ حدیث میں کسی فعل کے موجد یا بانی کی جانب اس فعل کی نسبت کی گئی ہے۔ اگر آپ کوئی ایسی تشریح کر سکتے ہوں جو ان دونوں جملوں پر یکساں فٹ بیٹھتی ہو تو آگے بڑھیں اور پیش کریں۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے کہہ دیا جاتا ہے کہ اگر قابیل نے ہابیل کو نہ قتل کیا ہوتا تو آج کوئی قاتل نہ ہوتا۔کسی قبیح تر برائی یا عظیم تر اچھائی کے فعل کی نسبت اپنے بانی کی جانب کرنا عام ہے۔ جیسے آج بھی خزانہ کی نسبت قارون کی جانب کردیتے ہیں، حالانکہ اس سے قبل بھی بہت لوگ امیر گزرے تھے، جیسے ہم قربانی کی نسبت ابراہیم علیہ السلام کی جانب کرتے ہیں۔ حالانکہ ان سے قبل بھی انبیاء قربانیاں دیا کرتے تھے۔ صرف موسیٰ علیہ السلام کو کلیم اللہ کہتے ہیں، حالانکہ دیگر انبیاء کو بھی اللہ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا۔

یہ زبان کی بلاغت ہے جس کی بنا پر عامی حضرات کسی جملہ کو غلط تصور کرتے ہیں یا اس کے ظاہری معنی لے کر بیٹھ جاتے ہیں، حالانکہ کہنے والے کا مقصد لطیف انداز بیان کے ساتھ کوئی اور ہی بات سمجھانا ہوتا ہے۔ اس کی مثالیں نثری ادب کے ساتھ شعری ادب میں بھی ایک ڈھونڈو ہزار ملیں گی۔ غالب کا شعر ملاحظہ ہو:

ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر

اور کوئی قہقہہ لگا کر ہنسے اور خوب مذاق اڑائے غالب کا، کہ پاؤں میں آبلے ہوں تو کانٹے دیکھ کر کون بے وقوف خوش ہو سکتا ہے۔ حالانکہ اس کی چاشنی اور انداز بیان کی لطافت کو ہر صاحب ذوق سمجھ کر داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اور اگر وہ باذوق صاحب ان بدذوق حضرت کو سمجھانے بیٹھیں کہ جناب والا کانٹوں سے دراصل آبلے پھٹ جائیں گے، اور آبلوں کی وجہ سے ہی تو گھبراہٹ تھی، لہٰذا غالب صاحب یہ سوچ کر خوش ہو رہے تھے کہ اب آبلے نہیں رہیں گے۔ تو وہ حضرت غالباً اس تشریح پر پہلے سے زیادہ کھلکھلا کر ہنسیں گے۔ اور غالب کے ساتھ آپ کے بھی خوب لتے لیں گے۔ اور یہی کچھ ہمارے یہ مہربان اس حدیث کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہیں۔

اب خاں صاحب کی پیش کردہ دو آیات ملاحظہ ہوں:

اقتباس:
12:47 قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلِهِ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تَأْكُلُونَ
یوسف (علیہ السلام) نے کہا: تم لوگ دائمی عادت کے مطابق مسلسل سات برس تک کاشت کرو گے سو جو کھیتی تم کاٹا کرو گے اسے اس کے خوشوں (ہی) میں (ذخیرہ کے طور پر) رکھتے رہنا مگر تھوڑا سا (نکال لینا) جسے تم (ہر سال) کھا لو

12:48 ثُمَّ يَأْتِي مِن بَعْدِ ذَلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تُحْصِنُونَ
پھر اس کے بعد سات (سال) بہت سخت (خشک سالی کے) آئیں گے وہ اس (ذخیرہ) کو کھا جائیں گے جو تم ان کے لئے پہلے جمع کرتے رہے تھے مگر تھوڑا سا (بچ جائے گا) جو تم محفوظ کر لوگے

ذخیرہ کیا اور سڑا بھی نہیں ‌

کیا بات ہے ۔ کیا روایت خلاف قرآن ہے ؟؟
یہ سوچے سمجھے بغیر بولنے کی عادت کا کرشمہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان آیات سے کھانا اور گوشت کا ذخیرہ کرنا ہی مراد ہے اور ذخیرہ کے بعد نہ سڑنا بھی قرآن سے ثابت ہے تو اس کی سائنسی توجیہہ بھی آپ پیش فرما دیجئے کہ کیسے گوشت یا کھانا ذخیرہ کیا گیا اور سڑا بھی نہیں۔ خلاف قرآن روایت کا راگ بعد میں الاپ لیں گے۔پہلے اس مفہوم پر ان قرآنی آیات کو سائنس کے مسلمہ اصولوں پر ثابت کر لیجئے۔

اگر ان آیات میں گوشت اور کھانے کے بجائے اناج یا کھیتی کا ذکر ہے تو اس کا ان احادیث سے کوئی تعلق ہی نہیں جن پر بات چل رہی ہے۔ لہٰذا دائرہ کار مختلف ہونے کی وجہ سے یہ آیات و احادیث ایک دوسرے کے مخالف نہیں ٹھہرائی جا سکتیں۔

اناج کا ذخیرہ کیا جانا قرآن سے ثابت ہے اور وہ بھی بنی اسرائیل ہی کے نبی سے، لہٰذا یہ آیات حدیث کے مخالف نہیں۔ حدیث میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ بنی اسرائیل سے قبل کسی نے گوشت یا کھانے کا ذخیرہ نہیں کیا تھا۔ لہٰذا آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ بنی اسرائیل سے قبل بھی ذخیرہ اندوزی اور وہ بھی گوشت یا کھانے کی کی جاتی تھی۔


اقتباس:
ابھی تک "حوا" کے "جرم"‌ کی خالص اسرائیلیات کا ثبوت بھی قرآن سے باقی ہے ‌
حوا کا قصور قرآن سے ثابت ہے۔ قرآن نے دونوں کا قصور بیان کیا ہے۔ اور دونوں میں یقیناً حوا شامل تھیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ احادیث سے ثابت ہے کہ شیطان نے اول اول حوا کو بہکایا اور پھر انہوں نے آدمؑ کو بھی شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کے لئے آمادہ کر لیا ۔ قرآن نے صرف نتیجہ بیان کیا ہے کہ دونوں نے نافرمانی کی، اس کی جزئیات یا تفصیلات نہیں بتائیں کہ پہلے کس نے نافرمانی کی اور شیطان نے کیا حربہ استعمال کیا، وغیرہ۔ یہ تفصیلات احادیث سے ثابت ہیں۔ لہٰذا حدیث کا یہ مفہوم بالکل درست ہے کہ حوا ہی سب سے پہلی خاتون ہیں، جنہوں نے اپنے خاوند کی نافرمانی کی۔

اقتباس:
"حوا" کا نام کس قرآن کی آیت میں‌ آیا ہے ۔ حوالہ فراہم کردیجئے۔۔ اور "حوا کے جرم" کا حوالہ بھی۔۔
خاں صاحب، آپ غالباً شارٹ ٹرم میموری کے شکار معلوم ہوتے ہیں۔ ابھی گزشتہ پوسٹ ہی میں آپ سے اسی سوال کے جواب میں پوچھا گیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام قرآن کی کس آیت میں آیا ہے؟ حوالہ فراہم کر دیجئے؟ بھئی، ہمارا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے، اور انہوں نے حوا کا نام بتا دیا ہے ، جسے قرآن نے آدم کے زوج کے طور پر بہرحال پہلے ہی پیش کر رکھا ہے۔ آپ کو عیسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام، جس کا قرآن میں ذکر تک نہیں، کون ٹیچی بتا گیا ہے، اس کا اتہ پتہ بتا دیجئے۔

اقتباس:
اسرائیلیات کی تفسیر، یعنی خلاف قرآن روایات ، پر ایمان رکھنے والے مسلمان کس طرح‌؟؟؟؟
آپ کی عقل کے خلاف جو بھی بات ہو، وہ خلاف قرآن قرار پا جاتی ہے۔ کیا آپ نے اپنی عقل ہی کو قرآن قرار دے رکھا ہے؟ غرور ذات اور تکبر علمی کی ایسی معراج سے اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ فرمائیں۔ آمین۔
شکاری آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-01-12), کنعان (26-01-12), ھارون اعظم (26-01-12), احمد نذیر (29-01-12), عبداللہ حیدر (26-01-12)
کمائي نے شکاری کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
26-01-12 کنعان کیا آپ نے اپنی عقل ہی کو قرآن قرار دے رکھا ہے؟ 10
پرانا 26-01-12, 09:38 PM   #43
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اگر آپ ، آپ ، آپ سے کام چلتا ہوتا تو کبھی کا چلا لیتا۔۔۔۔۔ سرجی ۔۔۔

کچھ کام کی بات کریں۔ بندے پر سے توجہ ہٹائیں تو معاملہ نظر آئے ۔ شکصیت پرستی کی عادت، صدیوں نہیں جاتی
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (26-01-12)
پرانا 26-01-12, 09:42 PM   #44
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بنی اسرائیل نے کون سی فریج ایجاد کی تھی جس میں وہ پکا کھانا سٹور کرتے تھے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
برادر من خاں صاحب،
بھئی ہم نے تو حدیث‌ ہی کے ذریعہ حدیث‌کی تشریح کر دی ہے۔ اب ہمارا کیا قصور کہ آپ کو صرف مفید مطلب چیزیں‌ بخوبی نظر آتی ہیں،اور اس کے ساتھ جہاں جواب نہ بن پڑے تو اسے اگنور کرتے ہوئے بار بار ایک ہی بات کو گھستے رہنے کے فن میں‌مہارت تامہ بھی آپ کو حاصل ہے۔ خیر، ہمارا کام تو اتمام حجت ہے۔ وہ الحمدللہ ہم کرتے رہیں‌گے۔ حدیث‌میں‌واضح الفاظ‌موجود ہیں:
لولا بنو إسرايل لم يخنز اللحم ولم يخبث الطعام
اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا اور کھانا خراب نہ ہوتا
درج بالا حدیث‌کو مکرر پڑھئے، بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص‌گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا، کیونکہ بنی اسرائیل ہی نے گوشت ذخیرہ کرنا لوگوں کو سکھایا تھا، اور وہی گوشت کی ذخیرہ اندوزی کے بانی تھے، اور کھانا خراب نہ ہوتا (کیونکہ بنتے ہی کھا لیا جاتا تھا)۔ اگر قرآن سے ثابت ہو جائے کہ بنی اسرائیل سے قبل بھی کوئی قوم گوشت اور کھانا (نا کہ فصلیں اور اناج) ذخیرہ کرتی تھی تو حدیث کا ابطال لازم آئے گا اور اگر تطبیق کی کوئی صورت نہ ہو تو قرآن کو ترجیح دی جائے گی۔
درج بالا حدیث کو نقل کر کے اگر کوئی حدیث کے منہ میں اپنے الفاظ داخل کرتے ہوئے یہ تشریح پیش کرے کہ اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا، سے مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل جراثیموں کی طرح گوشت میں داخل ہو کر کیمیائی عمل کے ذریعے گوشت خراب کرتے تھے یا کرتے ہیں، تو اس جہالت پر مبنی تشریح اور وہ بھی بلا دلیل کو ماننا تو دور کی بات، کوئی سنجیدگی سے سننا بھی گوارا نہیں کرے گا۔ جبکہ اس حدیث کے قائلین نے کبھی اس سے وہ مطلب نہیں لیا جو آپ کشید فرما رہے ہیں۔ ہم حدیث کی تشریح میں دوسری حدیث پیش کر کے اس کی مناسب وضاحت بھی کر دیں تب بھی ناقابل قبول، اور آپ حدیث کے حدود الفاظ سے یکسر پرے، کوئی خارجی مفہوم بلا دلیل پیش فرما دیں تو وہ مان لیا جائے؟ بہت خوب!!
اور یہ بھی نوٹ کیجئے کہ اسی حدیث کا دوسرا جملہ ہماری اس بانی والی تشریح کو مزید پختہ کر دیتا ہے کہ:
ولولا حوا لم تخن أنثى زوجها
اور اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔
ظاہر ہے کہ حوا سے قبل کوئی خاتون نہ تھیں۔ لہٰذا شوہر سے خیانت ان سے قبل کسی نے نہ کی تھی۔ لہٰذا یہاں‌بھی حوا کی جانب خیانت کی نسبت محض ان کے بانی ہونے کی بنا پر ہے، ورنہ ان الفاظ کا کوئی ایسا الٹا مطلب لے لے کہ حوا ہی عورتوں کو شوہروں سے خیانت کی ترغیب دلاتی ہیں، تو یہ بداہتاً باطل ہے۔ ان الفاظ کا بھی فقط یہی مطلب ہے کہ حوا نے شوہر سے خیانت میں پہل کی۔ لہٰذا آج عورت اپنے شوہر کی خیانت کرتی ہے۔
حدیث کی ایسی تشریح کریں جو حدیث کے دونوں جملوں پر یکساں طور پر فٹ بیٹھتی ہو۔ اور وہ تشریح یہی ہو سکتی ہے کہ حدیث میں کسی فعل کے موجد یا بانی کی جانب اس فعل کی نسبت کی گئی ہے۔ اگر آپ کوئی ایسی تشریح کر سکتے ہوں جو ان دونوں جملوں پر یکساں فٹ بیٹھتی ہو تو آگے بڑھیں اور پیش کریں۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے کہہ دیا جاتا ہے کہ اگر قابیل نے ہابیل کو نہ قتل کیا ہوتا تو آج کوئی قاتل نہ ہوتا۔کسی قبیح تر برائی یا عظیم تر اچھائی کے فعل کی نسبت اپنے بانی کی جانب کرنا عام ہے۔ جیسے آج بھی خزانہ کی نسبت قارون کی جانب کردیتے ہیں، حالانکہ اس سے قبل بھی بہت لوگ امیر گزرے تھے، جیسے ہم قربانی کی نسبت ابراہیم علیہ السلام کی جانب کرتے ہیں۔ حالانکہ ان سے قبل بھی انبیاء قربانیاں دیا کرتے تھے۔ صرف موسیٰ علیہ السلام کو کلیم اللہ کہتے ہیں، حالانکہ دیگر انبیاء کو بھی اللہ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا۔
یہ زبان کی بلاغت ہے جس کی بنا پر عامی حضرات کسی جملہ کو غلط تصور کرتے ہیں یا اس کے ظاہری معنی لے کر بیٹھ جاتے ہیں، حالانکہ کہنے والے کا مقصد لطیف انداز بیان کے ساتھ کوئی اور ہی بات سمجھانا ہوتا ہے۔ اس کی مثالیں نثری ادب کے ساتھ شعری ادب میں بھی ایک ڈھونڈو ہزار ملیں گی۔ غالب کا شعر ملاحظہ ہو:
ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
اور کوئی قہقہہ لگا کر ہنسے اور خوب مذاق اڑائے غالب کا، کہ پاؤں میں آبلے ہوں تو کانٹے دیکھ کر کون بے وقوف خوش ہو سکتا ہے۔ حالانکہ اس کی چاشنی اور انداز بیان کی لطافت کو ہر صاحب ذوق سمجھ کر داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اور اگر وہ باذوق صاحب ان بدذوق حضرت کو سمجھانے بیٹھیں کہ جناب والا کانٹوں سے دراصل آبلے پھٹ جائیں گے، اور آبلوں کی وجہ سے ہی تو گھبراہٹ تھی، لہٰذا غالب صاحب یہ سوچ کر خوش ہو رہے تھے کہ اب آبلے نہیں رہیں گے۔ تو وہ حضرت غالباً اس تشریح پر پہلے سے زیادہ کھلکھلا کر ہنسیں گے۔ اور غالب کے ساتھ آپ کے بھی خوب لتے لیں گے۔ اور یہی کچھ ہمارے یہ مہربان اس حدیث کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہیں۔
اب خاں صاحب کی پیش کردہ دو آیات ملاحظہ ہوں:
یہ سوچے سمجھے بغیر بولنے کی عادت کا کرشمہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان آیات سے کھانا اور گوشت کا ذخیرہ کرنا ہی مراد ہے اور ذخیرہ کے بعد نہ سڑنا بھی قرآن سے ثابت ہے تو اس کی سائنسی توجیہہ بھی آپ پیش فرما دیجئے کہ کیسے گوشت یا کھانا ذخیرہ کیا گیا اور سڑا بھی نہیں۔ خلاف قرآن روایت کا راگ بعد میں الاپ لیں گے۔پہلے اس مفہوم پر ان قرآنی آیات کو سائنس کے مسلمہ اصولوں پر ثابت کر لیجئے۔
اگر ان آیات میں گوشت اور کھانے کے بجائے اناج یا کھیتی کا ذکر ہے تو اس کا ان احادیث سے کوئی تعلق ہی نہیں جن پر بات چل رہی ہے۔ لہٰذا دائرہ کار مختلف ہونے کی وجہ سے یہ آیات و احادیث ایک دوسرے کے مخالف نہیں ٹھہرائی جا سکتیں۔
اناج کا ذخیرہ کیا جانا قرآن سے ثابت ہے اور وہ بھی بنی اسرائیل ہی کے نبی سے، لہٰذا یہ آیات حدیث کے مخالف نہیں۔ حدیث میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ بنی اسرائیل سے قبل کسی نے گوشت یا کھانے کا ذخیرہ نہیں کیا تھا۔ لہٰذا آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ بنی اسرائیل سے قبل بھی ذخیرہ اندوزی اور وہ بھی گوشت یا کھانے کی کی جاتی تھی۔
حوا کا قصور قرآن سے ثابت ہے۔ قرآن نے دونوں کا قصور بیان کیا ہے۔ اور دونوں میں یقیناً حوا شامل تھیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ احادیث سے ثابت ہے کہ شیطان نے اول اول حوا کو بہکایا اور پھر انہوں نے آدمؑ کو بھی شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کے لئے آمادہ کر لیا ۔ قرآن نے صرف نتیجہ بیان کیا ہے کہ دونوں نے نافرمانی کی، اس کی جزئیات یا تفصیلات نہیں بتائیں کہ پہلے کس نے نافرمانی کی اور شیطان نے کیا حربہ استعمال کیا، وغیرہ۔ یہ تفصیلات احادیث سے ثابت ہیں۔ لہٰذا حدیث کا یہ مفہوم بالکل درست ہے کہ حوا ہی سب سے پہلی خاتون ہیں، جنہوں نے اپنے خاوند کی نافرمانی کی۔
خاں صاحب، آپ غالباً شارٹ ٹرم میموری کے شکار معلوم ہوتے ہیں۔ ابھی گزشتہ پوسٹ ہی میں آپ سے اسی سوال کے جواب میں پوچھا گیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام قرآن کی کس آیت میں آیا ہے؟ حوالہ فراہم کر دیجئے؟ بھئی، ہمارا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے، اور انہوں نے حوا کا نام بتا دیا ہے ، جسے قرآن نے آدم کے زوج کے طور پر بہرحال پہلے ہی پیش کر رکھا ہے۔ آپ کو عیسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام، جس کا قرآن میں ذکر تک نہیں، کون ٹیچی بتا گیا ہے، اس کا اتہ پتہ بتا دیجئے۔
آپ کی عقل کے خلاف جو بھی بات ہو، وہ خلاف قرآن قرار پا جاتی ہے۔ کیا آپ نے اپنی عقل ہی کو قرآن قرار دے رکھا ہے؟ غرور ذات اور تکبر علمی کی ایسی معراج سے اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ فرمائیں۔ آمین۔
بنی اسرائیل سے قبل بھی کوئی قوم گوشت اور کھانا (نا کہ فصلیں اور اناج) ذخیرہ کرتی تھی تو حدیث کا ابطال لازم آئے گا اور اگر تطبیق کی کوئی صورت نہ ہو تو قرآن کو ترجیح دی جائے گی۔

بنی اسرائیل نے کون سی فریج ایجاد کی تھی جس میں وہ پکا کھانا سٹور کرتے تھے، گوشت نمک لگا کر خشک کرکے سٹور کیا جاتا تھا، اور کھانے والی چیزیں بھی اس زمانےکے طریقہ سے سٹور کرتے تھے، بنی اسرائیل کی فریج کا نام بتائیں ؟؟؟

آپ کو عیسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام، جس کا قرآن میں ذکر تک نہیں، کون ٹیچی بتا گیا ہے، اس کا اتہ پتہ بتا دیجئے۔

وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ ۖ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (6:87)
اور ان کے باپ اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی۔ اور ان کو برگزیدہ بھی کیا تھا اور سیدھا رستہ بھی دکھایا تھا
(To them) and to their fathers, and progeny and brethren: We chose them, and we guided them to a straight way.‎

’’مریم کا نکاح کس نے پڑھا، گواہ کون کون تھے؟ حق مہر کتنا تھا؟‘‘


محترم! آپ بزرگ ہیں، بزرگوں والی بات کریں، بچوں والی باتیں نہ کریں میں پھر عرض کرتا ہوں کہ آپ حافظِ قرآن ہیں ،قرآن نے جتنے انبیاء علیہم السلام کا ذکر کیا ہے ان کے ناموں کی ایک جدول بنا لیں، پھر ہر نبی کے نام کے ساتھ، سامنے اس کے باپ کا نام، اس کی ماں کا نام لکھ کر ان کی بیوی کا نام درج کر دیں، نیز نکاح خواں، گواہوں کے نام اور حق مہر کی نشان دہی بھی فرما دیں اور عیسیٰ ؑ والا خانہ خالی رہنے دیں، اس کو حافظ عنایت اللہ مرحوم سے پر کرائیں گے اور میں ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ یہ خانہ میں پر کرا دوں گا اگر یہ ممکن نہ ہوا تو میں خود موجود ہوں آپ فکر نہ کریں جب میں نے نعرہ لگایا ہے کہ اَنَا بِہٖ زَعِیْمٌ تو یہ میری ذمہ داری ہے آپ اپنا کام کریں ان شاء اللہ باقی ماندہ ہو جائے گا۔

بصورتِ دیگر جس نبی علیہ السلام کے باپ کا نام آپ درج نہ کر سکے تسلیم کرنا ہو گا کہ اس کا باپ نہیں جس کی ماں کا نام نہ ہو سکا یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ اس کی ماں نہیں جس کی بیوی والا خانہ خالی رہا اس کی بیوی نہ ہو گی، خواہ اولاد موجود ہو اور جس کے گواہوں اور نکاح خواں اور حق مہر کا پتہ نہ چل سکا اس کے بارے میں کیا تسلیم کرنا ہو گا؟ بات بالکل ظاہر ہے اگرچہ ان کی اولاد کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہو۔

Last edited by rana ammar mazhar; 26-01-12 at 10:09 PM.
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
پرانا 26-01-12, 10:16 PM   #45
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,487
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
برادر من خاں صاحب،
بھئی ہم نے تو حدیث‌ ہی کے ذریعہ حدیث‌کی تشریح کر دی ہے۔ اب ہمارا کیا قصور کہ آپ کو صرف مفید مطلب چیزیں‌ بخوبی نظر آتی ہیں،اور اس کے ساتھ جہاں جواب نہ بن پڑے تو اسے اگنور کرتے ہوئے بار بار ایک ہی بات کو گھستے رہنے کے فن میں‌مہارت تامہ بھی آپ کو حاصل ہے۔ خیر، ہمارا کام تو اتمام حجت ہے۔ وہ الحمدللہ ہم کرتے رہیں‌گے۔ حدیث‌میں‌واضح الفاظ‌موجود ہیں:

لولا بنو إسرايل لم يخنز اللحم ولم يخبث الطعام
اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا اور کھانا خراب نہ ہوتا

درج بالا حدیث‌کو مکرر پڑھئے، بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص‌گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا،کیونکہ بنی اسرائیل ہی نے گوشت ذخیرہ کرنا لوگوں کو سکھایا تھا، اور وہی گوشت کی ذخیرہ اندوزی کے بانی تھے ، اور کھانا خراب نہ ہوتا (کیونکہ بنتے ہی کھا لیا جاتا تھا)۔ اگر قرآن سے ثابت ہو جائے کہ بنی اسرائیل سے قبل بھی کوئی قوم گوشت اور کھانا (نا کہ فصلیں اور اناج) ذخیرہ کرتی تھی تو حدیث کا ابطال لازم آئے گا اور اگر تطبیق کی کوئی صورت نہ ہو تو قرآن کو ترجیح دی جائے گی۔

درج بالا حدیث کو نقل کر کے اگر کوئی حدیث کے منہ میں اپنے الفاظ داخل کرتے ہوئے یہ تشریح پیش کرے کہ اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا، سے مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل جراثیموں کی طرح گوشت میں داخل ہو کر کیمیائی عمل کے ذریعے گوشت خراب کرتے تھے یا کرتے ہیں، تو اس جہالت پر مبنی تشریح اور وہ بھی بلا دلیل کو ماننا تو دور کی بات، کوئی سنجیدگی سے سننا بھی گوارا نہیں کرے گا۔ جبکہ اس حدیث کے قائلین نے کبھی اس سے وہ مطلب نہیں لیا جو آپ کشید فرما رہے ہیں۔ ہم حدیث کی تشریح میں دوسری حدیث پیش کر کے اس کی مناسب وضاحت بھی کر دیں تب بھی ناقابل قبول، اور آپ حدیث کے حدود الفاظ سے یکسر پرے، کوئی خارجی مفہوم بلا دلیل پیش فرما دیں تو وہ مان لیا جائے؟ بہت خوب!!

اور یہ بھی نوٹ کیجئے کہ اسی حدیث کا دوسرا جملہ ہماری اس بانی والی تشریح کو مزید پختہ کر دیتا ہے کہ:

ولولا حوا لم تخن أنثى زوجها
اور اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔

ظاہر ہے کہ حوا سے قبل کوئی خاتون نہ تھیں۔ لہٰذا شوہر سے خیانت ان سے قبل کسی نے نہ کی تھی۔ لہٰذا یہاں‌بھی حوا کی جانب خیانت کی نسبت محض ان کے بانی ہونے کی بنا پر ہے، ورنہ ان الفاظ کا کوئی ایسا الٹا مطلب لے لے کہ حوا ہی عورتوں کو شوہروں سے خیانت کی ترغیب دلاتی ہیں، تو یہ بداہتاً باطل ہے۔ ان الفاظ کا بھی فقط یہی مطلب ہے کہ حوا نے شوہر سے خیانت میں پہل کی۔ لہٰذا آج عورت اپنے شوہر کی خیانت کرتی ہے۔

حدیث کی ایسی تشریح کریں جو حدیث کے دونوں جملوں پر یکساں طور پر فٹ بیٹھتی ہو۔ اور وہ تشریح یہی ہو سکتی ہے کہ حدیث میں کسی فعل کے موجد یا بانی کی جانب اس فعل کی نسبت کی گئی ہے۔ اگر آپ کوئی ایسی تشریح کر سکتے ہوں جو ان دونوں جملوں پر یکساں فٹ بیٹھتی ہو تو آگے بڑھیں اور پیش کریں۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے کہہ دیا جاتا ہے کہ اگر قابیل نے ہابیل کو نہ قتل کیا ہوتا تو آج کوئی قاتل نہ ہوتا۔کسی قبیح تر برائی یا عظیم تر اچھائی کے فعل کی نسبت اپنے بانی کی جانب کرنا عام ہے۔ جیسے آج بھی خزانہ کی نسبت قارون کی جانب کردیتے ہیں، حالانکہ اس سے قبل بھی بہت لوگ امیر گزرے تھے، جیسے ہم قربانی کی نسبت ابراہیم علیہ السلام کی جانب کرتے ہیں۔ حالانکہ ان سے قبل بھی انبیاء قربانیاں دیا کرتے تھے۔ صرف موسیٰ علیہ السلام کو کلیم اللہ کہتے ہیں، حالانکہ دیگر انبیاء کو بھی اللہ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا۔

یہ زبان کی بلاغت ہے جس کی بنا پر عامی حضرات کسی جملہ کو غلط تصور کرتے ہیں یا اس کے ظاہری معنی لے کر بیٹھ جاتے ہیں، حالانکہ کہنے والے کا مقصد لطیف انداز بیان کے ساتھ کوئی اور ہی بات سمجھانا ہوتا ہے۔ اس کی مثالیں نثری ادب کے ساتھ شعری ادب میں بھی ایک ڈھونڈو ہزار ملیں گی۔ غالب کا شعر ملاحظہ ہو:

ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر

اور کوئی قہقہہ لگا کر ہنسے اور خوب مذاق اڑائے غالب کا، کہ پاؤں میں آبلے ہوں تو کانٹے دیکھ کر کون بے وقوف خوش ہو سکتا ہے۔ حالانکہ اس کی چاشنی اور انداز بیان کی لطافت کو ہر صاحب ذوق سمجھ کر داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اور اگر وہ باذوق صاحب ان بدذوق حضرت کو سمجھانے بیٹھیں کہ جناب والا کانٹوں سے دراصل آبلے پھٹ جائیں گے، اور آبلوں کی وجہ سے ہی تو گھبراہٹ تھی، لہٰذا غالب صاحب یہ سوچ کر خوش ہو رہے تھے کہ اب آبلے نہیں رہیں گے۔ تو وہ حضرت غالباً اس تشریح پر پہلے سے زیادہ کھلکھلا کر ہنسیں گے۔ اور غالب کے ساتھ آپ کے بھی خوب لتے لیں گے۔ اور یہی کچھ ہمارے یہ مہربان اس حدیث کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہیں۔

اب خاں صاحب کی پیش کردہ دو آیات ملاحظہ ہوں:



یہ سوچے سمجھے بغیر بولنے کی عادت کا کرشمہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان آیات سے کھانا اور گوشت کا ذخیرہ کرنا ہی مراد ہے اور ذخیرہ کے بعد نہ سڑنا بھی قرآن سے ثابت ہے تو اس کی سائنسی توجیہہ بھی آپ پیش فرما دیجئے کہ کیسے گوشت یا کھانا ذخیرہ کیا گیا اور سڑا بھی نہیں۔ خلاف قرآن روایت کا راگ بعد میں الاپ لیں گے۔پہلے اس مفہوم پر ان قرآنی آیات کو سائنس کے مسلمہ اصولوں پر ثابت کر لیجئے۔

اگر ان آیات میں گوشت اور کھانے کے بجائے اناج یا کھیتی کا ذکر ہے تو اس کا ان احادیث سے کوئی تعلق ہی نہیں جن پر بات چل رہی ہے۔ لہٰذا دائرہ کار مختلف ہونے کی وجہ سے یہ آیات و احادیث ایک دوسرے کے مخالف نہیں ٹھہرائی جا سکتیں۔

اناج کا ذخیرہ کیا جانا قرآن سے ثابت ہے اور وہ بھی بنی اسرائیل ہی کے نبی سے، لہٰذا یہ آیات حدیث کے مخالف نہیں۔ حدیث میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ بنی اسرائیل سے قبل کسی نے گوشت یا کھانے کا ذخیرہ نہیں کیا تھا۔ لہٰذا آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ بنی اسرائیل سے قبل بھی ذخیرہ اندوزی اور وہ بھی گوشت یا کھانے کی کی جاتی تھی۔



حوا کا قصور قرآن سے ثابت ہے۔ قرآن نے دونوں کا قصور بیان کیا ہے۔ اور دونوں میں یقیناً حوا شامل تھیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ احادیث سے ثابت ہے کہ شیطان نے اول اول حوا کو بہکایا اور پھر انہوں نے آدمؑ کو بھی شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کے لئے آمادہ کر لیا ۔ قرآن نے صرف نتیجہ بیان کیا ہے کہ دونوں نے نافرمانی کی، اس کی جزئیات یا تفصیلات نہیں بتائیں کہ پہلے کس نے نافرمانی کی اور شیطان نے کیا حربہ استعمال کیا، وغیرہ۔ یہ تفصیلات احادیث سے ثابت ہیں۔ لہٰذا حدیث کا یہ مفہوم بالکل درست ہے کہ حوا ہی سب سے پہلی خاتون ہیں، جنہوں نے اپنے خاوند کی نافرمانی کی۔


خاں صاحب، آپ غالباً شارٹ ٹرم میموری کے شکار معلوم ہوتے ہیں۔ ابھی گزشتہ پوسٹ ہی میں آپ سے اسی سوال کے جواب میں پوچھا گیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام قرآن کی کس آیت میں آیا ہے؟ حوالہ فراہم کر دیجئے؟ بھئی، ہمارا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے، اور انہوں نے حوا کا نام بتا دیا ہے ، جسے قرآن نے آدم کے زوج کے طور پر بہرحال پہلے ہی پیش کر رکھا ہے۔ آپ کو عیسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام، جس کا قرآن میں ذکر تک نہیں، کون ٹیچی بتا گیا ہے، اس کا اتہ پتہ بتا دیجئے۔


آپ کی عقل کے خلاف جو بھی بات ہو، وہ خلاف قرآن قرار پا جاتی ہے۔ کیا آپ نے اپنی عقل ہی کو قرآن قرار دے رکھا ہے؟ غرور ذات اور تکبر علمی کی ایسی معراج سے اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ فرمائیں۔ آمین۔
اس کے بعد بھی کوئی نہ سمجھے تو اس کے حق میں دعا ہی جا سکتی ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (27-01-12), کنعان (26-01-12), احمد نذیر (29-01-12)
جواب

Tags
کھانا خراب, گوشت بدبودار, بنی اسرائیل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کرپشن سکینڈل نہ ہوتے تو آج حکومت کیساتھ ہوتے ، نواز شریف جاویداسد خبریں 2 11-09-10 12:36 PM
نہ تھا کچھ تو خدا ہوتا، کچھ نا ہوتا تو خدا ہوتا The Great شعر و شاعری 1 14-09-09 02:43 PM
جوتا مارنےاور جوتے چاٹنے کافرق فیصل ناصر عمومی بحث 4 24-12-08 01:15 PM
گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا خرم شہزاد خرم دیوان غالب 0 14-12-07 01:38 PM
تم جو ہوتے تو ہمیں کتنا سہارا ہوتا محمدعدنان شاعری اور مصوری 2 30-09-07 12:30 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:05 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger