![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,357
شکریہ: 4,409
1,842 مراسلہ میں 6,860 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کل مخلوق کے قائد اور اولاد آدم میں سب سے زیادہ مکرم ہیں عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَنَا أَوَّلُهُمْ خُرُوْجًا وَأَنَا قَاءِدُهُمْ إِذَا وَفَدُوْا، وَأَنَا خَطِيْبُهُمْ إِذَا أَنْصَتُوْا، وَأَنَا مُشَفِّعُهُمْ إِذَا حُبِسُوْا، وَأَنَا مُبَشِّرُهُمْ إِذَا أَيِسُوْا. اَلْکَرَامَةُ، وَالْمَفَاتِيْحُ يَوْمَئِذٍ بِيَدِيَّ وَأَنَا أَکْرَمُ وَلَدِ آدَمَ عَلَي رَبِّي، يَطُوْفُ عَلَيَّ أَلْفُ خَادِمٍ کَأَنَّهُمْ بَيْضٌ مَکْنُوْنٌ، أَوْ لُؤْلُؤٌ مَنْثُوْرٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ. حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ سب سے پہلے میں (اپنے مزار اقدس سے) نکلوں گا ۔ اور جب لوگ وفد بن کر جائیں گے تو میں ہی ان کا قائد ہوں گا ۔ اور جب وہ خاموش ہوں گے تو میں ہی ان کا خطیب ہوں گا۔ ۔ میں ہی ان کی شفاعت کرنے والا ہوں جب وہ روک دیئے جائیں گے، ۔ اور میں ہی انہیں خوشخبری دینے والا ہوں جب وہ مایوس ہو جائیں گے۔ ۔ بزرگی اور جنت کی چابیاں اس روز میرے ہاتھ میں ہوں گی۔ ۔میں اپنے رب کے ہاں اولادِ آدم میں سب سے زیادہ مکرّم ہوں ۔ میرے اردگرد اس روز ہزار خادم پھریں گے گویا کہ وہ پوشیدہ حسن ہیں یا بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ حوالہ جات الترمذي في السنن، کتاب : المناقب عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : في فضل النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 585، الرقم : 3610، والدارمي في السنن، ( باب : ما أعطي النبي صلي الله عليه وآله وسلم من الفضل، 1 / 39، الرقم : 48، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 47، الرقم : 117، والخلال في السنة، 1 / 208، الرقم : 235، والقزويني في التدوين في أخبار قزوين، 1 / 235، وابن الجوزي في صفة الصفوة، 1 / 182، والمناوي في فيض القدير، 3 / 40
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | rabab (20-06-10), sahj (21-06-10), ھارون اعظم (19-06-10), مرزا عامر (03-07-10), بلال اویسی (21-06-10), حیدر Rehan (21-06-10), خرم شہزاد خرم (21-06-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم قارئین کرام ، مذکورہ بالا روایت ضعیف ہے ، یعنی کمزور ناقابل حجت اور ناقابل اعتماد ہے ، اس تھریڈ کا جو عنوان بنایا گیا وہ مسئلہ تو اس روایت میں میسر نہیں ، لیکن اس کے قریب ترین جو مسئلہ صحیح احادیث میں میسر ہے، ان شاء اللہ اس کے بارے میں صحیح روایات ایک الگ تھریڈ میں ارسال کر وں گا ، یہاں صرف اس تھریڈ میں ارسال کردہ معلومات کی غلطیوں کی نشاندہی کرنا مقصود ہے، تا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان غلطیوں سے محفوظ رہنے کی توفیق دے ، ::::::: مذکورہ بالا روایت کے حوالہ جات میں سب سے پہلی اور بڑی غلطی ، پہلا حوالہ ہے ، غالباً ارسال کرنے والے نے کہیں سے کاپی پیسٹ کر دیا ہے اور خود سے اصل کتابوں میں دیکھنے کی کوشش نہیں کی ، پہلا حوالہ یہ دیا گیا ہے ::: الترمذي في السنن، کتاب : المناقب عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : في فضل النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 585، الرقم : 3610، جب اس حوالے کے مطابق کتاب کھول کر دیکھی تو وہاں کوئی یہ مذکورہ بالا روایت نہیں ملی ، بلکہ یہ درج ذیل روایت ملی ::: ((((( أنا أَوَّلُ الناس خُرُوجًا إذا بُعِثُوا وأنا خَطِيبُهُمْ إذا وَفَدُوا وأنا مُبَشِّرُهُمْ إذا أَيِسُوا لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَئِذٍ بِيَدِي وأنا أَكْرَمُ وَلَدِ آدَمَ على رَبِّي ولا فَخْرَ )))))اور یہ روایت بھی ضعیف ہے ، یعنی کمزور ناقابل اعتماد ، ناقابل حجت ہے ، اس کی کمزوری کی طرف خود اِمام الترمذی رحمہُ اللہ نے بھی اشارہ فرما دیا ، لہذا روایت لکھنے کے فوراً بعد لکھا ::: قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب ::::::: دوسرا حوالہ ، سنن الدارمی ::::::تھریڈ میں جو روایت ذکر کی گئی ہے وہ دیے گئے حوالہ جات میں سے دوسرے حوالے پر موجود ہے ، یعنی یہ روایت سنن الدارمی کی ہے ، اور جیسا کہ ابھی بتایا گیا کہ ضعیف ہی ہے ، :::::: تیسرا حوالہ ، الفردوس :::::: امام الدیلمی رحمہُ اللہ کی کتاب کا نام """ الفردوس بمأثور الخطاب """ ہے ، اس میں یہ روایت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ ُ کی روایات میں 117 نمبر پر ہے ، نہ کہ کتاب میں اس کا نمبر 117 ہے، اور کسی مزید سند کے بغیر ہی ہے ، پس اسے امام الدیلمی کے کھاتے میں نہیں ڈالا جا سکتا کہ انہوں نے اس کو اپنی کسی اور سند سے خارج کیا ہو ، ایسے حوالہ جات علمی کمی کا ثبوت ہیں ، یا کسی او رمقصد کے لیے اپنی بیان کردہ روایات کا رعب بنانے کے لیے حوالہ جات کا عدد بڑھایا جاتا ہے ، و اللہ أعلم ، ::::::: چوتھا حوالہ ، امام الخلال کی کتاب """ السُنّۃ """ ::::::: امام أحمد بن محمد بن هارون الخلال أبو بكر رحمہُ اللہ کی کتاب کا یہ حوالہ غالبا کسی برقی نسخے سے دیا گیا ہے ، بہر حال یقینی بات یہ ہے کہ حوالہ دینے والے نے یہ برقی نسخہ بھی خود سے نہیں دیکھا ، یا ، جان بوجھ کر یہ ضعیف روایت نقل کی ہے ، کیونکہ اس روایت کے بعد امام الخلال رحمہُ اللہ نے لکھا ہے """ اسناد ھذا الحدیث ضعیف ::: اس حدیث کی سندیں ضعیف ہیں """ اس وضاحت کے بعد بھی ایک ضعیف روایت اسی حوالے سے نقل کرنے کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے !!! ؟؟؟ ان شاء اللہ ہر عقل سلیم والا قاری اس سوال کا جواب جانتا ہوگا ، ::::::: پانچواں حوالہ ، التدوین فی اخبار قزوین :::::: اس کتاب میں یہ روایت اس سند کے ساتھ ہے محمد بن أبي بكر أبو جعفر الطبري سمع بقزوين أبا الحسن القطان يحدث عن أبي عبد الله الحسين بن علي الطنافسي ثنا أبي ثنا محمد ابن فضيل ثنا ليث عن عبيد الله عن الربيع بن أنس عن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ((((( أنا أول الناس خروجا إذا بعثوا وأنا خطيبهم إذا نصتوا وأنا قائدهم إذا وفدوا وأنا مبشرهم ،،،،،،))))) اس سند میں بھی وہی راوی ہے جس کے نام کو میں سرخ کر کے دکھا رہا ہوں ، ::::::: چھٹا حوالہ ، امام ابن الجوزی رحمہُ اللہ کی""" صفۃ الصفوۃ """::::::: اس کتاب میں بھی یہ روایت کسی اور سند سے روایت نہیں ہوئی بلکہ کوئی سند مذکور نہیں بلکہ امام ابن الجوزی رحمہُ اللہ نے اسے امام الترمذی رحمہُ اللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ، جی اس کتاب میں یوں لکھا ہے ::: """ وعن أنس أن النبي صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم قال((((( أنا أول الناس خروجا إذا بعثوا وأنا خطيبهم إذا وفدوا وأنا مبشرهم إذا يئسوا لواء الحمد بيدي وأنا أكرم ولد آدم على ربي ولا فخر ))))) رواه الترمذي """ صفۃ الصفوۃ / جلد اول / صفحہ 182/مطبوعہ دار المعرفۃ / بیروت یعنی اس کی سند وہی رہی جو امام الترمذی رحمہُ اللہ کی سنن میں ہے ، :::::: ساتواں اور آخری حوالہ ، امام المناوی کی کتاب """ فیص القدیر """ ::::::: مجھے اس کتاب میں یہ روایت نہیں مل سکی ، جی اس موضوع کے متعلق دیگر روایات ہیں ، جو حوالہ دیا گیا ہے ، اس کے مطابق جلد 3/صفحہ40/مطبوعہ ،المکتبۃ التجاریۃ /مصر ، میں تو امام المناوی رحمہُ اللہ نے یہ رویات نقل کر کے اس کی شرح میں اپنے اور دیگر علماء کے اقوال ذکر کیے ہیں ::: (((((أنا أول الناس خروجا إذا بعثوا أي أثيروا مِن قبورهم )))))) اللہ ہی جانے حوالہ دینے والے یہ حوالہ کس لیے دیا ہے ، جب کہ یہاں اس تھریڈ میں ارسال کردہ روایت ہے ہی نہیں ، ، قارئین کرام ، یہ سب معلومات اِن شاء اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس مذکورہ راویت کے بارے میں دیے گئے حوالہ جات کی غلطیوں کی پہچان کروانے کے لیے کافی ہوں گی ، اور ان شاء اللہ آپ سب یہ سمجھ سکیں گے کہ اگر کسی روایت کو کتنے ہی حوالہ جات کے ساتھ یوں ہی کاپی پیسٹ کیا جاتا رہے تو ایسا کرنے اور اس کو پڑھ کر سچ سمجھنے والوں کو کتنا نقصان ہو گا ، اب انتہائی اختصار کے ساتھ میں اس روایت کے ضعیف ، یعنی کمزور ، ناقابل اعتماد ، اور نا قابل حجت ہونے کا سبب بھی بتاتا ہوں ، ان شاء اللہ ، ان تمام حوالہ جات میں سے جہاں جہاں سند ملتی ہے ہر سند کا مرکزی راوی """ لیث بن ابی سلیم بن زنیم اللیثی الکوفی """ ہے ، اور اس کے بارے میں ائمہ محدثین کے فرامین مندرجہ ذیل ہیں ::: صفۃ الصفوۃ کے مؤلف امام ابن الجوزی رحمہُ نے اپنی """ الضعفاء و المتروکین /ترجمہ رقم 2815""" میں لکھا ::: """""ليث بن أبي سليم بن زنيم الليثي الكوفي واسم أبي سليم أنس روى عن مجاهد وطاوس وابن سيرين ضعفه ابن عيينة والنسائي وقال أحمد مضطرب الحديث ولكن قد حدث عنه الناس وقال السعدي يضعف حديثه وقال أبو حاتم الرازي وأبو زرعة لا يشتغل به وهو مضطرب الحديث وقال ابن حبان اختلط في آخر عمره فكان يقلب الأسانيد ويرفع المراسيل ويأتي عن الثقات بما ليس من حديثهم تركه يحيى القطان ويحيى بن معين وابن مهدي وأحمد """"" امام عبداللہ ابن عدی رحمہ ُ اللہ نے """ الکامل فی ضعفاء الرجال / ترجمہ رقم 1617""" میں لکھا ::: """"" ليث بن أبي سليم كوفي أموي كتب إلي محمد بن أيوب سمعت يحيى بن معين يقول ليث بن أبي سليم ضعيف قال الشيخ لم يكن عند أبي أيوب عن يحيى بن معين غير هذه الحكاية حدثنا بن أبي عصمة ثنا أحمد بن أبي يحيى قال سمعت يحيى بن معين يقول ليث بن أبي سليم ضعيف مثل عطاء بن السائب وجميع من روى عن عطاء بن السائب روى عنه في الاختلاط إلا شعبة وسفيان حدثنا محمد بن علي ثنا عثمان بن سعيد قلت ليحيى بن معين ما حال ليث بن أبي سليم قال ضعيف""""" اتنے بہت سارے أئمہ رحمہم اللہ نے اس راوی کو نا قابل اعتماد قرار دیا ، پس اس کی روایات قابل قبول نہیں ، اس تھریڈ میں جس مسٕئلے کو عنوان بنا کر یہ روایت نقل کی گئی ہے وہ مسٕئلہ اس روایت میں میسر بھی نہیں ،اور اس مسٕئلے کے قریبی ترین جو مسئلہ بہت سی صحیح احادیث میں میسر ہے ، ان شاء اللہ اس کے بیان والی صحیح روایات کو ایک الگ تھریڈ میں ارسال کروں گا ، تا کہ ہم صرف انہیں الفاظ کے مطابق عقیدے اپنا سکیں جو الفاظ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہونے کا ثابت ہو ، اور غیر ثابت شدہ باتوں کو عقید بنا کر اور ان کو نشر کر کے اپنی اور دوسروں کی آخرت کے نقصان کا سبب نہ بنیں ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | rabab (21-06-10), sahj (21-06-10), محمد عاصم (21-06-10), مرزا عامر (27-06-10), آبی ٹوکول (21-06-10), احمد بلال (21-06-10), ضِرار Derar (30-06-10), عبداللہ حیدر (21-06-10) |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,357
شکریہ: 4,409
1,842 مراسلہ میں 6,860 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
خیر سب سے پہلے میں یہ واضح کردوں کہ میں نے یہ روایت یہاں سے نقل کی تھی اور اسکے بعد اسکا ایک اور آنلائن ربط مجھے ملا وہ درج زیل ہے ۔ ۔ ۔ 3610 حدثنا الحسين بن يزيد الكوفي حدثنا عبد السلام بن حرب عن ليث عن الربيع بن أنس عن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا أول الناس خروجا إذا بعثوا وأنا خطيبهم إذا وفدوا وأنا مبشرهم إذا أيسوا لواء الحمد يومئذ بيدي وأنا أكرم ولد آدم على ربي ولا فخر قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب مسألة: التحليل الموضوعي 3610 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ لَيْثٍ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ خُرُوجًا إِذَا بُعِثُوا وَأَنَا خَطِيبُهُمْ إِذَا وَفَدُوا وَأَنَا مُبَشِّرُهُمْ إِذَا أَيِسُوا لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَئِذٍ بِيَدِي وَأَنَا أَكْرَمُ وَلَدِ آدَمَ عَلَى رَبِّي وَلَا فَخْرَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مسألة: التحليل الموضوعي 3610 حدثنا الحسين بن يزيد الكوفي حدثنا عبد السلام بن حرب عن ليث عن الربيع بن أنس عن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا أول الناس خروجا إذا بعثوا وأنا خطيبهم إذا وفدوا وأنا مبشرهم إذا أيسوا لواء الحمد يومئذ بيدي وأنا أكرم ولد آدم على ربي ولا فخر قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب الحاشية رقم: 1 قوله : ( عن ليث ) هو ابن أبي سليم قوله : " إذا بعثوا " أي : من قبورهم " وأنا خطيبهم " أي : المتكلم عنهم " إذا وفدوا " أي : إذا قدموا على الله ، والوفد جماعة يأتون الملك لحاجته " وأنا مبشرهم " [ ص: 57 ] أي : المؤمنين بالرحمة ، والمغفرة " إذا أيسوا " أي : إذا غلب عليهم اليأس من روح الله " لواء الحمد يومئذ بيدي " تقدم شرحه في آخر تفسير سورة بني إسرائيل " وأنا أكرم ولد آدم على ربي " إخبار بما منحه من السؤدد وتحدث بمزيد الفضل ، والإكرام ( ولا فخر ) أي : أن هذه الفضيلة التي نلتها كرامة من الله تعالى لم أنلها من قبل نفسي ، ولا نلتها بقوتي فليس لي أن أفتخر بها . قوله : ( هذا حديث حسن غريب ) وأخرجه الدارمي . یہ تحفة الأحوذي کا آنلائن حوالہ ہے جو کہ محمد بن عبد الرحمن بن عبد الرحيم المبارکپوری کی تصنیف اور سنن ترمذی کی شرح ہے ۔ اب اس ضمن میں آپ سے چند سوال ہیں جو کہ درج زیل ہیں ۔ ۔ 1:-حدیث کو امام ترمذی نے مناقب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں نقل فرمایا ہے اور بقول آپکے مذکورہ بالا روایت ضعیف ہے ، یعنی کمزور ناقابل حجت اور ناقابل اعتماد ہے تو پھر کیوں امام ترمذی جو کہ امام بخاری کے شاگرد رشید بھی ہیں نے مناقب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں نقل فرمایا کیا انکو کوئی اور صحیح روایت نہیں ملی ۔ ۔ ۔ 2:- جب امام ترمذی کسی روایت کے بارے میں یہ فرمائیں کہ هذا حديث حسن غريب تو اس وقت امام ترمذی کی کیا مراد ہوتی ہے برائے مہربانی بالتفصیل واضح کریں کیونکہ آپکے پاس یہ سہولت موجود ہے کہ اصل ماخذ کتب کہ قلمی نسخوں تک آپکی رسائی بخوبی ہوتی ہے جب کہ بندہ بارہا عرض کرچکا کہ بندہ پردیس میں ایک ایسے دیس میں کہ سوائے انٹرنیٹ سے مواد کی دستیابی کے دوسری کوئی سہولت میسر نہیں ۔۔ 3:-مبارکپوری صاحب نے جو اسکی شرح فرمائی ہے برائے مہربانی اسکا ترجمہ بھی کردیجئے گا ۔۔ ۔ 4:- نیز حدیث مناقب رسول صلی اللہ علیہ وسلم یعنی فضائل کے باب میں ہیں اس باب میں یعنی فضائل کے باب میں ضعیف احادیث سے احتجاج کے ضمن میں محدثین کا جو متفقہ یا مشہور مذہب ہے وہ بھی نقل کردیجئے گا ۔ ۔ ۔ نیز اس دھاگا کہ عنوان کی متن حدیث سے کس طرح سے مناسبت نہیں ہے وہ بھی اگر واضح فرمادیں گے تو عین نوازش ہوگی ۔ ۔ ۔۔ والسلام والسلام Last edited by آبی ٹوکول; 21-06-10 at 04:29 AM. |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 1,087
کمائي: 19,171
شکریہ: 9,216
761 مراسلہ میں 1,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
عابد بھائی امید ہے اچھے ہی ہونگے۔ کیا بات عادل سہیل صاحب کی جہاں کہیں انہیں آقا کی شان میں کوئی حدیث نظر آئے انکے پاس اسکے ضعیف ہونے کا سرٹیفکیٹ موجود ہوتا ہے۔ انکی آقا سے محبت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس تھریڈ میں ایک بار بھی انہوں آنے کی زحمت نہیں کی نہ آقا پر دور پڑھا شاید انکے وہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ چلیں چھوڑیں سب لوگ سمجھ تو گئے ہی ہیں۔ اگر آپ کہیں کسی تھریڈ کے کسی مراسلہ میں کو کہیں درود و سلام لکھیں دیں تو اس میں غلطی بڑھے احسن طریقہ سے نکالیں گے، مگر خود کبھی نہیں درود نہیں لکھیں گے۔ انکا مقصد اور آقا سے محبت سب کے سامنے ہیں ، محبت کا میعار درود ہی ہے۔ اللہ کو محبت ہے میرے آقا سے اسی لئے تو اللہ خود بھی اور اسکے فرشتے بھی درود پڑتے ہیں اور ایمان والوں کو حکم ہے درود پڑھنے کا ، ایمان والوں کو صرف اور صرف ، مگرگویا ایمان مکمل ہی درود سے ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے جو خود اللہ تعالیٰ بھی کرتے ہیں۔
__________________
![]() باخدا دیوانہ باشد بامحمد ہوشیار!طالبان اور امریکہ کا ایک ہی مقصد ۔ مسلم کشی |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے اویسی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
پریلوی اور دیوبندی علماء بہاولپور میں عقائد پر بہت بحث کرتے تھے ایک بار والی ریاست جناب بہاول عباسی صاحب نے تنگ آکر دونوں طرف کے علماء کو مناظرہ کی دعوت دی۔ سب سے پہلے بریلوی علماء کا موقف سناگیا۔ بریلوی علماء کا موقف یہ تھا کہ تمام کا تمام قرآن پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف پر مبنی ہے۔ اس کے برعکس دیوبندی علماء کاموقف تھا کہ نہیں بریلوی علماء تعریف میں بہت بڑھ گئے ہیں۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ سے ملا دیتے ہیں۔(معاذ اللہ والی ریاست نے ایک ماہ کاٹائم دے کر دونوں طرف کے علماء کو تیاری کا حکم دیا۔ مقررہ دن دونوں طرف کے علماء کرام تشریف لائے تو بریلوی عالم صاحب نے مناظرہ شروع کرتے ہی پہلا سوال کیا کہ دیوبندی علماء سے پوچھا جائے کہ انہوں نے سارہ مہینہ کیا تیاری کی۔ پوچھنے پر دیوبندیوں نے کہا کہ ہم نے سارا مہینہ وہ آیات دیکھیں ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف میں نہیں ہیں۔ بریلویوں نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے والئ ریاست کو باور کرایا کہ قرآن پاک میں یہ لوگ صرف وہی آیات دیکھتے ہیں جو میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف نا ہو ۔ تعریف تو یہ دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ اگر چاہیں تو وہ بھی انہیں مل جائے۔ والی ریاست نے مناظرہ ختم کرکے بریولویوںکو فاتح قرار دے دیا۔ میرا خیال ہے کہ عادل سہیل صاحب بھی اسی گروہ سے ہیں۔
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (21-06-10), مرزا عامر (03-07-10), اویسی (22-06-10), احمد بلال (21-06-10), حیدر Rehan (26-06-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,915
شکریہ: 10,606
1,223 مراسلہ میں 3,229 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے خیال سے عادل بھائی کسی تھریڈمیں اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ وہ اس گروہ سے نہیں۔
ًآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا معیار درور پاک کاپی پیسٹکرنا نہیں ہے۔اسکا تعلق دل اور عمل سے ہے۔ یہ زیادہ اچھا ہو گا کہ ہم چپ رہیں اگر روایت کی صحت پہ علمی بحث نہیں کر سکتے تو جیسےآبی ٹوکول بھائی نے کی ہے ۔ |
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اسی طرح لکھنا بھی شامل ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام نامی آئے درود پاک ضرور لکھنا چاہے۔ اللہ تعالٰی عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
اویسی بھائیو، افسوس کی بات ہے کہ آپ صاحبان سنی سنائی تعصبانہ باتوں کی بنیاد پر اپنے مسلمان بھائیوں سے تعصب رکھے ہوئے ہیں ، بھائیو ، کسی شخص کے بارے میں کوئی بات کرنے سے پہلے اس کے بارے میں مکمل نہ سہی تو زیادہ سے زیادہ درست معلومات حاصل کی جانی چاہیں ، آپ دونوں بھائیوں نے مسلکانہ تعصب کے بنائی ہوئی باتوں کے زیر اثر ہو کر میرے بارے میں جو کچھ لکھا اس کے لیے میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ آپ کو معاف فرمائے اور ہم سب کو ایسے تعصب سے بچائے جس کا نتیجہ سوائے آخرت کے نقصان کے کچھ اور نہیں ، بھائیو ، میرے بارے میں اپنی خیالاتی آراء پیش کرنے کی بجائے ، کچھ ایسی آراء پیش کیجیے جو حقیقت پر مبنی ہوں ، اور اس سے پہلے """ عقیدہ رسالت """ اور """پیارے نبی (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) کی حیاتء طیبہ""" والے فورمز میں میرے سارے ہی مضامین کا مطالعہ فرما لیجیے ، اس کے بعد بھی اگر آپ صاحبان اس قسم کے الزامات لگاتے چلیں تو اِن شاء اللہ جواب بھی پیش کر دوں گا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | محمد عاصم (21-06-10), آبی ٹوکول (21-06-10), احمد بلال (21-06-10), ضِرار Derar (22-06-10), عبداللہ حیدر (22-06-10) |
|
|
#9 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
چچا جی کا یہ تھریڈ موجود نہ ہوتا تو لوگ نہ جانے کیا کیا فتوے لگاتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام کا ثواب اویسی صاحب! اللہ تعالیٰ کسی قسم کی کوئی عبادت نہیں کرتا، ساری مخلوق اس کی محتاج ہے وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ اتنا غلو نہ کریں کہ اللہ کےسامنے جواب دینا مشکل ہو جائے۔ والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اویسی بلال بھئی آپ ثبوت لے کر آئیں تب ہم بھی آپ کی بات کا یقین کر لیں گے ان شاءاللہ
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 1,087
کمائي: 19,171
شکریہ: 9,216
761 مراسلہ میں 1,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اگر ہے تو کیا قرآن میں رب نے خود نہیں کہا کہ بے شک اللہ اور اسکے فرشتے نبی کریم درود وسلام بھیجتے ہیں اسلئے اے ایمان والوں تم بھی آقا پر درود بھیجو ۔اس جب رب خود کہتا ہے تو اس میں غلو کیسا؟ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے اویسی کا شکریہ ادا کیا | مرزا عامر (03-07-10), حیدر Rehan (26-06-10) |
|
|
#12 | ||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اقتباس:
|
||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا | مرزا عامر (03-07-10), آبی ٹوکول (22-06-10), اویسی (22-06-10), احمد بلال (22-06-10), ضِرار Derar (24-06-10) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,915
شکریہ: 10,606
1,223 مراسلہ میں 3,229 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| احمد بلال کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (03-07-10) |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
احمد بھإئی ، ضِرار بھإئی نے جس تھریڈ کا ذکر کیا ہے وہ تصویری مراسلات پر مبنی ہے ، دیکھیے کہیں آپ کے بروزر میں تصویروں کو ڈوان لوڈ کرنے کی آپشن آف نہ ہو ، میں نے بھی ابھی دیکھا ہے ، سب صاف نظر آ رہا ہے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | مرزا عامر (03-07-10), ضِرار Derar (24-06-10) |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھائی بلال اویسی ، الحمد للہ میرے دل میں آپ کے لیے ایسا کچھ نہیں جس پر معاف کرنے کی ضرورت ہو ، اللہ تعالیٰ آپ کو معاف فرمائے ، میں نے یہاں مراسلہ رقم 8 میں جن فورمز کا ذکر کیا ہے اُن میںمیرے تمام ہی مراسلات کا مطالعہ ضرور فرمایے ، ان شاء اللہ غلط فہمیاں دور ہو جإئیں گی ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو کسی بھی مسلمان کے خلاف کوٕئی بھی تعصب رکھنے سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, ہاتھ, کتاب, گی۔, گے, گا۔, پہلے, پوشیدہ, وآلہ, والا, وسلم, قائد, لوگ, اپنے, اللہ, باب, جنت, جائیں, حسن, حضور, حضرت, دینے, روز, رسول, زیادہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ::::::: اپنے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مدد کیجیے ::::::: | عادل سہیل | عقیدہ رسالت | 16 | 23-08-11 01:39 AM |
| بھروسہ | فیصل ناصر | قہقہے ہی قہقے | 10 | 28-04-11 06:39 PM |
| ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم,,,,لاؤڈ اسپیکر…ڈاکٹرعامرلیاقت حسین | آبی ٹوکول | عمومی بحث | 2 | 31-03-11 08:11 PM |
| حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام | چیتا چالباز | اخلاق و آداب | 6 | 19-10-10 05:41 PM |
| سب سے بڑے قائد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم | عبداللہ حیدر | عقیدہ رسالت | 6 | 11-03-09 12:35 AM |