واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > مطالعہ حدیث




ابتداء وحی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-12-09, 04:47 PM   #1
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default ابتداء وحی

ابتداء وحی

حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عائشة أم المؤمنين، أنها قالت أول ما بدئ به رسول الله صلى الله عليه وسلم من الوحى الرؤيا الصالحة في النوم، فكان لا يرى رؤيا إلا جاءت مثل فلق الصبح، ثم حبب إليه الخلاء، وكان يخلو بغار حراء فيتحنث فيه ـ وهو التعبد ـ الليالي ذوات العدد قبل أن ينزع إلى أهله، ويتزود لذلك، ثم يرجع إلى خديجة، فيتزود لمثلها، حتى جاءه الحق وهو في غار حراء، فجاءه الملك فقال اقرأ‏.‏ قال ‏"‏ ما أنا بقارئ ‏"‏‏.‏ قال ‏"‏ فأخذني فغطني حتى بلغ مني الجهد، ثم أرسلني فقال اقرأ‏.‏ قلت ما أنا بقارئ‏.‏ فأخذني فغطني الثانية حتى بلغ مني الجهد، ثم أرسلني فقال اقرأ‏.‏ فقلت ما أنا بقارئ‏.‏ فأخذني فغطني الثالثة، ثم أرسلني فقال ‏{‏اقرأ باسم ربك الذي خلق * خلق الإنسان من علق * اقرأ وربك الأكرم‏}‏ ‏"‏‏.‏ فرجع بها رسول الله صلى الله عليه وسلم يرجف فؤاده، فدخل على خديجة بنت خويلد رضى الله عنها فقال ‏"‏ زملوني زملوني ‏"‏‏.‏ فزملوه حتى ذهب عنه الروع، فقال لخديجة وأخبرها الخبر ‏"‏ لقد خشيت على نفسي ‏"‏‏.‏ فقالت خديجة كلا والله ما يخزيك الله أبدا، إنك لتصل الرحم، وتحمل الكل، وتكسب المعدوم، وتقري الضيف، وتعين على نوائب الحق‏.‏ فانطلقت به خديجة حتى أتت به ورقة بن نوفل بن أسد بن عبد العزى ابن عم خديجة ـ وكان امرأ تنصر في الجاهلية، وكان يكتب الكتاب العبراني، فيكتب من الإنجيل بالعبرانية ما شاء الله أن يكتب، وكان شيخا كبيرا قد عمي ـ فقالت له خديجة يا ابن عم اسمع من ابن أخيك‏.‏ فقال له ورقة يا ابن أخي ماذا ترى فأخبره رسول الله صلى الله عليه وسلم خبر ما رأى‏.‏ فقال له ورقة هذا الناموس الذي نزل الله على موسى صلى الله عليه وسلم يا ليتني فيها جذعا، ليتني أكون حيا إذ يخرجك قومك‏.‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أومخرجي هم ‏"‏‏.‏ قال نعم، لم يأت رجل قط بمثل ما جئت به إلا عودي، وإن يدركني يومك أنصرك نصرا مؤزرا‏.‏ ثم لم ينشب ورقة أن توفي وفتر الوحى‏.‏


ہم کو یحییٰ بن بکیر نے یہ حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی ہم کو لیث نے خبر دی، لیث عقیل سے روایت کرتے ہیں۔ عقیل ابن شہاب سے، وہ عروہ بن زبیر سے، وہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے بتلایا کہ


آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا ابتدائی دور اچھے سچے پاکیزہ خوابوں سے شروع ہوا۔ آپ خواب میں جو کچھ دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح صحیح اور سچا ثابت ہوتا۔ پھر من جانب قدرت آپ تنہائی پسند ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار حرا میں خلوت نشینی اختیار فرمائی اور کئی کئی دن اور رات وہاں مسلسل عبادت اور یاد الٰہی و ذکر و فکر میں مشغول رہتے۔ جب تک گھر آنے کو دل نہ چاہتا توشہ ہمراہ لیے ہوئے وہاں رہتے۔ توشہ ختم ہونے پر ہی اہلیہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لاتے اور کچھ توشہ ہمراہ لے کر پھر وہاں جا کر خلوت گزیں ہو جاتے، یہی طریقہ جاری رہا یہاں تک کہ آپ پر حق منکشف ہو گیا اور آپ غار حرا ہی میں قیام پذیر تھے کہ اچانک حضرت جبرئیل آپ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اے محمد! پڑھو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فرشتے نے مجھے پکڑ کر اتنے زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی، پھر مجھے چھوڑ کر کہا کہ پڑھو، میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس فرشتے نے مجھ کو نہایت ہی زور سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا کہ پڑھ! میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ فرشتے نے تیسری بار مجھ کو پکڑا اور تیسری مرتبہ پھر مجھ کو بھینچا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا کہ پڑھو اپنے رب کے نام کی مدد سے جس نے پیدا کیا اور انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا، پڑھو اور آپ کا رب بہت ہی مہربانیاں کرنے والا ہے۔ پس یہی آیتیں آپ حضرت جبرئیل علیہ السلام سے سن کر اس حال میں غار حرا سے واپس ہوئے کہ آپ کا دل اس انوکھے واقعہ سے کانپ رہا تھا۔ آپ حضرت خدیجہ کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو۔ لوگوں نے آپ کو کمبل اڑھا دیا۔ جب آپ کا ڈر جاتا رہا۔ تو آپ نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ سنایا اور فرمانے لگے کہ مجھ کو اب اپنی جان کا خوف ہو گیا ہے۔ آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی ڈھارس بندھائی اور کہا کہ آپ کا خیال صحیح نہیں ہے۔ خدا کی قسم آپ کو اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں، آپ تو کنبہ پرور ہیں، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بے مثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں۔ ایسے اوصاف حسنہ والا انسان یوں بے وقت ذلت و خواری کی موت نہیں پا سکتا۔ پھر مزید تسلی کے لیے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو ان کے چچا زاد بھائی تھے اور زمانہ جاہلیت میں نصرانی مذہب اختیار کر چکے تھے اور عبرانی زبان کے کاتب تھے، چنانچہ انجیل کو بھی حسب منشائے خداوندی عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے۔ ( انجیل سریانی زبان میں نازل ہوئی تھی پھر اس کا ترجمہ عبرانی زبان میں ہوا۔ ورقہ اسی کو لکھتے تھے ) وہ بہت بوڑھے ہو گئے تھے یہاں تک کہ ان کی بینائی بھی رخصت ہو چکی تھی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کے سامنے آپ کے حالات بیان کیے اور کہا کہ اے چچا زاد بھائی! اپنے بھتیجے ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی زبانی ذرا ان کی کیفیت سن لیجیئے وہ بولے کہ بھتیجے آپ نے جو کچھ دیکھا ہے، اس کی تفصیل سناؤ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے از اوّل تا آخر پورا واقعہ سنایا، جسے سن کر ورقہ بے اختیار ہو کر بول اٹھے کہ یہ تو وہی ناموس ( معزز راز دان فرشتہ ) ہے جسے اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی دے کر بھیجا تھا۔ کاش، میں آپ کے اس عہد نبوت کے شروع ہونے پر جوان عمر ہوتا۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دے گی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تعجب سے پوچھا کہ کیا وہ لوگ مجھ کو نکال دیں گے؟ ( حالانکہ میں تو ان میں صادق و امین و مقبول ہوں ) ورقہ بولا ہاں یہ سب کچھ سچ ہے۔ مگر جو شخص بھی آپ کی طرح امر حق لے کر آیا لوگ اس کے دشمن ہو گئے ہیں۔ اگر مجھے آپ کی نبوت کا وہ زمانہ مل جائے تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا۔ مگر ورقہ کچھ دنوں کے بعد انتقال کر گئے۔ پھر کچھ عرصہ تک وحی کی آمد موقوف رہی۔



صحیح بخاری
کتاب الوحی
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
ابو عمار (31-12-09), راجہ اکرام (30-12-09), عبداللہ حیدر (31-12-09)
پرانا 30-12-09, 04:52 PM   #2
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قال ابن شهاب وأخبرني أبو سلمة بن عبد الرحمن، أن جابر بن عبد الله الأنصاري، قال ـ وهو يحدث عن فترة الوحى، فقال ـ في حديثه ‏"‏ بينا أنا أمشي، إذ سمعت صوتا، من السماء، فرفعت بصري فإذا الملك الذي جاءني بحراء جالس على كرسي بين السماء والأرض، فرعبت منه، فرجعت فقلت زملوني‏.‏ فأنزل الله تعالى ‏{‏يا أيها المدثر * قم فأنذر‏}‏ إلى قوله ‏{‏والرجز فاهجر‏}‏ فحمي الوحى وتتابع ‏"‏‏.‏ تابعه عبد الله بن يوسف وأبو صالح‏.‏ وتابعه هلال بن رداد عن الزهري‏.‏ وقال يونس ومعمر ‏"‏ بوادره ‏"‏‏.


ابن شہاب کہتے ہیں مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہا سے یہ روایت نقل کی کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کے زمانے کے حالات بیان فرماتے ہوئے کہا کہ ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس وقت اللہ پاک کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں۔ اے لحاف اوڑھ کر لیٹنے والے! اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ اور گندگی سے دور رہ۔ اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی۔ اس حدیث کو یحییٰ بن بکیر کے علاوہ لیث بن سعد سے عبداللہ بن یوسف اور ابو صالح نے بھی روایت کیا ہے۔ اور عقیل کے علاوہ زہری سے بلال بن رواد نے بھی روایت کیا ہے۔ یونس اور معمر نے اپنی روایت میں لفظ “ فوادہ ” کی جگہ “ بوادرہ ” نقل کیا ہے۔
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
ابو عمار (31-12-09), راجہ اکرام (30-12-09)
پرانا 30-12-09, 05:02 PM   #3
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نہ جانے کس کس کو ان باتوں پر یقین ہوگا ؟ ہو سکتا ہے کہ سب ہی یقین کرتے ہوں
کسی اور قوم نے آخری نبی حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم کی اتنی شان گٹھائی ہوتی تو بات کچھ اور ہوتی مگر کیا کریں ۔۔۔۔ ہم مسلمان ہیں شائد ہمارا حق بنتا ہو ”اللہ رحم کرے مسلمانوں پر"، اس امت پر" جو اپنے رسول صلی علیہ والہ وسلم کی اس قدر توہین کرتی رہی اور اج بھی زندہ ہے ۔

اختلاف ہے مجھے اس مراسلے سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور میرا ایمان یہ نہی ، اور نہ کبھی ہوگا ۔
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-12-09, 05:18 PM   #4
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,788
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
نہ جانے کس کس کو ان باتوں پر یقین ہوگا ؟ ہو سکتا ہے کہ سب ہی یقین کرتے ہوں
کسی اور قوم نے آخری نبی حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم کی اتنی شان گٹھائی ہوتی تو بات کچھ اور ہوتی مگر کیا کریں ۔۔۔۔ ہم مسلمان ہیں شائد ہمارا حق بنتا ہو ”اللہ رحم کرے مسلمانوں پر"، اس امت پر" جو اپنے رسول صلی علیہ والہ وسلم کی اس قدر توہین کرتی رہی اور اج بھی زندہ ہے ۔

اختلاف ہے مجھے اس مراسلے سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور میرا ایمان یہ نہی ، اور نہ کبھی ہوگا ۔
حیدر بھائی اپنا اختلاف دلائل کے ساتھ بیان کیجیئے!

Last edited by shafresha; 31-12-09 at 07:04 PM. وجہ: ایک لفظ‌کی دُرستگی
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-12-09, 11:23 PM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,306
شکریہ: 25,212
16,399 مراسلہ میں 41,650 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حیدر بھائی اگر وضاحت کے ساتھ بیان کر دیں دلائل دے کر تو ہمیں بھی فائدہ ہو
والسلام
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (31-12-09)
پرانا 31-12-09, 08:39 AM   #6
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
نہ جانے کس کس کو ان باتوں پر یقین ہوگا ؟ ہو سکتا ہے کہ سب ہی یقین کرتے ہوں
کسی اور قوم نے آخری نبی حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم کی اتنی شان گٹھائی ہوتی تو بات کچھ اور ہوتی مگر کیا کریں ۔۔۔۔ ہم مسلمان ہیں شائد ہمارا حق بنتا ہو ”اللہ رحم کرے مسلمانوں پر"، اس امت پر" جو اپنے رسول صلی علیہ والہ وسلم کی اس قدر توہین کرتی رہی اور اج بھی زندہ ہے ۔

اختلاف ہے مجھے اس مراسلے سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور میرا ایمان یہ نہی ، اور نہ کبھی ہوگا ۔
جناب ریحان صاحب واضع کریں کس کس پر آپ کا ایمان نہیں ھے اب کھل کر بتا دیں اور شان گھٹانا مسلمان کا کام نہیں یہ کافر اور منافق اپنا حق سمجھتے ہیں،اور یہ بھی یاد رکھیں مسلمان اور مومن الگ الگ نہیں ھوتے جو مسلمان ھے وہ ہی مومن بھی ھے ، اللہ مسلمان مومنین پر رحم فرمائے، آمین
اور اب یہ بتا دیں کہ اس مراسلے میں کہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی گئی ھے؟؟؟
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
ابو عمار (31-12-09), راجہ اکرام (31-12-09)
پرانا 31-12-09, 04:40 PM   #7
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
یہی طریقہ جاری رہا یہاں تک کہ آپ پر حق منکشف ہو گیا اور آپ غار حرا ہی میں قیام پذیر تھے کہ اچانک حضرت جبرئیل آپ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اے محمد! پڑھو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فرشتے نے مجھے پکڑ کر اتنے زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی، پھر مجھے چھوڑ کر کہا کہ پڑھو، میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس فرشتے نے مجھ کو نہایت ہی زور سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا کہ پڑھ! میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ فرشتے نے تیسری بار مجھ کو پکڑا اور تیسری مرتبہ پھر مجھ کو بھینچا پھر مجھے چھوڑ دیا
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔
جاننا چاہیے کہ حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم کائنات کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں ۔جب یہ بات جانتے ہیں تو یہ اندازہ لگانے میں دیر نہی لگے گی کہ یہ کائنات کا نظام زمیں سے نہی شروع ہوا بہت سے ادوار اور ہزاروں برس گزرگئے ۔ جب سے ہمارے آخری نبی (ص) کائنات کے لیے رحمت ہیں ۔
یہ رحمت تمام کائنات پر رہی جن و انس پر بھی گئی ہوگی (میں صرف وہ بات کر رہا ہوں جن کا قران میں زکر ہے کہ جیسے تم دونوں (جن و انس خدا کی کون کون سی رحمت کو جھٹلاوگئے ) جن پہلے سے تھے انسان یعنی حضرت ادم بھی تقریبا ہمارے نبی (ص) سے 8 ہزار سال سے زیادہ عرصہ پہلے ائے تو اگر وہ رحمت ان پر نہ تھی تو رحمت العالمین کیسے ہونگے ؟؟
حضرت ادم (ع) جب خلق ہوئے تو تمام فرشتوں نے ان کو سجدہ کیا ۔(بشمول حضرت جبرائیل (ع) سجدہ کی وجہ صرف اور صرف یہ تھی کہ حضرت ادم کا علم جو اللہ نے عطا کیا وہ فرشتوں سے زیادہ تھا ۔ جب حضرت ادم جو کہ ہمارے نبی(ص) کے مقابلے میں کچھ نہی ان کا علم فرشتے سے زیادہ تھا تو یہاں حضرت جبرائیل (ع) کس طرح ان کو علم سکھانے کی بات کررہے ہیں اور ان کا علم رسول اللہ (ص سے زیادہ ہو سکتا ہے ۔

حضرت عیسی (ع) جب دنیا میں آئے تو انھون نے کہا کہ اے لوگوں میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے نبی بنایا ہے اور میجھے کتاب دی ہے ۔ جب حضرت عیسی (ع) پیدا ہوتے ہی کہتے ہیں کہ میں نبی ہوں میرے پاس کتاب ہے ( یعنی پوری شریعت ہے ) وہ جانتے ہیں سب کچھ مگر ہمارے نبی (ص) کس طرح ہوسکتا ہے کہ کچھ نہ جانتے ہوں کم از کم پوری انجیل تو ان کو آنی چاہیے ورنہ وہ کسی طور حضرت عیسی (ع) سے سبقت نہی رکھتے ۔
جب ہم جانتے ہیں کہ وہ غار حرا میں عبادت کرتے تھے کتنے کتنے دن بیٹھتے تھے تو اک عام عقل رکھنے والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ وہ عبادت کرتے تھے تو اللہ کو جانتے ہونگے یا ہمارا ایمان یہ ہے کہ بس وہ جاکر بیٹھ جاتے تھے (گم سم ) ینعی انکو عبادت کا طریقہ بھی پتا تھا بسم اللہ بھی بتا تھی ، المحمد بھی اتی ہوگی ۔
اب اتے ہیں اس بات کی طرف جس سے اختلاف ہے
کہا پڑھو ، انھونے کہامجھے پڑھنا نہی آتا ، پھر کہا پڑھو پھر کہا نہی آتا پھر کہا پڑھو پھر کہا پڑھنا نہی آتا ۔ اتنی آسان سی بات ہے کچھ بلکہ شاید سوچنا بھی نہ پڑے ۔
اگر میں اپ سے کہوں کہ پڑھو 3 بار تو اپ کو کہنا چاہیے کہ کیا ؟؟
یعنی میں بھی بے وقوف اور اپ بھی بے وقوف جو تین 3 بار اسرار کیا جارہا ہے ۔اور انکار کیا جارہا ہے مگر کچھ پڑھنے کو دیا نہی جارہا بعد میں یہ کہا جائے گا کہ میں فارسی نہی جانتا اور فارسی مجھے پڑھنی نہی آتی ۔
سوال :- کیا حضرت جبرائیل (ع) قرآن یا قرآن کی کچھ آیتیں لکھی ہوئی لائے تھے ؟؟؟؟؟
نہی تو پھر یہ سب کیا ہے ؟؟؟ کہ رسول (ص) بلکہ نہی رحمت العالمین کہے مجھے پڑھنا نہی آتا ، اور وہ فرشتہ جو ادم (ع) کے سامنے علم کی بنیاد پر جھک چکا ہے وہ بھینجے اور دبائے اور وہ بھی 3 تین بار اور کہے پڑھو پڑھو پڑھو ۔
جاری ہے ۔


ِِ
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 31-12-09, 05:35 PM   #8
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ٓجاننا چاہیے کہ ہمارے پیارے نبی (ص) کے ما ں باپ اور یہاں تک کہ حضرت آدم (ع) تک ان کے تمام اجداد سب مسلمان (خداے واحد کے معتقد )تھے بلکہ صدیقین میں سے تھے یا وہ انبیاء و مرسلین میں سے تھے ،یا اوصیا ء معصومین میں سے ( ان میں سے بعض نےدینی مصالح کے پیش نظر اپنے اسلام کا اظہار نہیں کیا ہے کہ وہ مصلت خدا رہی ہے)
خاندان کی عصمت کہ سلسلہ میں رسول خدا(ص) سے ایک روایت بھی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا:
لم ازل انقل من اصلاب الطاھرین الی الرحام الطاھرات“
میں برابر پاکیزہ مردوں کی صلبوں سے پاک عورتوں کے رحموں میں منتقل ہوا ہوں۔
ایک جگہ اور فرمایا اللہ نے ہمیشہ مجھے پاک مردوں کی صلبوں سے پاکیزہ عوتوں کے رحموں میں منتقل کیا، یہاں تک کہ مجھے تمھارے اس عالم میں وارد کیا۔اس نے مجھے جاہلیت کی کثافتوں سےآلودہ نہیں کیا۔
ہاں ہو سکتا ہے اپ سوچیں کہ حضرت ابراہیم (ع) کے والد تو بت پرست تھے مگر ایسا بھی نہی ہے اگرچہ قران میں کچھ جگہ حضرت ابراھیم (ع) کے والد کا تزکرہ ایسا ہی ظاہر کرتا ہے مگر وہ شخص جو اپنے نبی (ص) کا ماننے والا ہے اتنا بھی نہی کرئے گا کہ قرآن میں ڈھونڈے کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے ؟؟
زبان عرب بلکہ دوسری زبانوں میں بھی ”اب“ پدر کا لفظ جس طرح صلبی باپ کے لئے استعمال ہوتا ہے یوں ہے سرپرست ،چچا،نانا،استاد،ماں کے (دوسرے شوہر) یا ہر اس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی نہ کسی حیثیت سے انسان کی تربیت اور سرپرستی کا حق رکھتا ہے،جیسا کہ ”ابن“ اور ”پسر“ کا لفظ صلبی بیٹے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور بیٹی کے بیٹے شاگرد اورہر اس شخص کے لئے بولاجاتا ہے جو کسی انسان کی سرپرستی اور تربیت میں ہو۔
قرآن کریم کی سورہ ٴبقرہ میں جہاں حضرت یعقوب (ع) کا مرتے وقت اپنے بیٹوں سے وصیت کا تذکرہ ہےآیا ہے کہ حضرت یعقوب (ع ) نے ان سے کہا: میرے بعد کس چیز کی پرستش کرو گے؟
ان کے بیٹوں نے کہا ہم آپ کے اورآپ کے آبائے گرام ابراہیم (ع) ،اسماعیل (ع)،اور اسحاق(ع)، کے خدا کی عبادت کریں گے کہ یہاں اسماعیل(ّع) کو باپ کہا گیا ہے جبکہ اسماعیل (ع) ،یعقوب (ع) کے چچا تھے اور اسحاق ان کے والد تھے ۔دوسری طرف سورہ ٴانعام میں حضرت عیسیٰ (ع) کو حضرت ابراہیم (ع ) کی ذریت اور ان کے بیٹوں میں شمار کیا گیا ہے جب کہ جناب ابراہیم (ع) تک جناب عیسیٰ (ع) کا سلسلہ ان کی ماں کی طرف سے پہنچتا ہے اور وہ بن باپ کے پیدا ہوئے۔ مذکورہ باتوں کے علاوہ اس کا ذکر بھی ضروری ہے کہ موٴرخین کے بقول اس سلسلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جناب ابراہیم (ع) کے پدر بزرگوار کا نام ”تارخ“ یا ”تارح“ تھا۔ اور توریت سے بھی نقل ہے کہ جناب ابراہیم (ع) کے باپ کا نام ”تارخ“ تھا۔ ۔ جو حضرت ابراہیم (ع) کی کمسنی میں ہی فوت ہوگئے تھے اور ابراہیم (ع) اپنے نانا/ یا سوتیلے باپ آزر کی سرپرستی میں پروان چڑھے اور یہ بھی بتاتا چلوں کو آزر، نمرود کا منجّم تھا۔
یہ تمہید اس لیے تھی کہ وہ علم جو حضرت ادم (ع) کو اللہ نے سکھایا تھا دیا تھا وہ رسول اللہ (ص) تک پہنچا ۔
تو وہ علم ہمارے آخری نبی (ص) کے پاس تھا
حضرت جبرائیل (ع) نے غار حرا میں حضرت محمد (ص) پر یہ وحی نازل کی کہ
بعد درود و سلام اللہ کا یہ پیغام ہے کہ اب وقت آگیا ہے اپ علان نبوت کردیں ۔آپ (ص) کو پتا ہے
پڑھ دیں یا کہہ دیں "اللہ کے نام سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(بلکل ایسے ہی جیسے کسی شخص کو المحمد یاد ہو اور میں کہوں کہ پڑھو ۔ ۔ ۔ ۔ )
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 31-12-09, 07:00 PM   #9
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واقعات کو وہیں رہنے دیں جہاں وہ ہیں اپنے آئیڈیاز سے ان میں ترامیم نا کریں
دین عین نیچر nature ہے اسکو سپر نیچرل بنانے سے ابہام پیدا ہوتے ہیں
جانے کیوں ہم لوگ مذہب کو ہندوؤں کی طرح دیو مالائی کہانیوں کا انبار بنانا چاہتے ہیں

نبی کے القاب میں سے ایک لقب امُّی بھی ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
sahj (02-01-10), راجہ اکرام (31-12-09), عبداللہ حیدر (31-12-09)
پرانا 31-12-09, 07:12 PM   #10
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,788
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
کہا پڑھو ، انھونے کہامجھے پڑھنا نہی آتا ، پھر کہا پڑھو پھر کہا نہی آتا پھر کہا پڑھو پھر کہا پڑھنا نہی آتا ۔ اتنی آسان سی بات ہے کچھ بلکہ شاید سوچنا بھی نہ پڑے ۔
اگر میں اپ سے کہوں کہ پڑھو 3 بار تو اپ کو کہنا چاہیے کہ کیا ؟؟
یعنی میں بھی بے وقوف اور اپ بھی بے وقوف جو تین 3 بار اسرار کیا جارہا ہے ۔اور انکار کیا جارہا ہے مگر کچھ پڑھنے کو دیا نہی جارہا
ِِ
اس بات کا بھی جواب ملنا چاھیئے!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-01-10, 09:28 AM   #11
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایک وہ کہانی جو لوگوں سے سنی اور ایک وہ بات جو قرآن میں تھی اگر لوگ اپنے ایمان سے فیصلہ کرتے تو یقینا قرآن کی مانتے مگر ایسا نہی ہوا ، کوئی بات نہی اس بات سے فرق نہی پڑتا ، کیونکہ میں نے یہ نہی کہا تھا کہ "ماننا چاہیے " میں نے یہ لکھا تھا کہ "جاننا چاہیے "۔
انسان کو اپنی انکھ بند ہونے سے پہلے ، یعنی دنیا سے جانے سے پہلے اسے اپنے عقیدے کو جانے کا پورا حق ہے یہ بات ان لوگوں کے لیے ہے جو سمجھتے ہیں کہ ہم مجبور ہیں اپنے بڑوں کے کیے گیے ٍفیصلے اور لکھی گئی کتابوں کے وجہ سے ۔
انسان کو اپنے انکھ بند ہونے سے پہلے اپنے عقیدے کے بارے میں جاننا فرض ہے کیونکہ ہر عبادت ، نماز ، روزہ ، حج ، زکواۃ ہر عبادت کے قبول ہونے کا دارومدار اسی بات پر ہے کہ اس کا عقیدہ سہی ہو، یہ کم از کم سیدھی راہ کی طرف ضرور ہو۔

قرآن پاک میں ہے کہ ان یہودیوں اور نصرانیوں کی طرح مت ہوجانا جنھونے اپنے علما وں کو اپنا معبود بنا لیا تھا ۔
کبھی سوچا ہے کہ کیا ان لوگوں نے اپنے علماوں کو سجدہ کیا تھا جو اللہ نے قران پاک میں فریا کہ اپنا معبود بنالیا تھا ۔ ۔ ۔
نہی ایسا نہی تھا سجدہ نہی کیا تھا پھر بھی کہا کہ معبود بنالیا وجہ یہ تھی کہ جو ان کو علما کہتے تھے وہ ہی وہ لوگ کرتے تھے اور اللہ کی کتاب کو چھوڑ بیٹھے تھے
یعنی کسی کی بات کو اتنا ماننا کہ قرآن کچھ اور کہتا رہے کہ ان کے پاس تو اللہ کی طرف سے کوئی سند بھی نہی ہے اگر سند ہوتی تو ماننا بھی فرض یا واجب ہوتا ۔ مگر انسان کے عقل میں بس وہی ایک بات جو علماوں نے کہہ دی ۔
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-01-10, 09:46 AM   #12
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
قال ابن شهاب وأخبرني أبو سلمة بن عبد الرحمن، أن جابر بن عبد الله الأنصاري، قال ـ وهو يحدث عن فترة الوحى، فقال ـ في حديثه ‏"‏ بينا أنا أمشي، إذ سمعت صوتا، من السماء، فرفعت بصري فإذا الملك الذي جاءني بحراء جالس على كرسي بين السماء والأرض، فرعبت منه، فرجعت فقلت زملوني‏.‏ فأنزل الله تعالى ‏{‏يا أيها المدثر * قم فأنذر‏}‏ إلى قوله ‏{‏والرجز فاهجر‏}‏ فحمي الوحى وتتابع ‏"‏‏.‏ تابعه عبد الله بن يوسف وأبو صالح‏.‏ وتابعه هلال بن رداد عن الزهري‏.‏ وقال يونس ومعمر ‏"‏ بوادره ‏"‏‏.


ابن شہاب کہتے ہیں مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہا سے یہ روایت نقل کی کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کے زمانے کے حالات بیان فرماتے ہوئے کہا کہ ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس وقت اللہ پاک کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں۔ اے لحاف اوڑھ کر لیٹنے والے! اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ اور گندگی سے دور رہ۔ اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی۔ اس حدیث کو یحییٰ بن بکیر کے علاوہ لیث بن سعد سے عبداللہ بن یوسف اور ابو صالح نے بھی روایت کیا ہے۔ اور عقیل کے علاوہ زہری سے بلال بن رواد نے بھی روایت کیا ہے۔ یونس اور معمر نے اپنی روایت میں لفظ “ فوادہ ” کی جگہ “ بوادرہ ” نقل کیا ہے۔


ابتدائے وحی کے متعلق اس حدیث سے بہت سے امور پر روشنی پڑتی ہے۔ اوّل منامات صادقہ ( سچے خوابوں ) کے ذریعہ آپ کا رابطہ عالم مثال سے قائم کرایا گیا، ساتھ ہی آپ نے غارحرا میں خلوت اختیارکی۔ یہ غار مکہ مکرمہ سے تقریباً تین میل کے فاصلہ پر ہے۔ آپ نے وہاں “ تحنث ” اختیار فرمایا۔ لفظ تحنث زمانہ جاہلیت کی اصطلاح ہے۔ اس زمانہ میں عبادت کا اہم طریقہ یہی سمجھا جاتا تھا کہ آدمی کسی گوشے میں دنیاومافیہا سے الگ ہوکر کچھ راتیں یادِ خدا میں بسرکرے۔ چونکہ آپ کے پاس اس وقت تک وحی الٰہی نہیں آئی تھی، اس لیے آپ نے یہ عمل اختیار فرمایا اور یادِالٰہی، ذکروفکر ومراقبہ نفس میں بالقائے ربانی وہاں وقت گذارا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو تین مرتبہ اپنے سینے سے آپ کا سینہ ملاکر زور سے اس لیے بھینچا کہ بحکم خدا آپ کا سینہ کھل جائے اور ایک خاکی ومادی مخلوق کو نورانی مخلوق سے فوری رابطہ حاصل ہوجائے۔ یہی ہوا کہ آپ بعد میں وحی الٰہی اقرا باسم ربک کو فرفر ادا کرنے لگے۔ پہلی وحی میں یہ سلسلہ علوم معرفت حق وخلقت انسانی واہمیت قلم وآداب تعلیم اور علم وجہل کے فرق پر جوجولطیف اشارات کئے گئے ہیں، ان کی تفصیل کایہ موقع نہیں، نہ یہاں گنجائش ہے۔ ورقہ بن نوفل عہدجاہلیت میں بت پر ستی سے متنفر ہوکر نصرانی ہوگئے تھے اور ان کو سریانی وعبرانی علوم حاصل تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی وفات پر ان کو جنتی لباس میں دیکھا اس لیے کہ یہ شروع ہی میں آپ پر ایمان لاچکے تھے۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے آپ کی ہمت افزائی کے لیے جو کچھ فرمایاوہ آپ کے اخلاق فاضلہ کی ایک بہترین تصویر ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرف عام کے پیش نظر فرمایا کہ آپ جیسے ہمدرد انسانیت بااخلاق ہرگز ذلیل وخوار نہیں ہوا کرتے۔ بلکہ آپ کا مستقبل تو بے حد شاندارہے۔ ورقہ نے حالات سن کر حضرت جبرئیل علیہ السلام کو لفظ “ ناموس اکبر ” سے یادفرمایا۔ علامہ قسطلانی رحمہ اللہ شرح بخاری میں فرماتے ہیں ہو صاحب سرالوحی والمراد بہ جبرئیل علیہ الصلوۃ والسلام واہل الکتاب یسمونہ الناموس الاکبر یعنی یہ وحی کے رازداں حضرت جبرئیل علیہ السلام ہیں جن کو اہل کتاب “ ناموس اکبر ” کے نام سے موسوم کیا کرتے تھے۔ حضرت ورقہ نے باوجودیکہ وہ عیسائی تھے مگریہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام لیا، اس لیے کہ حضرت موسیٰ ہی صاحب شریعت ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شریعت موسوی ہی کے مبلغ تھے۔ اس کے بعد تین یااڑھائی سال تک وحی کا سلسلہ بند رہا کہ اچانک مدثر کا نزول ہوا۔ پھر برابر پے درپے وحی آنے لگی۔

حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو دبایا۔ اس کے متعلق علامہ قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہذا الغط لیفرغہ من النظر الی امور الدنیا ویقبل بکلیۃ الی مایلقی الیہ وکررہ للمبالغۃ واستدل بہ علی ان المودب لایضرب صبیا اکثر من ثلاث ضربات وقیل الغطۃ الاولیٰ لیتخلیٰ عن الدنیا والثانیۃ لیتفرغ لما یوحی الیہ والثالثۃ للموانسۃ ( ارشاد الساری 63/1 ) یعنی یہ دبانا اس لیے تھا کہ آپ کو دنیاوی امور کی طرف نظر ڈالنے سے فارغ کرکے جووحی وباررسالت آپ پر ڈالا جارہا ہے، اس کے کلی طور پر قبول کرنے کے لیے آپ کو تیار کردیاجائے۔ اس واقعہ سے دلیل پکڑی گئی ہے کہ معلّم کے لیے مناسب ہے کہ بوقت ضرورت اگرمتعلّم کو مارنا ہی ہو توتین دفعہ سے زیادہ نہ مارے۔ بعض لوگوںنے اس واقعہ “ غطہ ” کوآنحضرت کے خصائص میں شمار کیا ہے۔ اس لیے کہ دیگر انبیاءکی ابتداءوحی کے وقت ایسا واقعہ کہیں منقول نہیں ہوا۔ حضرت ورقہ بن نوفل نے آپ کے حالات سن کر جو کچھ خوشی کا اظہار کیا۔ اس کی مزید تفصیل علامہ قسطلانی یوں نقل فرماتے ہیں۔ ( فقال لہ ورقۃ ابشرثم ابشر فانااشہدانک الدی بشربہ ابن مریم وانک علی مثل ناموس موسیٰ وانک نبی مرسل ) یعنی ورقہ نے کہا کہ خوش ہوجائیے، خوش ہوجائیے، میں یقینا گواہی دیتاہوں کہ آپ وہی نبی ورسول ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ ابن مریمعلیہ السلام نے دی تھی اور آپ پر وہی ناموس نازل ہوا ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا کرتا تھا اور آپ بے شک اللہ کے فرستادہ سچے رسول ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ورقہ بن نوفل کو مرنے کے بعدجنتی لباس میں دیکھا تھا۔ اس لیے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور آپ کی تصدیق کی، اس لیے جنتی ہوا۔ ورقہ بن نوفل کے اس واقعہ سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ اگرکوئی شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے اور اس کو دوسرے اسلامی فرائض ادا کرنے کا موقع نہ ملے، اس سے پہلے ہی وہ انتقال کرجائے، اللہ پاک ایمانی برکت سے اسے جنت میں داخل کرے گا۔

حضرت مولاناثناءاللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ: بذیل تفسیر سورۃ مدثر “ وثیابک فطہر ” فرماتے ہیں کہ عرب کے شعراءثیاب سے مراد دل لیا کرتے ہیں۔ امرالقیس کہتا ہے۔ وان کنت قد ساتک منی خلیقۃ فسلی ثیابی من ثیابک تنسلی اس شعر میں ثیاب سے مراد دل ہے۔یہاں مناسب یہی ہے کیونکہ کپڑوں کا پاک رکھنا صحت صلوٰۃ کے لیے ضروری ہے مگردل کا پاک صاف رکھنا ہرحال میں لازمی ہے۔ حدیث شریف میں وارد ہے ( ان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسدالجسد کلہ الا وہی القلب ) یعنی انسان کے جسم میں ایک ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو توسارا جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے توسارا جسم بگڑ جاتا ہے، سووہ دل ہے۔ ( اللہم اصلح قلبی وقلب کل ناظر ) ( تفسیر ثنائی )
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (02-01-10)
پرانا 02-01-10, 10:57 AM   #13
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید وہ پاک و گہرا سمندر ہے جس سے تہہ سے موتی اور ہیرے نکلتے ہیں اور نکلتے رہیں گئے یہ بات یا اس بات پر ہر مسلمان کا یقین ہے ۔ جب یقین ہے تو ایسا کیوں نہی ہوتا کہ جب کوئی اس کی تہہ سے پاک موتی چن کر لاتا ہے تو لوگ اس کو مان لیں اور اپنی انکھوں سے لگائیں ، تاکہ انکھوں اور عقل کا نور اور زیادہ ہو۔
بلکہ ہوتا یہ ہے کہ ان موتیوں کو ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے یہ کہہ کر کہ ہمیں یقین ہے کہ موتی نکلتے رہیں گیے مگر ہم ان موتیوں سے مالا نہی بنا سکتے کیونکہ مالا تو ہم نے بنا لی ہے اور اس میں ایک موتی کا بھی اضافہ کرنا ہمارے اجداد کی مخالفت سمجھا جائے گا ،
ارے بھائی ان لوگوں کا ہم پر احسان ہے ہم ان کی قدر کرتے ہیں لیکن 1400 سو سالوں سے جو موتی لوگ اس قران پاک کے گہرے سمندرورں سے نکل رہے ہیں ان کے ساتھ تو بے انصافی نہ کرو، دوسری بات یہ کہ اللہ ہی کی مدد و نصرت ہے یہ کہ یہ موتی نکل رہے ہیں۔ اگر ان موتیوں کو ہم کی مالا نہی بنا ئی یا ہم نے ان کو اپنی مالا میں نہی پروریا تو کیا ہم اللہ کو منہ دکھا سکیں گئے ؟؟؟؟
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-01-10, 10:57 AM   #14
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید وہ پاک و گہرا سمندر ہے جس سے تہہ سے موتی اور ہیرے نکلتے ہیں اور نکلتے رہیں گئے یہ بات یا اس بات پر ہر مسلمان کا یقین ہے ۔ جب یقین ہے تو ایسا کیوں نہی ہوتا کہ جب کوئی اس کی تہہ سے پاک موتی چن کر لاتا ہے تو لوگ اس کو مان لیں اور اپنی انکھوں سے لگائیں ، تاکہ انکھوں اور عقل کا نور اور زیادہ ہو۔
بلکہ ہوتا یہ ہے کہ ان موتیوں کو ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے یہ کہہ کر کہ ہمیں یقین ہے کہ موتی نکلتے رہیں گیے مگر ہم ان موتیوں سے مالا نہی بنا سکتے کیونکہ مالا تو ہم نے بنا لی ہے اور اس میں ایک موتی کا بھی اضافہ کرنا ہمارے اجداد کی مخالفت سمجھا جائے گا ،
ارے بھائی ان لوگوں کا ہم پر احسان ہے ہم ان کی قدر کرتے ہیں لیکن 1400 سو سالوں سے جو موتی لوگ اس قران پاک کے گہرے سمندرورں سے نکل رہے ہیں ان کے ساتھ تو بے انصافی نہ کرو، دوسری بات یہ کہ اللہ ہی کی مدد و نصرت ہے یہ کہ یہ موتی نکل رہے ہیں۔ اگر ان موتیوں کو ہم کی مالا نہی بنا ئی یا ہم نے ان کو اپنی مالا میں نہی پروریا تو کیا ہم اللہ کو منہ دکھا سکیں گئے ؟؟؟؟
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-01-10, 02:56 PM   #15
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
واقعات کو وہیں رہنے دیں جہاں وہ ہیں اپنے آئیڈیاز سے ان میں ترامیم نا کریں جانے کیوں ہم لوگ مذہب کو ہندوؤں کی طرح دیو مالائی کہانیوں کا انبار بنانا چاہتے ہیں
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلاَلٍ مُّبِينٍ (سورہ انعام ایت 76)
اور (یاد کیجئے) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر (جو حقیقت میں چچا تھا محاورۂ عرب میں اسے باپ کہا گیا ہے) سے کہا: کیا تم بتوں کو معبود بناتے ہو؟ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو صریح گمراہی میں (مبتلا) دیکھتا ہوں۔

مجھے کہہ رہے تھے میں دیومالائی کہانیاں نہ سناوں جناب طاہرالقادر صاحب نے تو لکھ دیا کہ
آزر حضرت ابراہیم علیہ سلام کے چچا تھے
۔
ہم تو چودہ سو سال سے کہہ رہے ہیں ۔ اپ بھی لگتا ہے آہستہ آہستہ ہی مانو گئے ۔ (انشااللہ)
ویسے اچھی باتوں کو فورا مان لینا چاہیے ۔
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, پسند, موت, موسیٰ علیہ السلام, اللہ, انسان, بھائی, جواب, حال, حدیث, خون, خدا, دل, ذرا, رات, زمانہ, شہر, شخص, عہد, عقیل, عائشہ, عبادت, عرصہ, صادق, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:05 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger