|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
درود پاک سے متعلق حدیث
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ أَلاَ أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً، إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَلَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ " فَقُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ". ترجمہ:- حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم لوگوں میں تشریف لائے تو ہم نے کہا : یا رسول اللہ !صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ ہم آپ کو سلام کس طرح کریں ، لیکن آپ پر ہم درود کس طرح بھیجیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو : اللهم صل على محمد، وعلى آل محمد، كما صليت على آل إبراهيم، إنك حميد مجيد، اللهم بارك على محمد، وعلى آل محمد، كما باركت على آل إبراهيم، إنك حميد مجيد ۔ اردو ترجمہ : اے اللہ ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اپنی رحمت نازل کر اور آل محمد پر ، جیسا کہ تو نے ابراھیم (علیہ السلام) اور آل ابراھیم پر رحمت نازل کی ، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے ۔ اے اللہ ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور آل محمد پر برکت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراھیم (علیہ السلام) اور آل ابراھیم پر برکت نازل کی ، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے ۔ صحيح بخاري كتاب الدعوات باب : الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم حدیث : 6431
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
Last edited by sahj; 11-07-09 at 03:15 PM. |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | shafresha (12-07-09), کنعان (30-01-10), ھارون اعظم (13-02-10), محمدخلیل (11-07-09), ابو عمار (13-07-09), حیدر Rehan (22-02-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
صحیح احادیث میں جو درود کے صیغے آئے ہیں وہ معدودے چند ہیں۔ جو حصن حصےن میں جمع ہیں لیکن بعد کے لوگو ں نے ہزاروں صیغے بڑے بڑے مبالغہ اورتک بندی کے ساتھ بنائے ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ ان کے پڑھنے میں زیادہ ثواب ہو گا بلکہ ڈر ہے کہ مؤاخذہ نہ ہو کیونکہ آپ نے دعا میں مبالغہ اورسجع وقافیہ لگانے کو منع فرمایا اور تعجب ہے ان لوگوں سے جنہوں نے ماثورہ درود وں پر قناعت نہ کرکے ہزار ہا نئے درود ایجاد کئے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ وہی صیغے درود کے پڑھے جائیں جو حدیث سے ثابت ہیں اور جو مزہ اتباع سنت میں مومن کو آتاہے وہ کسی چیز میں نہیں آتا۔ باقی درود شریف بکثرت پڑھنا ایسا پاکیزہ عمل ہے جس کی فضیلت میں بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے بلکہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی سن کر درود نہ پڑھے اس کو بہت بڑا بخیل قرار دیاگیاہے۔ حجۃ الہندحضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے’ القول الجمیل‘ میں فرمایا ہے کہ ”بھا وجدنا ما وجدنا“ یعنی ہم کو روحانی ترقیات جو نصیب ہوئی وہ بکثرت درود پڑھنے ہی سے حاصل ہوئی ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ پاک اس عمل کو قبول کرکے مجھ حقیر سراپا تقصیر خادم کو روز قیامت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے جام کوثر نصیب کرے اور میرے جملہ رفقائے کرام ومعاونین عظام وشائقین کو بھی اللہ پاک درجات عالیہ بخشے آمین |
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (22-02-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا أبو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا عبد العزيز، عن أنس، قال لم يخرج النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثا، فأقيمت الصلاة، فذهب أبو بكر يتقدم فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم بالحجاب فرفعه، فلما وضح وجه النبي صلى الله عليه وسلم ما نظرنا منظرا كان أعجب إلينا من وجه النبي صلى الله عليه وسلم حين وضح لنا، فأومأ النبي صلى الله عليه وسلم بيده إلى أبي بكر أن يتقدم، وأرخى النبي صلى الله عليه وسلم الحجاب، فلم يقدر عليه حتى مات.
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرمنقری نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ۔ کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ، آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ایام بیماری میں ) تین دن تک باہر تشریف نہیں لائے ۔ ان ہی دنوں میں ایک دن نماز قائم کی گئی ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھنے کو تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجرہ مبارک کا ) پردہ اٹھایا ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دکھائی دیا ۔ تو آپ کے روئے پاک و مبارک سے زیادہ حسین منظر ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا ( قربان اس حسن و جمال کے ) پھر آپ نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھنے کے لیے اشارہ کیا اور آپ نے پردہ گرادیا اور ا س کے بعد وفات تک کوئی آپ کودیکھنے پر قادر نہ ہو سکا صحیح بخاری کتاب الاذان Last edited by sahj; 12-06-10 at 08:10 PM. |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, ہا, کوثر, کرے, پڑھے, پاک, وسلم, لوگو, چند, نماز, مبارک, معلوم, اللہ, بڑا, ثابت, جام, جائیں, حدیث, درود شریف, دعا, شخص, شریف, عظام, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| فِی مَنَاقِبِ عَلِیِ بنِ ابِی طَالِب | Real_Light | سیرت اور تاریخ | 28 | 06-05-12 03:40 PM |
| سُوۡرَةُ العَلق | زارا | علوم قرآن کریم | 0 | 14-02-11 04:32 PM |
| سُوۡرَةُ العَلق | زارا | تلاوت اور تجوید | 0 | 12-02-11 05:27 PM |
| سُوۡرَةُ العَنکبوت | زارا | تلاوت اور تجوید | 0 | 12-02-11 03:17 PM |
| کلام حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ عَلَی | عقرب | شعر و شاعری | 0 | 05-08-08 10:07 AM |