واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > مطالعہ حدیث




اللہ کی قسم ابن صیاد ہی مسیح دجال ہے۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-12-11, 09:33 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اللہ کی قسم ابن صیاد ہی مسیح دجال ہے۔

اللہ کی قسم ابن صیاد ہی مسیح دجال ہے۔


33 - لڑائی اور جنگ وجدل کا بیان : (59)
ابن صیاد کا بیان

حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا يعقوب يعني ابن عبد الرحمن عن موسی بن عقبة عن نافع قال کان ابن عمر يقول والله ما أشک أن المسيح الدجال ابن صياد

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 936 حدیث موقوف مکررات 21 بدون مکرر
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن، موسی، عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ خدا کی قسم مجھے کوئی شک نہیں کہ مسیح دجال یہی ابن صیاد ہے۔

Narrated Abdullah ibn Umar:
Nafi' told that Ibn Umar used to say: I swear by Allah that I do not doubt that Antichrist is Ibn Sayyad.

33 - لڑائی اور جنگ وجدل کا بیان : (59)
ابن صیاد کا بیان

حدثنا ابن معاذ حدثنا أبي حدثنا شعبة عن سعد بن إبراهيم عن محمد بن المنکدر قال رأيت جابر بن عبد الله يحلف بالله أن ابن صاد الدجال فقلت تحلف بالله فقال إني سمعت عمر يحلف علی ذلک عند رسول الله صلی الله عليه وسلم فلم ينکره رسول الله صلی الله عليه وسلم

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 937 حدیث مرفوع مکررات 11
ابن معاذ، معاذ، شعبہ، سعد بن ابراہیم، محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ اللہ کی قسم کھا رہے تھے اس بات پر کہ ابن صیاد ہی دجال ہے پس میں نے کہا کہ آپ (اس بات پر) اللہ کی قسم کھا رہے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا کہ بے شک میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ کی قسم کھاتے ہوئے دیکھا اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔

Narrated Jabir ibn Abdullah:
Muhammad ibn al-Munkadir told that he saw Jabir ibn Abdullah swearing by Allah that Ibn as-Sa'id was the Dajjal (Antichrist). I expressed my surprise by saying: You swear by Allah! He said: I heard Umar swearing to that in the presence of the Apostle of Allah (peace_be_upon_him), but the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) did not make any objection to it.

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
شکریہ اس بات کا کہ آپ نے جھوٹ کو سامنے رکھا۔
بنیادی طور پر یہ جھوٹی روایات رسول اکرم سے منسوب کرتی ہیں ‌کہ ہجرت کے دو سو سال کے بعد مہدی اور دجال کا ظہور ہوگا۔ جب ایسا نہیں‌ہوا تو اس مخصوص مذہب کے پیروکاروں‌ نے اس میں‌ ہزار سال کا اضافہ کردیا اور اب ان صاحب نے دو ہزار سال کا اضافہ کردیا۔ کمال یہ ہے کہ ایسے لوگوں‌ کو کوئی " کذاب"‌ کا خطاب نہیں ‌دیتا؟ کیا ایسی پیشین گوئی کرنے والے لوگ وں‌کو جھوٹا نبی نہیں‌قرار دیا جاتا؟؟؟؟
یہ وہ روایات ہیں ‌جو "حساب کتاب" کے دائرے میں‌ آتی ہیں۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ یہ کتب روایات حساب کتاب کے معاملے میں‌ بہت کمزور واقع ہوتی ہیں۔
ایک بار پھر شکریہ۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
آئیے دیکھتے ہیں‌کہ کیا رسول اکرم سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی؟؟؟؟ کیا رسول اکرم نے اس کا کوئی جواب دیا؟؟؟ اور اگر کوئی جواب دیا تو یہ جواب کیا تھا؟؟؟؟ کیا اللہ تعالی کا فرمان قرآن اس کے بارے میں‌ کوئی ،گواہی کوئی شہادت فراہم کرتا ہے ؟؟؟؟
رسول اکرم سے سوال کیا گیا کہ قیامت کب آئے گی:
لوگ آپ سے قیامت کے وقت کے بارے میں سوال کرتے ہیں‌ کہ اس کے قائم ہونے کا وقت کب ہے :
7:187 يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي لاَ يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلاَّ هُوَ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لاَ تَأْتِيكُمْ إِلاَّ بَغْتَةً يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللّهِ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ
پُوچھتے ہیں یہ لوگ تم (مراد رسول اللہ صلعم )سے قیامت کے بارے میں کہ کب ہے وقت اس کے قائم ہونے کاَ ، کہہ دو! بے شک اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے۔ نہیں ظاہر کرے گا ،مگر اسے اس کے وقت پر ، کہ بڑا بھاری ہوگا وہ ( وقت) آسمانوں اور زمین پر۔ نہیں آئے گی وہ تم پر مگر اچانک۔ وہ پُوچھتے ہیں تم سے اس طرح گویا کہ تم کھوج میں لگے ہُوئے ہو اس کے، کہہ دو! اس کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے، لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں۔
اس آیت الہی کے روشنی میں‌ اب ان پیشین گوئی کرنے والوں کو دیکھئے کہ کون جھوٹا ثابت ہورہا ہے ۔ روایت گو یا پھر اللہ تعالی اور اس کے رسول اکرم۔
اس سے زیادہ اور کیا صاف بات ہوسکتی ہے ؟؟؟
کہہ دو! اس کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے، لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں۔
والسلام
::::::: عیسی علیہ السلام کا نازل ہونا حق ہے :::::::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
کچھ دنوں پہلے پاک نیٹ پر ایک پرانا دھاگہ بعنوان """ غامدی ، منکر نزول عیسیٰ علیہ السلام """ پھر سے تازہ ہوا، جس میں اب تک کافی لمبی مراسلت ہورہی ہے ،
اس دھاگے میں کافی عرصہ پہلے فاروق سرور خان صاحب سے کچھ بات چیت ہوئی تھی ، اب تازہ گفت و شنید میں بھائی رانا عمار صاحب سے کافی گفتگو رہی ،
بھائی رانا صاحب جو انہی فاروق سرور خان صاحب کے متبعین میں سے ہیں ، جس کا ثبوت انہی رانا صاحب کے اپنے مراسلات میں ہے ، سے بات چیت کے دوران ، گفتگو کا انداز کافی نا مناسب سا ہو کر """ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول """ کے موضوع کو سمجھنے کے خواہاں قارئین کے لیے پریشانی کا سبب بن گیا ،

اس لیے خیال ہوا کہ اس موضوع کو اپنے الگ دھاگے میں لایا جائے ، تا کہ یہاں ، دھاگہ کھولنے والے کی حیثیت سے بات کرنے کے لیے کچھ قواعد و ضوابط مقرر کر سکوں ،
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-12-11, 09:48 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اس دھاگے میں گفتگو کے لیے میں بھائی عادل سہیل صاحب کو بات کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
اس دھاگے میں گفتگو کے لیے میں بھائی رانا عمار صاحب ، اور ان کے ہم خیال سب ہی بھائیوں اور لوگوں کو بات کرنے کی دعوت دیتا ہوں

اس دھاگے میں گفتگو کے لیے میں بھائی عادل سہیل صاحب ، اور ان کے ہم خیال سب ہی بھائیوں اور لوگوں کو بات کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-12-11, 12:42 AM   #3
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ابن صیاد کون ہے ؟ اور کیا یہی مسیح دجال ہے ؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

33 - لڑائی اور جنگ وجدل کا بیان : (59)
ابن صیاد کا بیان
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 936 حدیث موقوف مکررات 21 بدون مکرر

قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن، موسی، عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ خدا کی قسم مجھے کوئی شک نہیں کہ مسیح دجال یہی ابن صیاد ہے۔

33 - لڑائی اور جنگ وجدل کا بیان : (59)
ابن صیاد کا بیان
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 937 حدیث مرفوع مکررات 11

ابن معاذ، معاذ، شعبہ، سعد بن ابراہیم، محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ اللہ کی قسم کھا رہے تھے اس بات پر کہ ابن صیاد ہی دجال ہے پس میں نے کہا کہ آپ (اس بات پر) اللہ کی قسم کھا رہے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا کہ بے شک میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ کی قسم کھاتے ہوئے دیکھا اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں


اس دھاگے میں گفتگو کے لیے میں بھائی عادل سہیل صاحب ، اور ان کے ہم خیال سب ہی بھائیوں اور لوگوں کو بات کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔

ابن صیاد کون ہے ؟ اور کیا یہی مسیح دجال ہے ؟


میں نے بعض احادیث میں ایک عجیب شخص کے متعلق کلام پڑھی ہے جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ظاہر ہوا جس کا نام ابن صیاد یا ابن صائد ہے تو یہ آدمی کون اور اس کی حقیقت کیا ہے ؟


الحمدللہ

ابن صیاد کا نام صافی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عبداللہ بن صیاد یا صائد ہے ۔

یہ مدینہ کے یہودیوں میں سے تھا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انصار میں سے تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو یہ چھوٹا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلمان ہو گیا تھا ۔

ابن صیاد دجال تھا اور بعض اوقات کہانت کرتا تو جھوٹ اور سچ بولتا رہتا تھا اس کی خبر لوگوں میں پھیل گئي اور یہ مشہور ہو گیا کہ یہ دجال ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا کہ اس کے حالات کی خبر لیں تاکہ اس کے معاملے کی وضاحت ہو جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم چھپ کر اس کی طرف گۓ تا کہ اس کی کوئی بات سن سکیں اور اس پر کچھ سوال کرتے تھے جن سے ان کی حقیقت منکشف ہوتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہا اور حرہ کی لڑائی والے دن غائب ہو گیا ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ابن صیاد کے ساتھ قصہ :

امام بخاری بیان کرتے ہیں کہ ہمیں عبدان نے عبداللہ سے حدیث بیان کی وہ یونس سے اور یونس زہری سے بیان کرتے ہیں اور زہری بیان کرتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ نے مجھے بتایا کہ انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گروپ میں ابن صیاد کی طرف گۓ تو اسے بنو غلم کے قلعہ کے پاس بچوں میں کھیلتے ہوئے پایا اور ابن صیاد بلوغت کے قریب پہنچ چکا تھا تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کا کچھ پتہ نہ چلا حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہاتھ سے مارا پھر ابن صیاد کو کہنے لگے کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو ابن صیاد نے ان کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں تو ابن صیاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہنے لگا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا اور رفض کر دیا اور کہنے لگے میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا کہ تو کیا دیکھتا ہے ابن صیاد کہنے لگا میرے پاس سچا اور جھوٹا آتا ہے

تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر معاملہ الٹ پلٹ ہو گیا ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا میں تیرے لۓ ایک چھپانے والی چیز چھپائی ہے تو ابن صیاد کہنے لگا وہ الداخ ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ذلیل ہو جا تیری قدر بڑھ نہیں سکتی تو عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اتار دوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ رہنے والا ہے تو تو اس پر مسلط نہیں ہو سکتا اور اگر نہیں تو اس کے قتل میں آپ کی کوئی بھلائی نہیں اور سالم کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کھجوروں کے باغ میں گۓ جہاں ابن صیاد موجود تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بہت زیادہ کوشش تھی کہ ابن صیاد کے دیکھنے سے قبل ان کی چوری چھپے بات سنی جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی چھودرا چادر میں لپٹا ہوا تھا اور اس کی نہ سمجھ آنے والی آواز تھی جس سے اس کے ہونٹ ہل رہے تھے تو ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کہ کھجور کے تنوں کے پیچھے پیچھے چھپ چھپ کر چل رہے تھے دیکھ کر ابن صیاد کو کہا اے صاف جو کہ ابن صیاد کا نام ہے یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو ابن صیاد کود کر اٹھ بیٹھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو اس کا معاملہ واضح ہو جاتا ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر 1255

قولہ اطم : دونوں کے ضمہ کے ساتھ قلعہ کی طرح عمارت کو کہتے ہیں ۔

ان کا یہ قول : مغالۃ: انصار میں ایک قبیلہ

اور ان کا یہ قول : فرفضہ : یعنی اسے چھوڑ دیا ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا کہ اس کے علم کے بغیر اس کی کلام سن سکیں ۔

اور یہ قول کہ : ( لہ فیہا رمزۃ او زمرۃ ) اور ایک روایت میں زمزمۃ کے لفظ ہیں ۔

پوشیدہ اور دھیمی آواز کے معنی میں ، یا بات کرنے میں ہونٹوں کا حرکت کرنا ، یا بے معنی کلام ۔

مندرجہ بالا حدیث کی شرح کے لۓ صحیح بخاری کی شرح فتح الباری کتاب الجنائز دیکھیں۔

کیا ابن صیاد ہی دجال اکبر ہے ؟


مندرجہ بالا حدیث جس میں ابن صیاد کے بعض حالات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے امتحان میں ڈالنا مذکور ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد کے معاملے میں توقف اختیار کۓ ہوئے تھے کیونکہ ان کی طرف یہ وحی نہیں کی گئي تھی کہ وہ دجال اکبر وغیرہ ہے۔

اور صحابہ میں اکثر کا خیال تھا کہ ابن صیاد ہی دجال ہے اور عمر بن خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی موجودگی میں حلفا کہا کرتے تھے کہ وہ دجال ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انکار نہیں کیا۔

محمد بن منکدر کی حدیث میں موجود ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اللہ کی قسم اٹھا کر کہتے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے تو میں نے کہا کہ آپ اللہ کی قسم اٹھاتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ اس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قسم اٹھا رہے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انکار نہیں کیا ۔

صحیح بخاری شریف حدیث نمبر ( 680

اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ابن صائد کے ساتھ ایک عجیب قصہ پیش آیا جو کہ صحیح مسلم میں موجود ہے :

نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ابن صائد کو مدینہ کے کسی راستے میں ملے تو اسے ایسی بات کہی جس سے وہ غصہ میں آ گیا اور اس کی رگیں پھول گئیں حتی کہ گلی ( لوگوں سے) بھر گئي تو ابن عمر رضی اللہ عنہما حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گۓ تو انہیں یہ خبر پہنچ چکی تھی تو وہ کہنے لگیں اللہ تجھ پر رحم کرے ابن صیاد سے تو کیا چاہتا ہے کیا تجھے اس کا علم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس غصہ کی بنا پر نکلے گا جو اسے غصہ دلآئے گا ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر (2932)

تو اس کی باوجود ابن صیاد جب بڑا ہوا تو اس نے اپنے دفاع کی کوشش کی اور اس کا انکار کرنے لگا کہ وہ دجال ہے اور اس تہمت سے اسے تنگی محسوس ہونے لگی کہ وہ دجال ہے اور اس میں وہ دلیل یہ لیتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دجال کی صفات بتائیں ہیں وہ اس میں نہیں پائی جاتیں ۔

اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ :

وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حج یا عمرے کے لۓ نکلے تو ہمارے ساتھ ابن صائد بھی تھا تو ابو سعید رضي اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو سب لوگ بکھر گۓ تو میں اور وہ باقی رہے تو مجھے اس سے اس وجہ کی بنا پر جو کچھ اس کے متعلق کہا جاتا تھا بہت زیادہ وحشت ہونے لگی ۔

ابو سعید ( رضي اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ اس نے اپنا سامان لا کر میرے سامان کے ساتھ رکھ دیا تو میں نے کہا : گرمی بہت سخت ہے اگر تو اس درخت کے نیچے رکھ دیتا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس نے ایسا ہی کیا ، ابو سعید رضي اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے ایک بکری لائی گئي تو وہ ایک بڑا پیالہ لایا اور کہنے لگا اے ابو سعید ( رضی اللہ عنہ ) پیو میں نے کیا کہ گرمی بہت سخت ہے اور دودھ گرم ہے میں تو صرف اس کے ہاتھ سے لے کر پینا اور پکڑنا نا پسند کرتا تھا تو وہ کہنے لگا : اے ابو سعید ( رضي اللہ عنہ ) لوگ جو کچھ مجھے کہتے ہیں اس کی بنا پر میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ رسی لے کر درخت کے ساتھ باندھوں اور اس سے لٹک کر پھانسی لے لوں ۔

اے ابو سعید ( رضی اللہ عنہ ) کون ہے جس پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پوشیدہ ہو اے انصار کی جماعت تم پر تو پوشیدہ نہیں کیا آپ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو زیادہ نہیں جانتے ؟

کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ کافر ہو گا اور میں مسلمان ہوں ؟

کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اس بانجھ اور اس کی کوئی اولاد نہیں ہو گی اور میں تو اپنا بیٹا مدینہ چھوڑ کے آ رہا ہوں ؟

کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو گا اور میں مدینہ سے آ رہا اور مکے کا ارادہ ہے ؟

ابو سعید ( رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ قریب ہے کہ میں اسے معذور سمجھتا پھر وہ کہنے لگا اللہ کی قسم میں اسے جانتا ہوں اور اس کی پیدائش کو بھی اور وہ اس وقت کہاں ہے اس کا بھی مجھے علم ہے ۔

ابو سعید ( رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ میں نے اسے کہا ساری عمر تیری تباہی ہو ۔

صحیح مسلم حدیث نمبر (4211)

اور ایک روایت میں ہے کہ : ابن صیاد نے کہا : اللہ کی قسم مجھے یہ علم ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہے اور اس کے ماں اور باپ کو بھی جانتا ہوں اور اسے یہ کہا گیا تجھے یہ پسند ہے کہ وہ آدمی تو ہی ہو ؟ تو وہ کہنے لگا اگر مجھ پر یہ پیش کیا گیا تو میں نا پسند نہیں کروں گا ۔
صحیح مسلم حدیث نمبر (5210)

ابن صیاد کے متعلق جو کچھ آیا ہے وہ علماء پر خلط ملط اور اس کے معاملے میں انہیں اشکال ہے ۔

کچھ تو کہتے ہیں کہ وہ دجال ہے اور کچھ کہتے ہیں کہ وہ دجال نہیں اور ہر ایک فریق کے پاس دلیل ہے تو ان کے اقوال آپس میں بہت مختلف ہیں اور ابن جحر رحمہ اللہ نے ان اقوال کے درمیان جمع کرنے کی کوشش کی ہے ان کا کہنا ہے کہ :

تمیم الداری رضی اللہ عنہ والی حدیث میں جو کچھ ہے وہ اور یہ کہ ابن صیاد ہی دجال ہے کے درمیان جمع اس طرح ہے کہ تمیم الدارمی رضي اللہ عنہ نے جسے دیکھا ہے بعینہ دجال تو وہی ہے اور ابن صیاد شیطان ہے جو کہ دجال کی شکل میں اس مدت کے درمیان ظاہر ہوا یہاں تک کہ وہ اصبہان کی طرف جا نکلا اور وہاں اپنے قرین کے ساتھ جا چھپا یہاں تک کہ اللہ تعالی وہ وقت لے آئے جس میں اس کا خروج ہو گا ۔

فتح الباری ( 13 / 328 )

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ : ابن صیاد دجالوں میں سے ایک دجال ہے وہ دجال اکبر نہیں ۔

واللہ اعلم .


الشیخ محمد صالح المنجد
اسلام سوال و جوابات
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-12-11), نبیل خان (10-01-12), مرزا عامر (26-12-11), احمد نذیر (26-12-11), سحر (26-12-11), شکاری (26-12-11)
پرانا 26-12-11, 02:08 PM   #4
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کھجوروں کے باغ میں گۓ جہاں ابن صیاد موجود تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بہت زیادہ کوشش تھی کہ ابن صیاد کے دیکھنے سے قبل ان کی چوری چھپے بات سنی جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی چھودرا چادر میں لپٹا ہوا تھا اور اس کی نہ سمجھ آنے والی آواز تھی جس سے اس کے ہونٹ ہل رہے تھے تو ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کہ کھجور کے تنوں کے پیچھے پیچھے چھپ چھپ کر چل رہے تھے دیکھ کر ابن صیاد کو کہا اے صاف جو کہ ابن صیاد کا نام ہے یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو ابن صیاد کود کر اٹھ بیٹھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو اس کا معاملہ واضح ہو جاتا ۔
عجیب سی بات ہے
کیا اس کا کوئی حوالہ موجود ہے
شکاری صاحب سے خاص طور پر پوچھا ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (26-12-11)
پرانا 26-12-11, 04:17 PM   #5
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

فیصل بھائی کوٹنگ مراسلہ کا حوالہ بھی مل جائے گا جو موجود ھے، دھاگہ کے مطابق عمار بھائی کو جواب میں اپنی بات ثابت کرنے کا موقع دیا جائے کہ یہی دجال تھا۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-12-11), فیصل ناصر (26-12-11), مرزا عامر (28-12-11)
پرانا 26-12-11, 06:42 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کیا مطلب ؟؟؟ "ابن صیاد ہی دجال ہے"، بات تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی،

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
فیصل بھائی کوٹنگ مراسلہ کا حوالہ بھی مل جائے گا جو موجود ھے، دھاگہ کے مطابق عمار بھائی کو جواب میں اپنی بات ثابت کرنے کا موقع دیا جائے کہ یہی دجال تھا۔
والسلام

کیا مطلب ؟؟؟ "ابن صیاد ہی دجال ہے"، بات تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جواب میں اپنی بات ثابت کرنے کا موقع دیا جائے کہ یہی دجال تھا !!!

"عبدالرزاق کہتے ہیں کہ اس سے مراد دجال ہی ہے" !!!

ابن معاذ، معاذ، شعبہ، سعد بن ابراہیم، محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ اللہ کی قسم کھا رہے تھے اس بات پر کہ ابن صیاد ہی دجال ہے پس میں نے کہا کہ آپ (اس بات پر) اللہ کی قسم کھا رہے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا کہ بے شک میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ کی قسم کھاتے ہوئے دیکھا اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔

33 - لڑائی اور جنگ وجدل کا بیان : (59)
ابن صیاد کا بیان
حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا يعقوب يعني ابن عبد الرحمن عن موسی بن عقبة عن نافع قال کان ابن عمر يقول والله ما أشک أن المسيح الدجال ابن صياد
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 936 حدیث موقوف مکررات 21 بدون مکرر
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن، موسی، عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ خدا کی قسم مجھے کوئی شک نہیں کہ مسیح دجال یہی ابن صیاد ہے۔
Narrated Abdullah ibn Umar:
Nafi' told that Ibn Umar used to say: I swear by Allah that I do not doubt that Antichrist is Ibn Sayyad.
_______________________________
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1280
عبدان، عبداللہ ، یونس، زہری، سالم بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمراہ ابن صیاد کی طرف چلے کچھ اور لوگ بھی ساتھ تھے ان لوگوں نے ابن صیاد کو بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوا پایا ابن صیاد جوانی کے قریب تھا ابن صیاد کو حضور کے آنے کی خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مارا پھر ابن صیاد سے فرمایا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ آپ کی طرف ابن صیاد نے دیکھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں تو آپ نے اس کو چھوڑ دیا اور فرمایا کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا آپ نے اس سے فرمایا کہ تو دیکھتا کیا ہے ؟ ابن صیاد نے فرمایا کہ میرے پاس سچا اور جھوٹا آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر امر مشتبہ کردیا پھر اس سے آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک بات اپنے دل میں چھپائی ہے تو بتا کیا ہے ؟ ابن صیاد نے کہا وہ دخ ہے آپ نے فرمایا تو ذلیل وخوار ہو تو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑادوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی دجال ہے تو تجھے اس پر قدرت نہ ہوگی اور اگر وہ نہیں ہے تو اس کے قتل کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے سالم نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر کو فرماتے ہوئے سنا اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابی بن کعب اس درخت کے پاس گئے جہاں ابن صیاد تھا آپ یہ خیال کر رہے تھے ابن صیاد سے قبل اس کے کہ وہ آپ کو دیکھے کچھ سنیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا اس حال میں کہ وہ لیٹا ہوا تھا چادر میں لپٹا ہوا تھا اور اس سے کچھ آواز آرہی تھی ابن صیاد کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا حالانکہ آپ درختوں کی آڑ میں سے ہو کر آرہے تھے اس نے ابن صیاد سے کہا اے صاف جو ابن صیاد کا نام تھا یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آرہے ہیں ابن صیاد اٹھ بیٹھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو معاملہ کھل جاتا اور شعیب نے اپنی حدیث میں فَرَفَصَهُ رَمْرَمَةٌ یا زَمْزَمَةٌ کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور عقیل نے رمرمہ اور معمر نے رَمْزَةٌ روایت کیا ہے۔
________________________________
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2482
ابو الیمان شعیب زہری سالم عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابی بن کعب انصاری اس باغ کے ارادہ سے روانہ ہوئے جہاں ابن صیاد تھا یہاں تک کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو آپ درختوں کی آڑ میں چھپ چھپ کر چلنے لگے تاکہ ابن صیاد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ نہ سکے اور اس کی بات سن لیں اور ابن صاید اپنے فرش پر ایک چادر میں اپنا منہ لپیٹے ہوئے لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا لیکن ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اس حال میں کہ آپ درختوں کی آڑ میں چلے آرہے تھے تو اس کی ماں نے پکار کر کہا کہ اے صاف! یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آگئے ابن صیاد یہ سن کر خاموش ہوگیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو حال معلوم ہوجاتا۔
________________________________
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 288
لیث، عقیل ، ابن شہاب ، سالم بن عبداللہ ، حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ ابن صیاد کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور آپ کے ساتھ ابن صیاد کی طرف جانے کے لئے ابی بن کعب بھی ہمراہ تھے آپ سے کہا گیا کہ ابن صیاد باغ میں ہے چنانچہ آپ باغ میں درختوں کی آڑ لیتے ہوئے اس کے پاس پہنچے جو اپنی چادر پر لیٹا ہوا کچھ گنگنا رہا تھا ابن صیاد کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور کہا اے صاف ( ابن صیاد ) دیکھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں تو ابن صیاد فورا ہی اٹھ بیٹھا جس پر رسالت مآب نے فرمایا اگر اس کی ماں اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتی تو حقیقت معلوم ہوجاتی
________________________________
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 308
عبداللہ بن محمد ہشام معمر زہری سالم عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر اور دیگر اصحاب نے سرور عالم کے ساتھ ابن صیاد کی طرف جانے کے لیے رخت سفر باندھا اور بنو مغالہ کے ٹیلوں کے پاس اس کو بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوا پایا ابن صیاد بچہ نہیں تھا بلکہ وہ تقریبا بالغ ہو چکا تھا لیکن سرور عالم کی تشریف آوری کی اس کو کچھ خبر نہیں ہوئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی پیٹھ ٹھونکی اور فرمایا کیا تو اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھ کر کہا میں یقینا اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر کہ میں تو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں فرمایا اب تو کیا دیکھتا ہے جس پر ابن صیاد نے کہا میرے پاس کوئی خبر سچی آتی ہے اور کوئی جھوٹی تو سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تجھ پر اصل حقیقت کا پردہ پڑ گیا ہے اور اس کے بعد فرمایا میں اپنے دل میں ایک بات کہتا ہوں بتاؤ وہ کیا ہے اس پر ابن صیاد نے جواب دیا وہ دھواں ہے جس کے جواب میں سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دور ہو جا تو اپنی حد سے زیادہ نہیں بڑھ سکتا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے اجازت مرحمت فرمائیے کہ میں اس کی گردن صاف کردوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ دجال ہے تو اس کو مار ڈالنا تمہارے بس کی بات نہیں ہے اور اگر یہ دجال نہیں ہے تو اس کے قتل سے تم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا
________________________________
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1112
ابو الولید ، سلم بن زریر ابورجاء حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صائد (ابن صیاد) سے فرمایا کہ میں نے اپنے دل میں تمہارے لئے ایک بات چھپا رکھی ہے بتاؤ وہ کیا چیز ہے اس نے کہا دھواں ہے آپ نے فرمایا دور ہوجا۔
________________________________
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1113
ابو الیمان شعیب زہری سالم بن عبداللہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے چند صحابہ کے ساتھ ابن صیاد کی طرف روانہ ہوئے بنی مغالہ کے محلہ میں لڑکوں کے ساتھ اسے کھیلتے ہوئے پایا اس وقت وہ سن بلوغ کے قریب تھا اس کو آپ کی تشریف آوری کا علم نہ ہوا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا پھر فرمایا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہو پھر ابن صیاد نے کہا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دھکا دیا پھر فرمایا کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا پھر ابن صیاد سے پوچھا تیرا اپنے متعلق کیا خیال ہے؟ اس نے کہا میرے پاس سچے اور جھوٹے دونوں قسم کے آدمی آتے ہیں آپ نے فرمایا کہ تجھ پر معاملہ مشتبہ ہو کر رہ گیا ہے (پھر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے تیرے لئے ایک بات اپنے دل میں چھپا رکھی ہے اس نے کہا وہ دھواں ہے آپ نے فرمایا دور ہوجا تو خدا کی مرضی سے آگے نہیں بڑھ سکتا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ اس کی گردن اڑا دوں آپ نے فرمایا کہ اگر یہ شخص وہی (یعنی دجال) ہے تو تم اس پر قابو نہ پاؤ گے اور اگر یہ شخص وہ نہیں ہے تو اس کے قتل کرنے میں تمہارئے لئے کوئی نفع نہیں ہے۔ سالم کا بیان ہے کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصاری اس باغ کے مقصد سے چلے جہاں ابن صیاد تھا یہاں تک کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہوئے تو درختوں کے تنوں کی آڑ میں ہو کر چلنے لگے اور مقصد یہ تھا کہ ابن صیاد کی کچھ بات سنیں قبل اس کے کہ وہ آپ کو دیکھ سکے اس وقت ابن صیاد اپنے بستر پر ایک چادر میں لپٹا ہوا تھا جس میں وہ گنگنا رہا تھا ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا کہ درختوں کی آڑ سے ہو کر تشریف لا رہے ہیں اس نے ابن صیاد سے کہا کہ اے صاف (یہ اس کا نام تھا) یہ محمد آ رہے ہیں تو ابن صیاد نے گنگنانا موقوف کردیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے تو اللہ کی تعریف بیان کی جس کا وہ سزاوار ہے پھر دجال کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ میں تمہٰں اس سے ڈراتا ہوں اور کوئی نبی ایسے نہیں گزرے جنہوں نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہو نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا لیکن میں تم سے ایسی بات بتاؤں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی تم جان لو کہ وہ کانا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔
________________________________
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1540
علی بن حفص، بشر بن محمد، عبداللہ ، معمر، زہری، سالم، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا کہ میں نے اپنے دل میں ایک بات چھپا رکھی ہے، اس نے کہا کہ وہ دھواں ہے، آپ نے فرمایا خاموش رہ تو اپنی تقدیر سے آگے نہیں بڑھ سکتا ہے، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ اجازت دیجئے تو میں اس کی گردن اڑادوں، آپ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو اگر یہ وہی ہے تو ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے اور اگر وہ نہیں ہے تو اسکے قتل کرنے میں تمہارے لئے کوئی بھلائی نہیں۔
________________________________
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2854
حرملہ بن یحیی بن عبداللہ بن حرملہ بن عمران ابن وہب، یونس ابن شہاب سالم بن عبداللہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جماعت میں ابن صیاد کی طرف نکلے یہاں تک کہ اسے بنی مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا اور ابن صیاد ان دنوں قریب البلوغ تھا اور اسے کچھ معلوم نہ ہو سکا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی کمر پر ضرب ماری پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ابن صیاد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امیوں کے رسول ہیں پھر ابن صیاد نے رسول اللہ سے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا اور فرمایا میں ایمان لایا اللہ پر اس کے رسولوں پر پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تو کیا دیکھتا ہے ابن صیاد نے کہا میرے پاس سچا بھی آتا ہے اور جھوٹا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر اصل معاملہ تو پھر مشتبہ ہوگیا پھر رسول اللہ نے اس سے فرمایا میں نے تجھ سے پوچھنے کے لئے ایک بات چھپائی ہوئی ہے تو ابن صیاد نے کہا وہ دخ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا دور ہو تو اپنے اندازہ سے آگے نہیں بڑھ سکتا پھر عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا مجھے اجازت دیں اے اللہ کے رسول میں اس کی گردن مار دوں رسول اللہ نے ان سے فرمایا اگر یہ وہی ہے تو تم اس پر مسلط نہ ہو سکو گے اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اس کے قتل کرنے میں تمہارے لئے کوئی بھلائی نہیں ہے۔
________________________________
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2855
سالم بن عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اس واقعہ کے بعد رسول اللہ اور حضرت ابی بن کعب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس باغ کی طرف چلے جس میں ابن صیاد تھا یہاں تک کہ جب رسول اللہ اس باغ میں داخل ہوئے تو کھجوروں کے تنوں میں چھپنے لگے تاکہ ابن صیاد کے دیکھنے سے پہلے اس کی کچھ گفتگو سن سکیں پس رسول اللہ نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی ایک چادر میں لپٹا لیٹا ہوا ہے اور کچھ گنگنا رہا ہے پس ابن صیاد کی والدہ نے رسول اللہ کو کھجور کے تنوں کی آڑ میں چھپتے ہوئے دیکھ لیا تو اس نے ابن صیاد سے کہا اے صاف اور یہ ابن صیاد کا نام تھا یہ محمد ہیں تو ابن صیاد فورا اٹھ کھڑا ہوا رسول اللہ نے فرمایا اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو وہ کچھ بیان کر دیتا۔
________________________________
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2857
حسن بن علی حلوانی بن حمید یعقوب بن ابراہیم، سعد ابوصالح ابن شہاب سالم بن عبداللہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ چلے اور آپکے ساتھ آپکے صحابہ کی ایک جماعت تھی جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے یہاں تک کہ ابن صیاد بچے کو پایا جو کہ بلوغت کے قریب تھا اور بچوں کے ساتھ بنو معاویہ کے مکانوں کے پاس کھیل رہا تھا باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا کاش اس کی والدہ اسے چھوڑ دیتی تو اس کا سارا معاملہ واضح ہو جاتا۔
________________________________
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2858
عبد بن حمید سلمہ بن شبیب عبدالرزاق، معمر، زہری سالم حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جن میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے تو وہ بنی مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور وہ بھی لڑکا تھا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب کے ساتھ کھجوروں کے باغ کی طرف تشریف لے گئے۔
________________________________
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 935
ابوعاصم، معمر، زہری، سالم، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ابن صیاد کے پاس سے گذرے اور وہ لڑکوں کے ساتھ بنی مغالہ کے پتھر کے قلعہ کے پاس کھیل رہا تھا اسے احساس نہیں ہوا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اسکی پیٹھ پر مارا پھر فرمایا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ راوی کہتے ہیں کہ ابن صیاد نے ایک نظر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امیوں کے رسول ہیں پھر ابن صیاد نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا چکا ہوں پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا کہ تیرے پاس کیا چیز آتی ہے کہنے لگا کہ میرے پاس سچا اور جھوٹا آتا ہے پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تیرے اوپر معاملہ مشتبہ ہو گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ میں نے تیرے لیے کہ ایک چیز چھپا رکھی ہے اور آپ نے اپنے دل میں قرآن کریم کی آیت، ( يَوْمَ تَاْتِي السَّمَا ءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ ) 44۔ الدخان : 10) چھپالی ابن صیاد نے کہا کہ وہ چھپی ہوئی چیز دخ ہے۔ (دخان نہ کہہ سکا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پرے ہٹ تو ہرگز اپنے اندازہ سے تجاوز نہیں کرسکے گا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑادوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ دجال ہے تو تمہیں اس کے اوپر مسلط نہیں کیا گیا۔ (کہ اس کے لیے تو حضرت عیسیٰ ہے) اور اگر یہ وہ (دجال) نہیں تو اس کے قتل کرنے میں کوئی خیر نہیں۔
________________________________
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 131
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ ابن صیاد کے پاس سے گزرے وہ بنومغالہ کے قلعے کے پاس لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا آپ کی آمد کا اسے اس وقت تک اندازہ نہ ہوا جب تک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کی پیٹھ پر نہیں مار دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا میں اللہ کا رسول ہوں ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ آدمیوں کے رسول ہیں پھر ابن صیاد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہوں پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کس قسم کی خبریں آتی ہیں ابن صیاد نے کہا جھوٹی اور سچی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو پھر تیرا کام مختلط ہوگیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے دل میں تمہارے متعلق کوئی بات سوچی ہے اور آپ نے یہ آیت سوچ لی (يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ) ابن صیاد نے کہا وہ بات دخ ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دھتکار ہو تم پر تم اپنی اوقات سے آگے نہیں بڑھ سکتے حضرت عمر نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اجازت دیجئے میں اس کی گردن اتار دوں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ دجال ہی ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اسے قتل کرنے کی قدرت نہیں دے گا اور اگر وہ نہیں تو اسے مارنے میں تمہارے لئے بھلائی نہیں ہے عبدالرزاق کہتے ہیں کہ اس سے مراد دجال ہی ہے
________________________________
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-12-11, 07:18 PM   #7
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

کیا مطلب ؟؟؟ "ابن صیاد ہی دجال ہے"، بات تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جواب میں اپنی بات ثابت کرنے کا موقع دیا جائے کہ یہی دجال تھا !!!

"عبدالرزاق کہتے ہیں کہ اس سے مراد دجال ہی ہے" !!!

________________________________
السلام علیکم محترم

دعوت آپ دے رہے ہیں تو ثابت بھی آپ نے کرنا ھے۔

آپکی طرف سے مساوات جیسی پیش رفت ہوئی ھے جو مطالعہ کرنے کے لئے بہتر ہیں ثابت کرنے کے لئے آپ کے بیانات اور دلیل کا انتظار ھے، دیکھتے ہیں آپ کیسے ثابت کرتے ہیں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-12-11), نبیل خان (10-01-12), ابن آدم (27-12-11)
پرانا 26-12-11, 09:26 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default حدیث سے ثابت شدہ بات کو میں نے کیا ثابت کرنا ہے ؟؟؟ کیا آپ کو حدیث کا انکار ہے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم محترم
دعوت آپ دے رہے ہیں تو ثابت بھی آپ نے کرنا ھے۔
آپکی طرف سے مساوات جیسی پیش رفت ہوئی ھے جو مطالعہ کرنے کے لئے بہتر ہیں ثابت کرنے کے لئے آپ کے بیانات اور دلیل کا انتظار ھے، دیکھتے ہیں آپ کیسے ثابت کرتے ہیں۔
والسلام

حدیث سے ثابت شدہ بات کو میں نے کیا ثابت کرنا ہے ؟؟؟

کیا آپ کو حدیث کا انکار ہے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
ابن صیاد کون ہے ؟ اور کیا یہی مسیح دجال ہے ؟

یہ مدینہ کے یہودیوں میں سے تھا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انصار میں سے تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو یہ چھوٹا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلمان ہو گیا تھا ۔
ابن صیاد دجال تھا اور بعض اوقات کہانت کرتا تو جھوٹ اور سچ بولتا رہتا تھا اس کی خبر لوگوں میں پھیل گئي اور یہ مشہور ہو گیا کہ یہ دجال ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا کہ اس کے حالات کی خبر لیں تاکہ اس کے معاملے کی وضاحت ہو جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم چھپ کر اس کی طرف گۓ تا کہ اس کی کوئی بات سن سکیں اور اس پر کچھ سوال کرتے تھے جن سے ان کی حقیقت منکشف ہوتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہا اور حرہ کی لڑائی والے دن غائب ہو گیا ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ابن صیاد کے ساتھ قصہ :
امام بخاری بیان کرتے ہیں کہ ہمیں عبدان نے عبداللہ سے حدیث بیان کی وہ یونس سے اور یونس زہری سے بیان کرتے ہیں اور زہری بیان کرتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ نے مجھے بتایا کہ انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گروپ میں ابن صیاد کی طرف گۓ تو اسے بنو غلم کے قلعہ کے پاس بچوں میں کھیلتے ہوئے پایا اور ابن صیاد بلوغت کے قریب پہنچ چکا تھا تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کا کچھ پتہ نہ چلا حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہاتھ سے مارا پھر ابن صیاد کو کہنے لگے کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو ابن صیاد نے ان کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں تو ابن صیاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہنے لگا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا اور رفض کر دیا اور کہنے لگے میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا کہ تو کیا دیکھتا ہے ابن صیاد کہنے لگا میرے پاس سچا اور جھوٹا آتا ہے
تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر معاملہ الٹ پلٹ ہو گیا ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا میں تیرے لۓ ایک چھپانے والی چیز چھپائی ہے تو ابن صیاد کہنے لگا وہ الداخ ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ذلیل ہو جا تیری قدر بڑھ نہیں سکتی تو عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اتار دوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ رہنے والا ہے تو تو اس پر مسلط نہیں ہو سکتا اور اگر نہیں تو اس کے قتل میں آپ کی کوئی بھلائی نہیں اور سالم کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کھجوروں کے باغ میں گۓ جہاں ابن صیاد موجود تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بہت زیادہ کوشش تھی کہ ابن صیاد کے دیکھنے سے قبل ان کی چوری چھپے بات سنی جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی چھودرا چادر میں لپٹا ہوا تھا اور اس کی نہ سمجھ آنے والی آواز تھی جس سے اس کے ہونٹ ہل رہے تھے تو ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کہ کھجور کے تنوں کے پیچھے پیچھے چھپ چھپ کر چل رہے تھے دیکھ کر ابن صیاد کو کہا اے صاف جو کہ ابن صیاد کا نام ہے یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو ابن صیاد کود کر اٹھ بیٹھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو اس کا معاملہ واضح ہو جاتا ۔
صحیح بخاری حدیث نمبر 1255
قولہ اطم : دونوں کے ضمہ کے ساتھ قلعہ کی طرح عمارت کو کہتے ہیں ۔
ان کا یہ قول : مغالۃ: انصار میں ایک قبیلہ
اور ان کا یہ قول : فرفضہ : یعنی اسے چھوڑ دیا ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا کہ اس کے علم کے بغیر اس کی کلام سن سکیں ۔
اور یہ قول کہ : ( لہ فیہا رمزۃ او زمرۃ ) اور ایک روایت میں زمزمۃ کے لفظ ہیں ۔
پوشیدہ اور دھیمی آواز کے معنی میں ، یا بات کرنے میں ہونٹوں کا حرکت کرنا ، یا بے معنی کلام ۔
مندرجہ بالا حدیث کی شرح کے لۓ صحیح بخاری کی شرح فتح الباری کتاب الجنائز دیکھیں۔
کیا ابن صیاد ہی دجال اکبر ہے ؟
مندرجہ بالا حدیث جس میں ابن صیاد کے بعض حالات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے امتحان میں ڈالنا مذکور ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد کے معاملے میں توقف اختیار کۓ ہوئے تھے کیونکہ ان کی طرف یہ وحی نہیں کی گئي تھی کہ وہ دجال اکبر وغیرہ ہے۔
اور صحابہ میں اکثر کا خیال تھا کہ ابن صیاد ہی دجال ہے اور عمر بن خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی موجودگی میں حلفا کہا کرتے تھے کہ وہ دجال ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انکار نہیں کیا۔
محمد بن منکدر کی حدیث میں موجود ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اللہ کی قسم اٹھا کر کہتے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے تو میں نے کہا کہ آپ اللہ کی قسم اٹھاتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ اس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قسم اٹھا رہے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انکار نہیں کیا ۔
صحیح بخاری شریف حدیث نمبر ( 680
اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ابن صائد کے ساتھ ایک عجیب قصہ پیش آیا جو کہ صحیح مسلم میں موجود ہے :
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ابن صائد کو مدینہ کے کسی راستے میں ملے تو اسے ایسی بات کہی جس سے وہ غصہ میں آ گیا اور اس کی رگیں پھول گئیں حتی کہ گلی ( لوگوں سے) بھر گئي تو ابن عمر رضی اللہ عنہما حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گۓ تو انہیں یہ خبر پہنچ چکی تھی تو وہ کہنے لگیں اللہ تجھ پر رحم کرے ابن صیاد سے تو کیا چاہتا ہے کیا تجھے اس کا علم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس غصہ کی بنا پر نکلے گا جو اسے غصہ دلآئے گا ۔
صحیح بخاری حدیث نمبر (2932)
تو اس کی باوجود ابن صیاد جب بڑا ہوا تو اس نے اپنے دفاع کی کوشش کی اور اس کا انکار کرنے لگا کہ وہ دجال ہے اور اس تہمت سے اسے تنگی محسوس ہونے لگی کہ وہ دجال ہے اور اس میں وہ دلیل یہ لیتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دجال کی صفات بتائیں ہیں وہ اس میں نہیں پائی جاتیں ۔
اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ :
وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حج یا عمرے کے لۓ نکلے تو ہمارے ساتھ ابن صائد بھی تھا تو ابو سعید رضي اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو سب لوگ بکھر گۓ تو میں اور وہ باقی رہے تو مجھے اس سے اس وجہ کی بنا پر جو کچھ اس کے متعلق کہا جاتا تھا بہت زیادہ وحشت ہونے لگی ۔
ابو سعید ( رضي اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ اس نے اپنا سامان لا کر میرے سامان کے ساتھ رکھ دیا تو میں نے کہا : گرمی بہت سخت ہے اگر تو اس درخت کے نیچے رکھ دیتا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس نے ایسا ہی کیا ، ابو سعید رضي اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے ایک بکری لائی گئي تو وہ ایک بڑا پیالہ لایا اور کہنے لگا اے ابو سعید ( رضی اللہ عنہ ) پیو میں نے کیا کہ گرمی بہت سخت ہے اور دودھ گرم ہے میں تو صرف اس کے ہاتھ سے لے کر پینا اور پکڑنا نا پسند کرتا تھا تو وہ کہنے لگا : اے ابو سعید ( رضي اللہ عنہ ) لوگ جو کچھ مجھے کہتے ہیں اس کی بنا پر میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ رسی لے کر درخت کے ساتھ باندھوں اور اس سے لٹک کر پھانسی لے لوں ۔
اے ابو سعید ( رضی اللہ عنہ ) کون ہے جس پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پوشیدہ ہو اے انصار کی جماعت تم پر تو پوشیدہ نہیں کیا آپ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو زیادہ نہیں جانتے ؟
کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ کافر ہو گا اور میں مسلمان ہوں ؟
کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اس بانجھ اور اس کی کوئی اولاد نہیں ہو گی اور میں تو اپنا بیٹا مدینہ چھوڑ کے آ رہا ہوں ؟
کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو گا اور میں مدینہ سے آ رہا اور مکے کا ارادہ ہے ؟
ابو سعید ( رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ قریب ہے کہ میں اسے معذور سمجھتا پھر وہ کہنے لگا اللہ کی قسم میں اسے جانتا ہوں اور اس کی پیدائش کو بھی اور وہ اس وقت کہاں ہے اس کا بھی مجھے علم ہے ۔
ابو سعید ( رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ میں نے اسے کہا ساری عمر تیری تباہی ہو ۔
صحیح مسلم حدیث نمبر (4211)
اور ایک روایت میں ہے کہ : ابن صیاد نے کہا : اللہ کی قسم مجھے یہ علم ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہے اور اس کے ماں اور باپ کو بھی جانتا ہوں اور اسے یہ کہا گیا تجھے یہ پسند ہے کہ وہ آدمی تو ہی ہو ؟ تو وہ کہنے لگا اگر مجھ پر یہ پیش کیا گیا تو میں نا پسند نہیں کروں گا ۔
صحیح مسلم حدیث نمبر (5210)
ابن صیاد کے متعلق جو کچھ آیا ہے وہ علماء پر خلط ملط اور اس کے معاملے میں انہیں اشکال ہے ۔
کچھ تو کہتے ہیں کہ وہ دجال ہے اور کچھ کہتے ہیں کہ وہ دجال نہیں اور ہر ایک فریق کے پاس دلیل ہے تو ان کے اقوال آپس میں بہت مختلف ہیں اور ابن جحر رحمہ اللہ نے ان اقوال کے درمیان جمع کرنے کی کوشش کی ہے ان کا کہنا ہے کہ :
تمیم الداری رضی اللہ عنہ والی حدیث میں جو کچھ ہے وہ اور یہ کہ ابن صیاد ہی دجال ہے کے درمیان جمع اس طرح ہے کہ تمیم الدارمی رضي اللہ عنہ نے جسے دیکھا ہے بعینہ دجال تو وہی ہے اور ابن صیاد شیطان ہے جو کہ دجال کی شکل میں اس مدت کے درمیان ظاہر ہوا یہاں تک کہ وہ اصبہان کی طرف جا نکلا اور وہاں اپنے قرین کے ساتھ جا چھپا یہاں تک کہ اللہ تعالی وہ وقت لے آئے جس میں اس کا خروج ہو گا ۔

ابن صیاد کے متعلق جو کچھ آیا ہے وہ علماء پر خلط ملط اور اس کے معاملے میں انہیں اشکال ہے ۔

کچھ تو کہتے ہیں کہ وہ دجال ہے اور کچھ کہتے ہیں کہ وہ دجال نہیں اور ہر ایک فریق کے پاس دلیل ہے تو ان کے اقوال آپس میں بہت مختلف ہیں

ابن صیاد دجال تھا، مسلمان ہو گیا تھا ۔

تمیم الداری رضی اللہ عنہ والی حدیث میں جو کچھ ہے وہ اور یہ کہ ابن صیاد ہی دجال ہے

حرہ کی لڑائی والے دن غائب ہو گیا ۔ابن صیاد شیطان ہے جو کہ دجال کی شکل میں اس مدت کے درمیان ظاہر ہوا یہاں تک کہ وہ اصبہان کی طرف جا نکلا اور وہاں اپنے قرین کے ساتھ جا چھپا یہاں تک کہ اللہ تعالی وہ وقت لے آئے جس میں اس کا خروج ہو گا۔ امام غائب کی طرح ؟؟؟

کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ کافر ہو گا اور میں مسلمان ہوں ؟
ابو سعید ( رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ میں نے اسے (مسلمان کو) کہا ساری عمر تیری تباہی ہو۔ اور صحابہ میں اکثر کا خیال تھا کہ ابن صیاد ہی دجال ہے

عمر بن خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی موجودگی میں حلفا کہا کرتے تھے کہ وہ دجال ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انکار نہیں کیا۔

بھائی عادل سہیل صاحب کچھ خلط ملط ہوا ؟؟؟
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 26-12-11, 10:46 PM   #9
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم محترم

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

حدیث سے ثابت شدہ بات کو میں نے کیا ثابت کرنا ہے ؟؟؟
اقتباس:
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ خدا کی قسم مجھے کوئی شک نہیں کہ مسیح دجال یہی ابن صیاد ہے۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ اللہ کی قسم کھا رہے تھے اس بات پر کہ ابن صیاد ہی دجال ہے
اسی بات کو آپ ابھی تک ثابت نہیں کر پائے اسی حدیث مبارکہ سے، آپکے بیانات کی ضرورت ھے دوسرں کی رائے کی نہیں کہ کچھ کہتے ہیں تھا اور کچھ کہتے ہیں نہیں۔

محترم عمار، اگر کوئی ممبر یہاں پر دھاگہ بنا کر لگا دے اور اس میں لکھے، "کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں اس میں کوئی شک نہیں کہ کنعان اور عمار مسلمان نہیں ہیں۔ "

تو اس پر آپکی کیا رائے ہو گی انتظار رہے گا۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (27-12-11), نبیل خان (10-01-12), سحر (26-12-11)
پرانا 27-12-11, 05:56 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default تو اس حدیث پر آپ کے ترجمہ اور آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم محترم
اسی بات کو آپ ابھی تک ثابت نہیں کر پائے اسی حدیث مبارکہ سے، آپکے بیانات کی ضرورت ھے دوسرں کی رائے کی نہیں کہ کچھ کہتے ہیں تھا اور کچھ کہتے ہیں نہیں۔
محترم عمار، اگر کوئی ممبر یہاں پر دھاگہ بنا کر لگا دے اور اس میں لکھے، "کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں اس میں کوئی شک نہیں کہ کنعان اور عمار مسلمان نہیں ہیں۔ "
تو اس پر آپکی کیا رائے ہو گی انتظار رہے گا۔
والسلام
33 - لڑائی اور جنگ وجدل کا بیان : (59)
ابن صیاد کا بیان

حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا يعقوب يعني ابن عبد الرحمن عن موسی بن عقبة عن نافع قال کان ابن عمر يقول والله ما أشک أن المسيح الدجال ابن صياد

33 - لڑائی اور جنگ وجدل کا بیان : (59)
ابن صیاد کا بیان

حدثنا ابن معاذ حدثنا أبي حدثنا شعبة عن سعد بن إبراهيم عن محمد بن المنکدر قال رأيت جابر بن عبد الله يحلف بالله أن ابن صاد الدجال فقلت تحلف بالله فقال إني سمعت عمر يحلف علی ذلک عند رسول الله صلی الله عليه وسلم فلم ينکره رسول الله صلی الله عليه وسلم

تو اس حدیث پر آپ کے ترجمہ اور آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔

محترم عمار، اگر کوئی ممبر یہاں پر دھاگہ بنا کر لگا دے اور اس میں لکھے، "کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں اس میں کوئی شک نہیں کہ کنعان اور عمار مسلمان نہیں ہیں۔ "

تو کون سا فرقہ دوسرے کو مسلمان سمجھتا ہے ؟؟؟
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-12-11, 07:35 PM   #11
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
33

تو کون سا فرقہ دوسرے کو مسلمان سمجھتا ہے ؟؟؟
السلام علیکم

محترم یہاں پر موضوع فرقہ نہیں ھے آپ شائد بھول رہے ہیں۔


جواب ندارد

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (27-12-11)
پرانا 27-12-11, 08:29 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب ندارد : درج بالا حدیثوں کا ترجمہ اپنے ہاتھ سے لکھ دیں !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
33 - لڑائی اور جنگ وجدل کا بیان : (59)
ابن صیاد کا بیان
حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا يعقوب يعني ابن عبد الرحمن عن موسی بن عقبة عن نافع قال کان ابن عمر يقول والله ما أشک أن المسيح الدجال ابن صياد

33 - لڑائی اور جنگ وجدل کا بیان : (59)
ابن صیاد کا بیان
حدثنا ابن معاذ حدثنا أبي حدثنا شعبة عن سعد بن إبراهيم عن محمد بن المنکدر قال رأيت جابر بن عبد الله يحلف بالله أن ابن صاد الدجال فقلت تحلف بالله فقال إني سمعت عمر يحلف علی ذلک عند رسول الله صلی الله عليه وسلم فلم ينکره رسول الله صلی الله عليه وسلم
تو اس حدیث پر آپ کے ترجمہ اور آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔
جواب ندارد : درج بالا حدیثوں کا ترجمہ اپنے ہاتھ سے لکھ دیں !!!
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
محترم یہاں پر موضوع فرقہ نہیں ھے آپ شائد بھول رہے ہیں۔

جواب ندارد
والسلام

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم محترم
محترم عمار، اگر کوئی ممبر یہاں پر دھاگہ بنا کر لگا دے اور اس میں لکھے، "کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں اس میں کوئی شک نہیں کہ کنعان اور عمار مسلمان نہیں ہیں۔ "
محترم یہاں پر موضوع کنعان اور عمار نہیں ھے آپ شائد بھول رہے ہیں۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-12-11, 06:17 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ہم دجال کے بارے میں احادیث کو معنوی انداز میں دیکھتے ہیں ۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
یہ ایک آنکھ صرف مسلمانوں ہی کے لیئے کیوں؟؟
ایسا نہیں ہے بلکہ ہم اس حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں جو ہمارے سامنے آتی جا رہی ہیں
کیا دجال نے اندھیرے میں دیکھنے کی ٹیکالوجی کا استعمال بھی اسی لیئے سیکھا ہے کیونکہ حدیث میں آیا تھا ۔
ہم دجال کے بارے میں احادیث کو معنوی انداز میں دیکھتے ہیں ۔ کہ شاید یہ کوئی ایک آنکھ والا انسان ہوگا جو سینکڑوں فٹ لمبا ہوگا جس کے پاوں سمندر میں ہونگے اور پھر بھی گھٹنے باہر نکلے ہوئے ہونگے ۔ وغیرہ
یہ سب سائینس اور ٹیکنالوجی کا استعمال ہے جو وہ گروہ سیکھ کر اسے منفی انداز میں استعمال کر رہا ہے ۔
اور اس کا ایک ہی مقصد ہے دنیا کی دولت پر قبضہ جمانا چاہے اس کے لیئے کتنے ہی لاکھ انسان قتل کرنا پڑیں۔
فری میسنز سیکرٹ ایجنسی دنیا کی سب سے قدیم ایجنسی ہے جو کہ تقریباً ایک ہزار قبل مسیح پرانی ہے ۔ اردو میں اس لیئے شیئر کی کیونکہ زیادہ تر لوگ جان سکیں ۔ زیادہ تفصیل کے لیئے یہ دیکھیں یہ انگریزی زبان میں ہے۔
Freemasonry - part one
Freemasonry - part two
ہم دجال کے بارے میں احادیث کو معنوی انداز میں دیکھتے ہیں ۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-12-11, 06:29 PM   #14
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
ہم دجال کے بارے میں احادیث کو معنوی انداز میں دیکھتے ہیں ۔
کس طرح‌ ؟
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (31-12-11)
پرانا 30-12-11, 06:46 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default دجال ٹیکنالوجی ہو گا جدید دور کا نا کے انسان

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
کس طرح‌ ؟
دجال جدید دور کی ٹیکنالوجی ہو گا نا کہ انسان

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : wajee مراسلہ دیکھیں
وہ ٹیکنالوجی انہوں نے چھپائی بھی نہیں ہے مسلمانوں کے پاس بھی ہے مسلمانوں کی خود کی کوئی عقل نہیں ہے اپنی دولت خود امریکہ کو دے رکھی ہے امریکہ کو پال ہی سعودیہ عرب رہا ہے دجال انسان ہو گا جدید دور کا نا کے ٹیکنالوجی
جنگ گروپ کے ذمہ داراں اور ما لکان کے نام
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
قسم, مسیح دجال, اللہ, ابن صیاد, عیسی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیاسی بدنصیبی کی رکی ہوئی سوئی… چوراہا … حسن نثار محمدخلیل عمومی بحث 0 13-11-11 11:15 AM
علی ایاز فخری کی نماز جنازہ میں سیاسی رہنماﺅں اور فلمی شخصیات کی شرکت گلاب خان خبریں 0 17-12-10 06:37 AM
انٹرویو سید محمد فصیح الدین سہروردی Real_Light دلچسپ اور عجیب 5 22-02-09 06:33 PM
بینظیر کی شہادت پر مختلف سیاسی شخصیات کی امین فہیم سے تعزیت خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 08:38 AM
ہماری سیاست اور لایعنی قصیدہ گوئی عبدالقدوس سیاست 0 27-10-07 03:17 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:06 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger