|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر نبی کی ایک دعا ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے اور ہر نبی نے جلدی کر کے وہ دعا ( دنیا ہی میں ) مانگ لی اور میں اپنی دعا کو قیامت کے دن کیلئے ، اپنی امت کی شفاعت کیلئے چھپا کر رکھتا ہوں اور اللہ کے حکم سے ( میری ) شفاعت ہر اس امتی کیلئے ہو گی جو حال میں فوت ہوا کہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا صحیح مسلم کتاب الایمان
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاتَّفَقَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ إِلاَّ مَا يَزِيدُ أَحَدُهُمَا مِنَ الْحَرْفِ بَعْدَ الْحَرْفِ - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً فَقَالَ " أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهَلْ تَدْرُونَ بِمَ ذَاكَ يَجْمَعُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ وَتَدْنُو الشَّمْسُ فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لاَ يُطِيقُونَ وَمَا لاَ يَحْتَمِلُونَ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ أَلاَ تَرَوْنَ مَا أَنْتُمْ فِيهِ أَلاَ تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَكُمْ أَلاَ تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ ائْتُوا آدَمَ . فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ آدَمُ إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ . فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى الأَرْضِ وَسَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلاَ تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا عَلَى قَوْمِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ صلى الله عليه وسلم . فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلاَ يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ . وَذَكَرَ كَذَبَاتِهِ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى . فَيَأْتُونَ مُوسَى صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ يَا مُوسَى أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَضَّلَكَ اللَّهُ بِرِسَالاَتِهِ وَبِتَكْلِيمِهِ عَلَى النَّاسِ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلاَ تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ مُوسَى صلى الله عليه وسلم إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى صلى الله عليه وسلم . فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ يَا عِيسَى أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَلِمَةٌ مِنْهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلاَ تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ عِيسَى صلى الله عليه وسلم إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ - وَلَمْ يَذْكُرْ لَهُ ذَنْبًا - نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَيَأْتُونِّي فَيَقُولُونَ يَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتَمُ الأَنْبِيَاءِ وَغَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلاَ تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَىَّ وَيُلْهِمُنِي مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ لأَحَدٍ قَبْلِي ثُمَّ يُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ سَلْ تُعْطَهْ اشْفَعْ تُشَفَّعْ . فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي . فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلِ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لاَ حِسَابَ عَلَيْهِ مِنَ الْبَابِ الأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الأَبْوَابِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى "
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا تو دستی کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پسند تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دانتوں سے نوچا اور فرمانے لگے کہ میں قیامت کے دن سب آدمیوں کا سردار ہوں گا ۔ اور کیا تم جانتے ہو کہ کس وجہ سے ؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک ہی میدان میں اکٹھا کرے گا ، یہاں تک کہ پکارنے والے کی آواز ان سب کو سنائی دے گی اور دیکھنے والے کی نگاہ ان سب پر پہنچے گی ، اور سورج قریب ہو جائے گا ، اور لوگوں پر ایسی مصیبت اور سختی ہو گی کہ اس کو وہ سہہ نہ سکیں گے ۔ آخر آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ دیکھو کیسی تکلیف ہو رہی ہے ؟ کیا کوئی سفارشی ، شفیع نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس تمہاری کچھ سفارش کرے ؟ بعض کہیں گے کہ آدم علیہ السلام کے پاس چلو ، تو سب کے سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ تمام آدمیوں کے باپ ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ، اپنی طرف سے روح آپ میں پھونکی اور فرشتوں کو حکم کیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا ، آپ پروردگار سے ہماری شفاعت کیجئے ۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ اور کس قدر تکلیف میں ہیں ۔ آدم علیہ السلام کہیں گے کہ آج میرا رب اپنے غصہ میں ہے کہ نہ تو اس سے پہلے کبھی ایسا غصہ ہوا تھا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا اور اس نے مجھے اس درخت ( کے پھل ) سے منع کیا تھا ، لیکن میں نے ( کھا لیا اور ) اب مجھے خود اپنی فکر ہے ، تم کسی اور کے پاس جاؤ ، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ ۔ پھر لوگ نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ اے نوح ! علیہ السلام تم سب پیغمبروں سے پہلے زمین پر آئے ، اللہ نے تمہارا نام عبداً شکوراً ( شکر گزار بندہ ) رکھا ہے ، تم اپنے رب کے پاس ہماری سفارش کرو ، کیا تم نہیں دیکھتے ہم جس حال میں ہیں ؟ اور جو مصیبت ہم پر آئی ہے ؟ وہ کہیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ اتنا غصے میں ہے کہ نہ تو ایسا پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد ہو گا اور میرے واسطے ایک دعا کا حکم تھا ( کہ وہ مقبول ہو گی ) ، وہ میں اپنی امت کے خلاف مانگ چکا ( وہ مقبول دعا اپنی قوم پر بددعا کی شکل میں کر چکا ہوں جس سے وہ ہلاک ہو گئی تھی ) ، اس لئے مجھے اپنی فکر ہے ، تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ ۔ پھر سب ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ اللہ کے نبی اور ساری زمین والوں میں اس کے دوست ہیں ، آپ اپنے پروردگار کے ہاں ہماری سفارش کیجئے ، کیا آپ نہیں دیکھتے جس حال میں ہم ہیں ؟ اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے ؟ وہ کہیں گے کہ میرا پروردگار آج بہت غصے میں ہے اتنا غصے میں کہ نہ تو اس سے پہلے کبھی ایسا ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا اور وہ اپنی جھوٹ باتوں کو بیان کریں گے ( جو انہوں نے تین بار جھوٹ بولا تھا جو کہ دراصل توریہ تھا ) اس لئے مجھے خود اپنی فکر ہے ، تم میرے علاوہ کسی دوسرے کے پاس جاؤ ، موسیٰ کے پاس جاؤ ۔ وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ اے موسیٰ علیہ السلام ! آپ اللہ کے رسول ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پیام ( رسالت ) اور کلام سے تمام لوگوں پر فضیلت و بزرگی دی ہے ، آپ اپنے پروردگار سے ہماری سفارش کیجئے ، کیا آپ نہیں دیکھتے ہم جس حال میں ہیں ؟ اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے ؟ موسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب ایسے غصے میں ہے کہ اتنا غصے میں نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا ، اور میں نے دنیا میں ایک شخص کو قتل کیا تھا ، جس کا مجھے حکم نہ تھا ، اس لئے مجھے اپنی فکر پڑی ہے ، تم عیسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس جاؤ ۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسیٰ ! آپ اللہ کے رسول ہیں آپ نے ( ماں کی ) گود میں لوگوں سے باتیں کیں ، اور اس کا وہ کلمہ ہیں جس کو اس نے مریم کی طرف ڈالا تھا اور اس کی طرف سے روح ہیں ، آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کیجئے کیا آپ نہیں دیکھتے ہم جس حال میں ہیں اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے ؟ عیسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب بہت غصے میں ہے ، اتنا غصے میں کہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا ( اور ان کا کوئی گناہ بیان نہیں کیا ) مجھے تو خود اپنی فکر ہے تم اور کسی کے پاس جاؤ ، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ ۔ تو وہ لوگ میرے ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں ، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے ہیں ، آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کیجئے ، کیا آپ ہمارا حال نہیں دیکھتے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مصیبت میں ہیں ؟ پس میں یہ سنتے ہی ( میدان حشر سے ) چلوں گا اور عرش کے نیچے آ کر اپنے پرودرگار کو سجدہ کروں گا ، پھر اللہ تعالیٰ میرا دل کھول دے گا اور اپنی وہ وہ تعریفیں اور خوبیاں بتلائے گا ، جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں بتلائیں ، ( میں اس کی خوب تعریف اور حمد کروں گا ) پھر ( اللہ تعالیٰ ) کہے گا کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! سر اٹھا اور مانگ ، جو مانگے گا ، دیا جائے گا ، سفارش کر ، قبول کی جائے گی ۔ میں سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا اے میرے رب میری امت پر رحم فرما ، اے میرے رب میری امت پر رحم فرما ۔ حکم ہو گا کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اپنی امت میں سے جن لوگوں سے کوئی حساب کتاب نہیں ہو گا ان کو جنت کے داہنے دروازے سے داخل کرو اور وہ جنت کے باقی دوسرے دروازوں میں بھی دوسرے لوگوں کے شریک ہیں ( یعنی ان دروازوں میں سے بھی جا سکتے ہیں لیکن یہ دروازہ ان کیلئے مخصوص ہے ) ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ! کہ جنت کے ایک دروازے کی چوڑائی ایسی ہے ، جیسے مکہ اور حجر ( بحرین کے ایک شہر کا نام ہے ) کے درمیان کا فاصلہ یا مکہ اور بصریٰ ( ملک شام کا شہر ) کے درمیان کا فاصلہ ۔ صحیح مسلم کتاب الایمان |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاتَّفَقَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ إِلاَّ مَا يَزِيدُ أَحَدُهُمَا مِنَ الْحَرْفِ بَعْدَ الْحَرْفِ - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً فَقَالَ " أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهَلْ تَدْرُونَ بِمَ ذَاكَ يَجْمَعُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ وَتَدْنُو الشَّمْسُ فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لاَ يُطِيقُونَ وَمَا لاَ يَحْتَمِلُونَ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ أَلاَ تَرَوْنَ مَا أَنْتُمْ فِيهِ أَلاَ تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَكُمْ أَلاَ تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ ائْتُوا آدَمَ . فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ آدَمُ إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ . فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى الأَرْضِ وَسَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلاَ تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا عَلَى قَوْمِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ صلى الله عليه وسلم . فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلاَ يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ . وَذَكَرَ كَذَبَاتِهِ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى . فَيَأْتُونَ مُوسَى صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ يَا مُوسَى أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَضَّلَكَ اللَّهُ بِرِسَالاَتِهِ وَبِتَكْلِيمِهِ عَلَى النَّاسِ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلاَ تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ مُوسَى صلى الله عليه وسلم إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى صلى الله عليه وسلم . فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ يَا عِيسَى أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَلِمَةٌ مِنْهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلاَ تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ عِيسَى صلى الله عليه وسلم إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ - وَلَمْ يَذْكُرْ لَهُ ذَنْبًا - نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَيَأْتُونِّي فَيَقُولُونَ يَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتَمُ الأَنْبِيَاءِ وَغَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلاَ تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَىَّ وَيُلْهِمُنِي مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ لأَحَدٍ قَبْلِي ثُمَّ يُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ سَلْ تُعْطَهْ اشْفَعْ تُشَفَّعْ . فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي . فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلِ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لاَ حِسَابَ عَلَيْهِ مِنَ الْبَابِ الأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الأَبْوَابِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى "
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا تو دستی کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پسند تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دانتوں سے نوچا اور فرمانے لگے کہ میں قیامت کے دن سب آدمیوں کا سردار ہوں گا ۔ اور کیا تم جانتے ہو کہ کس وجہ سے ؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک ہی میدان میں اکٹھا کرے گا ، یہاں تک کہ پکارنے والے کی آواز ان سب کو سنائی دے گی اور دیکھنے والے کی نگاہ ان سب پر پہنچے گی ، اور سورج قریب ہو جائے گا ، اور لوگوں پر ایسی مصیبت اور سختی ہو گی کہ اس کو وہ سہہ نہ سکیں گے ۔ آخر آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ دیکھو کیسی تکلیف ہو رہی ہے ؟ کیا کوئی سفارشی ، شفیع نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس تمہاری کچھ سفارش کرے ؟ بعض کہیں گے کہ آدم علیہ السلام کے پاس چلو ، تو سب کے سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ تمام آدمیوں کے باپ ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ، اپنی طرف سے روح آپ میں پھونکی اور فرشتوں کو حکم کیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا ، آپ پروردگار سے ہماری شفاعت کیجئے ۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ اور کس قدر تکلیف میں ہیں ۔ آدم علیہ السلام کہیں گے کہ آج میرا رب اپنے غصہ میں ہے کہ نہ تو اس سے پہلے کبھی ایسا غصہ ہوا تھا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا اور اس نے مجھے اس درخت ( کے پھل ) سے منع کیا تھا ، لیکن میں نے ( کھا لیا اور ) اب مجھے خود اپنی فکر ہے ، تم کسی اور کے پاس جاؤ ، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ ۔ پھر لوگ نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ اے نوح ! علیہ السلام تم سب پیغمبروں سے پہلے زمین پر آئے ، اللہ نے تمہارا نام عبداً شکوراً ( شکر گزار بندہ ) رکھا ہے ، تم اپنے رب کے پاس ہماری سفارش کرو ، کیا تم نہیں دیکھتے ہم جس حال میں ہیں ؟ اور جو مصیبت ہم پر آئی ہے ؟ وہ کہیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ اتنا غصے میں ہے کہ نہ تو ایسا پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد ہو گا اور میرے واسطے ایک دعا کا حکم تھا ( کہ وہ مقبول ہو گی ) ، وہ میں اپنی امت کے خلاف مانگ چکا ( وہ مقبول دعا اپنی قوم پر بددعا کی شکل میں کر چکا ہوں جس سے وہ ہلاک ہو گئی تھی ) ، اس لئے مجھے اپنی فکر ہے ، تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ ۔ پھر سب ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ اللہ کے نبی اور ساری زمین والوں میں اس کے دوست ہیں ، آپ اپنے پروردگار کے ہاں ہماری سفارش کیجئے ، کیا آپ نہیں دیکھتے جس حال میں ہم ہیں ؟ اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے ؟ وہ کہیں گے کہ میرا پروردگار آج بہت غصے میں ہے اتنا غصے میں کہ نہ تو اس سے پہلے کبھی ایسا ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا اور وہ اپنی جھوٹ باتوں کو بیان کریں گے ( جو انہوں نے تین بار جھوٹ بولا تھا جو کہ دراصل توریہ تھا ) اس لئے مجھے خود اپنی فکر ہے ، تم میرے علاوہ کسی دوسرے کے پاس جاؤ ، موسیٰ کے پاس جاؤ ۔ وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ اے موسیٰ علیہ السلام ! آپ اللہ کے رسول ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پیام ( رسالت ) اور کلام سے تمام لوگوں پر فضیلت و بزرگی دی ہے ، آپ اپنے پروردگار سے ہماری سفارش کیجئے ، کیا آپ نہیں دیکھتے ہم جس حال میں ہیں ؟ اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے ؟ موسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب ایسے غصے میں ہے کہ اتنا غصے میں نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا ، اور میں نے دنیا میں ایک شخص کو قتل کیا تھا ، جس کا مجھے حکم نہ تھا ، اس لئے مجھے اپنی فکر پڑی ہے ، تم عیسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس جاؤ ۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسیٰ ! آپ اللہ کے رسول ہیں آپ نے ( ماں کی ) گود میں لوگوں سے باتیں کیں ، اور اس کا وہ کلمہ ہیں جس کو اس نے مریم کی طرف ڈالا تھا اور اس کی طرف سے روح ہیں ، آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کیجئے کیا آپ نہیں دیکھتے ہم جس حال میں ہیں اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے ؟ عیسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب بہت غصے میں ہے ، اتنا غصے میں کہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا ( اور ان کا کوئی گناہ بیان نہیں کیا ) مجھے تو خود اپنی فکر ہے تم اور کسی کے پاس جاؤ ، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ ۔ تو وہ لوگ میرے ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں ، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے ہیں ، آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کیجئے ، کیا آپ ہمارا حال نہیں دیکھتے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مصیبت میں ہیں ؟ پس میں یہ سنتے ہی ( میدان حشر سے ) چلوں گا اور عرش کے نیچے آ کر اپنے پرودرگار کو سجدہ کروں گا ، پھر اللہ تعالیٰ میرا دل کھول دے گا اور اپنی وہ وہ تعریفیں اور خوبیاں بتلائے گا ، جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں بتلائیں ، ( میں اس کی خوب تعریف اور حمد کروں گا ) پھر ( اللہ تعالیٰ ) کہے گا کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! سر اٹھا اور مانگ ، جو مانگے گا ، دیا جائے گا ، سفارش کر ، قبول کی جائے گی ۔ میں سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا اے میرے رب میری امت پر رحم فرما ، اے میرے رب میری امت پر رحم فرما ۔ حکم ہو گا کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اپنی امت میں سے جن لوگوں سے کوئی حساب کتاب نہیں ہو گا ان کو جنت کے داہنے دروازے سے داخل کرو اور وہ جنت کے باقی دوسرے دروازوں میں بھی دوسرے لوگوں کے شریک ہیں ( یعنی ان دروازوں میں سے بھی جا سکتے ہیں لیکن یہ دروازہ ان کیلئے مخصوص ہے ) ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ! کہ جنت کے ایک دروازے کی چوڑائی ایسی ہے ، جیسے مکہ اور حجر ( بحرین کے ایک شہر کا نام ہے ) کے درمیان کا فاصلہ یا مکہ اور بصریٰ ( ملک شام کا شہر ) کے درمیان کا فاصلہ ۔ صحیح مسلم کتاب الایمان |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، وَغَيْرِهِمَا، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَىَّ فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَىَّ صَلاَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لاَ تَنْبَغِي إِلاَّ لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ "
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم مؤذن کی اذان سنو تو وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے ، پھر مجھ پر درود پڑھو کیونکہ جو کوئی مجھ پر درود پڑھتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلہ مانگو ۔ اور وسیلہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ کو دیا جائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا ۔ اور جو کوئی میرے لئے وسیلہ ( مقام محمود یعنی جنت کا ایک محل ) طلب کرے گا تو اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو جائے گی ۔ صحیح مسلم کتاب الصلاۃ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں قیامت کے دن آدم کی اولاد کا سردار ہوں گا ۔ اور سب سے پہلے میری قبر پھٹے گی اور میں سب سے پہلے شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول ہو گی
صحیح مسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے کئی نام ہیں ، میں محمد ، احمد اور ماحی یعنی میری وجہ سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا ۔ اور میں حاشر ہوں ، لوگ میرے پاس قیامت کے دن شفاعت کے لئے اکٹھے ہوں گے ۔ اور میں عاقب ہوں ، یعنی میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام رؤف اور رحیم رکھا ( بہت نرم اور بہت مہربان ) ( صلی اللہ علیہ وسلم )
صحیح مسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جو لوگ لعنت کرتے ہیں ، وہ قیامت کے دن کسی کی شفاعت نہ کریں گے اور نہ گواہ ہوں گے
صحیح مسلم نیکی اور سلوک کے مسائل |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا أبو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا عبد العزيز، عن أنس، قال لم يخرج النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثا، فأقيمت الصلاة، فذهب أبو بكر يتقدم فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم بالحجاب فرفعه، فلما وضح وجه النبي صلى الله عليه وسلم ما نظرنا منظرا كان أعجب إلينا من وجه النبي صلى الله عليه وسلم حين وضح لنا، فأومأ النبي صلى الله عليه وسلم بيده إلى أبي بكر أن يتقدم، وأرخى النبي صلى الله عليه وسلم الحجاب، فلم يقدر عليه حتى مات.
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرمنقری نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ۔ کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ، آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ایام بیماری میں ) تین دن تک باہر تشریف نہیں لائے ۔ ان ہی دنوں میں ایک دن نماز قائم کی گئی ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھنے کو تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجرہ مبارک کا ) پردہ اٹھایا ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دکھائی دیا ۔ تو آپ کے روئے پاک و مبارک سے زیادہ حسین منظر ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ ( قربان اس حسن و جمال کے ) پھر آپ نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھنے کے لیے اشارہ کیا اور آپ نے پردہ گرادیا اور ا س کے بعد وفات تک کوئی آپ کودیکھنے پر قادر نہ ہو سکا صحیح بخاری کتاب الاذان |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, magenta, size, ہوتی, فرمایا, کیلئے, گی, وسلم, قیامت, قبول, مانگ, اپنی, اللہ, الایمان, جلدی, حکم, حال, دنیا, دعا, رکھتا, رسول, رضی, سیدنا, ساتھ, شرک |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟ | عبداللہ حیدر | ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں | 15 | 31-08-10 12:28 AM |
| ::::: اچھی بدعت اور بری بدعت :::::: | عادل سہیل | ایمان | 95 | 03-08-09 05:51 PM |
| گڈ بدعت اینڈ بیڈ بدعت | sahj | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 40 | 26-07-09 09:52 AM |
| ::: نعت ::: | ابو کاشان | شعر و شاعری | 1 | 24-12-07 08:41 AM |
| جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-12-07 08:28 AM |