واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > مطالعہ حدیث




(اُمت سے قبر میں مقامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق پوچھے جانے کا بیان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-06-10, 01:25 AM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,353
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default (اُمت سے قبر میں مقامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق پوچھے جانے کا بیان

(اُمت سے قبر میں مقامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق پوچھے جانے کا بیان

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّي عَنْهُ أَصْحَابُهُ وَ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَکَانِ فيُقْعِدَانِهِ، فَيَقُوْلاَنِ : مَا کُنْتَ تَقَوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ لِمُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله وسلم، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُوْلُ : أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اﷲِ وَرَسُوْلُهُ. فيُقَالُ لَهُ : انْظُرْ إِلَي مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارِ، قَدْ أَبْدَلَکَ اﷲُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ، فَيَرَاهُمَا جَمِيْعًا. قَالَ : وَأَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْکَافِرُ فَيُقَالُ لَهُ : مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ : لَا أَدْرِي! کُنْتُ أَقُوْلُ مَا يَقُوْلُ النَّاسُ! فَيُقَالُ : لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ، ويُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيْدٍ ضَرْبَةً، فَيَصِيْحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيْهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا اللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ.

الحديث رقم 18 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الجنائز، باب : ما جاء في عذاب القبر، 1 / 462، الرقم : 1308، وفي کتاب : الجنائز، باب : الميت يسمع خفق النعال، 1 / 448، الرقم : 1673، ومسلم في الصحيح، کتاب : الجنة وصفة نعيمها وأهلها، باب : التي يصرف بها في الدنيا أهل الجنة وأهل النار، 4 / 2200، الرقم : 2870، وأبوداود في السنن، کتاب : السنة، باب : في المسألة في القبر وعذاب القبر، 4 / 238، الرقم : 4752، والنسائي في السنن کتاب : الجنائز، باب : المسألة في القبر 4 / 97، الرقم : 2051، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 126، الرقم : 12293.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بندے کو (مرنے کے بعد) جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی (تدفین کے بعد واپس) لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے تو اس وقت اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر کہتے ہیں تو اس شخص یعنی (سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا؟ اگر وہ مومن ہو تو کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے (کامل) بندے اور اس کے (سچے) رسول ہیں۔ اس سے کہا جائے گا : (اگر تو انہیں پہچان نہ پاتا تو تیرا جو ٹھکانہ ہوتا) جہنم میں اپنے اس ٹھکانے کی طرف دیکھ کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے اس (معرفتِ مقامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) بدلہ میں جنت میں ٹھکانہ دے دیا ہے۔ پس وہ دونوں کو دیکھے گا اور اگر منافق یا کافر ہو تو اس سے پوچھا جائے گا تو اس شخص (یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا؟ وہ کہتا ہے کہ مجھے تو معلوم نہیں، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ اس سے کہا جائے گا تو نے نہ جانا اور نہ پڑھا. اسے لوہے کے گُرز سے مارا جائے گا تو وہ (شدت تکلیف) سے چیختا چلاتا ہے جسے سوائے جنات اور انسانوں کے سب قریب والے سنتے ہیں۔‘‘
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (15-06-10), عبداللہ حیدر (15-06-10)
پرانا 15-06-10, 01:27 AM   #2
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,353
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : فِي خُطْبَتِهِ يَوْمَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم حَمِدَ اﷲَ وَأَثْنَي عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : مَا مِنْ شَيءٍ کُنْتُ لَمْ أَرَهُ إِلاَّ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا، حَتَّي الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَلَقَدْ أُوْحِيَ إِلَيَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِي الْقُبُوْرِ مِثْلَ أَوْ قَرِيْبَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِکَ قَالَتْ أَسْمَاءُ، يُؤْتَي أَحَدُکُمْ فَيُقَالُ : مَا عِلْمُکَ بِهَذَا الرَّجُلِ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوْقِنُ فَيَقُوْلُ : هُوَ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اﷲِ، جَاءَ نَا بِالْبَيِنَاتِ وَالْهُدَي، فَأَجَبْنَا وَآمنَّا وَاتَّبَعْنَا فَيُقَالُ : نَمْ صَالِحًا فَقَدْ عَلِمْنَا إِنْ کُنْتَ لَمُؤْمِنًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ، لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِکَ قَالَتْ أَسْمَاءُ، فَيَقُوْلُ : لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُوْلُوْنَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا اللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ.

الحديث رقم 19 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الوضوء، باب : مَنْ لَمْ يَتَوَضَّأ إِلَّا مِنْ الغَشَيِ المُثْقَلِ، 1 / 79، الرقم : 182، وفي کتاب : الجمعة، باب : صلاة النساء مع الرجال في الکسوف، 1 / 358، الرقم : 1005، وفي کتاب : الاعتصام بالکتاب والسنة، باب : الاقتداء بسنن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، 6 / 2657، الرقم : 6857، ومسلم في الصحيح، کتاب : الکسوف، باب : ما عرض علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم في صلاة الکسوف من أمر الجنة والنار، 2 / 624، الرقم : 905، ومالک في الموطأ، 1 / 189، الرقم : 447، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 345، الرقم : 26970.

’’حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ سورج گرہن کے روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز کسوف سے) فارغ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کوئی ایسی چیز نہیں جسے میں نے اپنی اس جگہ پر دیکھ نہ لیا ہو یہاں تک کہ جنت و دوزخ بھی اور مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تمہارا امتحان ہو گا۔ دجال کے فتنے جیسی آزمائش یا اُس کے قریب تر کوئی شے۔ (راوی کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ حضرت اسماء نے ان میں سے کون سی بات فرمائی) تم میں سے ہر ایک کے پاس فرشتہ آئے گا اس سے کہا جائے گا کہ اس شخص (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق تو کیا جانتا ہے؟ جو ایمان والا یا یقین والا ہو گا وہ کہے گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں جو ہمارے پاس نشانیاں اور ہدایت کے ساتھ تشریف لائے۔ ہم نے ان کی بات مانی، اِن پر ایمان لائے اور اِن کی پیروی کی۔ اسے کہا جائے گا : آرام سے سو جا، ہمیں معلوم تھا کہ تو ایمان والا ہے۔ اگر وہ منافق یا شک کرنے والا ہو گا (راوی کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ حضرت اسماء نے ان میں سے کون سی بات فرمائی) تو کہے گا : مجھے نہیں معلوم میں لوگوں کو جو کچھ کہتے ہوئے سنتا تھا وہی کہہ دیتا تھا۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (15-06-10)
پرانا 15-06-10, 01:29 AM   #3
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,353
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِذَا قُبِرَ الْمَيِتُ أَوْ قَالَ أَحَدُکُمْ، أَتَاهُ مَلَکَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ، يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا : الْمُنْکَرُ، وَالآخَرُ : النَّکِيْرُ، فَيَقُوْلَانِ : مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ : مَاکَانَ يَقُوْلُ : هُوَ عَبْدُ اﷲِ وَرَسُوْلُهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اﷲُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ، فَيَقُوْلَانِ : قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ أَنَّکَ تَقُوْلُ هَذَا، ثُمَّ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فِي سَبْعِيْنَ، ثُمَّ يُنَوَّرُ لَهُ فِيْهِ، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ : نَمْ، فَيَقُوْلُ : أَرْجِعُ إِلَي أَهْلِي فَأُخْبِرُهُمْ؟ فَيَقُوْلَانِ : نَمْ کَنَوْمَةِ الْعَرُوْسِ الَّذِي لَا يُوْقِظُهُ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ، حَتَّي يَبْعَثَهُ اﷲُ مِنْ مَضْجِعِهِ ذَلِکَ وَإِنْ کَانَ مُنَافِقًا قَالَ : سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُوْلُوْنَ فَقُلْتُ مِثْلَهُ لَا أَدْرِي فَيَقُوْلَانِ : قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ أَنَّکَ تَقُوْلُ ذَلِکَ، فَيُقَالُ لِلْأَرْضِ الْتَئِمِي عَلَيْهِ فَتَلْتَئِمُ عَلَيْهِ فَتَخْتَلِفُ فِيْهَا أَضْلَاعُهُ فَلَا يَزَالُ فِيْهَا مُعَذَّبًا حَتَّي يَبْعَثَهُ اﷲُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِکَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَحَسَّنَهُ وَابْنُ حِبَّانَ.

الحديث رقم 20 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الجنائز، باب : ما جاء في عذاب القبر، 3 / 383، الرقم : 1071، وابن حبان في الصحيح، 7 / 386، الرقم : 3117، وابن أبي شيبة في المصنف، 3 / 56، الرقم : 12062، وابن أبي عاصم في السنة، 2 / 416، الرقم : 864، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 199، الرقم : 5399، والمبارکفوري في تحفة الأحوذي، 4 / 156، والمناوي في فيض القدير، 2 / 331.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب میت کو یا تم میں سے کسی ایک کو (مرنے کے بعد) قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کے پاس سیاہ رنگ کے نیلگوں آنکھوں والے دو فرشتے آتے ہیں۔ ایک کا نام منکر اور دوسرے کا نام نکیر ہے۔ وہ دونوں اس میت سے پوچھتے ہیں تو اس عظیم ہستی (رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں (دنیا میں) کیا کہتا تھا؟ وہ شخص وہی بات کہتا ہے جو دنیا میں کہا کرتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بیشک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے (خاص) بندے اور (سچے) رسول ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا پھر اس کی قبر کو لمبائی و چوڑائی میں ستر ستر ہاتھ کشادہ کر دیا جاتا ہے اور نور سے بھر دیا جاتا ہے پھر اسے کہا جاتا ہے : (سکون و اطمینان سے) سو جا، وہ کہتا ہے میں واپس جا کر گھر والوں کو بتا آؤں۔ وہ کہتے ہیں نہیں (نئی نویلی) دلہن کی طرح سو جاؤ۔ جسے گھر والوں میں سے جو اسے محبوب ترین ہوتا ہے وہی اٹھاتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (روزِ محشر) اُسے اس کی خواب گاہ سے (اسی حال میں) اٹھائے گا اور اگر وہ شخص منافق ہو تو (ان سوالات کے جواب میں) کہے گا : میں نے ایسا ہی کہا جیسا میں لوگوں کو کہتے ہوئے سنا، میں نہیں جانتا (وہ صحیح تھا یا غلط)۔ پس وہ دونوں فرشتے کہیں گے کہ ہم جانتے تھے کہ تم ایسا ہی کہو گے۔ پس زمین سے کہا جائے گا کہ اس پر مِل جا بس وہ اس پر اکٹھی ہو جائے گی (یعنی اسے دبائے گی) یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں داخل ہو جائیں گی وہ مسلسل عذاب میں مبتلا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اسی حالتِ (عذاب) میں اس جگہ سے اٹھائے گا۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-06-10, 01:32 AM   #4
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,353
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رضي اﷲ عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : وَأَمَّا فِتْنَةُ الْقَبْرِ فَبِي تُفْتَنُوْنَ وَعَنِّي تُسْأَلُوْنَ فَإِذَا کَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ غَيْرَ فَزِعٍ وَلَا مَشْعُوْفٍ ثُمَّ يُقَالُ لَهُ : فِيْمَ کُنْتَ؟ فَيَقُوْلُ : فِي الإِسْلَامِ فَيُقَالُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي کَانَ فِيْکُمْ؟ فَيَقُوْلُ : مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اﷲِ جَائَ نَا بِالْبَيِنَاتِ مِنْ عِنْدِ اﷲِ عزوجل فَصَدَّقْنَاهُ فَيُقَالُ لَهُ : هَلْ رَأَيْتَ اﷲَ ؟ فَيَقُوْلُ : مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَرَي اﷲَ فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ فَيَنْظَرُ إِلَيْهَا يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيُقَالُ لَهُ : اُنْظُرْ إِلَي مَا وَقَاکَ اﷲُ عزوجل ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرَجَةٌ إِلَي الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَي زَهَرَتِهَا وَمَا فِيْهَا فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا مَقْعَدُکَ وَيُقَالُ لَهُ : عَلَي الْيَقِيْنِ کُنْتَ وَعَلَيْهِ مِتَّ وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اﷲُ تَعَالَي.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ وَ إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 21 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الزهد، باب : ذکر القبر والبلي، 2 / 1426، الرقم : 4268، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 139، الرقم : 25133، وابن منده في الإيمان، 2 / 967، الرقم : 1067، وعبد اﷲ بن أحمد في السنة، 1 / 308، الرقم : 602، والعسقلاني في فتح الباري، 3 / 240.

’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قبر کا امتحان میرے ہی بارے میں ہو گا اور (قبر میں) تم سے میرے ہی متعلق پوچھا جائے گا۔ پس اگر کوئی نیک آدمی ہو گا تو اسے بغیر کسی ڈر اور خوف کے اس کی قبر میں بٹھایا جائے گا، پھر اسے کہا جائے گا تو کس ملّت سے تھا؟ تو وہ کہے گا دین اسلام پر، پھر اس سے کہا جائے گا : یہ کون شخص ہیں جو تم میں موجود تھے؟ پس وہ کہے گا یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، یہ اللہ کی طرف سے ہمارے پاس واضح نشانیاں لے کر مبعوث ہوئے۔ پس ہم نے ان کی تصدیق کی پس اس سے کہا جائے گا کیا تو نے اﷲ کو دیکھ رکھا ہے؟ تو وہ کہے گا کہ کوئی شخص اﷲ کو نہیں دیکھ سکتا پس جہنم کی طرف سے اس کی قبر میں سوراخ کر دیا جائے گا پس وہ اس کی طرف دیکھے گا کہ اس کا بعض اس کے بعض کو تباہ کر رہا ہے پھر اسے کہا جائے گا اس کی طرف دیکھ جس سے اللہ عزوجل نے تمہیں بچا لیا پھر جنت کی طرف سے اس کی قبر میں ایک سوراخ کر دیا جائے گا تو وہ اس کی رونق و جمال کی طرف دیکھے گا پس اُسے کہا جائے گا یہ ہے تیرا جنت میں ٹھکانہ، اور پھر اسے کہا جائے گا کہ تو یقین پر زندہ رہا اِسی پر مرا اور اِسی پر اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تجھے زندہ کیا جائے گا۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-06-10, 01:34 AM   #5
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,353
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم جِنَازَةً. فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذِهِ الْأَمَّةَ تُبْتَلَي فِي قُبُوْرِهَا، فَإِذَا الإِنْسَانُ دُفِنَ فَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ، جَاءَهُ مَلَکٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ فَأَقْعَدَهُ قَالَ : مَا تَقُوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَإِنْ کَانَ مُؤْمِنًا قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اﷲُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ، فَيَقُوْلُ : صَدَقْتَ ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَي النَّارِ فَيَقُوْلُ : هَذَا کَانَ مَنْزِلُکَ لَوْ کَفَرْتَ بِرَبِّکَ، فَأَمَّا إِذَا آمَنْتَ فَهَذَا مَنْزِلُکَ فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَي الْجَنَّةِ، فَيُرِيْدُ أَنْ يَنْهَضَ إِلَيْهِ فَيَقُوْلُ لَهُ : اسْکُنْ، وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ. . . الحديث.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ.

الحديث رقم 22 : أخرجه احمد بن حنبل في المسند، 3 / 3، الرقم : 11013، 14864، وابن أبي عاصم في السنة، 2 / 417، الرقم : 565، وعبد اﷲ بن أحمد في السنة، 2 / 612، الرقم : 1456.

’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شامل ہوا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو! اس امت (کے لوگوں) کی قبر میں آزمائش ہوگی۔ پس جب انسان دفن کر دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی (اس کے پاس سے) منتشر ہو جاتے ہیں تو اس کے پاس فرشتہ جس کے ہاتھ میں گرز ہوتا ہے، اسے وہ بٹھاتا ہے اور کہتا ہے : اس ہستی (محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ پس اگر وہ مومن ہو تو کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے (خاص) بندے اور (افضل ترین) رسول ہیں۔ پس وہ (فرشتہ) اسے کہتا ہے : تو نے سچ کہا پھر اس کے لئے دوزخ کی طرف ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور (فرشتہ) کہتا ہے : تیرا یہ ٹھکانہ ہوتا اگر تو اپنے رب کے ساتھ کفر کرتا لیکن تو ایمان لایا پس تیرا یہ (جنت) ٹھکانہ ہے۔ پھر اس کے لئے جنت کی طرف دروازہ کھولا جاتا ہے۔ وہ شخص (فرحت و خوشی کے مارے بے اختیار ہو کر) اس دروازے کی طرف بڑھتا ہے تو فرشتہ اس سے کہتا ہے : ٹھہر جاؤ اور اس کے لئے اس کی قبر میں ہی وسعت پیدا کر دی جاتی ہے۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-06-10, 01:37 AM   #6
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,353
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رضي اﷲ عنهما في رواية طويلة قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ شَيئٌ لَمْ أَکُنْ رَأَيْتُهُ إِلاَّ وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا وَقَدْ أُرِيْتُکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِي قُبُوْرِکُمْ يُسْأَلُ أَحَدُکُمْ : مَا کُنْتَ تَقُوْلُ؟ وَمَا کُنْتَ تَعْبُدُ؟ فَإِنْ قَالَ : لَا أَدْرِي رَأَيْتُ النَّاسَ يَقُوْلُوْنَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ وَيَصْنَعُوْنَ شَيْئًا فَصَنَعْتُهُ قِيْلَ لَهُ : أَجَلْ عَلَي الشَّکِّ عِشْتَ وَعَلَيْهِ مِتَّ هَذَا مَقْعَدُکَ مِنَ النَّارِ وَإِنْ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلاَّ اﷲُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اﷲِ قِيْلَ لَهُ : عَلَي الْيَقِيْنِ عِشْتَ وَعَلَيْهِ مِتَّ هَذَا مَقْعَدُکَ مِنَ الْجَنَّةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

الحديث رقم 23 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 354، وسنده حسن.

’’حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اﷲ عنہما ایک طویل روایت میں بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو! کوئی بھی چیز ایسی نہیں جسے میں نے نہ دیکھا ہو لیکن یہ کہ اب میں اسے اپنی اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں اور تحقیق مجھے تمہیں اپنی قبروں میں آزمائش میں مبتلا ہوتے دکھایا گیا ہے۔ تم میں سے ہر کسی سے سوال کیا جائے گا : تو (دنیا میں) اس ہستی (یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) بارے میں کیا کہا کرتا تھا؟ اور تو (دنیا میں) کس کی عبادت کیا کرتا تھا؟ پھر اگر اس نے کہا کہ میں نہیں جانتا میں نے جس طرح لوگوں کو (ان کے بارے میں) کہتے سنا میں نے بھی اسی طرح کہہ دیا اور جو کچھ انہیں کرتے ہوئے دیکھا اسی طرح کر دیا تو اس سے کہا جائے گا کہ ہاں تو شک پر زندہ رہا اور اسی پر مرا پس اب یہ رہا تیرا آگ کا ٹھکانہ اور اگر اس نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو اس سے کہا جائے گا کہ تو یقین پر زندہ رہا اور اسی پر مرا لہٰذا تیرا ٹھکانہ یہ جنت ہے۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-06-10, 01:38 AM   #7
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,353
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه في رواية طويلة قَالَ : إِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ أَتَاهُ مَلَکٌ، فَيَقُوْلُ لَهُ : مَا کُنْتَ تَعْبُدُ؟ فَإِنَّ اﷲَ هَدَاهُ قَالَ : کُنْتُ أَعْبُدُ اﷲَ فَيُقَالُ لَهُ : مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ : هُوَ عَبْدُ اﷲِ وَرَسُوْلُهُ فَمَا يُسْأَلُ عَنْ شَيءٍ غَيْرِهَا فَيَقُوْلُ : دَعُوْنِي حَتَّي أَذْهَبَ فَأُبَشِّرَ أَهْلِي فَيُقَالُ لَهُ : اسْکُنْ.

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَأَحْمَدُ.

الحديث رقم 24 : أخرجه أبو داود في السنن، کتاب : السنة، باب : في المسألة في القبر وعذاب القبر، 4 / 238، الرقم : 4751، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 233، الرقم : 13472، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 194، الرقم : 5394، والعسقلاني في فتح الباري، 3 / 237.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مومن کو جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے جو پوچھتا ہے تو کس کی عبادت کیا کرتا تھا؟ پس اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا فرماتا ہے اور وہ کہتا ہے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتا تھا۔ پھر اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تو اس عظیم ہستی (سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کیا کہا کرتا تھا؟ وہ کہتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پس اس کے سوا اس سے کسی اور شے کے متعلق نہیں پوچھا جاتا اور اسی روایت میں ہے کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے چھوڑ دو تاکہ میں اپنے گھر والوں کو بشارت دوں، اسے کہا جاتا ہے کہ یہیں (عیش و عشرت سے) رہو۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-06-10, 01:41 AM   #8
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,353
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رضي الله عنه قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَي الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدْ، فَجَلَسَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ کَأَنَّمَا عَلَي رُءُوْسِنَا الطَّيْرُ وَفِي يَدِهِ عُوْدٌ يَنْکُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : اسْتَعِيْذُوْا بِاﷲِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَقَالَ : وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ حِيْنَ يُقَالُ لَهُ : يَا هَذَا مَنْ رَبُّکَ؟ وَمَا دِيْنُکَ؟ وَمَنْ نَبِيُّکَ؟

وفي رواية له قَالَ : وَيَأْتِيهِ مَلَکَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُوْلاَنِ لَهُ : مَنْ رَبُّکَ؟ فَيَقُوْلُ : رَبِّيَ اﷲُ، فَيَقُوْلاَنِ لَهُ : مَا دِيْنُکَ؟ فَيَقُوْلُ : دِيْنِيَ الإِسْلَامُ، فَيَقُوْلاَنِ لَهُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيْکُمْ؟ قَالَ : فَيَقُوْلُ : هُوَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَيَقُوْلَانِ : وَمَا يُدْرِيْکَ؟ فَيَقُوْلُ : قَرَأْتُ کِتَابَ اﷲِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ.

وفي رواية له : فَذَلِکَ قَوْلُ اﷲِ عزوجل : (يُثَبِّتُ اﷲُ الَّذِيْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ)، (إبراهيم، 14 : 27) قَالَ : فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنْ السَّمَاءِ أَنْ قَد صَدَقَ عَبْدِي فَأَفْرِشُوْهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَافْتَحُوْا لَهُ بَابًا إِلَي الْجَنَّةِ وَأَلْبِسُوْهُ مِنَ الْجَنَّةِ قَالَ : فَيَأْتِيْهِ مِنْ رُوْحِهَا وَطِيْبِهَا قَالَ : وَيُفْتَحُ لَهُ فِيْهَا مَدََّ بَصَرِهِ. رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ وَأَحْمَدُ.

الحديث رقم 25 : أخرجه أبوداود في السنن، کتاب السنة، باب في المسألة في القبر وعذاب القبر، 4 / 238، الرقم : 4751، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 233، الرقم : 2.

’’حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہم ایک انصاری کے جنازہ کے لئے گئے اور قبر کے قریب جا کر رک گئے، جب تک وہ دفن نہیں کر دیا گیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہیں تشریف فرما رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد ہم بھی یوں خاموش ہو کر بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین کو کریدنے لگے اور سر مبارک کو اٹھایا اور دو یا تین مرتبہ فرمایا : عذاب قبر سے اﷲ تعالیٰ کی پناہ مانگو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مردہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے جب وہ (اس کے ساتھی) پیٹھ پھیر کر جاتے ہیں۔ اس وقت اس سے پوچھا جاتا ہے : اے انسان! تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اور تیرا نبی کون ہے؟

’’اور ایک روایت میں ہے کہ اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، پس اسے بٹھا کر اسے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ تعالیٰ ہے۔ دونوں فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے۔ دونوں اس سے پوچھتے ہیں کہ یہ ہستی کون ہے جو تمہاری طرف مبعوث کی گئی تھی؟ وہ کہتا ہے کہ یہ تو ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ دونوں پوچھتے ہیں تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھی لہٰذا ان پر ایمان لایا اور ان کی تصدیق کی۔‘‘

’’اور ایک روایت میں ہے کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو (اس) مضبوط بات (کی برکت) سے دنیوی زندگی میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں (بھی)۔‘‘ کا یہی مطلب ہے پس آسمان سے ایک پکارنے والے کی آواز آتی ہے، میرے بندے تو نے سچ کہا لہٰذا جنت میں اس کا بستر لگا دو اور اسے جنتی لباس پہنا دو اور اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دو۔ پس اس کے ذریعے اسے جنت کی ہوا اور خوشبو آتی ہے اور تاحد نظر اس کی قبر فراخ کر دی جاتی ہے۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہوتا, ہے۔, کتاب, پہچان, وقت, وسلم, لوگ, منافق, مالک, معلوم, اپنے, اللہ, اسے, تیرا, تجھے, تعالیٰ, جانے, جائے, دیکھ, دنیا, رسول, سیدنا, سچے, شخص, عذاب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
قذافی کے اقتدار نہ چھوڑنے پر عوام مزید مشتعل، وزیرداخلہ اور کئی سفیر ساتھ چھوڑ گئے گلاب خان خبریں 7 24-02-11 09:20 PM
چیچنیا : یورپ کی سب سے بڑی نو تعمیر شدہ مسجد نمازیوں کیلئے کھول دی گئی ابن جلال خبریں 0 18-10-08 03:22 PM
وزیرستان پر میزائل حملے سے قبل امریکہ نے ہمیں آگاہ نہیں کیا‘حملوں سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں‘ پاکستان ابن جلال خبریں 2 18-09-08 11:51 PM
نواز شر یف پنجاب میں زرداری اینڈ کمپنی کابرانچ آفس کھول لیں،مسلم لیگ ملکی تعمیر و تر قی کا مشن جاری رکھے گی ،پر ویز الٰہی ابن ضیاء خبریں 0 09-01-08 11:33 AM
صدر پرویز آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں، ایمرجنسی ختم کئے بغیر آزادانہ انتخابات نہیں ہوسکتے ،ترجمان وائٹ ہاؤس خرم شہزاد خرم خبریں 0 14-11-07 02:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:06 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger