23-12-09, 02:10 PM
|
#1
|
|
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,996
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر چور نے توبہ کرلی تو اس کی گواہی قبول ہوگی۔ الحدیث
اگر چور نے توبہ کرلی تو اس کی گواہی قبول ہوگی۔ الحدیث
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ، فَقَالَ " أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلاَ تَسْرِقُوا، وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ، وَلاَ تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلاَ تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَأُخِذَ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَهْوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَطَهُورٌ، وَمَنْ سَتَرَهُ اللَّهُ فَذَلِكَ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ إِذَا تَابَ السَّارِقُ بَعْدَ مَا قُطِعَ يَدُهُ، قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ، وَكُلُّ مَحْدُودٍ كَذَلِكَ إِذَا تَابَ قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ.
ہم سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوادریس نے اور ان سے عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جماعت کے ساتھ بیعت کی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میں تم سے عہد لیتا ہوں کہ تم اللہ کا کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، تم چوری نہیں کرو گے، اپنی اولاد کی جان نہیں لوگے، اپنے دل سے گھڑکر کسی پر تہمت نہیں لگاؤ گے اور نیک کاموں میں میری نافرمانی نہ کرو گے۔ پس تم میں سے جو کوئی وعدے پورا کرے گا اس کا ثبوت اللہ کے اوپر لازم ہے اور جو کوئی ان میں سے کچھ غلطی کرگزرے گا اور دنیا میں ہی اسے اس کی سزا مل جائے گی تو یہ اس کا کفارہ ہوگی اور اسے پاک کرنے والی ہوگی اور جس کی غلطی کو اللہ چھپالے گا تو اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے، چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اس کی مغفرت کردے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ ہاتھ کٹنے کے بعد اگر چور نے توبہ کرلی تو اس کی گواہی قبول ہوگی۔ یہی حال ہر اس شخص کا ہے جس پر حد جاری کی گئی ہو کہ اگر وہ توبہ کرلے گا تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔
صحیح بخاری
کتاب الحدود
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|