![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
یہاں خلفاے اثنی عشر (یعنی بارہ خلیفہ یا12 امام )کی روایات کوصحاح ستہ سےنقل کیاہے یہ روایات ائمہ اثنی عشر(بارہ اماموں )کی امامت پردلالت کرتی ہیں اہل تشیع حضرات نے مولا علی علیہ سلام کو پہلا خلیفہ و امام تسلیم کیا دوسرے اور تیسرے مقام پر امام حسن و حسین ع کا اقرار کرتے ہوئے 12 بارویں خلیفہ و امام کے عہدے پر حضرت مہدی علیہ سلام تک اس سلسلے کو جانا اور مانا اور ان تمام قرآنی آیات و احادیث رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھی تسلیم کیا. جو فضائل مولا علی ع و امام حسن و حسین ع سے لے کر آخری امام و خلیفہ یعنی امام مہدی علیہ سلام تک اور جو عزت و بزرگی اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آخری امام و خلیفہ کی بیان کی وہی عزت و بزرگی و جلال و علم و حلم پہلے امام کی بھی بیان کی وہی تمام خوبیان اہل تشع حضرات نے نہ صرف خود تسلیم کی بلکہ اوروں کو عقلا بھی تسلیم کروائیں اور انتہائی اہم بات یہ کہ جو فضائل و منصب و علم و شجاعت اہلسنت حضرات نے مولا علی ع کے بیان کیے ہوں یا امام حسن ع و امام حسین کے یا آخری امام و خلیفہ حضرت مہدی علیہ سلام کے وہ سب اپ کو اہل تشیع حضرات کی کتابوں میں ملیں گئے. .
بعض روایات میں بارہ اوصیا بارہ ائمہ ،بارہ خلیفہ بیان هوا ھے: ”۔۔۔ان وصیی علی بن ابی طالب وبعدہ سبطای الحسن والحسین تتلوہ تسعہ اٴئمہ من صلب الحسین، قال :یامحمد فسمھم لی، قال : اذا مضی الحسین فابنہ علی، فاذا مضی علی فابنہ محمد فاذا مضی محمد فابنہ جعفر، فاذا مضیٰ جعفر فابنہ موسی فاذامضی موسیٰ فابنہ علی فاذا مضی علی فابنہ محمد فاذا مضی محمد فابنہ علی فاذا مضی علی فابنہ الحسن فاذا مضی الحسن فابنہ الحجة محمد المہدی فھولاء اثنا عشر “ (میرے وصی علی ابن ابی طالب ھیں ان کے بعد میرے دونوں نواسے حسن وحسین (ع)ھیں اور ان کے بعد حسین کی نسل سے ۹ /وصی هوں گے (سائل سے سوال کیا )یا رسول اللہ آپ ان کے بھی نام بیان فرمائیں ،تب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا : جب امام حسین گذر جائیں گے تو ان کے فرزند علی (زین العابدین ) اور جب علی گذر جائیں گے تو ان کے فرزند محمد (باقر) اور جب محمد گذر جائیں گے تو ان کے فرزند جعفر (صادق)اور جب جعفر گذر جائیں گے تو ان کے فرزند موسیٰ (کاظم )اور جب موسی ٰگذر جائیں گے ان کے فرزند علی (رضا ) اور جب علی (رضا ) گذر جائیں گے تو ان کے فرزند محمد (تقی ) اور جب محمد گذر جائیں گے ان کے فرزند علی(نقی ) اور جب محمد گذر جائیں گے ان کے فرزند حسن (عسکری )اور جب حسن گذر جائیں گے تو ان کے فرزند حجت محمد مھدی (علیھم السلام) هوں گے بس یھی میرے وصی بارہ ھیں۔“) یحيٰ بن الحسن نے کتاب عمدہ میں اس حدیث کے ۲۰/ طریقے نقل کئے ھیں کہ رسول اسلام کے بعد ۱۲ خلیفہ هوں گے جو سب کے سب قریش سے ہوں گے اور مذکورہ بیس طریقے درج ذیل کتابوں میں اس طرح ھیں : صیح بخاری میں۳/ طریقے۔ صیح مسلم میں ۹/طریقے ۔ سنن ابی داؤدمیں ۳/ طریقے۔ سنن ترمذی میں ایک طریقہ۔ اور حمیدی میں۳ /طریقے . شیعوں کے نزدیک وہ تمام ’’خلفاء‘‘ع ’’ آئمہ‘‘ علیہ سلام بھی ھیں جو مولائے کائنات علی ابن ابی طالب (ع) سے شروع ھو کر امام مھدی (ع) تک جاتے ھیں. لیکن بہت سے لوگ یہ نہی جانتے کہ انہی بارہ 12 خلیفہ والی احادیث کے تحت اور اس حدیث کی سچائی و حقیقت کوتسلیم کرتے ہوئے اھلسنت و الجماعت نے کون کون سے خلیفہ قرار دیے اگرچہ وہ خلیفہ صحیح تھے یا نہی یعنی وہ خلیفہ جن کا زکر بار بار رسول خدا ص نے اپنی زبان مبارک سے کیا وہ ہیں یا نہ وہ ایک الگ موضوع ہوسکتا ہے مگر یہ طے ہے کہ 12 خلیفہ والی احادیث اپنے آخری حد تک سچ ہے اور حدیث رسول ص ہے۔ اس کا جواب ملا علی قاری صاحب اپنی مایہ ناز کتاب میں دیتے ھیں: 12 خلفاء یہ ھیں چار خلفاء راشدین، معاویہ اور اس کا بیٹا یزید، عبد الملک ابن مروان اور اس کے چار بیٹے. اس کے علاوہ عمر ابن عبدالعزیز. حوالہ: شرح فقہ اکبر، صفحہ نمبر 205، طبعہ دار البشائر الاسلامیہ، بیروت، لبنان، الطبعہ اولی، 1419 ھجری. و شرح فقہ اکبر، صفحہ 83، طبعہ محمد سعید اینڈ کمبنی، کراچی، پاکستان. یعنی اھلسنت کے بارہ خلفاء: 1.ابو بکر ابن ابی قحافہ 2، عمر ابن خطاب 3، عثمان ابن عفان 4، علی ابن ابی طالب (ع) 5،معاویہ ابن ھند 6، یزید ابن معاویہ 7، عبد الملک ابن مروان 8، ولید ابن عبد الملک ابن مروان 9، سلیمان ابن عبد الملک ابن مروان 10، عمر ابن عبدالعزیز 11، یزید ابن عبد الملک ابن مروان 12، ھشام ابن عبد الملک ابن مروان امام اور خلفا کا معیار دیکھ کر ہوا صرف یہ کہ لفظ ’’امام و خلیفہ‘‘ کی عزت و بزرگی ختم ہوگئی لوگ امام کو ایک معمولی عہدہ سمجھنے لگے اور لفظ خلیفہ اس قدر بدنام ہوا کہ علاقے کے غنڈے خلیفہ کہلانے لگے اور جگہ جگہ لوگوں نے خلیفہ گیری کا انجام دیکھا۔ ائمہ (ع) کی امامت کو دو طریقوں سے ثابت کیا جا سکتا ھے: پھلا طریقہ: ان احادیث کے ذریعہ جن کی تعداد بہت زیادہ اور بہت مشہور ھیں جیسا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امام حسن وامام حسین علیھما السلام کو مخاطب کرکے فرمایا: ”انتما الامامان ولامکما الشفاعة “ (تم دونوں امام هو اور دونوں شفاعت کرنے والے هو) اسی طرح امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ”ہذا امام ، ابن امام اخو امام، ابو الائمة “ (یہ خود بھی امام ھیں اور امام کے بیٹے ، امام کے بھائی اورنو اماموں کے باپ ھیں) اور اس طرح بہت سی روایات موجود ھیں جن سے کتب حدیث وتاریخ بھری پڑی ھیں اور ان میں امامت کی بحث تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ھے۔ دوسرا طریقہ: گذشتہ امام کے ذریعہ آنے والے امام کا بیان، اور چونکہ گذشتہ امام کا بیان، حجت اور دلیل هوتا ھے اور اس پر یقین رکھنا ضروری ھے جبکہ ھم گذشتہ امام کی امامت پر ایمان رکھتے ھیں اور ان کو صادق اور امین جانتے ھیں۔ ' اب رھا ائمہ (ع) کا بارہ هونا نہ کم نہ زیادہ تو اس سلسلہ میں بھی بہت سی روایات موجود ھیں اور ھمارے لئے یھی کافی ھے کہ اس مشهور ومعروف حدیث نبوی کو مشهور ومعروف شیوخ نے بیان کیا ھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”لایزال الدین قائما حتی تقوم الساعة ویکون اثنا عشر خلیفة کلھم من قریش“ (دین اسلام قیامت تک باقی رھے گا او رتمھارے بارہ خلیفہ هوں گے جو سب کے سب قریش سے هوں گے) ایک دوسری حدیث میں اس طرح ھے: ”ان ہذا الامر لا ینقضی حتی یمضی فیہ اثنا عشر“ (بتحقیق یہ امر (دین) ختم نھیں هوگا یھاں تک کہ اس میں بارہ (خلیفہ) هوں گے) اور اگر ھم اس حدیث شریف میں غور وفکر کریں (جبکہ اس حدیث کو تمام مسلمانوں نے صحیح مانا ھے) تو یہ حدیث دو چیزوں کی طرف واضح اشارہ کر رھی ھے: ۱۔ دین کا قیامت تک باقی رہنا۔ ۲۔ قیامت تک فقط بارہ خلیفہ ھی هوں گے جو اسلام ومسلمانوں کے امور کے ذمہ دار هوں گے۔ اور یہ بات واضح ھے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا بارہ خلیفہ سے وہ حکّام مراد نھیں ھیں جو شروع کی چار صدیوں میں هوئے ھیں کیونکہ ان کی تعداد بارہ کے کئی برابر ھے اور ان میں سے اکثر کتاب وسنت رسول کے تابع نھیں تھے لہٰذا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حقیقی خلیفہ نھیں هوسکتے۔ تو پھر انکے علاوہ هونے چاہئیں،اور وہ حضرت علی (ع) اور ان کے گیارہ فرزندوں کے علاوہ کوئی نھیں، یہ وہ ائمہ ھیں جن سے لوگ محبت کیا کرتے تھے اور ان کا اکرام کیا کرتے تھے اور انھیں سے اپنے دینی احکام حاصل کیا کرتے تھے، نیز اپنی فقھی مشکلات میں انھیں کی طرف رجوع کرتے تھے اور جب بھی کوئی مشکل پڑتی تھی اس کے حل کے لئے انھیں ائمہ(ع) کے پاس جایا کرتے تھے۔ اگر کوئی شخص اس سلسلہ میں احادیث نبوی اور ان کے عدد کے بارے میں مزید اطلاع حاصل کرنا چاھے تو اس کو چاہئے کہ مخصوص مفصل کتابوں کا مطالعہ کرے۔(مثلاً الغدیر علامہ امینی رحمة اللہ علیہ، عبقات الانوار سید حامد حسین طاب ثراہ وغیرہ) اھل سنت کی روایات : ۔ جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ص کو یہ کہتے سناہے کہ امت کے بارہ امیر ہوں گے، اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں سن نہیں سکا تو میرے والد نے فرمایا کہ وہ کلمہ یہ تھا کہ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔ (صحیح بخاری 6 /2640 / 6796)۔ ۔ جابر بن سمرہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اکرم ص سے جمعہ کے دن ” رجم ِاسلمی کی شام“ یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین یونہی قائم رہے گا جب تک قیامت نہ آجائے یا تم پر میرے بارہ خلفاء قائم رہے گا جب تک قیامت نہ آجائے یا تم پر میرے بارہ خلفا ء نہ گذر جائیں جو سب کے سب قریش سے ہوں گے۔( صحیح مسلم 3 / 1453 ، مسند ابن حنبل 7/ 410 / 20869 ، مسند ابویعلی ٰ 6 / 473 / 7429 ۔ آخر الذکر دونوں روایات میں ” یا“ کے بجائے ” اور “ کا ذکر کیا گیا ہے۔ ۔جابر بن سمرہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اکرم ص کو یہ فرماتے سناہے کہ یہ امر دین یونہی چلتا رہے گا جب تک بارہ 12 افراد کی حکومت رہے گی اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں نے سن سکا تو والد سے دریافت کیا اور انھوں نے بتایا کہ ” کلھم من قریش“ فرمایا تھا۔ ( صحیح مسلم 3 ص 1452 خصال 473 / 27)۔ ۔ جابر بن سمرہ کا بیان ہے کہ حضور ص نے فرمایا کہ میرے بعد بارہ امیر ہوں گے، اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں نہ سمجھ سکا اور قریب والے سے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ ” کلھم من قریش“ کہا تھا۔( سنن ترمذی 4 ص501 /2223 ، مسند ابن حنبل 7/ 430 / 20995)۔ ۔جابر بن سمرہ ! میں نے رسول اکرم ص کی زبان سے سنا کہ اسلام بارہ 12 خلفاء تک باعزّت رہے گا، اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں نہ سمجھ سکا تو والد سے دریافت کیا اور انھوں نے فرمایا کہ ” کلھم من قریش“ فرمایا تھا۔( صحیح مسلم 3 ص 1453 ، مسند ابن حنبل 7/ 412 / 20882، سنن ابی داؤد 4 / 106 / 4280 )۔ ۔ ابوجحیفہ کا بیان ہے کہ میں اپنے چچا کے ساتھ رسول اکرم ص کی خدمت میں تھا جب آپ ص نے فرمایا کہ میرے امت کے امور درست رہیں گے یہاں تک کہ بارہ12خلیفہ گذر جائیں، اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں نہ سن سکا تو میں نے چچا سے دریافت کیا جو میرے سامنے کھڑے تھے تو انھوں نے بتایا کہ کلھم من قریش فرما یا تھا۔( مستدرک 716 / 6589 ، المعجم الکبیر 22 / 120 / 308 ، تاریخ کبیر 8/ 411 / 5320 ، امالی صدوق(ر) 255 /۔ 81 ۔ جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ رسول اکرم ص کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ آگاہ ہوجاؤ یہ امر دین تمام نہ ہوگا جب تک بارہ خلیفہ نہ گذر جائیں، اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں سمجھ نہ سکا تو اپنے والد سے دریافت کیا اور انھوں نے بتایا کہ آپ نے کلھم من قریش فرمایا تھا( تاریخ واسط ص 98 ، خصال ص 1670)۔ 82 ۔ جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ رسول اکرم ص کے پاس تھا جب آپ ص سے یہ ارشاد سنا کہ میرے بارہ خلیفہ ہوں گے ، اس کے بعد آپ کی آواز دھیمی ہوگئی اور میں نہ سن سکا تو بابا سے دریافت کیا کہ یہ دھیرے سے کیا فرمایا تھا تو انھوں نے بتایا کہ ” کلھم من بني ھاشم“ فرمایا تھا۔( ینابیع المودة 3 ص 290 ، احقاق الحق 13 ص 30)۔ 83 ۔ مسروق کا بیان ہے کہ یہ سب عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے تھے اور وہ قرآن پڑھا رہے تھا کہ ایک شخص نے دریافت کرلیا ” یا ابا عبدالرحمٰان ! کیا آپ نے کبھی حضور سے دریافت کیا ہے کہ اس ا مت میں کتنے خلفاء حکومت کریں گے ! تو ابن مسعود نے کہا کہ جب سے میں عراق سے آیاہوں آج تک کسی نے یہ سوال نہیں کیا لیکن تم نے پوچھ لیا ہے تو سنو ! میں نے حضور سے دریافت کیا تھا تو انھوں نے فرمایا تھا بارہ ۔ جتنے بني اسرائیل کے نقیب تھے۔( مسند ابن حنبل 2 ص 55 / 3781 ، مستدرک 4 ص 546 / 8529)۔ ابن عدی نے کامل میں اور ابن عساکر نے ابن مسعود سے یہ روایت نقل کی ہے کہ پیغمبر اکرم ص نے فرمایا: ”انّ عدّة الخلفاء بعديعِدّةُ نقباء موسی(ع)“(۲) (۲)الجامع الصغیر،ج۱ص۹۱طبع چہارم ”میرے جانشینوں کی تعداد نقباء موسیٰ کی تعداد کے برابر ہے،، جنکی تعداد متفقہ طور پر بارہ 12تھی ۳۔ طبرانی نے ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ پیغمبراکرم ص نے فرمایا: <یکون من بعدي اثنیٰ عشر خلیفة کلّہم من قریش>(۳) (۳)کنز العمال، ج۱ص۳۳۸،ج۶ص۲۰۱۔ ”میرے بعد بارہ12 خلیفہ ہوں گے جو سب کے سب قریش سے ہوں گے۔“ ۴۔ابن نجار نے انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ پیغمبراکرم ص نے فرمایا: ”لن یزال ھٰذا الدینُ قائماً الی اثنی عشر من قریش فاذا ھلکوا ماجت الارض باٴہلھا“(۴) (۴)کنز العمال،ج۶ص۲۰۱ ح ۳۴۸۳۔ ”یہ دین اس وقت تک قائم رہے گاجب تک قریش کے بارہ 12 خلیفہ نہ ہوجائیں جب ان کی رحلت ہوجائے گی توزمین اپنے اہل کے ساتھ مضطرب ہوجائے گی۔“ اھل سنت کےمحدثین علماءاور دانشمندحضرات ان احادیث کو جن میں بارہ اماموں یا خلیفوں کا تذکرہ آیا ہے ان احادیث کوعالی السند ،معتبر اور مقطوع الصدور کہتے ہیں اور ان روایات کی صحت کےبارے میں کوئی شک وشبہ نہیں رکھتے لیکن اھل سنت کوجومشکل پیش آتی ہے وہ بارہ خلیفہ پورے کرنے میں ہے کہ کس طرح اس مشکل کوحل کیا جائے اس لیے ان کے علماء میں اختلاف ہے اس جہت سے اور ہر کسی نے اپنی سمجھ کے مطابق ایک نظریہ دیاہے ہم ان میں سے پندرہ علماء کے اقوال نقل کرتے ہیں جو ایک دوسرے کے بھی خلاف ہیں اور ساتھ ان کا جواب (۱)پہلا قول یہ کہ ان روایات سے مراد وہ فتنے ہیں جورسول اکرم (صل الله عليه و آله و سلم ) کے بعد وقوع پذیر ہونگے خلفاء کی تعداد زیادہ ہونے کی بنا پر امت اسلامی بھی تقسیم ہوجائے گی (فتح الباری فی شرح البخاری چاپ بیروت ج۱۳ کتاب الاحکام باب الاستخلاف ص۲۶۱ ح۷۲۲۲) جواب :یہ احتمال باطل ہے کیونکہ بارہ خلیفوں کے بارے میں جوروایات وارد ہوئی ہیں وہ خلفاء کی تعریف میں وارد ہوئی ہیں اگر یہ روایات پہلے قول کے مطابق آخری زمانے کے فتنوں کے بارےمیں ہو جس طرح کہ پہلے قول سے واضح ہے توپھر یہ روایات خلفاء کی تعریف میں نہیں ہیں بلکہ ان کی مذمت میں ہونگی اور یہ خود روایات کے مطالب کے ساتھ سازگاری نہیں رکھتا (۲)یہ بارہ خلیفے ایک ہی زمانہ میں آئیں گے اور امت کے اختلاف کا سبب بھی نہیں بنیں گے جواب :یہ بات کہ وہ بارہ کے بارہ ایک ہی زمانہ ہونگے یہ قول بھی باطل ہے کیونکہ وہ سب کےسب ایک زمانے میں اکٹھے نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ امت کے تقسیم اور اختلاف کا سبب ہوگا اور دوسرا ان روایات میں خلفاء کو تشبیہ دی گئی ہے بنی اسرائیل کے نقباء سے جوایک زمانے میں نہیں تھے پس یہ بھی ایک زمانے میں نہیں ہوسکتے (۳)روایات کی تعبیرات اور الفاظ مختلف ہیں لہذا کوئی حتمی نتیجہ نہیں لیا جاسکتا جواب :یہ کہ ان روایات سے کوئی معنی بھی نہیں سمجھا جاسکتا یہ قول بھی بے بنیاد ہے کیا رسول اکرم (صل الله عليه و آله و سلم )نے اس حدیث میں اس قدر مجمل کہا ہے کہ کچھ بھی نہیں سمجھا جاسکتا ؟اگر تھوڑی سی دقت کے ساتھ شیعہ اور سنی روایات کامطالعہ کیا جائے تومقصود واضح ہوجاتاہے (۴)ان روایات سےمراد یہ کہ رسول اکرم نے اپنے بعد کے خلفاء کی خلافت کی خبردی ہے اور بس جواب :چوتھا قول یہ کہ یہ احادیث پیامبر اور خلفاء کے بعد کی خلافت کوبیان کرتی ہیں یہ بھی درست نہیں ہےکیونکہ پیامبر نے اس حدیث میں فرمایاہے کہ (۔۔۔۔یکون بعدی ۔۔۔۔)میرے بعد نہیں فرمایا کہ (یکون بعدی وبعد اصحابی )اگربالفرض چوتھا قول قبول کرلیا جائے تو پھر کیسے یہ احادیث خلفاء کی تعریف میں آسکتی ہیں جبکہ پیامبر اوراصحاب کے بعد فسق وفجور اور ظلم وستم حکومتوں کا کام تھا اور ظالم حکمران آتے رہے ۔ (۵)ان روایات سےمرادحضرت مھدی عج کی خلافت کے بعدجو خلفاء آئیں گے وہ مراد ہیں جواب :یہ قول بھی ٹھیک نہیں ہے کیونکہ اس قول کے مطابق حضرت مھدی عج کے ظہور تک زمین حجت خدا سے خالی رہے گی درحالانکہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہنی چاہیے کیونکہ خلفاء کا متصل ہونا ضروری ہے اور اگرزمین حجت خدا سے خالی رہ جائے تو زمین غرق ہوجائے گی اور یہی اشکال وارد ہے قول نمبر (۷) (۸) (۱۰) اور (۱۱)نمبر پر غور کیجیے (۶)یہ روایات بنی امیہ کی حکومت کی طرف اشارہ ہے البتہ بنی امیہ کی حکومت کاتختہ الٹنے سے پہلے جواب :یہ قول بہت ہی تعجب آور ہے کیونکہ یہ روایات جوخلفاء کی تعریف اور ان کی شان میں نازل ہوئیں ہیں کیسے انہوں نے معاویہ اور اس جیسے خلفاء پر منطبق کرتے ہیں جبکہ ان کا ظلم وستم کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور شیعہ اور سنی علماء اور دانشمند حضرات معاویہ کوعادل نہیں مانتے اسی طرح کیسے یزید اس روایت کا مصداق بن سکتاہے کہ جس کا فسق وفجور کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ؟کیا یہ روایات ان کے بارے میں آئی ہیں جنہوں نے قرآن کی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھا (۹)ان روایات میں خلفاء سےمراد وہ حاکم ہیں جوعلویوں کی خلافت کے بعد ظاہر ہونگے جواب :اگر ان کی مراد علویوں کی حکومت سےمراد مصر میں علویوں کی حکومت مراد ہے تو پھر بھی وہی مشکل ہوگی کہ زمین حجت خدا سے خالی ہوگی اور اگر مراد امام مھدی عج کی حکومت مراد ہے تو بھی یہی مشکل (۱۰) ان سےمراد ابوبکر سے لے کرعمربن عبدالعزیز تک مراد ہیں (۱۱)روایات سےمراد خلفاء راشدین اور بعض بنی امیہ کے حکمران ہیں البتہ یزید کے علاوہ (۱۲)بارہوں قول یہ ہے کہ روایت میں خلفاء سے مراد خلفاء راشدین مراد ہیں اور بعض بنی امیہ کے خلفاء بھی کہ یزید ان میں سے ایک ہے جواب :یہ قول تو اصلا قابل قبول نہیں ہے کیونکہ یزید بھی ان میں سے شمار ہ ان میں سے شمار کیا گیا ہے جس کومسلمان اصلا قبول نہیں کرتے (۱۳)اس روایت میں خلفاء سےمراد خلفاء راشدین ہیں اور باقیوں کا حال مشخص نہیں ہے جواب :یہ قول بھی قابل قبول نہیں ہے کیونکہ انسان کے ضروری ہے کہ وہ اپنے خلیفہ کوپہچانے اور اس کی اطاعت کرے کیونکہ من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتۃ جاہلیہ اگر امام اور خلیفہ وقت کی پہچان ہی نہ ہو تو اس کی پیروی کیسے کی جائے گی (۱۴)چودھواں قول یہ کہ اگر خلافت سے مراد خلافت ظاہری مراد ہے تو یہ خلفاء راشدین کے علاوہ عمر بن عبدالعزیز کوبھی شامل ہے اگر مراد خلافت ظاہری مراد ہے تو بنی امیہ اور عباسیان کے بعض خلفاء کو بھی شامل ہے جواب :یہ تقسیم جو چودھویں قول میں کی گئی ہے یہ تقسیم بشری اور اعتباری ہے درحالانکہ جو خداوند متعال کی طرف سے خلیفہ ہے وہ ظاہرمیں بھی خلیفہ ہے اور باطن میں بھی (۱۵)پندرہواں قول یہ ہے کہ جومشخص اور معین ہے وہ یہ کہ جن بارہ خلیفوں کا تذکرہ روایت میں آیا ہے وہ شیعوں کے بارہ امام نہیں ہیں کیونکہ امامت نہیں کہا بلکہ خلافت کہا ہے جواب :یہ صرف تعصب کی بنا پر ہے اور اسی بنا پر آج تک ان سے یہ مسئلہ حل نہیں ھوسکا اور جس کے دل میں جوآیا اس نے اپنا نظریہ بنا لیا حالانکہ شیعوں میں یہ مشکل نہیں ہے کیونکہ حق پر ہیں اور یہ جو کہاہے کہ خلافت مراد ہے امامت مراد نہیں ہے حالانکہ قرآن میں خود خلافت سے مراد یعنی خدا کی طرف سے حاکم اورامام کے ہے مثلا واذقال ربک للملائکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ (سورہ بقرہ ۳۰ ) یا داود انا جعلناک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالعدل (سورہ ص آیۃ ۲۶ ) اور خلیفہ سے مراد اپنے غیر کا نائب قرار پانا ہے اور جونائب بن رہا ہے ضروری ہے کہ اس میں ایسی صفات ہوں جومنوب عنہ (جس کا نائب بن رہاہے )اس میں موجود ہوں نبی معصوم تھے اب اگر ان کا جانشین اور خلیفہ اور نائب بننا ہے تواس کوبھی معصوم ہونا چاہیے اور فقط شیعہ اپنے اماموں کی عصمت کے قائل ہیں اور اس عصمت کو آیۃ تطھیر اور حدیث ثقلین سے ثابت کرتے ہیں اور کسی قسم کی مشکل بھی نہیں اور عقل کے نزدیک بھی ہے نہ حیران ہیں کہ بارہ اماموں کی تعداد کیسے پوری کریں جیسا کہ اھل سنت والے آج تک پریشان ہیں کہ کیسے بارہ کی تعداد پوری کریں کس کوداخل کریں اور کس کوخارج کریں تاکہ بارہ پورے ہوجائیں اور نہ زمین کے حجت خدا سے خالی رہنے کا اشکال شیعوں پر آتاہے کیونکہ ان کے نزدیک ان کا بارہواں امام موجود ہے نقد عام : ہرایک قول کوذکرکرکے اس کا جواب دیا جاچکاہے اب ایک کلی اشکال جو ان تمام اقوال وارد ہے اس کوذکرکرتے ہیں نقد عام جو تمام اقوال کے رد میں ہے اور اس کے بعدہرایک قول احتمال کو رد کیا جائے گا (۱) نبی کے خلیفوں کاتعین خداوند متعال کی جانب سے ہے نہ اپنی رائے اور اجماع کے ذریعے کیونکہ بعض روایات میں نبی ص کے خلفاء کو تشبیہ دی گئی ہے بنی اسرائیل کے نقباء کے ساتھ اور بنی اسرائیل کے نقباء خداوند متعال کے حکم سے تعیین ہوئے تھے جیسا کہ خداوند متعال کا ارشاد ہے کہ ولقد اخذنا میثاق بنی اسرائیل وبعثنا منھمم اثنا عشر نقیبا "(۴۰) ومن قوم موسی امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون وقطعناھم اثنا عشر اسباطا (۴۱) پس معلوم ہوا کہ خلیفہ کے انتخاب میں لوگوں کا کوئی کردار نہیں ہے اور مذکورہ پندرہ احتمالات کی کوئی قیمت نہیں ہے کیونکہ یہ سب اس وقت اہمیت رکھتے ہیں کہ جب لوگ خلیفہ کوانتخاب کرنے کا حق رکھتے ہیں اور جیسا کہ قرآن کی آیت سے ثابت ہے کہ یہ حق صرف خداوند متعال کو حاصل ہے (۲)ان روایات میں جوبارہ خلیفوں کے بارے میں وارد ہوئیں ہیں علماء اور دانشمندوں میں اختلاف ہے کہ ان سے کونسے بارہ خلیفے مراد ہیں یہاں تک کہ اتنے حیران وپریشان تھے کہ جس کے ذھن میں جوکچھ آیا اس نے اپنے ذھن کے مطابق ایک نظریہ دے دیا اور یہاں تکہ پندرہ سے بھی زیادہ اقوال ذکر ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی متفق علیہ (جوسب کا مورد قبول ہو)نظریہ اور قول پیش نہیں کرسکے (۳)پہلے چار خلیفوں کے بعد خلافت بادشاھی میں تبدیل ہوچکی تھی پس اس کوخلافت کہنا درست نہیں ہے (۴)اھل سنت کے علماء اور دانشوروں کی سب سے مھم دلیل اجماع ہے اور اجماع فقط علی علیہ السلام کے لیے حاصل ہوا تھا (۵)علماء اھل سنت کے اقوال آپس میں ایک دوسرے کے موافق نہیں ہیں لہذا قابل قبول بھی نہیں ہیں (۶)تمام یہ اقوال نص کے مقابل میں اجتھاد ہے کیونکہ خلافت کااثبات متوقف ہے نص پر کہ خدا وند متعال نے اسے اپنے ساتھ مخصوص کیا ہے جیسا کہ قرآن میں فرمایا (۔۔۔۔۔وجعلنا ائمۃ یھدون بامرنا )۴۵ترجمہ:اور ہم نے امام قرار دیے جوہمارے حکم سے ھدایت کرتےہیں (۔۔۔۔انی جاعلک للناس اماما ) ۴۶ ہم نے تجھے لوگوں کےلیے امام بنا دیاہے پس امام اور خلیفہ کا تعین کرنا خود خدا کا کام ہے اور اگر لوگ خود انتخاب کرنے ہیں تویہ نص کےمقابلے میں اجتھاد ہے جوباطل ہے (۷)یہ تمام اقوال اھل سنت کی بعض روایات کے مخالف ہیں بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا کہ میرے بعد خلافت تیس سال ہے ،، جبکہ بارہ خلیفے پورے کرنے کے لیے تیس سال سے بھی اوپر چلے گئے ہیں پس اس روایت کے خلاف ہے (۸)ان اقوال کی بنا پر خلفاء کے درمیان فاصلہ آجاتاہے جونہیں آنا چاہیے کیونکہ حجت الھی کے درمیان فاصلہ یعنی اھل زمین کا تباہ ہونا جیسا کہ حدیث ہے کہ (لاتخلواالارض من خلیفۃ )۴۸ یعنی زمین کبھی حجت خدا اور خلیفہ الھی کے بغیرخالی نہیں رہ سکتی اگر ایسا ہوجائے توزمین اپنے اھل کے ساتھ دھنس جائے گی اھل سنت کے علماء بھی کہتے ہیں کہ اھل بیت کا وجود اھل زمین کے لیے امان ہے انہوں نے حدیث امان کوذکر کیاہے اور کہا ہے کہ زمین کی امان اھل بیت علیھم السلام ہیں اگر زمین ان کے وجود سےخالی ہوجائے تو امان میں نہیں ہوگی یعنی تباہ وبرباد ہوجائے گی احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ (خداوندکریم نے زمین کو رسول اکرم ص کی خاطر خلق کیا اور اس کی ہمیشگی کو آنحضرت کی اھل بیت کے ساتھ مشروط کردیا )۵۰ یعنی زمین اس وقت تک امان میں ہے جب تک رسول کی عترت میں سے اور حجت خدا موجود ہوگا پس ان پندرہ اقوال کے درمیان کوئی جامع قول نہیں ہے جوسب کوشامل ہوتاکہ اس پر عمل کیا جائے بلکہ ہر کسی کے ذھن میں جوبات آئی اس نے بیان کردی جوقابل قبول نہیں ہے جبتکہ کوئی محکم دلیل نہیں ہو جب اصحاب خلیفہ کے بارے میں سوال کرتے کہ آپ کےبعد خلیفہ کون ہوگا تو ان کے خیال میں یہ تھا کہ امام اور خلیفہ اللہ کی جانب سے ہے جو خدا نے تعیین فرمانا ہے اور رسول خدا بھی فرماتے تھے کہ میرے خلیفوں کی تعدا بنی اسرائیل کے نقباء کی تعداد کے مطابق ہے نوٹ ؛- برادران اہلسنت ، اہل حدیث اور دیگر مسلک سے تعلق رکھنے والے بھائیوں*سے درخواست ہے کہ اپنے اپنے فقہ کی کُتب کے حوالوں سے یا اسلامی تاریخ کی کُتب کے حوالوں سے رسول اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث کی روشنی میں*ان بارہ خلفا پر روشنی ڈالیں۔ اور اس قیمتی حدیث کو نظر انداز نہ کریں جس پر دین و دنیا کا دارومدار ہے Last edited by فیصل ناصر; 12-05-11 at 04:43 PM. وجہ: فونٹ سائز |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (03-12-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
ریحان اس تحریر میں بھی کمال کی ہوشیاری دیکھائی ہے آپ نے وقت ملنے پر اس تحریر کا جواب دونگا ان شاءاللہ
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
جناب ریحان صاحب! یہ آپ خود لکھتے ہیں؟
صرف معلومات کے لیے سوال کیا ہے. نہ بھی جواب دیں تو کوئی بات نہیں. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
عبداللہ بھائی اپ تو جانتے ہی ہیں کہ نہ ہی یہ میری فیلڈ ہے نہ ہی میری پڑھائی اسلامی طور پر ہے اور نہ ہی میری تحریر پچھلے دوسالوں میں ایسی رہی ہے جس سے یہ اندازہ ہو کہ میں کوئی زیادہ پڑھا لکھا ہوں ۔۔۔۔۔۔بس اگر کوئی سوال زہن میں آتا ہے ۔۔۔۔۔تو پھر اسی پر سوچتا رہتا ہوں ۔۔۔گھر سے افس اور افس سے گھر تقریبا 3 گھنٹے اکیلا انہی باتوں پر سوچتا ہوں اور گاڑی چلاتا رہتا ہوں ۔ ۔ ۔ پھر اگر نیٹ پر کچھ مل گیا تو اس میں شامل کرتے کرتے مراسلہ بنادیتا ہوں ویسے دو چار مراسلے اور بھی لکھے ہیں جو کہ بہت ہی سادہ ہیں مگر نئی سوچ کہ ساتھ لکھے ہیں ۔ ۔ ۔مگر ابھی تک ہمت نہی ہوئی کہ ایسے مراسلے کی شکل میں شامل کروں اپ کہیں تو اس کو شائع کردوں ؟؟ میرے ایک مراسلے کا نام ہے اہل فارس پر نظر رکھو ۔ ۔ ۔ یہ بہت ہی سادہ مگر احادیث رسول ص پر مشتمل ہے اور نئی سوچ کے ساتھ ہے یہاں تک کہ اسکا نام بھی بہت مختلف ہے۔ لفظ ’’اہل فارس‘‘ سے اندازہ ہوگا کہ یہ لفظ کسی حدیث نبوی ص سے لیا گیا ہے ۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| کتابوں, پاکستان, قرآنی, لوگ, مولا علی, محبت, معلوم, ایمان, اللہ, انسان, امیر, اسلام, اسلامی تاریخ, بھائی, جواب, حدیث, حدیث نبوی, حسن, خلاف, خدا, دریافت, درخواست, علی, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سوچنے کی بات: آپ بھی سوچیں | حیدر | گپ شپ | 29 | 30-10-11 06:19 PM |
| ہر گستاخ رسول سن لے، ہر شاتم رسول جان لے | عبدالہادی احمد | اپکے کالم | 13 | 02-02-11 08:32 PM |
| حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام | چیتا چالباز | اخلاق و آداب | 6 | 19-10-10 05:41 PM |
| اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم | گوندل | اخلاق و آداب | 0 | 25-10-09 11:21 PM |
| اسوہ رسول (ص) کی عظمت و اہمیت | Real_Light | پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) | 0 | 15-07-08 01:54 PM |