|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ الْمُقَدَّمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَىْءٍ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ قَالَ " نَعَمْ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ وَلَوْلاَ أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نے ابوطالب کو بھی کچھ فائدہ پہنچایا ؟ وہ آپ کی حفاظت کرتے تھے اور آپ کے واسطے غصہ ہوتے تھے ( یعنی جو کوئی آپ کو ستاتا تو اس پر غصہ ہوتے تھے ) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہاں “ وہ جہنم کے اوپر کے درجہ میں ہیں اور اگر میں نہ ہوتا ( یعنی میں ان کیلئے دعا نہ کرتا ) ، تو وہ جہنم کے نیچے کے درجے میں ہوتے ( جہاں عذاب بہت سخت ہے ) صحیح مسلم ایمان کے متعلق باب : کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابوطالب کو کوئی فائدہ پہنچا سکے ؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہو گا ، وہ دو ایسی جوتیاں پہنے ہو گا کہ جن سے اس کا دماغ کھولے گا ( جیسے ہنڈیا میں پانی کھولتا ہے ) صحیح مسلم ایمان کے متعلق باب : کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابوطالب کو کوئی فائدہ پہنچا سکے ؟ - وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَمِّ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . كَلِمَةً أَشْهَدُ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ " . فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدُ لَهُ تِلْكَ الْمَقَالَةَ حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . وَأَبَى أَنْ يَقُولَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا وَاللَّهِ لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ} . وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ} سعید بن مسیب ( جو مشہور تابعین میں سے ہیں ) اپنے والد ( سیدنا مسیب رضی اللہ عنہ بن حزن بن عمرو بن عابد بن عمران بن مخزوم قرشی مخزومی ، جو کہ صحابی ہیں ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ جب ابوطالب بن عبدالمطلب ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچا اور مربی ) مرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور وہاں ابوجہل ( عمرو بن ہشام ) اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو بیٹھا دیکھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے چچا تم ایک کلمہ لا الٰہ الا اللہ کہہ دو ، میں اللہ کے پاس اس کا گواہ رہوں گا تمہارے لئے ( یعنی اللہ عزوجل سے قیامت کے روز عرض کروں گا کہ ابوطالب موحد تھے اور ان کو جہنم سے نجات ہونی چاہئے انہوں نے آخر وقت میں کلمہ توحید کا اقرار کیا تھا ) ۔ ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بولے کہ اے ابوطالب ! عبدالمطلب کا دین چھوڑتے ہو ؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر یہی بات ان سے کہتے رہے ( یعنی کلمہ توحید پڑھنے کیلئے اور ادھر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ اپنی بات بکتے رہے ) یہاں تک کہ ابوطالب نے اخیر بات جو کی وہ یہ تھی کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں اور انکار کیا لا الٰہ الا اللہ کہنے سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہارے لئے دعا کرونگا ( بخشش کی ) جب تک کہ منع نہ ہو ۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ” پیغمبر اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کیلئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں ، اس امر کے ظاہر ہو جانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں “ ( التوبۃ : 113 ) اور اللہ تعالیٰ نے ابوطالب کے بارے میں یہ آیت اتاری ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ” آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے ۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے “ ( القصص : 56 ) صحیح مسلم ایمان کے متعلق باب : ایمان کا پہلا رکن لا الٰہ الا اللہ کہنا ہے ۔
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (26-03-10), عبداللہ آدم (26-03-10) |
![]() |
| Tags |
| color, ہوتا, کلمہ, کس, یا, وقت, لوگ, مسلمانوں, اللہ, توحید, جانے, دیکھا, دعا, عمرو, عمران, عابد, عباس, عبداللہ, عبدالمطلب, عذاب, عرض, عزوجل, غصہ, صحیح, صحابی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تین پٹھانوں کے پولٹری فار م تھے انسپیکشن میں انسپکٹر نے پوچھا | The Great | قہقہے ہی قہقے | 6 | 29-08-11 11:26 AM |
| پولیس، پولیٹیکل پارٹیز اور پارلیمنٹ کرپشن میں سرفہرست | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 05:40 AM |
| چیف جسٹس کی برہمی پر وکلاءپر پولیس تشدد کی تمام ایف آئی آرز بحال ،بے قابو پولیس کسی کی نہیں سنتی | جاویداسد | خبریں | 0 | 24-11-10 05:25 PM |
| پنجاب پولیس کے اشتہار میں بھارتی پولیس کا مونو گرام | محمدعمر | خبریں | 1 | 19-03-10 09:38 PM |
| صدر پرویز کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑینگے،کسی کو چھیڑینگے نہیں جو ہمیں چھیڑے گا اُسے چھوڑینگے نہیں ،پرویز الٰہی | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 22-02-08 02:17 AM |