|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: Lahore Farooq Gunj
مراسلات: 494
کمائي: 6,862
شکریہ: 1,279
326 مراسلہ میں 727 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر کوئی (مسلمان) حجاب کرنا نہیں چاہتی تو یہ بری بات ہے۔
کیونکہ دین مرضی کا نام نہیں ہے۔ اگر مرضی کا نام ہوتا تو ہر لڑکی / خاتون قرآن کی اس آیت کو ماننے سے انکار کر دیتی جس میں الرجال القوامون کا ذکر ہے۔ اسلام کے کسی بھی فرقے یا مکتب فکر نے عورت کے لئے حجاب کی شرعی حیثیت کا انکار نہیں کیا ہے پاکستان میں ہر اہم سرکاری نوکری حاصل کرنے کے لئیے حجاب اور داڑھی کو خیر باد کہنا شرط ہے۔چاہے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا امتحان دینا ہو یا وہاں تربیت لیناہو۔ یا فوج میں کمیشن حاصل کرنا ہو۔ داڑھی اور حجاب وہاں نا منظور ہیں۔ملٹی نیشنل کمپنیز کی ملازمت میں تو سر پر شفون کا شفاف دوپٹہ بھی منع ہے۔فرانس کا کیا رونا اسلامى جمہوریہ پاکستان كى قومى ائیر لائن کی ائیر ہوسٹس اور فومی چینل کی نام نہاد اینکر پرسن کو سر کے بال ڈھانپنے کی اجازت نہیں ہے۔ میرا سوال اپنے ان بھائیوں سے ہے کیا وہ نہیں چاہتے کہ ان کی بہنیں پردہ کریں؟ (حجاب : قرآن و حدیث کی روشی میں) اللہ سبحانہ و تعالی نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے توسل سے شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے امت مسلمہ کی خواتین کو ’’حجاب‘‘ کی صورت میں ایک ایسا انمول تحفہ عنایت فرمایا ہے جس کے ذریعے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر ماں، ہر بیٹی اور ہر بہن اگر چاہے تو اپنی ذات کو ہر شر سے ہمیشہ محفوظ رکھ سکتی ہے۔ یہ ایک ایسا انمول تحفہ ہے کہ جس کو اگر Proper طریقے سے اپنا یا جائے تو اس سے جسمانی طہارت کے ساتھ ساتھ قلبی طہارت و تقویٰ، پاکیزگی اور شرم وحیاء جیسی اعلیٰ صفات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ قرآن مجید میں بے شمار آیات ہیں جن میں پردہ، شرم وحیاء اور دوسرے معاشرتی آداب کو اپنانے کا طریقہ وسلیقہ سکھا یا گیا ہے۔ سورۃ النور، سورۃ النساء اور سورۃ الاحزاب میں پردے اور حجاب کے Concept کو بڑی تفصیل سے Define کیا گیاہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًاO (الاحزاب،33 : 59) ’’اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہےo‘‘ (ترجمہ عرفان القرآن) اس آیت مبارکہ میں حجاب اور پردہ کی ہیئت ’’يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ‘‘ میں پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ (وہ اپنے اوپر چادروں کے پلُّو لٹکالیں) عربی زبان میں ’’جلباب‘‘ اس بڑی چادر کو کہتے ہیں کہ جو پورے جسم کو ڈھانپ لے اور یدنین جس کا مادہ ’’اَدْنَائ‘‘ اور’’ اَدْنٰی‘‘ ہے ۔ جس کے معنی قریب کرلینے اور لپیٹ لینے کے ہیں یہ لفظ جب حرف جر ’’علی‘‘ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس کا معنی محض لپیٹ لینا نہیں ہوتا بلکہ اس میں ہم اپنی زبان میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے مراد گھونگھٹ نکالنا یا پلُّو لٹکانا ہے۔ اس آیت کے اندر صرف چادر کو ڈال لینا مراد نہیں ہے بلکہ چادر سے پورے جسم اور چہرے کو لپیٹ لینا مراد ہے، کیونکہ جب پلُّو لٹکانے کی بات آتی ہے تو گھونگھٹ چہرے پر ہی لٹکایا جا سکتا ہے۔ اور پھر اس سے یہ بات بھی اخذ کی جا سکتی ہے کہ چہرے کو ڈھانپنے سے ہی چہرے کا گھونگھٹ ہوتا ہے اور اس سے ہی چہرے کو ڈھانپنے اور اس کا حجاب کرنے کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔ یہاں اس آیت میں ’’يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ‘‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس کا معنی محض چادر کا لپیٹ لینا ہی نہیں بلکہ اسے جسم ولباس کے اوپر اس طرح لپیٹ لینا کہ زینت وسنگھار وغیرہ بہت اچھے طریقے سے چھپ جائے۔ ابن سیرین طبری رحمۃاللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عبیدہ سلمانی سے اس کی تفسیر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے چادر سے پورا سر پیشانی اور منہ ڈھانپ کر آنکھوں کو کھلا رکھا۔(تفسیر طبری) اسی طرح کی روایات دوسری تفاسیر جیسے احکام القرآن، روح المعانی اور قرطبی میں بھی منقول ہیں۔ ابن جریر رحمۃاللہ علیہ اور ابن حبان رحمۃاللہ علیہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ عورت جلباب یعنی حجاب (نقاب) کو ماتھے کے اوپر سے موڑتے ہوئے باندھے پھر اسے ناک کے اوپر لے جاتے ہوئے یوں بل دے کہ اگر اس کی آنکھیں کھلی رہ بھی جائیں تو منہ ڈھک جائے۔ (تفسیرطبری) علامہ آلوسی رحمۃاللہ علیہ، علامہ شوکانی رحمۃاللہ علیہ، علامہ نیشاپوری رحمۃاللہ علیہ اور علامہ فخر الدین رازی رحمۃاللہ علیہ نے بھی اس کی تفسیر اسی انداز میں کی ہے۔ تقریبا ً تمام مفسرین چہرے کو ڈھانپنے کی تاکید فرماتے ہیں اور چاروں فقہاء کرام بھی اسی پر اتفاق کرتے ہیں جبکہ ہر دور میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ قرآن مجید میں کہیں بھی چہرے کے نقاب کی فرضیت نہیں ملتی ۔ مگر چہرے کے پردے کے بارے میں تاریخ اسلام کے ہر دور کے مسلمانوں کا یہی طریق رہا ہے۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے شبنم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-12-11), ھارون اعظم (28-08-10), یاسر عمران مرزا (28-08-10), مرزا عامر (05-12-11), عبداللہ آدم (04-12-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
جلباب کی تصاویر ۔۔۔
Jilbab | Jilbabs | Silk Route Clothing کیوں جھوٹمنسوب کرتے ہیں اتنے سارے فارسی بولنے والوں سے عربی کے الفاظ کے معانی ہی بدل دیتے ہیں۔ اللہ تعالی سے ہدایت طلب کرنے کے بجائے۔ ایسے لوگوں سے ہدایت طلب کرتے ہیں جن سے ہدایت طلب کرنے کا حک نہ اللہ نے دیا اور نہ ہی بندے نے۔ اپنی خواہش کی پیروی جہاںنظر ائی ۔ اس کو پھیلانا شروع کر دیا۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
آپ سے یہاں پر بات ہورہی تھی حجاب کے حوالے سے۔ آپ نے وہاں کا تو رخ ہی نہیں کیا بعد میں۔ جلباب کے حوالے سے آپ ہمیں کنفیوز کرنے کی کوشش نہ کریں۔ دو احادیث میں جلباب کا ذکر ہے، اس کو غلط ثابت کریں تو مانیں۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-12-11), shafresha (29-08-10), فاروق سرورخان (29-08-10), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
آج بھی دو سو ملین عربی بولنے اور سمجھنے والے موجود ہیں۔ جلباب کے معانی کسی سے بھی پوچھ لیجئے ۔ یہ کسی قسم کی بھی چہرہ ڈھانپنے کی چادرنہیں ہوتی۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-12-11), shafresha (29-08-10) |
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس موضوع کو بھی پہلے سے جاری گفتگو میں شامل کر دیا جائے تاکہ تسلسل جاری رہے۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
بھائی JAN السلام علیکم،
اگر آپ مُناسب سمجھیںتو اس موضوع سے متعلق تمام مواد ایک ہی تھریڈ میںاکٹھا کردیا جائے!
__________________
میںتمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوںگا! |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-12-11), فاروق سرورخان (29-08-10) |
|
|
#7 | |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-12-11), shafresha (29-08-10), فاروق سرورخان (29-08-10), ھارون اعظم (29-08-10), مرزا عامر (05-12-11), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
خمار کیا ہے اور جلباب کیا ہے؟ خمار خمر سے ہے اور خمر کا مادہ خ م ر ہے جس کے معنی ڈھانپنے، چھپانے کے ہیں۔ شراب کو خمر اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ نشہ کے باعث عقل و فکر کو ڈھانپ لیتی ہے یا چھپا لیتی ہے۔ اس مادہ کے دو لفظ ’’خمر ‘‘ اور ’’بخمرھن‘‘ کے بھی استعمال ہوئے ہیں۔ یہ بڑی چادر کو کہا گیا ہے جو عورت کے اوڑھنے سے اُس کے تمام بدن کے کپڑوں اور زیوروں وغیرہ کو چھپا لیتی ہے گویا باہر نکلنے کے لیے یہ ایک زائد لباس ہے جو عورتوں کے لیے اسلام نے لازم بتایا ہے۔ ہاں! چہرہ اور ہاتھ وغیرہ کو اس سے مستثنیٰ کیا گیا ہے تاکہ شخصیت کی آزادی اپنی جگہ قائم رہے اور باہر نکلتے وقت عورتوں کو کسی ایسی تنگی میں مبتلا نہ کر دیا جائے جس کو نبھانا ہی ان کے لیے مشکل ہو کیونکہ ’’الدین یسر‘‘ کا اعلان عام ہے۔ اور یہ استثناء ’’الا ما ظہر منھا‘‘ کے الفاظ سے لی گئی ہے۔ خمر کا لفظ (۲۴:۳۱) میں استعمال ہوا ہے۔اور ’’بخمرھن‘‘ کا لفظ (۲۴:۳۱) میں۔ جلباب کا مادہ ج ل ب ہے اِس مادہ کے دو لفظ قرآنِ کریم میں استعمال ہوئے ہیں اجلب (۱۷:۶۴) اور جلابیبھن (۳۳:۵۹) اِس کے بنیادی معنی حفاظت کے ساتھ اپنے مال کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے ہیں۔ اور بعض اوقات اِس مال پر بھی اُس کا استعمال ہوتا ہے جس کو فروخت کرنے کے لیے محفوظ کر لیا گیا ہو۔ سورہ بنی اسرائیل میں شیطان سے کہا گیا ہے کہ تو اِن کے خلاف اپنے تمام لاؤ لشکر جمع کر کے لے آ۔ عربوں میں عورتوں کے لیے لباس میں ایک سیاہ رنگ کا کوٹ کی طرح کا لباس پہننے کا رواج تھا جو عورتیں اپنے لباس کے اوپر پہنتی تھیں تاکہ اِن کے لباس کی زینت کو بھی وہ ڈھانک لے اور اسلام نے بھی اِس کو برقرار رکھا ہے اِس لیے کہ خمار جو بڑی چادر ہوتی ہے اُس سے بھی ’’جلباب‘‘ پہننا زیادہ آسان ہے کیونکہ اُس کو چادر کی طرح سنبھالنا نہیں پڑتا یہ اپنی سلائی کے باعث خود بخود عورتوں کے سارے لباس کو اپنے اندر محفوظ کر لیتا ہے گویا یہ ایک برقع ہے جس کے ساتھ نقاب نہیں ہوتا۔ عورت کا مقام اسلام کی نظر بصیرت میں عورت کی شخصیت اور پردہ کے لحاظ سے عبدالکریم اثری انجمن اشاعتِ اسلام (رجسٹرڈ) ٹھٹھہ عالیہ ضلع منڈی بہاؤالدین
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (03-12-11), فاروق سرورخان (14-12-11) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
فی زماننا عورتوں کے پردہ کے متعلق ایک لفظ جو بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے وہ ’’نقاب‘‘ کا لفظ ہے جس کا مادہ ن ق ب ہے۔ اس مادہ کے الفاظ بھی قرآنِ کریم میں استعمال ہوئے ہیں جیسے نَقَبًا (۱۸:۱۷) نَقَّبُوْا (۵۰:۲۶) اور نَقِیْبًا (۵:۱۳) جس کے معنی دیوار میں سوراخ کرنے کے ہیں۔پناہ کی جگہ کی تلاش کو کہا جاتا ہے اور اس طرح چہرہ کو کیونکہ اس میں بھی سوراخ ہوتے ہیں شاید ’’نقاب‘‘ کا لفظ اسی نسبت سے استعمال کیا گیا ہے کہ عورت اپنے چہرے کے سوراخوں کو اس کپڑے سے چھپاتی ہے یا اُسے چھپانا چاہیے۔ مختصر یہ کہ چاہے یہ لفظ بھی عورتوں کے لباس کے لیے استعمال ہوتا ہے خواہ وہ چادر یا برقع کے اس مقام پر جو چہرہ کے اوپر آتا ہے الگ ایک کپڑے کو اس مقام پر لٹکا لیا جاتا ہے اور اس نسبت سے اس کا نام ’’نقاب‘‘ رکھا گیا ہو یا علاوہ ازیں کوئی اور وجہ سمجھی گئی ہو۔ دورِ جاہلیت میں عربوں کے ہاں مردوں میں زیادہ تر اس طرح کا لباس استعمال ہوتا تھا اور مرد اور خصوصاً وہ مرد جو قوم کے سردار و نقیب ہوتے تھے وہ اپنے چہروں پر پہنتے تھے جو ان کے لباس کا ایک مستقل حصہ ہوتا تھا اور وہی ’’نقاب‘‘ مردوں کے چہروں سے اتر کر عورتوں کے چہرہ کی طرف رواجاً منتقل ہوا جو بھی اور جیسے بھی اس کو سمجھ لیں اس لفظ کا کتاب و سنت کے مطابق جو عورتوں کا لباس ہے اس میں کہیں بھی ذکر موجود نہیں چاہے اس وقت ساری بحث اس لفظ پر بھی کی جاتی ہو جیسا کہ ہمارے مذہبی رسائل میں اس کا تذکرہ کیا جاتا ہے اور ’’حجاب‘‘ کی طرح ’’نقاب‘‘ کا لفظ بھی عورتوں کے پردہ کے لیے خصوصاً جب عورتیں گھروں سے باہر نکلیں تو ان کے لباس کا ایک اہم جزو قرار دیا جاتا ہو۔ اس وقت سوچنے کا مقام ہے کہ روایات نے عورتوں کے تمام اعضاء سر، گردن، سینہ، سینہ کے ابھار، کولہے اور پیٹ و پنڈلیاں ہی نہیں مکمل ٹانگوں تک سب کچھ کھول دیا ہے اور روز بروز کھلتا ہی چلا جا رہا ہے یہاں تک کہ یہ مرض بڑے بڑے شہروں سے شروع ہو کر اب دیہاتوں تک آ پہنچا ہے لیکن پردہ کے ان تمام مقامات کا کوئی نام نہیں لیتا، کہیں اس کی مذمت ہوتی نظر نہیں آتی جب کوئی صاحب علم اُٹھتا ہے تو وہ عورتوں کے چہروں اور ہاتھوں ہی کا ذکر کرتا نظر آتا ہے کیا ’’ماظہر منھا‘‘ کا یہی مطلب ہے کہ ہاتھوں اور چہروں کے علاوہ عورتیں تمام اعضاء جسم کو کھول سکتی ہیں۔ افسوس کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے تھا اور ہم کیا کر رہے ہیں؟ عبدالکریم اثری |
|
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
عورتوں کے پردہ میں استعمال ہونے والے بعض الفاظ حجاب کیا ہے؟ حجاب کا اصل مادہ ح ج ب ہے جس کے معنی ڈھانپنے اور چھپانے کے کیے جاتے ہیں وہ اس طرح کہ دو اشخاص یا دو چیزوں کے درمیان کسی تیسری چیز کو حائل کر دیا جائے کہ وہ دونوں اشخاص یا چیزیں اس طرح الگ ہو جائیں کہ ایک شخص دوسری کو دیکھ نہ سکے جیسے دوشخصوں کے درمیان کپڑے یا دیوار کا پردہ حائل ہو جائے۔ قرآنِ کریم میں اس مادہ کا لفظ آٹھ بار استعمال ہوا ہے جس کی وضاحت اس طرح ہے کہ ’’حجاب‘‘ کا لفظ 4 بار جیسے (۷:۴۶)، (۳۳:۵۳)، (۴۱:۵) اور (۴۲:۵۱) میں ’’الحجاب‘‘ کا لفظ صرف ایک بار (۳۸:۳۲) میں اور ’’حجاباً‘‘ کا لفظ دو بار جیسے (۱۷:۴۵) اور (۱۹:۱۷) میں اور ایک بار لفظ ’’لمحجوبون‘‘ کا استعمال ہوا اور یہ لفظ (۸۳:۱۵) میں موجود ہے جو مذکورہ آیات کریمات میں دیکھا جا سکتا ہے۔ قارئین کرام ان آیات کریمات کو دیکھیں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ ’’الحجاب‘‘ سے مراد ایسی چیز ہے جو دو چیزوں یا شخصوں کے درمیان رکاوٹ ہو جس کی وجہ سے وہ دونوں شخص ایک دوسرے کو دیکھ نہ سکیں گویا حجاب کے ہوتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھنا ممکن نہیں ہوتااندریں وجہ ان آیات سے مراد لباس ہر گز نہیں ہو سکتا جو انسان مردہو یا عورت بطور لباس استعمال کریں۔ کیونکہ یہ وہ چیز ہے جو دو شخصوں کے درمیان اس طرح حائل ہو جائے کہ دونوں ایک دوسرے کو قطعاً نہ دیکھ سکیں جب تک درمیان سے حجاب کا کوئی حصہ ہٹا نہ دیا جائے۔ مذکورہ آیات کو دیکھنے سے بھی یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ’’حجاب‘‘ کا لفظ جب پردہ کے لیے استعمال ہوا تو اُس پردے کے لیے بولا گیا ہے جو گھر میں ہوتا ہے اور اس طرح لٹکایا جاتا ہے کہ باہر اور اندر والوں کے درمیان حائل ہو جائے جیسے ہمارے ہاں دروازوں پر لٹکائے جانے کا رواج اب بھی موجود ہے اسی طرح ایک صحن یا ایک کمرہ کے اندر ایسا پردہ لٹکایا جائے جو مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے سے الگ الگ کر دے اور دونوں اصناف کے درمیان حد فاصل کے طور پر استعمال کیا جائے جیسا کہ عموماً گھروں میں اب بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ’’حجاب‘‘ کا لفظ امہات المومنین کے گھروں میں استعمال کے لیے خاص ہے۔ رہا معاملہ روایات کا تو روایات میں صرف صحیح بخاری اور مسلم سے سینکڑوں کی تعداد پیش کی جا سکتی ہیں جن سے واضح ہے کہ ’’حجاب‘‘ گھروں میں لٹکائے گئے پردوں پر استعمال ہوا ہے جو نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے گھروں میں لٹکائے گئے تاکہ لوگ ان پردوں کی اوٹ سے باہر رہیں اندر نہ آ سکیں اور آپؐ کی وفات کے بعد بھی ازواجِ مطہرات کی زندگی میں ’’حجاب‘‘ بدستور اسی طرح لٹکائے جاتے رہے۔ مختصر یہ کہ کتاب و سنت میں کہیں بھی یہ لفظ لباس کے طور پر، پردہ کے لیے استعمال نہیں ہوا چاہے اب ہمارے رواج میں اس کا استعمال لباس کے پردہ کے لیے عام ہو۔ مجھے اعتراف ہے کہ عورتوں کے پردہ کے متعلق اس وقت جس نے قلم ہاتھ میں لیا ہے اُس نے ’’حجاب‘‘ کو لباس ہی کی صورت میں اس کو استعمال کیا ہے خصوصاً ہمارے ہاں اردو زبان میں جن لوگوں نے کچھ تحریر کیا ہے سب کا یکساں یہی حال ہے۔ میری اس وضاحت سے مراد صرف یہ ہے کہ حقیقت حال سب کے سامنے آ جائے اور سب کو معلوم ہو جائے کہ رواج کا معاملہ اتنا سخت ہے کہ وہ جب بھی کہیں رواج پا جاتا ہے تو اُس کے سامنے اصل حقیقت کی کوئی وقعت نہیں رہتی بلکہ رواج ہی اسلام ہو جاتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ رواج کو اسلام کا نام دے دیا جاتا ہے اور حقیقت مستور ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ بعد میں آنے والے پہلوں کے حوالے درج کر کے سب کو مطمئن کر دیتے ہیں کہ یہ سارے محررین جو آج تک اس طرح لکھتے چلے آ رہے ہیں کیا غلط ہو سکتے ہیں؟ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کتاب و سنت کا اصل مفہوم پردہ میں چلا جاتا ہے اور اختراعی اور رواجی چیز اس پر مکمل طور پر قابو پا جاتی ہے اس وقت جو اسلام، اسلام کا نام استعمال ہوتا ہے وہ زیادہ تر اس اختراعی اور رواجی اسلام پر ہی بولا جاتا ہے جس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ یہ بات تو داخلی طور پر ہے اس کا خارجی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اغیار بھی اسی اختراعی اور رواجی اسلام کو اصل اسلام قرار دے کر اس پر اعتراضات کی بوچھاڑ شروع کر دیتے ہیں اور ایک شور بپا ہوجاتا ہے اور شور چیز ہی ایسی ہے کہ اس میں کچھ پتا نہیں چلتا کہ کون کیا کہہ رہا ہے اور کوئی دوسرا کیا سن رہا ہے پھر ایک دوسرے پر ایسی طعنہ زنی ہوتی ہے کہ الامان والحفیظ ’’ستر‘‘ کے لفظ کا استعمال پردہ کے لحاظ سے عورتوں کے پردہ کے معاملہ می ایک تو ’’حجاب‘‘ کا نام استعمال ہوتا ہے جیساکہ اوپر مذکور ہوا اور اس سلسلہ میں جو دوسرا نام زیادہ استعمال ہوتا ہے اس کو ’’ستر‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اور یہ لفظ بھی حقیقت میں عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ س ت ر ہے اس مادہ کے صرف تین الفاظ قرآنِ کریم میں صرف ایک ایک جگہ استعمال ہوئے ہیں ۱۔ مستور (۱۷ : ۴۵) ۲۔ستراً (۱۸:۹) ۳۔تستترون (۴۱:۲۲) قرآنِ کریم کی مذکورہ آیات کو نکال کر اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کریں گے تو روشن سورج کی طرح واضح ہو جائے گا کہ یہ لفظ بھی قرآنِ کریم میں کہیں لباس کے معنی میں استعمال نہیں ہوا، اس کے معنی بھی آڑ، اوٹ اور پردہ کے ہیں جس سے کوئی چیز چھپائی جائے جیسے کھلے میدان میں بادل سورج کو چھپا دیتا ہے اور انسان جب کسی مکان میں داخل ہو جاتا ہے تو سورج اُس سے چھپ جاتا ہے یا وہ انسان مکان کی آڑ اختیار کر لیتا ہے اور سورج سے چھپ جاتا ہے۔ معلوم ہو گیا کہ لفظ ’’حجاب‘‘ کی طرح ’’ستر‘‘ بھی کتاب و سنت میں عورتوں کے پردہ کرنے کے معاملہ میں استعمال نہیں ہوا چاہے رواج نے اس لفظ کا کتنا ہی زیادہ استعمال کیا ہو اور عورتوں کے پردہ ہی کے معاملہ میں کیا ہو۔ مستور، وہ پردہ جو نگاہوں سے پوشیدہ ہو قرآنِ کریم کی زبان میں ’’مستور‘‘ وہ پردہ ہے جو نگاہوں سے پوشیدہ ہوتا ہے لیکن ہماری عام بول چال میں اس کا استعمال عورت کے لیے کیا جاتا ہے اور ’’مستورات‘‘ عورتوں کو کہا جاتا ہے گویا وہ نگاہوں سے پوشیدہ رہتی ہیں یا اُن کو مردوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رہنے کا حکم دیا جاتا ہے یا وہ کوئی ایسی چیز ہیں جن کو نگاہوں کے سامنے اور خصوصاً مردوں کی نگاہوں کے سامنے نہیں آنا چاہیے لیکن ہمارے ہاں ’’ستر‘‘ اس عورتوں کے پردہ کو کہا جاتا ہے جو عورتیں تمام محرم مردوں کے سامنے بھی نہ کھول سکیں یا ان کو نہیں کھولنا چاہیے سوائے اپنے خاوند یعنی میاں کے اور عرف عام میں اس کو اصطلاحی معنی میں جو اسلام میں عورتوں کے پردہ کے سلسلہ میں استعمال ہوتے ہیں سے مراد جنسی مقامات لیے جاتے ہیں جو انسانی بدن کے حصے ہوتے ہیں اور حقیقت میں لباس کے سلسلہ میں یہ لفظ استعمال نہیں ہوتا چاہے عوام میں یہ لفظ ان معنوں میں معروف نہ ہو۔ چنانچہ تحریر ہے کہ: ’’شرعی پردہ در اصل دو پردوں پر مشتمل ہے ایک ہے گھر کے اندر کا پردہ جس کے بارے میں احکامات سورہ النور میں بیان ہوئے ہیں۔ ان احکامات کو ’’احکاماتِ ستر‘‘ کہا جاتا ہے۔ دوسرا ہے گھر کے باہر کا پردہ جس کے بارے میں احکامات سورہ الاحزاب میں وارد ہوئے ہیں اور یہ احکامات ’’احکاماتِ حجاب‘‘ کہلاتے ہیں۔‘‘ (ڈاکٹر اسرار) ’’پردہ کے حوالے سے اکثر لوگ ستر اور حجاب میں کوئی فرق نہیں کرتے حالانکہ شریعت اسلامیہ میں ان دونوں کے احکامات الگ الگ ہیں۔ ستر جسم کا وہ حصہ ہے جس کا ہر حال میں دوسروں سے چھپانا فرض ہے ماسوائے زوجین کے یعنی خاوند اور بیوی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے اور عورت کا ستر ہاتھ، پاؤں اور چہرے کی ٹکیہ کے علاوہ پورا جسم ہے یا اس کو اس طرح کہہ لیں کہ عورت کا سارا جسم ’’ستر‘‘ ہے سوائے چہرے اور ہاتھ کے۔ البتہ عورت کے لیے عورت کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے۔ معمول کے حالات میں ایک عورت ستر کا کوئی حصہ بھی اپنے شوہر کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں کھول سکتی۔ ستر کا یہ پردہ ان افراد سے ہے جن کو شریعت نے ’’محرم‘‘ قرار دیا ہے اور ان محرم افراد کی فہرست سورہ النور میں بیان کر دی گئی ہے۔ گھر کے اندر عورت کے لیے پردے کی یہی صورت ہے۔‘‘ (ڈاکٹر اسرار) لفظ ’’عورت‘‘ کا استعمال کن معنوں میں ’’حجاب‘‘ اور ’’ستر‘‘ کے متعلق کتاب و سنت میں جو کچھ کہا گیا ہے اُس کی وضاحت آپ نے دیکھ لی ہے اور آج کل اسلام کے پردہ کے متعلق جو کچھ بیان کیا جاتا ہے اس کا اشارہ بھی آپ نے پڑھ لیا ہے۔ اب لفظ ’’عورت‘‘ کے متعلق جان لیجئے کہ ’’عورت‘‘ کا لفظ کتاب و سنت میں کہیں بھی مونث انسان کے لیے استعمال نہیں بلکہ ’’عورت‘‘ عربی زبان میں پردہ کے مقام یعنی جنسی اعضاء کے لیے استعمال ہوا ہے اس لحاظ سے گویا پردہ کے مقام سے تشبیہ دیتے ہوئے مونث انسان (نسوۃ) یا (امراۃ) کو ’’عورت‘‘ کہا گیا ہے اگر چہ یہ لفظ خالصتاً عربی زبان کا ہے تاہم ہماری بول چال میں جو لفظ استعمال ہوتا ہے اس کا تعلق لفظ عربی ’’عورۃ‘‘ سے ہر گز نہیں ہے۔ چاہے ہمارے علمائے کرام اس کو فخریہ طور پر لکھتے ہیں کہ عورت کو اس لیے عورت کہا جاتا ہے کہ یہ مکمل چھپائی جانے والی چیز ہے جس طرح پردہ کے مقامات کو انسان چھپاتا ہے اس طرح عورت کو چھپایا جانا ضروری ہے اس پر انا للہ وانا الیہ راجعون ہی پڑھا جا سکتا ہے کیا ان کے ذہن میں اُس وقت یہ بات نہیں رہتی کہ ’’عورت‘‘ بیٹی، بہن اور ماں بھی ہے جو انسان کے لیے نہایت ہی مقدس رشتے ہیں جن کا احترام ان کی حیثیت کے مطابق ہر انسان پر لازم و ضروری ہے اور جو ان کی حیثیت کے مطابق ان کا احترام نہیں کرتا وہ مسلمان تو درکنار انسانیت ہی سے خارج ہو جاتا ہے خواہ کون ہے، کہاں ہے اور کیسا ہے؟ عبدالکریم اثری |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (04-12-11), فاروق سرورخان (14-12-11) |
![]() |
| Tags |
| پہچان, قرآن, لڑکی, چینل, نوکری, منظور, مجید, مسلمان, انمول, امتحان, اعلیٰ, جیسی, حدیث, خواتین, داڑھی, عورت, عورتیں, عورتوں, عنایت, عباس, عرفان, عربی, غلطی, صفات, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|