|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
عربی زبان میں ایک نہایت زہریلے سانپ کو عاضۃ کہتے ہیں جس کا ڈسا ہوا فورًا مر جاتا ہے۔ اسی سے "العضۃ" کا لفظ ہے جس کا معنی چغل خور ہے کیونکہ وہ بھی فریقین کے درمیان فتنہ و فساد کی آگ بڑھکا دیتا ہے اور بات فورًا دشمنی اور قتل و غارت تک پہنچ جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ایک دفعہ اپنے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا:
أَتَدْرُونَ مَا الْعَضْهُ؟ "جانتے ہو "العضہ" کیا ہے؟؟ صحابہ نے عرض کیا "اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتا ہے" فرمایا: نَقْلُ الْحَدِيثِ مِنْ بَعْضِ النَّاسِ إِلَى بَعْضٍ، لِيُفْسِدُوا بَيْنَهُمْ "بعض کی باتیں بعض کی طرف بیان کرنا تا کہ ان کے درمیان فساد ڈالا جائے" (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث نمبر 846) مسلمان کبھی شیطان کا ڈاکیا نہیں بنتا۔ اگر کسی موقع پر کسی کے خلاف کوئی بات سن لے تو اس کو وہاں پر ہی دفن کر دے تا کہ فریقین کےدرمیان نفرت و کدورت کے جراثیم مزید پیدا نہ ہوں۔ ایک دفعہ کسی آدمی نے اللہ کے ایک نیک بندے کو آ کر بتلایا کہ فلاں شخص آپ کے خلاف فلاں فلاں باتیں کرتا ہے، وہ سن کر فرمانے لگے "شیطان کو تیرے علاوہ کوئی ڈاکیا نہیں ملا"؟ ایک اور شخص نے اللہ کے ایک بندے سے کہا "فلاں شخص نے آپ کو یہ یہ گالی دی ہے" وہ کہنے لگے "اے ظالم! اس نے نہیں دیں گالیاں تو تو نے دی ہیں۔ اس نے تو پتھر پھینکا تھا مگر مجھے نہیں لگا مگر تو اس قدر ظالم نکلا کہ وہ اٹھا کر مجھے مار ہی دیا"۔ اللہ تعالیٰ ہمیں چغل خوری کی لعنت سے محفوظ فرمائے۔ (ماخوذ من سلسلہ الاحادیث الصحیحہ اردو)
|
|
|
|
| 14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (09-11-11), skjatala (19-12-11), فیصل ناصر (09-11-11), کنعان (09-11-11), یاسر عمران مرزا (09-11-11), مرزا عامر (09-11-11), احمد بلال (09-11-11), بنت حوا (04-12-11), حسن قادری (09-11-11), رضی (09-11-11), سحر (09-11-11), شمشاد احمد (09-11-11), عادل سہیل (03-12-11), عبداللہ آدم (04-12-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,543
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عباد بن عباد بصری نے ، اور یہ عباد کے لڑکے ہیں ، ابوجمرہ ( نصر بن عمران ) کے ذریعہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ، انھوں نے کہا کہ عبدالقیس کا وفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ ہم اس ربیعہ قبیلہ سے ہیں اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں ، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی بات کا ہمیں حکم دیجیئے ، جسے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھ لیں اور اپنے پیچھے رہنے والے دوسرے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دے سکیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں ، پہلے خدا پر ایمان لانے کا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، اور دوسرے نماز قائم کرنے کا ، تیسرے زکوٰۃ دینے کا ، اور چوتھے جو مال تمہیں غنیمت میں ملے ، اس میں سے پانچواں حصہ ادا کرنے کا اور تمہیں میں تونبڑی حنتم ، قسار اور نقیر کے استعمال سے روکتا ہوں ۔
آخری لائن کی تفصیل چاہیے ۔
__________________
![]() عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟ سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟ |
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
رضی بھائی آپ کے سوال کا جواب یہاں ہے ، والسلام علیکم۔ |
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,139
کمائي: 12,572
شکریہ: 3,450
702 مراسلہ میں 1,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| arabic, color, ہے۔, ہے،, کوئی, گالی, وسلم, لگا, نفرت, موقع, آدمی, اللہ, اردو, جائے, حدیث, خلاف, دفعہ, دیں, دے, رسول, شخص, ظالم, عربی, عرض, صحابہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|