واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > مطالعہ حدیث




علم طلب کرو خواہ چین سے ، تحقیقی جائزہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-08-07, 01:24 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb علم طلب کرو خواہ چین سے ، تحقیقی جائزہ

علم طلب کرو خواہ چین سے ، تحقیقی جائزہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہُ ،
چند دِن پہلے بھائی عبداللہ حیدر صاحب نے ایک مراسلہ بعنوان ''' علم کے حصول کے لیے چین جانا ، ایک گھڑی ہوئی حدیث''' ارسال کیا تھا ، جِسے پڑھ کر کئی پڑھنے والوں کے لیے اِس بات کو قُبُول کرنے میں مشکل ہو رہی ہے ، قطع نظر اِس کے کہ اُن کی مشکل کا سبب یا اسباب کیا اور کیوں ہیں ، یہ مُناسب معلوم ہوتا ہے کہ اِس موضوع کی کُچھ تفصیل سامنے لائی جائے ، یہ بات جو بطورِ حدیث
بیان کی جاتی ہے کہ ::: اُطلُبُوا العِلمَ و لَو بِالصِّینِ ::: عِلم طلب کرو خواہ چین سے(یعنی خواہ چین جانا پڑے ) ::::
گو کہ اِس مقولے کی کمزوری کے عقلی دلائل بھی دیے جا سکتے ہیں لیکن دِین کے معاملات کو عقل پر پرکھنا عموماً غلطی کا باعث ہوتا ہے اِسی لیے نقل کو معیار بنایا گیا ہے اور پھر نقل ہو کر آنے والی ہر بات کو جانچنے پرکھنے کے لیے کسوٹیاں مقرر ہیں ، یہ اُنکی تفصیل کا نہ تو مُقام ہے نہ ہی وقت،
اِمام ابن الجوزی نے ا ِس مقولے کے بارے میں ''' الموضوعات ''' میں اِمام ابن حبان کا قول لکھا کہ ''' یہ بات باطل ہے اور اِس کی کوئی اصل نہیں'' ،،، میں نے رجب کے بارے میں مَن گھڑت احادیث کے دو مضامین میں امام ابن حبان کا حدیث پر کمزوری یا جھوٹی ہونے کے بارے میں بیان کیا تھا کہ امام ابن حبان حدیثوں کو صحیح قرار دینے میں نرمی سے کام لیتے تھے اور اِس نرمی کے باوجود اگر وہ کسی حدیث کو کمزور یا باطل قرار دیں تو اُنکی بات کافی مضبوط ہوتی ہے، اِس بات کا ذِکر ''' ماہ رجب کی کونسی بہاریں اور فضلیتں'''
میں بھی کِیا گیا تھا ،
یہ مندرجہ بالاحدیث ، اِن کتابوںمیں روایت کی گئی ہے ، اِمام ابو نعیم الاصبہانی کی ''اخباراصبہان''' اِمام ابن علیک کی '' الفوائد '' اِمام الخطیب البغدادی کی '' تاریخ بغداد '' اِمام البیہیقی کی '' المدخل '' اور اِمام ابن عبدالبر کی '' جامع بیان العِلم '' اور پھر کئی اور کتابوں میں نقل کی گئی ، سب روایات کی سندیں ایک مُقام پر مشترک ہو یہ ایک سند بن جاتی ہے ::: حسن بن عطیہ کے ذریعے ، کہ اُس نے ابو عاتکہ طریف بن سلیمان سے سُنا ، کہ وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہُ کے ذریعے روایت کرتا کہ ،،،،،،
اِس سند کے مرکزی اور مشترک راوی ابو عاتکہ طریف بن سلیمان کے بارے میں اِمام البخاری نے ''تاریخ الکبیر ''میں کہا '' مُنکر الحدیث '' یعنی اِسکی حدیث مُنکر ہے ،،، '' الجرح و تعدیل '' میں اِمام ابو حاتم محمد بن اِدریس الرازی نے '' ضعیف الحدیث '' یعنی اِس کی بیان کردہ حدیث کمزور ہے ،،،
اِس حدیث کی دو اور سندیں بھی امام السیوطی نے '' اللآلی ''' میں ذِکر کئی ہیں ، جِن میں سے ایک میں''' یعقوب بن اِسحاق بن اِسماعیل العسقلانی ''' نامی راوی ہے جِسے اِمام الذہبی نے '' جھوٹا '' قرار دِیا ، اور دوسری سند میں ''' احمد بن عبداللہ الجُویباری ''' نامی راوی ہے جِسے خود اِمام السیوطی نے ''' حدیث گھڑنے والا ''' کہا ۔اختصار کے پیش نظر میں نے تفصیل سے حوالہ جات کا ذِکر نہیں کِیا ، کِسی کے پاس اگر اِس مِن گھڑت روایت کی اِن ناقابل اعتبار سندوں کے عِلاوہ کوئی اور سند ہو براہِ مہربانی مجھے اُس کی اطلاع کرے اور اگر نہیں ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے تقاضے کو پورا کیجیئے اور اُن کی ذاتِ مبارک سے کوئی ایسا قول یا فعل منسوب ہونے سے روکیئے جو اُن صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ۔ السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ، طلبگارِ دُعا ، عادِل سُہیل ظفر۔

Last edited by عادل سہیل; 16-02-10 at 12:02 AM.
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (04-03-11), عبداللہ حیدر (16-02-10)
جواب

Tags
color, چین, نظر, ماہ رجب, محبت, معلوم, اللہ, بھائی, حدیث, حسن, دُعا, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:53 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger