واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > مطالعہ حدیث




عورتوں کا خسارہ "حدیث"

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-06-09, 03:31 PM   #1
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default عورتوں کا خسارہ "حدیث"

عورتوں کا خسارہ "حدیث"

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدٌ ـ هُوَ ابْنُ أَسْلَمَ ـ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَضْحًى ـ أَوْ فِطْرٍ ـ إِلَى الْمُصَلَّى، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ، فَإِنِّي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْنَ وَبِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ ‏"‏‏.‏ قُلْنَ وَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ ‏"‏‏.‏ قُلْنَ بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا، أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ ‏"‏‏.‏ قُلْنَ بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا ‏"‏‏.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا :
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحیٰ یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا :
اے عورتوں کی جماعت ! صدقہ کرو ، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ، ایسا کیوں ؟
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:
تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو ، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے ، میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔
عورتوں نے عرض کیا : ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے یا رسول اللہ ؟
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا :
کیا عورت کی گواہی ، مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟
انہوں نے کہا : جی ہے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پوچھا :
کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے ، نہ روزہ رکھ سکتی ہے؟
عورتوں نے کہا : ایسا ہی ہے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔
صحيح بخاري
كتاب الحیض
باب : ترك الحائض الصوم
حدیث : 305
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (24-01-12), یاسر عمران مرزا (24-01-12), نبیل خان (25-01-12), تبتیلا انجم (25-01-12), زارا (24-01-12), سحر (03-06-09), عبداللہ آدم (24-01-12)
پرانا 24-01-12, 10:06 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا :
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحیٰ یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا :
اے عورتوں کی جماعت ! صدقہ کرو ، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔
لیکن رسول اللہ کو غیب کا علم ہی نہیں‌تھا۔
مجھے نہیں‌ معلوم کے میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ؟؟؟ اور کیا کیا جائے گا تمہارے ساتھ؟؟
یہ آیت رسول اکرم کی زبان مبارک سے ادا ہوئیں۔

46:9 قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ
ان سے کہیے، نہیں ہوں میں کوئی نرالا رسول اور مجھے نہیں معلوم کہ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور نہ (وہ جو کیا جائے گا) تمہارے ساتھ نہیں پیروی کرتا میں مگر اس وحی کو جو بھیجی جاتی ہے میری طرف اور نہیں ہوں میں مگر صاف صاف خبردار کرنے والا۔

تو ان عورتوں‌کے بارے میں جناب کو کیسے پتہ چلا؟؟؟‌ صرف اس لئے کہ کسی نے یہ روایت اللہ کے فرمان قرآن، جو نبی اکرم کی زبان سے ادا ہوا ۔ اس کے خلاف گھڑی
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ، ایسا کیوں ؟
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:
تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو ، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے ، میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔
رسول اکرم کی زبان مبارک سے درج ذیل آیات الہی ہم تک پہنچیں،
چاہے مرد ہو یا عورت ، نیکی کا بدلہ اور بدی کا بدلہ مساوی
مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزَى إِلَّا مِثْلَهَا وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ
جس نے برائی کی تو اسے بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر صرف اسی قدر، اور جس نے نیکی کی، خواہ مرد ہو یا عورت اور مومن بھی ہو تو وہی لوگ جنّت میں داخل ہوں گے انہیں وہاں بے حساب رِزق دیا جائے گا

9:71 وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَـئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّهُ إِنَّ اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں۔ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے

مومن مرد مومن عورتیں، دونوں‌میں‌کوئی فرق نہیں ۔ دونوں‌ نیک اور جنت کے مساوی حقدار۔
إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا
بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مومن مَرد اور مومن عورتیں، اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، اور صدق والے مرد اور صدق والی عورتیں، اور صبر والے مرد اور صبر والی عورتیں، اور عاجزی والے مرد اور عاجزی والی عورتیں، اور صدقہ و خیرات کرنے والے مرد اور صدقہ و خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، اللہ نے اِن سب کے لئے بخشِش اور عظیم اجر تیار فرما رکھا ہے

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
عورتوں نے عرض کیا : ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے یا رسول اللہ ؟
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا :
کیا عورت کی گواہی ، مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟
عورت کی گواہی ، مرد کی گواہی سے نصف ہے
یہ جملہ سارے قرآن میں کہیں‌ موجود نہیں ۔۔

یہ ضرور ہے کہ مستقبل کے کنٹریکٹ‌لکھتے ہوئے ، خواتین کو مردوں کی چالبازی سے بچانے کے لئے گواہ عورت کی مدد دوسری عورت کردے۔ لیکن اللہ تعالی نے عورت کی گواہی کو نصف گواہی کہیں‌قرار نہیں‌دیا۔

دنیا میں‌تین طرح کے قوانین ہوتے ہیں ۔
1۔ پینل کوڈ - مجرمانہ جرائم کے قوانین۔ قرآن کا تقاضہ ۔۔۔۔ 4 گواہ۔ مرد و عورت کی تمیز سے بالا تر۔ مرد و عورت کی گواہی برابر
2۔ سول کوڈ -- سول یا دیوانی معاملات کے قوانینِ --- دو عدد حکم ، یا گواہ ، مرد و عورت کی تمیز سے بالا تر۔ ۔۔۔ مرد و عورت کی گواہی برابر۔
3۔ کنٹریکٹس -- باہمی عہد نامہ جو دو افراد کے درمیان قانون قرار پاتے ہیں۔ دو گواہ ، البتہ خواتین کو دباؤ سے بچانے کے لئے مددگار۔

مردوںکے چالبازی، دھونس ، دھڑلے اور ذاتی خواہشات کی پیروی کی صورت میں ، خاتون گواہ کی مددگار ، ایک حکمت سے بھرپور عمل ہے نا کہ نصف گواہی۔؟؟؟؟

چار گواہ ؟؟؟؟‌ کیا مرد کی گواہی چوتھائی ہے ۔1400 سال میں‌کتنے لوگوں کو 80 درے لگے ہیں ؟؟؟
24:4 وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر (بدکاری کی) تہمت لگائیں پھر چار گواہ پیش نہ کر سکیں تو تم انہیں اسّی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو، اور یہی لوگ بدکردار ہیں

دو گواہ کیوں‌؟؟؟‌کیا مردوں کی گواہی نصف ہے ؟
5:107 فَإِنْ عُثِرَ عَلَى أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا فَآخَرَانِ يِقُومَانُ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الأَوْلَيَانِ فَيُقْسِمَانِ بِاللّهِ لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِن شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ
پھر اگر اس (بات) کی اطلاع ہو جائے کہ وہ دونوں (صحیح گواہی چھپانے کے باعث) گناہ کے سزاوار ہو گئے ہیں تو ان کی جگہ دو اور (گواہ) ان لوگوں میں سے کھڑے ہو جائیں جن کا حق پہلے دو (گواہوں) نے دبایا ہے (وہ میت کے زیادہ قرابت دار ہوں) پھر وہ اللہ کی قَسم کھائیں کہ بیشک ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے اور ہم (حق سے) تجاوز نہیں کر رہے، (اگر ایسا کریں تو) ہم اسی وقت ظالموں میں سے ہو جائیں گے

5:106 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَأَصَابَتْكُم مُّصِيبَةُ الْمَوْتِ تَحْبِسُونَهُمَا مِن بَعْدِ الصَّلاَةِ فَيُقْسِمَانِ بِاللّهِ إِنِ ارْتَبْتُمْ لاَ نَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَلاَ نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللّهِ إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الْآثِمِينَ
اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کی موت آئے تو وصیت کرتے وقت تمہارے درمیان گواہی (کے لئے) تم میں سے دو عادل شخص ہوں یا تمہارے غیروں میں سے (کوئی) دوسرے دو شخص ہوں اگر تم ملک میں سفر کر رہے ہو پھر (اسی حال میں) تمہیں موت کی مصیبت آپہنچے تو تم ان دونوں کو نماز کے بعد روک لو، اگر تمہیں (ان پر) شک گزرے تو وہ دونوں اللہ کی قَسمیں کھائیں کہ ہم اس کے عوض کوئی قیمت حاصل نہیں کریں گے خواہ کوئی (کتنا ہی) قرابت دار ہو اور نہ ہم اللہ کی (مقرر کردہ) گواہی کو چھپائیں گے (اگر چھپائیں تو) ہم اسی وقت گناہگاروں میں ہو جائیں گے

مجرمانہ قوانین میں‌ چار گواہ، عورت مرد کی تمیز کے بغیر
دیوانی قوانین میں دو گواہ۔ عورت مرد کی تمیز کے بغیر
آپسی معاملات میں‌ دو مرد -- ورنہ مرد کے دباؤ سے بچانے والی ایک اور عورت۔

لہذا یہ ناممکن ہے کہ رسول اکرم عورت کی گواہی کو سارے قسم کے معاملات میں نصف قرآر دیں۔ یہ دشمنان اسلام کی مسموم حرکت ہے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
انہوں نے کہا : جی ہے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پوچھا :
کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے ، نہ روزہ رکھ سکتی ہے؟
ناپاکی اور نجاست کا فیصلہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے ۔ اس میں کسی محترم خاتون کا کوئی قصور نہیں‌ہے ۔ وہ جس کو چاہتا ہے نر اور مادہ بناتا ہے لہذا عورتوں کو کسی طور بھی اس کا قصور وار نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔۔ یہ دشمنان اسلام کی مسموم حرکت ہے کہ ایک بزرگ نبی سے وہ باتیں منسوب کررہے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
عورتوں نے کہا : ایسا ہی ہے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔
صحيح بخاري
كتاب الحیض
باب : ترك الحائض الصوم
حدیث : 305
اس روایت کے تمام کے تمام مندرجات قرآن کے خلاف ہیں ۔ صاحب قرآن سے کہ جن کی زبان مبارک سے اللہ تعالی کا کلام ہم تک پہنچا، ایسی کسی بات کی توقع نہیں‌کی جاسکتی جو قرآن کے صاف صاف خلاف ہو۔

درج ذیل آیت رسول اکرم کی زبان مبارک سے ادا ہو۔۔ کیا رسول اکرم عورتوں کو اذیت دینے والی کوئی بات کرسکتے تھے؟؟؟
33:58 وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا
اور جو لوگ مومِن مَردوں اور مومِن عورتوں کو اذیتّ دیتے ہیں بغیر اِس کے کہ انہوں نے کچھ (خطا) کی ہو تو بیشک انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ (اپنے سَر) لے لیا

بیٹھے بٹھائے ، ان عورتوں‌کو رسول اکرم کس طرح اذیت دے سکتے تھے؟؟؟؟

منطقی نکتہ نگاہ
پھر منطقی نکتہ نگاہ سے "نصف گواہی" اور "حیض" کس طرح‌ عورتوں‌کو دوزخ میں پہنچا سکتے ہیں‌۔ یہ تو کسی بھی طوالتِ عذر سے ثابت نہیں‌کیا جاسکتا ۔۔۔۔۔ ان وجوہات کی وجہ سے دوزخ‌میں عوتیں‌بھری جائیں گی۔ ایک طرف رسول اکرم صلعم جیسا بزرگ او ر حکیم نبی کہ جس کے ساتھ اللہ تعالی کی مدد شامل۔ وہ ایسی بے معانی اور بے ربط باتیں کس طور کرسکتے ہیں؟ کہ نصف گواہی اور حیض‌کی وجہ سے عورتیں‌ جہنم میں‌ ڈال دی جائیں گی‌؟

یہ واضح‌ہے کہ یہ دشمنان اسلام کی گھڑی ہوئی روایت ہے ۔ کہ قرآن حکیم کے کسی بھی اصول پر یا منطقی نکتہ نگاہ سے مظبوط نہیں ہے ۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 24-01-12 at 10:17 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (24-01-12), مرزا عامر (26-01-12)
پرانا 24-01-12, 10:42 AM   #3
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔DUPLICATE..................

Last edited by حیدر Rehan; 24-01-12 at 11:34 AM.
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (24-01-12)
پرانا 24-01-12, 10:43 AM   #4
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

فاروق بھائی آپ نے تقریبا درست کہا اور آیات کے ساتھ منطقی فیصلہ بھی تقریبا درست ہی ہے۔

اس بات کے لیے قران میں ایک اور آیت بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپ تحریر کردیں موضوع سے مطعلق رہے گی۔

قانون وراثت کی اُس ایت سے
میں ایسا ہی سمجھتا اور مانتا ہوں کہ ’عورت کا ایک حصہ ہے اور مردوں کا دو حصہ‘
اور اسی آیت سے عام لوگ یہ مراد لیتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ ’عورت کا حصہ ادھا حصہ ہے‘

اگرچہ وراثت کے قانون میں بات ایک ہی بنے گی مگر عورتوں کو کمتر دکھایا جاتا ہے کہ ’عورت کا وراثت میں ادھا حصہ ہے‘

کچھ روشنی ڈالیں ۔۔۔
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (24-01-12), فاروق سرورخان (24-01-12), مرزا عامر (26-01-12)
پرانا 24-01-12, 10:53 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

برادر محترم،

آپ کی حوالہ کردہ آیت سے وراثت میں حصہ میں فرق ہو سکتا ہے ۔ لیکن یہ آیت بھی کوئی وجہ نہیں بن سکتی کہ اس کی وجہ سے عورتوں کو جہنم میں‌ڈال دیا جائے۔ یہ ایک حکمت سے بھرپور آیت ہے۔ اس پر بھی بات کریں‌گے۔ یہ کسی قسم کی رینڈم آیت نہیں۔ عورت کی عمر میں‌ہونے والے واقعات میں ، شادی، طلاق، بیوگی اور وراثت کے "مواقع"‌ بہت ہی بڑے "مواقع"‌ ہیں۔ ان موقعوں پر خواتین کے حقوق کی ایک مکمل حفاظت اللہ تعالی نے انتہائی حکمت سے فرمائی ہے ۔ لیکن اجازت دیجئے کہ ہم فی الحال ہم اس روایت کے مندرجات پر غور کریں ۔ آپ کی اشارہ کردہ روایت پر ایک مربوط تبصرہ انشاء اللہ کسی اور دھاگے میں۔

مجھے نبی اکرم سے عقیدت و محبت ہے کہ جناب اللہ تعالی کے ایک بزرگ نبی تھے ۔۔ حکمت و عقل سے بھرپور ایک ہستی تھے ۔۔۔ ایسی بے ربط باتیں جناب کا خاصہ نہیں‌تھی۔ سیرت نبوی کا ایک معمولی طالب علم بھی رسول اکرم کی شخصیت پہچان سکتا ہے اور بلا شبہ یہ کہہ سکتا ہے کہ اس عظیم المرتبت نبی کی شخصیت کے افکار میں اور اس روایت میں کوئی ربط نہیں‌۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (24-01-12), فیصل ناصر (24-01-12), پاکستانی (24-01-12), مرزا عامر (27-01-12), حیدر Rehan (24-01-12)
پرانا 24-01-12, 04:11 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
پھر منطقی نکتہ نگاہ سے "نصف گواہی" اور "حیض" کس طرح‌ عورتوں‌کو دوزخ میں پہنچا سکتے ہیں‌۔ یہ تو کسی بھی طوالتِ عذر سے ثابت نہیں‌کیا جاسکتا ۔۔۔۔۔ ان وجوہات کی وجہ سے دوزخ‌میں عوتیں‌بھری جائیں گی۔ ایک طرف رسول اکرم صلعم جیسا بزرگ او ر حکیم نبی کہ جس کے ساتھ اللہ تعالی کی مدد شامل۔ وہ ایسی بے معانی اور بے ربط باتیں کس طور کرسکتے ہیں؟ کہ نصف گواہی اور حیض‌کی وجہ سے عورتیں‌ جہنم میں‌ ڈال دی جائیں گی‌؟

یہ واضح‌ہے کہ یہ دشمنان اسلام کی گھڑی ہوئی روایت ہے ۔ کہ قرآن حکیم کے کسی بھی اصول پر یا منطقی نکتہ نگاہ سے مظبوط نہیں ہے ۔
عورتوں کی نصف گواہی پر بات تو پھر کبھی سہی۔ فی الوقت تو اس جانب توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں‌کہ ہمارے کرم فرما خاں صاحب اینڈ پارٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان باندھنے میں‌کس قدر جرات مند اور دیدہ دلیر ہیں۔ کھلی آنکھوں میں‌دھول جھونکتے ہیں۔ درج بالا اقتباس میں‌خاں صاحب حدیث‌کو موڑ توڑ کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‌گویا حدیث‌میں‌حیض اور نصف گواہی کی وجہ سے خواتین کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ حالانکہ حدیث کے الفاظ‌ جو سہج صاحب کی پہلی پوسٹ میں‌پیش کئے گئے ، وہ یہ ہیں:

يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ، فَإِنِّي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْنَ وَبِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ ‏"‏‏.‏ قُلْنَ وَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ ‏"‏‏.‏ قُلْنَ بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا، أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ ‏"‏‏.‏ قُلْنَ بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا ‏"‏‏.

اے عورتوں کی جماعت ! صدقہ کرو ، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ، ایسا کیوں ؟
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:
تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو ، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے ، میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔
عورتوں نے عرض کیا : ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے یا رسول اللہ ؟
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا :
کیا عورت کی گواہی ، مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟
انہوں نے کہا : جی ہے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پوچھا :
کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے ، نہ روزہ رکھ سکتی ہے؟
عورتوں نے کہا : ایسا ہی ہے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔


اس حدیث‌میں‌بہت سے سوالات و جوابات مذکور ہیں۔ پہلا سوال خواتین کی جانب سے یہ کیا گیا کہ ہم جہنم میں کیوں‌جائیں‌گی، تو اس کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ‌میں‌دیا:

‏"‏ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ
تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔

اس کے بعد اگلا جملہ اضافی ہے۔ جس میں‌اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ
باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے ، میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔

اور پھر خواتین نے دوبارہ سوال کیا کہ عقل اور دین میں‌ناقص ہونے کا کیا مطلب۔ جس کے جواب میں‌ آدھی گواہی کو عقل کا نقصان اور حیض کو دین کا نقصان قرار دیا گیا۔ اس آخری سوال و جواب کا تعلق جہنم میں‌ خواتین کی کثرت سے نہیں ہے۔ وہ سوال جواب تو پہلے گزر چکا۔

اور ہمارے یہ احباب بغض‌ احادیث میں‌ صحیح کو غلط کر دکھانے کی فکر میں‌اندھے ہوئے جاتے ہیں۔ کہیں کی اینٹ، کہیں کا روڑا اٹھا کر بھان متی کا کنبہ جوڑتے ہیں‌اور پھر جذباتی اپیلیں‌شروع کر دیتے ہیں‌کہ یہ تو خلاف قراآن و خلاف عقل ہے ایک بزرگ نبی سے ایسا کلام صادر نہیں ہو سکتا وغیرہ۔

حالانکہ آپ یہی حدیث‌ ترجمہ کے ساتھ کسی بھی عام شخص کے سامنے رکھ کر پولنگ کروا لیجئے سو میں‌سے ایک بھی یہ نہیں‌کہے گا کہ یہاں خواتین کے جہنم میں‌جانے کی کثرت کو عقل و دین کے نقصان والی بات سے مربوط کیا گیا ہے۔ بلکہ ہر شخص اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ اس حدیث‌کے اعتبار سے خواتین کی کثیر تعداد کے دوزخ میں‌جانے کا سبب کثرت لعن طعن اور شوہروں‌کی نافرمانی ہے۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (24-01-12), skjatala (24-01-12), کنعان (24-01-12), نبیل خان (25-01-12), حیدر Rehan (25-01-12), عبداللہ حیدر (24-01-12)
پرانا 25-01-12, 03:17 AM   #7
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں


لیکن رسول اللہ کو غیب کا علم ہی نہیں‌تھا۔


یہ واضح‌ہے کہ یہ دشمنان اسلام کی گھڑی ہوئی روایت ہے ۔ کہ قرآن حکیم کے کسی بھی اصول پر یا منطقی نکتہ نگاہ سے مظبوط نہیں ہے ۔

والسلام
وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَن بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنبَأَكَ هَذَا قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ
66:3
اور جب نبئ (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ایک زوجہ سے ایک رازدارانہ بات ارشاد فرمائی،
پھر جب وہ اُس (بات) کا ذکر کر بیٹھیں
اور اللہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اسے ظاہر فرما دیا
تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں اس کا کچھ حصہ جِتا دیا
اور کچھ حصہ (بتانے) سے چشم پوشی فرمائی،
پھر جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں اِس کی خبر دے دی (کہ آپ راز اِفشاء کر بیٹھی ہیں)
تو وہ بولیں:
آپ کو یہ کس نے بتا دیا ہے؟
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا
کہ مجھے بڑے علم والے بڑی آگاہی والے (رب) نے بتا دیا ہے
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-01-12), ننھا بچہ (29-01-12), نبیل خان (25-01-12), مرزا عامر (26-01-12), مسٹر شیف (25-01-12), احمد نذیر (26-01-12), حیدر Rehan (25-01-12), شکاری (25-01-12), عبداللہ حیدر (25-01-12)
پرانا 25-01-12, 02:22 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ لکھا جاچکا ہے کہ ما سوائے وحی کے رسول اللہ صلعم کو غیب کا علم نہیں‌تھا۔ وحی ، صرف وہ ہے جو کہ قرآن حکیم میں موجود ہے۔ لہذا اس امر کی کوئی گواہی قران حکیم سے نہیں‌ملتی کہ اللہ تعالی نے رسول اکرم کو یہ مطلع فرمایا کہ جنت یا دوزخ ، لعن طعن کرنے والی عورتوں سے بھرے ہے ۔ یا ان کی اللہ تعالی کی طرف سے ودیعت شدہ جسمانی کمزوری ، یا اللہ تعالی کی طرف سے فراہم کردہ حکمت کی وجہ سے ۔ یہ دونوں وجوہات ، لعن طعن کا سبب نہیں اور نا ہی جنت یا دوزخ‌میں جانے کا تصفیہ اس سے ہوگا۔

1۔ کیا رسول اللہ کو غیب کا علم بغیر وحی کے تھا؟
2۔ جنت یا دوزخ کا تصفیہ کیسے ہوگا؟ لعن طعن کی وجہ سے یا حیض کی وجہ سے ؟ یا پھر نیک یا بد کاموں‌کی وجہ سے ؟
3۔ کیا رسول اللہ صلعم وحی کردہ اللہ تعالی کا فرمان ، قرآن سے باہر چھپا کر رکھتے تھے؟

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-01-12), مرزا عامر (26-01-12)
پرانا 25-01-12, 06:40 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
یہ لکھا جاچکا ہے کہ ما سوائے وحی کے رسول اللہ صلعم کو غیب کا علم نہیں‌تھا۔ وحی ، صرف وہ ہے جو کہ قرآن حکیم میں موجود ہے۔ لہذا اس امر کی کوئی گواہی قران حکیم سے نہیں‌ملتی کہ اللہ تعالی نے رسول اکرم کو یہ مطلع فرمایا کہ جنت یا دوزخ ، لعن طعن کرنے والی عورتوں سے بھرے ہے ۔ یا ان کی اللہ تعالی کی طرف سے ودیعت شدہ جسمانی کمزوری ، یا اللہ تعالی کی طرف سے فراہم کردہ حکمت کی وجہ سے ۔ یہ دونوں وجوہات ، لعن طعن کا سبب نہیں اور نا ہی جنت یا دوزخ‌میں جانے کا تصفیہ اس سے ہوگا۔
چلیں آپ نے ڈھکے چھپے الفاظ‌میں‌اتنا تو مانا کہ گزشتہ پوسٹ‌میں‌آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر واقعی بہتان باندھا تھا اور حدیث‌کے الفاظ‌سے غلط مفہوم کشید کر کے اسے منطق کے خلاف قرار دیا تھا۔ فللہ الحمد۔

وحی قرآن کے علاوہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آتی تھی۔ اور اس بات کے خود قرآن ہی میں‌ثبوت موجود ہیں۔ لیکن اس پر بات چیت بحث کا ایک نیا دروازہ کھول دے گی، لہٰذا اس سے اجتناب کرتے ہوئے آگے چلتے ہیں۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
1۔ کیا رسول اللہ کو غیب کا علم بغیر وحی کے تھا؟
2۔ جنت یا دوزخ کا تصفیہ کیسے ہوگا؟ لعن طعن کی وجہ سے یا حیض کی وجہ سے ؟ یا پھر نیک یا بد کاموں‌کی وجہ سے ؟
3۔ کیا رسول اللہ صلعم وحی کردہ اللہ تعالی کا فرمان ، قرآن سے باہر چھپا کر رکھتے تھے؟
1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کی خبریں بذریعہ وحی بتائی جاتی تھیں:
مَّا كَانَ اللّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ فَآمِنُواْ بِاللّهِ وَرُسُلِهِ وَإِن تُؤْمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
الله مسلمانوں کو اس حالت پر رکھنا نہیں چاہتا جس پر اب تم ہو جب تک کہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کر دے اورالله کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کر دے لیکن الله اپنے رسولوں میں جسے چاہے چن لیتا ہے سو تم الله اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے۔

غیب کے مسئلے میں افراط و تفریط سے بچنا ضروری ہے۔ تفصیلات کے لئےیہ مفصل مضمون ملاحظہ کیجئے۔

2۔ جنت یا دوزخ‌کا فیصلہ بے شک نیک یا بد کاموں کی وجہ سے ہوگا۔ اور لعن طعن بھی تو بد کام ہی ہے، (یا آپ کے نزدیک لعن طعن اچھے کاموں میں‌شامل ہے تو وضاحت کیجئے)جہنم میں‌ خواتین کی اکثریت اگر اس فعل بد کی وجہ سے جاتی ہے تو یہ کس قرآنی قانون کی مخالفت ہے؟

3۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کا وحی کردہ فرمان چھپا کر نہیں رکھتے تھے، بلکہ انہوں نے تو وضاحت سے بتا دیا جو بھی ان پر وحی ہوئی اور قرآنی آیت بھی شاہد ہے کہ یہ نبی غیب کی خبریں بتانے میں بخیل نہیں۔ (التکویر 24)۔ اور غیب کی یہ خبریں بصورت احادیث ہم تک بھی پہنچ گئیں۔ ہاں جو لوگ تعصب اور مخالفت رسول میں صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ کی عملی تصویر ہو چکے ہوں، ان سے ضرور مخفی ہوں گی۔

Last edited by فیصل ناصر; 25-01-12 at 08:53 PM. وجہ: لنک نکالا گیا
شکاری آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
کنعان (26-01-12), نبیل خان (25-01-12), حیدر Rehan (26-01-12)
پرانا 26-01-12, 01:06 AM   #10
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
1۔ کیا رسول اللہ کو غیب کا علم بغیر وحی کے تھا؟
سوال کرنے پر جواب ملنے کے بعد اکثر ڈکشنری والوں کا حال ایسا ہی ہوتا ھے، پھر مزید ایک لمبی لسٹ سوالوں کی لگا دیتے ہیں آپ پہلے یہ بات دیں کہ آپکی ڈکشنری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کا علم پر آپ کیا خلاصہ/مطلب لیتے ہیں۔


اقتباس:
3۔ کیا رسول اللہ صلعم وحی کردہ اللہ تعالی کا فرمان، قرآن سے باہر چھپا کر رکھتے تھے؟
تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں اس کا کچھ حصہ جِتا دیا
اور کچھ حصہ (بتانے) سے چشم پوشی فرمائی
،
66:3

Last edited by کنعان; 26-01-12 at 01:08 AM. وجہ: غ
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
حیدر Rehan (26-01-12), شکاری (26-01-12)
پرانا 26-01-12, 11:59 AM   #11
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
صحيح بخاري
كتاب الحیض
باب : ترك الحائض الصوم
حدیث : 305

فاروق بھائی اور راعنا عمار بھائی ۔۔
یعنی یہ جملے حدیث رسول ص ہی نہی ہیں‌ ؟
اب اگر یہ لوگ رسول اکرم ص پر جھوٹ باندھ رہے ہیں تو اس کا انجام تو بہت برا ہوگا؟
شاجھ بھائی نے غلط بات کو اگے بڑھایا ہے تو وہ بھی گناہ گار ہوگئے؟
شاجھ بھائی نے تو صحیح بخاری سے حدیث سمجھ کر کوئی بات لی ہے ’کوئی معافی ہوسکتی ہے ؟
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-01-12, 12:04 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سوالات پر لوگ ایسے ہی ناچنے لگتے ہیں ۔ کہ سوالات بھی ٹھیک سے نہیں‌کرسکتے ۔

اللہ کا فرمان ، نبی کی زبان مبارک سے ادا شدہ قرآن حکیم یہ گواہی دیتا ہے کہ نبی اکرم کو وحی شدہ غیب کے علم کے علاوہ کسی مزید غیب کا علم نہیں‌ تھا ۔ آپ حوالہ فراہم کرسکتے ہیں‌۔۔مجھے شبہ ہے ورنہ ایسے سوالات نہیں کررہے ہوتے

اللہ کا فرمان ، نبی کی زبان سے ادا شدہ قرآن حکیم یہ گواہی دیتا ہے کہ نبی تک جو بھی وحی آئی ، وہ جناب نے سب تک پہنچا دی۔ آ پ حوالہ فراہم کرسکتے ہیں؟؟؟؟؟ مجھے شبہ ہے ‌ ورنہ ایسے مہمل سوالات نہیں‌کررہے ہوتے


رہ گئی رسول اللہ صلعم پر بہتان باندھنے کی بات۔ ۔۔ تو آپ ثابت کردیجئے کہ یہ روایت ، رسول اکرم کی زبان سے ادا ہوئی۔ کس خلیفہ کی عدالت میں ا س روایت پر دو صحابہ نے گواہی دی ؟ کس خلیفہ نے اس پر مہر صاد کی کہ روایت شدہ واقعہ رسول اللہ صلعم کی زبان مبارک سے ادا ہوا تھا۔

کیا وجہ ہے کہ قرآن حکیم کی ہر آیت پر دو دو صحابہ کی گواہی ، دو عدد خلیفہ کی عدالتوں‌میں دی گئی ۔۔ اور اس خلاف قرآن روایت کو بناء گواہی تسلیم کرلیا جائے؟؟؟؟

اللہ تعالی کی طرف سے ودیعت کردہ فطرت ،عورت کی کمزوری --- حیض ۔۔۔ اس کے جہنم میں‌جانے کا باعث کیسے ؟
اللہ تعالی کی گواہی یہ ہے کہ سب کو ان کے اعمال کی وجہ سے سزا ملے گی نا کہ گواہی کی حکمت یا حیض کے باعث ؟؟؟؟

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 26-01-12 at 12:11 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-01-12), فیصل ناصر (26-01-12), مرزا عامر (26-01-12), حیدر Rehan (26-01-12)
پرانا 26-01-12, 06:38 PM   #13
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جان کی امن پاوں اور منکر حدیث کا لقب نہ پاوں تو کچھ عرض کروں ؟
عملی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ لعن طعن کرنے میں مرد عورتوں سے پیچھے نہیں ۔ فرقہ واریت کا شعبہ ہو ، آفس یا مختلف مسلکوں کی جنگ ہر جگہ مرد ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ اور غیبت میں تو صرف عورتیں بدنام ہیں ورنہ آدمی بھی کچھ کم نہیں -
اور ہاں دنیا میں بڑے بڑے ظلم اور جنگیں جو کہ لعن طعن سے کہیں زیادہ ہیں ان کے پیچھے مرد کا ہاتھ ہے ۔
تو پھر عورتیں جہنم میں کیوں پھونک دی جائیں گی۔؟
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-01-12), فیصل ناصر (26-01-12), فاروق سرورخان (26-01-12)
پرانا 26-01-12, 08:30 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default تو پھر عورتیں جہنم میں کیوں پھونک دی جائیں گی۔؟ کیونکہ وہ نحوست ہیں !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
جان کی امن پاوں اور منکر حدیث کا لقب نہ پاوں تو کچھ عرض کروں ؟
عملی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ لعن طعن کرنے میں مرد عورتوں سے پیچھے نہیں ۔ فرقہ واریت کا شعبہ ہو ، آفس یا مختلف مسلکوں کی جنگ ہر جگہ مرد ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ اور غیبت میں تو صرف عورتیں بدنام ہیں ورنہ آدمی بھی کچھ کم نہیں -
اور ہاں دنیا میں بڑے بڑے ظلم اور جنگیں جو کہ لعن طعن سے کہیں زیادہ ہیں ان کے پیچھے مرد کا ہاتھ ہے ۔
تو پھر عورتیں جہنم میں کیوں پھونک دی جائیں گی۔؟

تو پھر عورتیں جہنم میں کیوں پھونک دی جائیں گی۔؟ کیونکہ وہ نحوست ہیں !!!

41 - جہاد اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : (383)
گھوڑے کی نحوست کا بیان۔
حدثنا أبو اليمان أخبرنا شعيب عن الزهري قال أخبرني سالم بن عبد الله أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول إنما الشؤم في ثلاثة في الفرس والمرأة والدار.
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 124 حدیث مرفوع مکررات 21 متفق علیہ 12
ابوالیمان، شعیب، زہری، سالم بن عبداللہ ، عبداللہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے میں نے سنا کہ نحوست صرف تین چیزوں میں ہے گھوڑے میں عورت میں اور گھر میں۔
Narrated 'Abdullah bin 'Umar:
I heard the Prophet saying. "Evil omen is in three things: The horse, the woman and the house."
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
پرانا 26-01-12, 09:07 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
رہ گئی رسول اللہ صلعم پر بہتان باندھنے کی بات۔ ۔۔ تو آپ ثابت کردیجئے کہ یہ روایت ، رسول اکرم کی زبان سے ادا ہوئی۔ کس خلیفہ کی عدالت میں ا س روایت پر دو صحابہ نے گواہی دی ؟ کس خلیفہ نے اس پر مہر صاد کی کہ روایت شدہ واقعہ رسول اللہ صلعم کی زبان مبارک سے ادا ہوا تھا۔

کیا وجہ ہے کہ قرآن حکیم کی ہر آیت پر دو دو صحابہ کی گواہی ، دو عدد خلیفہ کی عدالتوں‌میں دی گئی ۔۔ اور اس خلاف قرآن روایت کو بناء گواہی تسلیم کرلیا جائے؟؟؟؟
آپ کی خلیفہ کی عدالت والی کسوٹی بہت خوب ہے۔ اس کا بھی آج محاکمہ کر لیتے ہیں۔ ذرا ہمیں بھی بتائیے کہ قرآن حکیم کی ہر آیت پر دو صحابہ کی گواہی دو عدد خلیفہ کی عدالتوں میں‌دی گئی، اس کا کوئی ایسا ثبوت پیش کر دیجئے جو ظنی نہ ہو بلکہ یقینی ہو۔ اور یقینی ایسے ہی ثابت ہو سکتی ہے، جب وہ ثبوت خود خلیفہ کی عدالت میں‌دو گواہوں کی موجودگی میں ثابت ہو۔

کتب احادیث‌اور کتب تاریخ میں‌لکھی گئی ظنی روایات نہ پیش کرنے بیٹھ جائیے گا، ورنہ آپ کو ان سب راویان حدیث‌پر ایمان لانا پڑے گا۔ جس دن آپ قرآن کی ہر ہر آیت کا خلیفہ کی عدالت میں پیشی اور دو صحابہ کرام کی گواہی کو ثابت کر لیں گے۔ اسی دن ہم سے ان احادیث‌پر بھی یہی سوال کر لیجئے گا۔ چلیں آپ کا کام آسان کر دیتے ہیں۔
ذرا ثابت کیجئے کہ سورہ روم کی آیت 54 میں لفظ‌ضعف جو تین مرتبہ آیا ہے۔ اس میں‌ض پر پیش ہے یا زبر۔ خلیفہ کی عدالت میں‌دو گواہوں کی موجودگی میں‌کیا لکھا گیا تھا، پیش یا زبر؟ کیونکہ برصغیر کے قرآنی مصاحف میں‌ یہاں‌ہمیشہ پیش لکھا جاتا ہے اور آپ نے اوپن برہان پر یہاں زبر لکھ رکھا ہے۔ ذرا جلدی سے صرف اسی ایک آیت کا خلیفہ کی عدالت اور دو گواہوں کی شرط والا اصول لاگو کر کے ہمیں ٹھوس ثبوت دکھا دیجئے تاکہ ہم بھی احادیث‌کو آپ کے معیار پر ثابت کرنے کی فکر کر سکیں۔ ورنہ مان لیجئے کہ جس طرح ہر ہر حدیث‌اس معیار پر پوری نہیں اتر سکتی، اسی طرح ہر ہر آیت بھی آپ کے پیش کردہ معیار پر پوری نہیں اترتی۔ اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ حدیث‌یا آیت ثابت نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا پیش کردہ معیار بجائے خود غلط ہے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اللہ تعالی کی طرف سے ودیعت کردہ فطرت ،عورت کی کمزوری --- حیض ۔۔۔ اس کے جہنم میں‌جانے کا باعث کیسے ؟
اللہ تعالی کی گواہی یہ ہے کہ سب کو ان کے اعمال کی وجہ سے سزا ملے گی نا کہ گواہی کی حکمت یا حیض کے باعث ؟؟؟؟
خاں صاحب،
ایک کام کرتے ہیں۔ ذرا کورس میں‌مل کر میرے ساتھ یہ آیت پڑھیں۔
لعنت اللہ علی الکاذبین
لعنت اللہ علی الکاذبین
لعنت اللہ علی الکاذبین

اب یہ کورس پورا کرنے کے بعد، ہمیں بتائیے کہ کس حدیث‌میں‌کہا گیا ہے کہ خواتین کو حیض یا آدھی گواہی کی وجہ سے جہنم میں ڈالا جائے گا؟ یا تو دلیل عنایت کیجئے، یا پھر یہی اوپر والا کورس دہرائیں۔ اگر ایمان کی رمق کہیں کسی کونے میں‌باقی ہوگی تو ضرور شرم آئے گی۔
شکاری آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-01-12), کنعان (28-01-12), ننھا بچہ (29-01-12), احمد نذیر (29-01-12), عبداللہ حیدر (26-01-12)
جواب

Tags
نماز, آدمی, اللہ, حدیث, روزہ, عقل, صدقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" Hashims Search Engines 8 02-09-11 03:24 PM
"ہرتیسری عورت اور پانچویں مرد کی ہڈیاں کھوکھلی" جاویداسد خبریں 0 14-11-10 12:48 PM
"کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا حیدر خبریں 6 11-10-10 04:49 PM
محکمہ "عوام "مارتا ہے ،افسر تنصیبا ت اڑ اتے ہیں جاویداسد خبریں 10 29-08-10 05:04 PM
ماں، مامتا اور عورت "کچھ تصاویر" shafresha گپ شپ 6 26-04-09 11:04 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:53 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger