|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا الجعيد بن عبد الرحمن، قال حدثني يزيد بن خصيفة، عن السائب بن يزيد، قال كنت قائما في المسجد فحصبني رجل، فنظرت فإذا عمر بن الخطاب فقال اذهب فأتني بهذين. فجئته بهما. قال من أنتما ـ أو من أين أنتما قالا من أهل الطائف. قال لو كنتما من أهل البلد لأوجعتكما، ترفعان أصواتكما في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے علی بن عبداللہ بن جعفر نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے جعید بن عبدالرحمن نے بیان کیا، انھوں نے کہا مجھ سے یزید بن خصیفہ نے بیان کیا، انھوں نے سائب بن یزید سے بیان کیا، انھوں نے بیان کیا کہ میں مسجد نبوی میں کھڑا ہوا تھا، کسی نے میری طرف کنکری پھینکی۔ میں نے جو نظر اٹھائی تو دیکھا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سامنے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ سامنے جو دو شخص ہیں انھیں میرے پاس بلا کر لاؤ۔ میں بلا لایا۔ آپ نے پوچھا کہ تمہارا تعلق کس قبیلہ سے ہے یا یہ فرمایا کہ تم کہاں رہتے ہو؟ انھوں نے بتایا کہ ہم طائف کے رہنے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم مدینہ کے ہوتے تو میں تمہیں سزا دئیے بغیر نہیں چھوڑتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آواز اونچی کرتے ہو؟ حدیث نمبر : 470 صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ حدثنا أحمد، قال حدثنا ابن وهب، قال أخبرني يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، حدثني عبد الله بن كعب بن مالك، أن كعب بن مالك، أخبره أنه، تقاضى ابن أبي حدرد دينا له عليه، في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد، فارتفعت أصواتهما حتى سمعها رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في بيته، فخرج إليهما رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى كشف سجف حجرته ونادى " يا كعب بن مالك، يا كعب". قال لبيك يا رسول الله. فأشار بيده أن ضع الشطر من دينك. قال كعب قد فعلت يا رسول الله. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قم فاقضه". ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انھوں نے کہا مجھے یونس بن یزید نے خبر دی، انھوں نے ابن شہاب زہری کے واسطہ سے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن کعب بن مالک نے بیان کیا، ان کو ان کے باپ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انھوں نے عبداللہ ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے ایک قرض کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسجد نبوی کے اندر تقاضا کیا۔ دونوں کی آواز کچھ اونچی ہو گئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے حجرہ سے سن لیا۔ آپ اٹھے اور حجرہ پر پڑے ہوئے پردہ کو ہٹایا۔ آپ نے کعب بن مالک کو آواز دی، اے کعب! کعب بولے۔ یا رسول اللہ! حاضر ہوں۔ آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ وہ اپنا آدھا قرض معاف کر دے۔ حضرت کعب نے عرض کی یا رسول اللہ! میں نے معاف کر دیا۔ آپ نے ابن ابی حدرد سے فرمایا اچھا اب چل اٹھ اس کا قرض ادا کر۔ حدیث نمبر : 471 صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ ::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::: تشریح : طائف مکہ سے کچھ میل کے فاصلہ پر مشہور قصبہ ہے۔ پہلی روایت میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو مسجدنبوی میں شوروغل کرنے پر جھڑکا اوربتلایا کہ تم لوگ باہر کے رہنے والے اورمسجد کے آداب سے ناواقف ہو اس لیے تم کو چھوڑدیتاہوں، کوئی مدینہ والا ایسی حرکت کرتا تو اسے بغیر سزادئیے نہ چھوڑتا۔ اس سے امام رحمۃ اللہ علیہ نے ثابت فرمایاکہ شوروغل کرنا آداب مسجد کے خلاف ہے۔ دوسری روایت سے آپ نے ثابت فرمایاکہ تعلیم رشد وہدایت کے لیے اگر آواز بلند کی جائے تو یہ آداب مسجد کے خلاف نہیں ہے۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلاکر ان کونیک ہدایت فرمائی۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرض خواہ مقروض کو جس قدر بھی رعایت دے سکتا ہے بشرطیکہ وہ مقروض نادار ہی ہو تو یہ عین رضائے الٰہی کا وسیلہ ہے۔ قرآن کریم کی بھی یہی ہدایت ہے۔ مگر مقروض کا بھی فرض ہے کہ جہاں تک ہوسکے پورا قرض ادا کرکے اس بوجھ سے اپنے آپ کو آزاد کرے۔
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | احمد بلال (29-01-10) |
![]() |
| Tags |
| color, ہے۔, فرض, کیسا, گئی, پہلی, قرآن, لوگ, نبوی, مکہ, مسجد نبوی, معلوم, آزاد, تقاضا, تعلیم, حدیث, خلاف, دیکھا, زہری, شخص, علی, عبداللہ, عبدالرحمن, عرض, صالح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کہیں ایسا نہ ہو دامن جلا لو | زارا | شعر و شاعری | 1 | 20-02-11 05:30 PM |
| سنوایسا نہیں کرتے!!! | شیراز احمد | شاعری اور مصوری | 3 | 15-07-09 10:13 AM |
| کیا ایسا ہو نہیں سکتا۔۔! | Zullu230 | ذوالفقار احمد خان | 4 | 19-05-08 01:24 PM |
| کوئٹہ : پروفیسر کیانی کی نماز جنازہ ،قتل کے شبہ میں دودرجن سے زائد مشتبہ ا | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 24-04-08 02:02 PM |
| حکمراں اتحاد صدر پرویز کیساتھ فاروق لغاری جیسا سلوک کرنے کیلئے تیار | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 18-04-08 07:49 AM |