|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,135
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جب تک انسان بات نہ کرے معلوم نہیں ہوسکتا کہ یہ کیا ہے اور کتنے پانی میں ہے کیونکہ خو بیاں اور خامیاں زبان کھلے کے بعد ظاہر ہوتی ہیں تصنیف وتالیف کی دنیا میں قلم بھی زبان کا کام دیتا ہے چناچہ آپ کسی کی تحریر پڑھ کر ہزاروں میل دور بیٹھکر بھی اسکی شخصیت لیاقت اہلیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں اگر ہم دیکھیں زباں سے بھی لفظ ہی نکلتے ہیں مگر تحریر اور تقریر میں یہ ہی فرق ہے کہ زبان سے نکلا ہوا لفظ سماعتوں پر اثر انداز ہو کر فضا میں تحلیل ہو جاتا ہے اسکی اچھی بری تا ثیر سا معین کی کیفیات و جذبات کو مجروح یا محفوظ تو ضرور کرتی ہے اور ایک وقت تک اس کا اثر بھی طبائع پر رہتا ہے لیکن بالواسطہ یا بلا وآسطہ جو سماعتیں اس لفظ سے آشنا ہوئیں وہ صرف سامع کی زندگی تک متاثر رہتی ہیں مر جانے پہ یہ سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے جبکہ قلم کی نوک سے ظاہر ہونے والا کلمہ تاریخ کے سینے پر نقش ہو جاتا ہے اور اس کلمے کی خوشگواری یا نا خوشگوار تا ثیر کسی نہ کسی حوا لے سے رہتی دنیا تک قائم رہتی ہے یعنی جبتک وہ تحریر باقی ہے اس کی اچھی بری تاثیر بھی باقی ہے ایک شاعر نے کہا ہے
یلوح الخط فی القرطاس دھرا،،،،،،،،،،،،،وکاتبہ رمیم فی التراب کاغذ پر قلم کے نقوش ایک عرصے تک رہ جاتے ہیں حالانکہ لکھنے والا مٹی میں مل جاتا ہے خیر القرون میں زیادہ زور حفظ پہ رہا قرآن حفظ کرنا رحمت عالم صل اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو یاد کرنامگر صحابہ کرام نے حفظ کیساتھ قرآن کو لکھا بھی جیسے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور میں قرآن کو جمع کرنے کا سلسلہ چلا تو کئی صحابہ کے پاس کچھ سورتیں لکھی ہوئی ملیں اسطرح قرآن جمع کیا گیا اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں جب حضرت حذیفہ رضی ا للہ عنہ نے آذر بایجان کے علاقے میں اسلامی لشکر کیساتھ گے اور وہاں لوگوں کا قرآت میں اختلاف دیکھا تو حضرت عثمان رضی اللہ کے پاس پہنچے اور فر ما یا یا امیر المو منین ادرک ھذہ الامہ اے امیر المومنین اس امت کو پیشتر کہ وہ کتاب اللہ میں اختلاف کرنے لگیں سنبھال لیجئے ایسا نہ ہو جیسا کہ یہود ونصاری نے اپنی اپنی آسمانی کتب میں اختلاف کرلیا( اور انکے فر قے بن گے ) ،،،،،،،مشکوۃ ص193 تحت فضائیل قرآن الفصل الاول،،،،،،، ان حالات کو مدنظر رکھ کر حضرت ابوبکر رضی اللہ والا مدون شدہ نسخہ منگواکر اسکے نسخے مدون کر واکر کوفہ بصرہ مدینہ مکہ مصر شام بحرین یمن الجزیرہ بھیج دئے البدایہ والنہایہ لابن کثیر ص 216 ج7 فصل فی مناقب عثمان فتح الباری شرح بخاری ص97ج9 تحت باب جمع القرآن اور شیعہ مورخ یعقوبی کی تاریخ یعقوبی ص170 ج2 تحت ایام عثمان بن عفان طبع بیروت 1960ء اسی لئے قرآن آج سینوں میں اور صحیفوں میں بھی محفوظ ہے اسیطرح دور نبوت ہی میں کتابت حدیث کا کام بھی شروع ہو چکا تھاخود رحمت عالم صل اللہ علیہ وسلم نےفرائض وسنن کیساتھ دیوانی اور فوجداری ضوابط لکھا کرلوگوں کو دئے اور احکام وسنن کی یہ کتا بیں حضور نبی کریم صل ا للہ علیہ وسلم کی جانب سےباہر کے لوگوں کے لئے اسلام شناسی کا ذریعہ بنیں چنابہ حافظ ابن عبد البر جامع بیان العلم میں رقمطراز ہیں حضور صل اللہ علیہ وسلم نےصدقات خون بہا فرائض اور سنن پر مشتمل دستاویز لکھوائی ( جامع بیان القرآن اردوص69 باب کتابت علم کی اجازت) اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نےفر مایا علم کو کتاب میں لکھاکرو ،،(جامع بیان القرآن ص70 ) حضرت عمروبن حزم رضی اللہ عنہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت عمروبن حزم رضی اللہ عنہ کو نجران کا کمشنر بنا کر بھیجااور اسکے بارے میں حافظ ابن عبد البر لکھتے ہیں کہحضرت عمروبن حزم کو معلم قرآن وفقہ بنا کر روانہ کیاانہیں ایک دستاویز کتابی شکل میں لکھوا کر دی جس میں فرائض وسنن اور صدقات و دیات کے مسائل تھے(الاستیعاب ص 437 ج 1 ) حافظ جمال الدین زیلعی نے مراسیل ابی داودکے حوالے سے یہ دستاویز نقل کرنے کےبعد لکھا ہےحضرت عمروبن حزم رضی اللہ عنہ کی کتاب کو چاروں اماموں نے قبول کیا ہے اور یہ متوارث ہے( نصب الراویہ للحافظ زیلعی ص 324 ج2) [b]کتاب الصدقہ ابو داود اور تر مذی میں ہے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے کتاب الصدقہ لکھوائی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما نے اسپہ عمل کیااور یہ دستاویز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خاندان میں ہی رہی صحیفہ صادقہ حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ نے حضور صل اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے لکھنا شروع کیا اور اس دستاویز کا نام آپ نے صادقہ رکھا اور حافظ ابن حجرفر ماتے ہیں یہی صحیفہ انکی وفات پران کے پڑپوتے عمروبن شعیب بن محمد بن عبد اللہ کو ملا تھا ( تہذیب ترجمہ عمرو بن شعیب) صحیفہ صدیقی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب حضرت انس کو بحرین کا ڈپٹی کمشنر بناکر بیھجا تو انہیں ایک یاداشت لکھ کر دی امام بخاری نےاس نوشتہ کی روایات کو کتاب الزکوۃ کے تین مختلف ابواب میں درج کیا ہےامام ابوداود نےص 225 اور امام حاکم نے مستدرک حاکم ص390ج1 میں اور حافظ ابو جعفر طحاوی نے بھی شرح معانی الآثار ص416 میں ذکر کیاہے جاری ہے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-12-11), قاسمی (25-11-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 329
کمائي: 6,309
شکریہ: 2,159
266 مراسلہ میں 795 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی شئیرنگ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے قاسمی کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-12-11), حسن قادری (25-11-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,135
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
صحیفہ علی مرتضی رضی اللہ عنہ
یہ صحیفہ چمڑے کے ایک تھیلے میں تھا جسمیں یہ صحیفہ نیام سمیت سماجاتا تھا یہ وہی صحیفہ ہے جس کے متعلق صححیح بخاری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے محمدبن حنفیہ سے منقول ہے کہ مجھے والد محترم نےبھیجا اور کہا یہ کتاب لو اور حضرت عثمان کےپاس لئے جاو اس میں صدقے کے بارے میں رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے احکام ہیں اور اس میں زکوۃ قصاص قیدیوں کی رہائی نقض عھد غیر اللہ کے نام پہ ذبح وغیرہ کے مسائل درج تھے صحیفہ جابر رضی اللہ عنہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ نے طلحہ بن نافع کے تر جمے میں سفیان بن عیینہ اور امام شعبہ دونوں کا بیان لکھا ہے سفیان جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایات بیان کرتے ہیں وہ صحیفہ جابر سے ہی نقل کرتے ہیں ( تہذیب ترجمہ طلحہ بن نافع( صحیفہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے حضرت حسن بصری کے حالات میں لکھا کہ انہوں نے حضرت سمرہ بن جندب سےایک بہت بڑا نسخہ روایت کیا ہےاور اس صحیفے سے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بھی روایات نقل کی ہیں صحیفہ صححیہ یہ در اصل حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصنیف ہے جو انہوں نے اپنے شاگرد ہمام بن منبہ کے لئے تر تیب دی تھی چونکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس صحیفہ کے راوی ہمام ہیں اسلئے صحیفہ ہمام کے نام سے مشہور ہو گیا یہ صابہ کرام کے چند نوشتے ہیں جو بہت سی احادیث پر مشتمل ہیں صحابہ کرام نے جسطرح علوم نبوت کو زبانی یاد رکھا کیونکہ عرب والوں کی تاریخ اور ان کی معاشرت میں علمی سر مایہ کو حفظ کرکے محفوظ کرتے تھے مگر صحابہ نے کتابت کی طرف توجہ دے کر امت پر عظیم احسان فر مادیا اور یہ علمی سر مایا کتابوں کی صورت میں ہم تک پہنچا |
|
|
|
| حسن قادری کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (03-12-11) |
![]() |
| Tags |
| کلمہ, کلمے, وقت, قرآن, مکہ, مسائل, معلوم, آج, اللہ, انسان, امیر, اسلامی, تحریر, حدیث, خون, دنیا, زندگی, شام, ضوابط, علاقے, عالم, عبداللہ, عثمان, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|