واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > مطالعہ حدیث




گود میں کسی بچے نے بات نہیں کی سوائے تین بچوں کے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-09-10, 06:51 PM   #1
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default گود میں کسی بچے نے بات نہیں کی سوائے تین بچوں کے

گود میں کسی بچے نے بات نہیں کی سوائے تین بچوں کے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گود میں کسی بچے نے بات نہیں کی سوائے تین بچوں کے ۔ ایک عیسیٰ علیہ السلام دوسرے جریج کا ساتھی ۔ اور جریج نامی ایک شخص عابد تھا ، اس نے ایک عبادت خانہ بنایا اور اسی میں رہتا تھا ۔ وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں آئی اور اسے بلایا کہ اے جریج ! تو وہ ( دل میں ) کہنے لگا کہ یا اللہ میری ماں پکارتی ہے اور میں نماز میں ہوں ( میں نماز پڑھے جاؤں یا اپنی ماں کو جواب دوں ) ؟ آخر وہ نماز ہی میں رہا تو اس کی ماں واپس چلی گئی ۔ پھر جب دوسرا دن ہوا تو وہ پھر آئی اور پکارا کہ اے جریج ! وہ بولا کہ اے اللہ ! میری ماں پکارتی ہے اور میں نماز میں ہوں ، آخر وہ نماز میں ہی رہا پھر اس کی ماں تیسرے دن آئی اور بلایا لیکن جریج نماز ہی میں رہا تو اس کی ماں نے کہا کہ یااللہ ! اس کو اس وقت تک نہ مارنا جب تک یہ فاحشہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے ( یعنی ان سے اس کا سابقہ نہ پڑے ) ۔ پھر بنی اسرائیل نے جریج کا اور اس کی عبادت کا چرچا شروع کیا اور بنی اسرائیل میں ایک بدکار عورت تھی جس کی خوبصورتی سے مثال دیتے تھے ، وہ بولی اگر تم کہو تو میں جریج کو آزمائش میں ڈالوں ۔ پھر وہ عورت جریج کے سامنے گئی لیکن جریج نے اس کی طرف خیال بھی نہ کیا ۔ آخر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی جو اس کے عبادت خانے میں آ کر پناہ لیا کرتا تھا اور اس کو اپنے سے صحبت کرنے کی اجازت دی تو اس نے صحبت کی جس سے وہ حاملہ ہو گئی ۔ جب بچہ جنا تو بولی کہ بچہ جریج کا ہے ۔ لوگ یہ سن کر اس کے پاس آئے ، اس کو نیچے اتارا ، اس کے عبادت خانہ کو گرایا اور اسے مارنے لگے ۔ وہ بولا کہ تمہیں کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا کہ تو نے اس بدکار عورت سے زنا کیا ہے اور اس نے تجھ سے ایک بچے کو جنم دیا ہے ۔ جریج نے کہا کہ وہ بچہ کہاں ہے ؟ لوگ اس کو لائے تو جریج نے کہا کہ ذرا مجھے چھوڑو میں نماز پڑھ لوں ۔ پھر نماز پڑھی اور اس بچہ کے پاس آ کر اس کے پیٹ کو ایک ٹھونسا دیا اور بولا کہ اے بچے تیرا باپ کون ہے ؟ وہ بولا کہ فلاں چرواہا ہے ۔ یہ سن کر لوگ جریج کی طرف دوڑے اور اس کو چومنے چاٹنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تیرا عبادت خانہ سونے اور چاندی سے بنائے دیتے ہیں ۔ وہ بولا کہ نہیں جیسا تھا ویسا ہی مٹی سے پھر بنا دو ۔ تو لوگوں نے بنا دیا ۔ ( تیسرا ) بنی اسرائیل میں ایک بچہ تھا جو اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا کہ اتنے میں ایک بہت عمدہ جانور پر خوش وضع ، خوبصورت سوار گزرا ۔ تو اس کی ماں اس کو دیکھ کر کہنے لگی کہ یا اللہ ! میرے بیٹے کو اس سوار کی طرح کرنا ۔ یہ سنتے ہی اس بچے نے ماں کی چھاتی چھوڑ دی اور سوار کی طرف منہ کر کے اسے دیکھا اور کہنے لگا کہ یااللہ ! مجھے اس کی طرح نہ کرنا ۔ اتنی بات کر کے پھر چھاتی میں جھکا اور دودھ پینے لگا ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گویا میں ( اس وقت ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو چوس کر دکھایا کہ وہ لڑکا اس طرح چھاتی چوسنے لگا ۔ پھر ایک لونڈی ادھر سے گزری جسے لوگ مارتے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ تو نے زنا کیا اور چوری کی ہے ۔ وہ کہتی تھی کہ مجھے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے اور وہی میرا وکیل ہے ۔ تو اس کی ماں نے کہا کہ یا اللہ ! میرے بیٹے کو اس کی طرح نہ کرنا ۔ یہ سن کر بچے نے پھر دودھ پینا چھوڑ دیا اور اس عورت کی طرف دیکھ کر کہا کہ یا اللہ مجھے اسی لونڈی کی طرح کرنا ۔ اس وقت ماں اور بیٹے میں گفتگو ہوئی تو ماں نے کہا کہ او سرمنڈے ! جب ایک شخص اچھی صورت کا نکلا اور میں نے کہا کہ یا اللہ ! میرے بیٹے کو ایسا کرنا تو تو نے کہا کہ یا اللہ مجھے ایسا نہ کرنا اور لونڈی جسے لوگ مارتے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو نے زنا کیا اور چوری کی ہے تو میں نے کہا کہ یا اللہ ! میرے بیٹے کو اس کی طرح کا نہ کرنا تو تو کہتا ہے کہ یا اللہ مجھے اس کی طرح کرنا ( یہ کیا بات ہے ) ؟ بچہ بولا ، وہ سوار ایک ظالم شخص تھا ، میں نے دعا کی کہ یا اللہ مجھے اس کی طرح نہ کرنا اور اس لونڈی پر لوگ تہمت لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو نے زنا کیا اور چوری کی ہے حالانکہ اس نے نہ زنا کیا ہے اور نہ چوری کی ہے تو میں نے کہا کہ یا اللہ مجھے اس کی مثل کرنا ۔





صحیح مسلم
نیکی اور سلوک کے مسائل
باب : والدین سے نیکی کرنا ( نفلی ) عبادت سے مقدم ہے ۔
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-09-10), کنعان (20-12-10), محمد عاصم (22-12-10), محمدمبشرعلی (11-01-11), احمد بلال (20-09-10), ارشد کمبوہ (25-12-10), راجہ اکرام (19-09-10), عبداللہ آدم (19-09-10)
پرانا 19-09-10, 07:43 PM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
تو لوگوں نے بنا دیا ۔ ( تیسرا ) بنی اسرائیل میں ایک بچہ تھا جو اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا کہ اتنے میں ایک بہت عمدہ جانور پر خوش وضع ، خوبصورت سوار گزرا ۔ تو اس کی ماں اس کو دیکھ کر کہنے لگی کہ یا اللہ ! میرے بیٹے کو اس سوار کی طرح کرنا ۔ یہ سنتے ہی اس بچے نے ماں کی چھاتی چھوڑ دی اور سوار کی طرف منہ کر کے اسے دیکھا اور کہنے لگا کہ یااللہ ! مجھے اس کی طرح نہ کرنا ۔ اتنی بات کر کے پھر چھاتی میں جھکا اور دودھ پینے لگا ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گویا میں ( اس وقت ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو چوس کر دکھایا کہ وہ لڑکا اس طرح چھاتی چوسنے لگا ۔ پھر ایک لونڈی ادھر سے گزری جسے لوگ مارتے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ تو نے زنا کیا اور چوری کی ہے ۔ وہ کہتی تھی کہ مجھے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے اور وہی میرا وکیل ہے ۔ تو اس کی ماں نے کہا کہ یا اللہ ! میرے بیٹے کو اس کی طرح نہ کرنا ۔ یہ سن کر بچے نے پھر دودھ پینا چھوڑ دیا اور اس عورت کی طرف دیکھ کر کہا کہ یا اللہ مجھے اسی لونڈی کی طرح کرنا ۔ اس وقت ماں اور بیٹے میں گفتگو ہوئی تو ماں نے کہا کہ او سرمنڈے ! جب ایک شخص اچھی صورت کا نکلا اور میں نے کہا کہ یا اللہ ! میرے بیٹے کو ایسا کرنا تو تو نے کہا کہ یا اللہ مجھے ایسا نہ کرنا اور لونڈی جسے لوگ مارتے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو نے زنا کیا اور چوری کی ہے تو میں نے کہا کہ یا اللہ ! میرے بیٹے کو اس کی طرح کا نہ کرنا تو تو کہتا ہے کہ یا اللہ مجھے اس کی طرح کرنا ( یہ کیا بات ہے ) ؟ بچہ بولا ، وہ سوار ایک ظالم شخص تھا ، میں نے دعا کی کہ یا اللہ مجھے اس کی طرح نہ کرنا اور اس لونڈی پر لوگ تہمت لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو نے زنا کیا اور چوری کی ہے حالانکہ اس نے نہ زنا کیا ہے اور نہ چوری کی ہے تو میں نے کہا کہ یا اللہ مجھے اس کی مثل کرنا ۔
اگر یہ حدیث صحیح ہے تو یہ علم غیب پر حجت ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
sahj (19-09-10), shafresha (20-09-10), کنعان (20-12-10), نورالدین (20-09-10), مرزا عامر (19-09-10), احمد بلال (20-09-10), ارشد کمبوہ (25-12-10), عبدالقدوس (20-12-10)
پرانا 20-12-10, 12:25 AM   #3
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
اگر یہ حدیث صحیح ہے تو یہ علم غیب پر حجت ہے
اگرحوالہ صحیح جیساکہ مسلم شریف کا حوالہ دیاگیاہے تو پھر حدیث صحیح ہی ہے۔
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
ابن جمال کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (20-12-10)
پرانا 20-12-10, 02:42 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قرآن حکیم میں‌ہم کو صرف اور صرف ایک واقعہ ملتا ہے۔

3:45 إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اﷲ تمہیں اپنے پاس سے ایک کلمۂ (خاص) کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسٰی بن مریم (علیھما السلام) ہوگا وہ دنیا اور آخرت (دونوں) میں قدر و منزلت والا ہو گا اور اﷲ کے خاص قربت یافتہ بندوں میں سے ہوگا
3:46 وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلاً وَمِنَ الصَّالِحِينَ
اور وہ لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں (یکساں) گفتگو کرے گا اور وہ (اﷲ کے) نیکوکار بندوں میں سے ہو گا

5:110 إِذْ قَالَ اللّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَى وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلاً وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي وَتُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوتَى بِإِذْنِي وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِنْهُمْ إِنْ هَـذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِينٌ
جب اللہ فرمائے گا: اے عیسٰی ابن مریم! تم اپنے اوپر اور اپنی والدہ پر میرا احسان یاد کرو جب میں نے پاک روح (جبرائیل) کے ذریعے تمہیں تقویت بخشی، تم گہوارے میں (بعہدِ طفولیت) اور پختہ عمری میں (بعہدِ تبلیغ و رسالت یکساں انداز سے) لوگوں سے گفتگو کرتے تھے، اور جب میں نے تمہیں کتاب اور حکمت (و دانائی) اور تورات اور انجیل سکھائی، اور جب تم میرے حکم سے مٹی کے گارے سے پرندے کی شکل کی مانند (مورتی) بناتے تھے پھر تم اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ (مورتی) میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی، اور جب تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں (یعنی برص زدہ مریضوں) کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے، اور جب تم میرے حکم سے مُردوں کو (زندہ کر کے قبر سے) نکال (کھڑا کر) دیتے تھے، اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تمہارے (قتل) سے روک دیا تھا جب کہ تم ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تو ان میں سے کافروں نے (یہ) کہہ دیا کہ یہ تو کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں

19:29 فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَن كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا
تو مریم نے اس (بچے) کی طرف اشارہ کیا، وہ کہنے لگے: ہم اس سے کس طرح بات کریں جو (ابھی) گہوارہ میں بچہ ہے
19:30 قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا
(بچہ خود) بول پڑا: بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے

باقی کہانیو‌ں کی قرآن حکیم سے تصدیق نہیں‌ہوتی ہے۔ بلکہ یہ کہانیاں یہ تاثر دیتی ہیں‌کہ ا نسانوں کو غیب کا علم ہے یا تھا۔ جو کہ قرآن حکیم کے پیغام کے خلاف ہے اللہ تعالی نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ اللہ تعالی عام انسانوں کو غیب سے معلومات نہیں فراہم کرتے ۔ یہ بچے رسول نہیں تھے نا ہی اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔

3:179 مَّا كَانَ اللّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ فَآمِنُواْ بِاللّهِ وَرُسُلِهِ وَإِن تُؤْمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
اور اللہ مسلمانوں کو ہرگز اس حال پر نہیں چھوڑے گا جس پر تم (اس وقت) ہو جب تک وہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کر دے، اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ (اے عامۃ الناس!) تمہیں غیب پر مطلع فرما دے لیکن اللہ اپنے رسولوں سے جسے چاہے (غیب کے علم کے لئے) چن لیتا ہے، سو تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ، اور اگر تم ایمان لے آؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے

اس بات کاامکان ہے کہ اپنی کتب کو قرآن کے ہم پلہ بنانے کی کوشش کی گئی ہو۔ اللہ تعالی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن قران سے عیاں‌ہے کہ عام انسانوں کو غیب کی معلومات اللہ تعالی فراہم نہیں کرتے۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 22-12-10 at 08:50 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (20-12-10), ارشد کمبوہ (25-12-10), عبدالقدوس (20-12-10)
پرانا 20-12-10, 03:36 AM   #5
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حدیث نمبر 1232012
جلد دوم :
باب: (11733)
1646 عنوان


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَتَکَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ وَکَانَ جُرَيْجٌ رَجُلًا عَابِدًا فَاتَّخَذَ صَوْمَعَةً فَکَانَ فِيهَا فَأَتَتْهُ أُمُّهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَأَقْبَلَ عَلَی صَلَاتِهِ فَانْصَرَفَتْ فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَأَقْبَلَ عَلَی صَلَاتِهِ فَانْصَرَفَتْ فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ أَيْ رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَأَقْبَلَ عَلَی صَلَاتِهِ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّی يَنْظُرَ إِلَی وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ فَتَذَاکَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ جُرَيْجًا وَعِبَادَتَهُ وَکَانَتْ امْرَأَةٌ بَغِيٌّ يُتَمَثَّلُ بِحُسْنِهَا فَقَالَتْ إِنْ شِئْتُمْ لَأَفْتِنَنَّهُ لَکُمْ قَالَ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا فَأَتَتْ رَاعِيًا کَانَ يَأْوِي إِلَی صَوْمَعَتِهِ فَأَمْکَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَحَمَلَتْ فَلَمَّا وَلَدَتْ قَالَتْ هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ فَأَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوهُ وَهَدَمُوا صَوْمَعَتَهُ وَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهُ فَقَالَ مَا شَأْنُکُمْ قَالُوا زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ فَوَلَدَتْ مِنْکَ فَقَالَ أَيْنَ الصَّبِيُّ فَجَائُوا بِهِ فَقَالَ دَعُونِي حَتَّی أُصَلِّيَ فَصَلَّی فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَی الصَّبِيَّ فَطَعَنَ فِي بَطْنِهِ وَقَالَ يَا غُلَامُ مَنْ أَبُوکَ قَالَ فُلَانٌ الرَّاعِي قَالَ فَأَقْبَلُوا عَلَی جُرَيْجٍ يُقَبِّلُونَهُ وَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ وَقَالُوا نَبْنِي لَکَ صَوْمَعَتَکَ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ لَا أَعِيدُوهَا مِنْ طِينٍ کَمَا کَانَتْ فَفَعَلُوا وَبَيْنَا صَبِيٌّ يَرْضَعُ مِنْ أُمِّهِ فَمَرَّ رَجُلٌ رَاکِبٌ عَلَی دَابَّةٍ فَارِهَةٍ وَشَارَةٍ حَسَنَةٍ فَقَالَتْ أُمُّهُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَ هَذَا فَتَرَکَ الثَّدْيَ وَأَقْبَلَ إِلَيْهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی ثَدْيِهِ فَجَعَلَ يَرْتَضِعُ قَالَ فَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحْکِي ارْتِضَاعَهُ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ فِي فَمِهِ فَجَعَلَ يَمُصُّهَا قَالَ وَمَرُّوا بِجَارِيَةٍ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا وَيَقُولُونَ زَنَيْتِ سَرَقْتِ وَهِيَ تَقُولُ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَکِيلُ فَقَالَتْ أُمُّهُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا فَتَرَکَ الرَّضَاعَ وَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا فَهُنَاکَ تَرَاجَعَا الْحَدِيثَ فَقَالَتْ حَلْقَی مَرَّ رَجُلٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهُ فَقُلْتَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ وَمَرُّوا بِهَذِهِ الْأَمَةِ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا وَيَقُولُونَ زَنَيْتِ سَرَقْتِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا فَقُلْتَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا قَالَ إِنَّ ذَاکَ الرَّجُلَ کَانَ جَبَّارًا فَقُلْتُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ وَإِنَّ هَذِهِ يَقُولُونَ لَهَا زَنَيْتِ وَلَمْ تَزْنِ وَسَرَقْتِ وَلَمْ تَسْرِقْ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-12-10, 04:51 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عربی میں لکھنے سے خلاف القران ، قرآن کے مطابق نہیں‌ہوجاتا۔
پہلے بچے کو غیب سے پتہ چل گیا کہ اس کا باپ کون ہے۔ جب کہ کسی بھی انسان کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ اسکا باپ کون ہے۔
دوسرے بچے کو غیب سے پتہ چل گیا کہ کون ظالم ہے اور کون بدکار۔۔۔

ان دونوں‌میں سے کوئی بھی بچہ ، رسول یا نبی نہیں‌تھا۔۔ کم از کم یہ روایت ان کو نبی قرآر نہیں دیتی۔ جبکہ یہی روایت حضرت عیسی علیہ السلام کا تذکرہ کرتی ہے ۔ جو کہ قرآن حکیم سے ثابت نبی ہیں ۔

اللہ تعالی نے جب غیب کا علم عام انسانوں کو نہیں دیا تو پھر کیا یہ روایت درست ہوسکتی ہے؟ یا ایسے ہی کسی نے نبی اکرم سے منسوب کیا ہے؟؟؟؟

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 22-12-10 at 08:54 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
پرانا 10-01-11, 09:29 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علی من اتبع الھدیٰ ،
خلاف قران ، یا خلاف القران ، عربی میں لکھنے سے بات میں واقعتا کوٕئی وزن نہیں ہوتا ،
کوٕئی ان صاحب سے پوچھے تو کہ """ خلاف ء قران """ کی کوٕئی ایسی تعریف تو پہلے بتا دیجیے جس کی کبھی آپ نے خود مخالفت نہ کی ہو اور نہ کبھی کریں گے ،
پھر ہمیں اس تعریف کی روشنی میں بتایے کہ اس صحیح ثابت شدہ حدیث شریف میں کیا خلاف ء قران ہے ؟؟؟
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے غیب میں جس کو جو خبر جیسے دینا چاہی ، دی ، محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے بعثت مبارکہ سے پہلے اور بعد کے معاملات میں فرق ہے ،
مگر کیا کیا جإئے کہ کچھ لوگوں کو صرف اور صرف احادیث مبارکہ پر اپنی خلاف ء قران ، قران فہمی کے جھانسے میں اعتراض کرنا ہوتا ہے ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ، و السلام علی من اتبع الھدیٰ ،
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (10-01-11), عبداللہ حیدر (11-01-11)
کمائي نے عادل سہیل کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
10-01-11 sahj ولا حول ولا قوۃ الا باللہ 0
پرانا 11-01-11, 12:45 AM   #8
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عادل بھائی کیا مذکورہ حدیث صحیح ہے
میں نے ایک مراسلے میں یہ سوال کیا تھا

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
اگر یہ حدیث صحیح ہے تو یہ علم غیب پر حجت ہے
اس بارے میں کچھ فرمائیے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-01-11, 08:46 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جی فیصل بھائی ، علومء حدیث کی تمام کسوٹیوں کے مطابق یہ حدیث بالکل صحیح ہے ، رہا معاملہ علمء غیب کا تو جب تک آپ اپنی بات کی تشریح نہ کریں گے میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا ، جی مجھے جس بات کا کچھ اندازہ سا ہوا ، اس کے بارے میں میں نے اپنے سابقہ مراسلے میں اشارۃ ایک بات لکھی تھی کہ """"" اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے غیب میں جس کو جو خبر جیسے دینا چاہی ، دی ، محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے بعثت مبارکہ سے پہلے اور بعد کے معاملات میں فرق ہے """"" و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, گئی, وقت, لوگ, لڑکا, نماز, ماں, اللہ, بچوں, جواب, خوش, دیکھ, دیکھا, دل, دعا, ذرا, شخص, شروع, ظالم, عیسیٰ, عورتوں, عمدہ, عابد, عبادت, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عباد کو کچلنے والی گاڑی میں سوار دونوں اہلکار بھی سی آئی اے سے وابستہ تھے گلاب خان خبریں 0 25-02-11 06:09 AM
بھیک مشن :پاکستانیوں کے سوا کسی سے امداد نہیں لوں گا، ایدھی مسٹر گرزلی خبریں 0 22-06-08 03:04 PM
سوات  شانگلہ  کرم ایجنسی اور وزیرستان میں 301 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 11:20 AM
سوات آپر یشن آخر ی مراحل میں داخل،وزیر ستان میں خواتین خودکش حملہ آوروں کی موجودگی کا انکشاف خرم شہزاد خرم خبریں 0 06-12-07 09:05 AM
وکلاء تنظیموں نے پی سی او ججوں کے سوشل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا،ملک بھر کے وکلاء،ماتحت عدالتوں میں روزانہ ایک گھنٹے ہڑتال کر یں گے خرم شہزاد خرم خبریں 0 06-12-07 09:00 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:54 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger