12-04-08, 03:20 PM
|
#1
|
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 31
مراسلات: 167
کمائي: 2,099
شکریہ: 156
81 مراسلہ میں 193 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
::::اسپنک سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک::::
::::اسپنک سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک::::
اسپنک سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک یہ بات حقیقت ہے آپ کو معلوم ہو یا نہ ہو آج کی جدید جنگی ٹیکنالوجی خلائی ٹیکنالوجی کہ بغیر بلکل بے کار ہے کیونکہ اس کا اکثردارومدارمصنوئی سیاروں پر ہے جس کے ذریعے ہر قسم کی رہنمائی اور معلومات لے کر آگے بڑھا جاتا ہے جس بھی ملک کو آج اس ٹیکنالوجی تک رسائی نہیں وہ اور اس کی تمام تر جنگی ٹیکنالوجی بے کار اور بے سود ہے . آ پ کو یہاں یورپی خلائی ایجنسی (ESA) سے لے کر اب تک کی مختصر ترین صورت حال سے آگاہ کروںگا.
31مئی 1975ء یورپی خلائی ایجنسی (ESA)قائم کی گئی . اس کے بانی ارکان میں برطانیہ .بلجیم.ڈنمارک.فرانس.جرمنی .ہالینڈ.اسپین.سویڈن.اور سوئٹزر لینڈ شامل تھے.
15جولائی 1975ء روسی خلائی کیپسول ’’سویوز19‘‘ اور امریکی ’’اپالو18‘‘ آپس میں منسلک(dock) کئے گئے .سرد جنگ کے دوران یہ امریکہ اور سوویت یونین میں اولین خلائی تحقیقی اشتراک تھا.
20جولائی1976ء امریکہ کا خودکار خلائی کھوجی ’’ وائکنگ اول‘‘(Viking 1)مریخ کی سطح پر اُترا.جو کہ 20اگست1975ء کو روانہ کیا گیا. اس نے سطح مریخ کی 2644000تصاویر ارسال کیں. اس سلسلے کا دوسرا کھوجی’’وائکنگ دوم‘‘تھا.جو کہ 3ستمبر1976ء کے روز وہاں کامیابی سے اترا .یہ 9نومبر1975ء کو روانہ کیا گیا. یکساں جسامت اور ساخت کے حامل ان دونوں خود کار کھوجیوں کو مریخ پر زندگی کے آثار کا سراغ لگانے کے لئے ابتدائی نوعت کے مشاہداتی آلات سے لیس کیا گیا تھا .تاہم ان دونوں کے تجزیات سے ثابت ہوا کہ کم از کم سطح مریخ پر زندگی کا کوئی وجود نہیں.
جاری ہے ۔۔۔۔
|
|
|