واپس چلیں   پاکستان کی آواز > سائنس اور ٹیکنالوجی > موبائل ہی موبائل



موبائل ہی موبائل موبائل ہی موبائل


ایڈوانس حاصل کرنا، کیا سود کے ذیل میں آتا ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-03-11, 04:03 AM   #31
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Arrow

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم،
متعین وقت گزرنے پر ادا کی جانے والی رقم سود ہوتی ہے چاہے اسے کوئی بھی نام دے دیا جائے۔ دور حاضر کا جدید (لیکن متنازعہ )غیر سودی بینکاری نظام وضع کرنے والے علماء‌ نے بھی لیٹ‌فیس کو سود قرار دیا ہے۔
میری ناقص رائے میں علماء کا بیان حرف آخر نہيں ہے ۔
ان کا فیصلہ صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی ہو سکتا ہے اور اس کی پہلی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ
عموما علما معاشی سسٹم کا حصہ نہيں ہوتے
وہ صرف سن کر یا دور سے دیکھ کر ہی فیصلہ کرتے ہيں ۔
اور مذہبی چندے سے ملنے والی تنخواہ پر ان کا گزارہ ہوتا ہے ۔
تو ایسے میں معیشت جیسے عظیم سسٹم پر ان کی رائے مقدم نہيں ہو سکتی ۔

اس معاملے ان علماء کی رائے لینا زیادہ بہتر ہے جو محض مسجد یا خانقاہوں تک محدود نہيں رہتے ۔
بلکہ دینی علوم کے ساتھ دنیاوی علوم پر بھی دسترس رکھتے ہیں ۔ اور عملی طور پر معیشت و تجارت سے منسلک بھی ہوتے ہيں ۔
جیسے کہ ڈاکٹر اسرار احمد اور مفتی تقی عثمانی صاحب وغیرہ جنہوں نے اسلامی بینکاری کی بنیاد رکھی ۔
اب مجھے نہيں معلوم کہ مذکورہ موضوع پر وہ کیا نکتۂ نظر رکھتے ہیں ۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
کنعان (26-04-11), حیدر (31-03-11)
پرانا 30-03-11, 04:38 AM   #32
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,523
کمائي: 94,449
شکریہ: 1,554
2,989 مراسلہ میں 8,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ
یہاں معاملہ بہت سادہ ہے، مثال کے طور پر آپ کے پاس پاکستان میں یوفون موبائل کمپنی کا پری پیڈ نمبر ہے۔ آپ کے اکائونٹ میں بیلنس نہیں‌ ہے، کمپنی ہر گاہک کو یہ سہولت دیتی ہے کہ وہ بیلنس ختم ہوجانے پر 15 روپے کا ایڈوانس یا لون حاصل کرلے اور جب بھی وہ اپنے نمبر کے اکائونت میں‌ بیلنس لوڈ کرے گا تو لئے گئے ایڈوانس یا لون 15 روپے کے ساتھ اضافی 60 پیسے کٹوتی کی جائے گی۔ اس کے لئے وقت کی پابندی نہیں ہے کہ صارف 10 دن میں‌ یا 10 ماہ میں ہی ضرور وہ 15 روپے اور اضافی 60 پیسے واپس کرے۔ بلکہ ایڈوانس یا لون سمیت اضافی 60 پیسے کٹوتی اس وقت خود بخود ہوجائے گی جونہی صارف کارڈ یا ٹاپ اَپ سے اکائونٹ ری چارج کرے گا۔ اب صارف کی مرضی ہے وہ اسی دن ری چارج کرے یا ایک سال نہ کرے۔ یا کبھی بھی نہ کرے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ایڈوانس یا لون لی گئی رقم پر کمپنی جو اضافی 60 پیسے وصول کرتی ہے کیا وہ سود میں‌ آتے ہیں؟؟؟
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
گلاب خان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (30-03-11), حیدر (31-03-11)
پرانا 30-03-11, 05:25 AM   #33
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میری رائے کے مطابق
نہيں
کیوں کہ وہ ساٹھ پیسے سود کے مماثل نہيں ہیں ۔

اس لیے کہ سود بڑھتا چلا جاتا ہے ۔
اور بغیر محنت / خدمت کے لیا / دیا جاتا ہے

جب کہ

اور چارج ز اتنے ہی رہتے ہيں جتنے ایک بار مقرر ہوتے ہیں ۔
اور یہ ہمیشہ کسی کام کے عوض ہی لیے جاتے ہيں ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
abrarhussain_73 (26-04-11), کنعان (30-03-11), یاسر عمران مرزا (26-04-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11)
پرانا 30-03-11, 09:25 AM   #34
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,487
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
میری ناقص رائے میں علماء کا بیان حرف آخر نہيں ہے ۔
ان کا فیصلہ صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی ہو سکتا ہے اور اس کی پہلی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ
عموما علما معاشی سسٹم کا حصہ نہيں ہوتے
وہ صرف سن کر یا دور سے دیکھ کر ہی فیصلہ کرتے ہيں ۔
اور مذہبی چندے سے ملنے والی تنخواہ پر ان کا گزارہ ہوتا ہے ۔
تو ایسے میں معیشت جیسے عظیم سسٹم پر ان کی رائے مقدم نہيں ہو سکتی ۔

اس معاملے ان علماء کی رائے لینا زیادہ بہتر ہے جو محض مسجد یا خانقاہوں تک محدود نہيں رہتے ۔
بلکہ دینی علوم کے ساتھ دنیاوی علوم پر بھی دسترس رکھتے ہیں ۔ اور عملی طور پر معیشت و تجارت سے منسلک بھی ہوتے ہيں ۔
جیسے کہ ڈاکٹر اسرار احمد اور مفتی تقی عثمانی صاحب وغیرہ جنہوں نے اسلامی بینکاری کی بنیاد رکھی ۔
اب مجھے نہيں معلوم کہ مذکورہ موضوع پر وہ کیا نکتۂ نظر رکھتے ہیں ۔
السلام علیکم،
تقی عثمانی حفظہ اللہ لیٹ‌فیس کو سود میں شمار کرتے ہیں۔ سابقہ مراسلے میں انہی کی طرف اشارہ تھا۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
abrarhussain_73 (26-04-11), کنعان (30-03-11), یاسر عمران مرزا (26-04-11), نورالدین (31-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11)
پرانا 31-03-11, 12:01 AM   #35
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا خیال ہے نور الدین بھائی کو غلطی یہاں سے لگ رہی ہے کہ وہ سود اور سروس ‌چاجز میں ایک فرق بیان کر رہے ہیں۔ حقیقت میں ان کا بیان کردہ یہ فرق شریعت میں کوئی ہمیت نہیں رکھتا۔
وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ سود یہ ہوتا ہے کہ اس میں اضافہ ہوتا ‌چلا جاتا ہے۔ یعنی 100 روپے دینے تھے مقررہ تاریخ تک نہیں ادا کئے تو 110 دینے ہوں گے پھر مقررہ تاریخ تک نہیں دیئے تو 120 دینا ہوں گے۔ اسی طرح ان 100 روپے پر اضافی رقم ادا نہ کرنے کے وجہ سے اضافہ ہوتا ‌چلا جاتا ہے تو یہ سود ہے۔۔۔۔۔
جبکہ
سروس ‌چارجز یہ ہیں کہ 100 روپے بروقت ادا نہیں کئے تو 110 روپے ادا کرنے ہیں۔۔۔۔ اب ان میں اضافہ نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔
اس لئے یہ سود نہیں ہیں۔۔۔
حقیقت یہ ہے کہ سود کی تعریف پر اگر غور کر لیا جائے تو دونوں بیان کردہ صورتیں سود میں ہی ‏آتی ہیں۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
کنعان (31-03-11), نورالدین (31-03-11), موجو (26-04-11), ابو عبداللہ (04-04-11), حیدر (31-03-11), عبداللہ حیدر (31-03-11)
پرانا 31-03-11, 12:16 AM   #36
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,407
کمائي: 96,199
شکریہ: 52,561
11,195 مراسلہ میں 35,301 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پہلا معاملہ compound interrestجبکہ دوسرا معاملہ simple interestکہلاتا ہے
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (31-03-11), نورالدین (31-03-11), موجو (26-04-11), شمشاد احمد (31-03-11), عبداللہ حیدر (31-03-11)
پرانا 31-03-11, 12:27 AM   #37
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم!

میں نے جو حقیقت بیان کی ھے اس میں کیش 400 اور ایک سال کے ادھار پر 25 روپے فنانس کمپنی کی فیس ھے جو ایک سال تک آپ کو ہر مہینہ سٹیٹمنٹس بھیجتی رہے گی جس پر پیپر، پرنٹر، سٹیمپ کا خرچہ تو آئے گا یہ وہ فیس ھے۔ ایک سال میں اگر ایگریمنٹ کے مطابق 400 جمع 25 ادا نہ کئے تو ایک دن اوپر ہونے کے بعد سود ورکنگ رن کرنا شروع ہو جائے گی۔

اسی طرح ہر مہنگی چیز بندہ آسانی سے خرید سکتا ھے جس کے لئے کسی کی گارنٹی کی بھی ضرورت نہیں۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (26-04-11), نورالدین (31-03-11), حیدر (31-03-11), شمشاد احمد (31-03-11)
پرانا 31-03-11, 09:39 AM   #38
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,306
شکریہ: 25,212
16,399 مراسلہ میں 41,650 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم!

میں نے جو حقیقت بیان کی ھے اس میں کیش 400 اور ایک سال کے ادھار پر 25 روپے فنانس کمپنی کی فیس ھے جو ایک سال تک آپ کو ہر مہینہ سٹیٹمنٹس بھیجتی رہے گی جس پر پیپر، پرنٹر، سٹیمپ کا خرچہ تو آئے گا یہ وہ فیس ھے۔ ایک سال میں اگر ایگریمنٹ کے مطابق 400 جمع 25 ادا نہ کئے تو ایک دن اوپر ہونے کے بعد سود ورکنگ رن کرنا شروع ہو جائے گی۔

اسی طرح ہر مہنگی چیز بندہ آسانی سے خرید سکتا ھے جس کے لئے کسی کی گارنٹی کی بھی ضرورت نہیں۔

والسلام
السلام علیکم
جو مثال آپ نے دی ہے وہ میرے خیال میں سود کے زمرے میں نہیں آ سکتی کیوں کہ یہاں جنس ایک نہیں ہے۔
ایک طرف لیپ ٹاپ ہے اور دوسری طرف رقم ہے۔
یہ میری رائے ہے کہ اقساط کی صورت میں خرید و فروخت پر قیمت میں کمی یا زیادتی کا ہونا سود کے زمرے میں نہیں آتا۔ کیوں کہ سود کی پہلی شرط جنس کا ایک ہونا ہے۔
باقی اہل علم ٹھیک رہنمائی کر سکتے ہیں۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
کنعان (31-03-11), یاسر عمران مرزا (26-04-11), نورالدین (31-03-11), حیدر (27-04-11), شمشاد احمد (31-03-11)
پرانا 31-03-11, 09:57 AM   #39
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
پہلا معاملہ compound interrestجبکہ دوسرا معاملہ simple interestکہلاتا ہے
simple interest سود مفرد میں بھی بڑھتا رہتا ہے ایک ہی مقدار کے تناسب سے
compound interrest یعنی سود مرکب میں بھی بڑھتا رہتا ہے مگر قرض+سود کے حساب سے

اس طرح دیکھا جائے تو لیٹ چارج ز سود کی طرح بڑھتے نہیں رہتے بلکہ ہمیشہ ایک ہی رقم تک محدود رہتے ہيں ۔

باقی یہ مفتی تقی عثمانی صاحب کے بیان کی تفصیل مل جائے تو جزاک اللہ ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
کنعان (31-03-11), یاسر عمران مرزا (26-04-11), منتظمین (26-04-11), حیدر (27-04-11), شمشاد احمد (31-03-11)
پرانا 26-04-11, 01:54 PM   #40
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مراسلات: 1
کمائي: 142
شکریہ: 0
ایک مراسلہ میں 2 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم بھائ سود نھیی ھے
ishtiaqshah935 آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ishtiaqshah935 کا شکریہ ادا کیا
حیدر (27-04-11), شمشاد احمد (27-04-11)
پرانا 26-04-11, 02:26 PM   #41
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,306
شکریہ: 25,212
16,399 مراسلہ میں 41,650 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں نے بھائی اس تھریڈ کے بعد ایڈوانس لینا ہی چھوڑ دیا ہے ۔ اور عزم صمیم کیا ہے کہ ’’الا من اضطر‘‘ والی کیفیت کے بغیر نہیں لینا کبھی ۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (28-04-11), حیدر (27-04-11), شمشاد احمد (27-04-11), عبداللہ آدم (27-04-11)
پرانا 26-04-11, 07:08 PM   #42
Senior Member
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,389
شکریہ: 9,614
4,227 مراسلہ میں 12,048 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہم لوگ ایک چھوٹی سی چیز پر کس قدر بحث کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ان 60 پیسوں کو اگر آپ لوگ سروس چارجز سمجھ لیں تو معاملہ یہیں‌ختم ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔
اس طرح تو جب آپ کسی ہوٹل میں‌کھانا کھاتے ہیں تو بل 200 روپے بنتا ہے جب کہ ہوٹل والے آپ سے 200 جمع 10 پرسنٹ وصول کرتے ہیں ، جو کہ سروس چارجز ہوتے ہیں۔ پھر آپ ہوٹل میں 220 روپے کیوں بھرتے ہیں۔ وہ بھی تو ایک طرح کا سود ہوا نا؟
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا
کنعان (27-04-11), حیدر (27-04-11), شمشاد احمد (27-04-11)
پرانا 26-04-11, 07:17 PM   #43
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,306
شکریہ: 25,212
16,399 مراسلہ میں 41,650 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہوٹل والے پیسے کے بدلے پیسے نہیں لیتے میرے پیارے بھائی
ویسے سروس چارجز، ٹپ یا کسی بھی مد میں چاہے کوئی ہزار روپے لے لے
لیکن جب جنس مشترک ہو تو پھر تشویش لاحق ہوتی ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
حیدر (27-04-11), شمشاد احمد (27-04-11)
پرانا 28-04-11, 12:29 PM   #44
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
میں نے بھائی اس تھریڈ کے بعد ایڈوانس لینا ہی چھوڑ دیا ہے ۔ اور عزم صمیم کیا ہے کہ ’’الا من اضطر‘‘ والی کیفیت کے بغیر نہیں لینا کبھی ۔
پیر صاحب ۔
وہم اور یقین میں فرق رکھنا آپ کی اور ہماری ذمہ داری ہے ۔
جو چیز آپ کی ضرورت ہے اور جائز بھی ہے ۔ اس کے وہم کے ہاتھوں مجبور ہو کر خود پر حرام کیوں کرتے ہيں ۔
ورنہ مسئلہ یہ نہيں ہو گا کہ سود / ایڈوانس سے بچ کر آپ " حرام " سے بچ گئے ۔
مسئلہ اس وقت ہو گا جب وہم کا شیطان آپکے اور کئی ایسے کام جو حرام نہ ہوں وہ آپ سے چھڑوا دے ۔
جیسے ایک دن آپ یوٹیلٹی ز کا استعمال ترک کردیں گے ۔صرف وہم کے شبے میں
اس کے بعد نوکری چھوڑ دیں گے ۔
جس کے بعد ایک وقت آئے گا جب آپ وطن عزيز میں موجود ہر معاشی اور اقتصادی عمل سے کنارہ کشی اختیار کر ليں گے ۔
صرف سود / حرام کے شبے میں ۔
پھر آپ پتھر کے دور میں بیٹھے ہوں گے۔ کنگلے ، بے بس ، یکا و تنہا اور اتحاد ہو گا بھی تو آپ جیسے لوگوں کا ہی ہو گا ۔
دشمن کے ہاتھوں بعد میں مارے جائيں گے ۔ پہلے اپنے وہم کے ہاتھوں مارے جائیں گے ۔

لہذا اگر کسی چیز کا شبہ ہے تو اسے وہم کے کھاتے میں ڈال کر نہ بیٹھ جائیں ۔
بلکہ اس معاملے کو پہلے دین کے حکم کی روشنی میں دیکھیں ۔ اگر وہاں اس کا تذکرہ نہيں ملتا تو پھر انسانیت کے نفع نقصان سے دیکھیں
اور پھر ضرورت کی کسوٹی پر پرکھیں اسے ۔

اسلام نے وہم پر عمل کرنے کو نہیں بلکہ وہم کا مقابلہ کرنے کا راستہ دکھایا ہے ۔
ایک صحابی کو نبی اکرم نے دیکھا کہ وضو کرتے ہوئے ہر عضو کو تین سے زائد مرتبہ دھو رہے تھے ۔
( جو کہ ظاہر ہے کہ وہم کے ہاتھوں مجبور ہو کر کہ شاید یہ عضو صحیح سے دھلا نہیں ۔ مزید دھو لیتا ہوں )
نبی اکرم نے دیکھا تو آپ کے خیال میں انہوں نے کیا کہا ہو گا کہ ہاں اور زیادہ دھو ۔ اور زیادہ دھو ؤ ۔ تمہارا وہم ٹھیک ہے ! ! !

جی نہيں!
نبی اکرم نے اس کے اس وہم پر عمل کرنے کو اسراف قرار دیا ۔
جس کے بعد اس شخص نے پوچھا کہ کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے ۔

( ان کا خیال ہو گا کہ دینی اعمال میں وہم کو دور کرنے کے لیے اشیائے کی ضیاع جائز ہے )
نبی اکرم نے ان کے خیال سے بھی بڑھ کر جواب دیا کہ
ہاں ! خواہ تو دریا میں بھی وضو کرے ۔

تو بتائیے کہ شک اور وہم کے ہاتھوں مجبور ہونا ایک مسلمان کو زیب دیتا ہے ۔

دنیا کے بعض معاملات ایسے ہیں جہاں دین خاموش ہے ۔ مگر اتنا بھی خاموش نہیں ۔ آپ کے عقل استعمال کرنے کا حکم بھی ہے ۔
وہاں انسان کو اپنی عقل بھی استعمال کر لینی چاہیے ۔
اور جس چیز کی ضرورت ہے اس کو قبول کرے ۔
محض وہم پر وہاں عمل کریں جہاں آپکے پاس علم اور معلومات کے ذرائع بند ہو جائيں ۔
والسلام

نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
کنعان (28-04-11), یاسر عمران مرزا (28-04-11), حیدر (29-04-11), شمشاد احمد (10-07-11)
پرانا 28-04-11, 01:40 PM   #45
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,306
شکریہ: 25,212
16,399 مراسلہ میں 41,650 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم مکرمی نور الدین بھائی
شکریہ اس بھرپور توجہ اور نگارشات کا ۔۔۔ اللہ تعالی جزائے خیر عطا فرمائے ۔۔ آمین

بات وہم اور یقین کی نہیں ہے ۔۔۔ بات ہے شک اور شبہہ کی
جو حدیث مبارکہ آپ نے ذکر کی وہ وہم کے بارے میں ہے ۔ اسے جائز و ناجائز میں شک والے معاملے پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔

ایسے کام جن میں حرام کا شبہ ہو ان سے بچنے کی تلقین نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کی ہے
ارشاد ہے ((إن الحلال بين و إن الحرام بين وبينهما أمور مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس، فمن اتقى الشبهات، استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام))
بے شک حلال بھی واضح ہے اور بے شک حرام بھی واضح ہےاور ان دونوں کے درمیان کچھ معاملات متشابہ (ملتے جلتے) ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگوں کو علم نہیں ہوتا۔ پس جو ان مشتبہ معاملات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا اور جو ان مشتبہ امور میں جا پڑا وہ حرام میں پڑ گیا۔

اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد گرامی ہے کہ
’’دع ما یریبک الی ما لا یریبک‘‘ اس کو چھوڑ دے جو تجھے شک میں ڈالے اور اس کو اختیار کر جس میں شک نہ ہو ۔

معاملات میں وہم اور یقین نہیں بلکہ شک اور یقین ہوتا ہے۔ اور حرام یا مشکوک کام صرف تب ہی اختیار کئے جاتے ہیں جب حلال کی کوئی صورت نہ ہو۔ اور الحمد للہ حلال کے اتنے زیادہ مواقع ہیں کہ ان کی موجودگی میں مشکوک چیزوں کی طرف جانا میرے خیال میں غیر محتاط ہے۔
اس لئے میں تو کوشش کرتا ہوں کہ احتیاط کا دامن تھامے رکھوں۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (28-04-11), ننھا بچہ (15-05-11), احمد بلال (29-04-11), حیدر (29-04-11), شمشاد احمد (10-07-11)
جواب

Tags
فون, ہوتا, ہے۔, کارڈ, پہلے, پاک, وقتی, نگاہ, نام, نظر, موبائل, معلوم, ایس ایم ایس, انداز, استعمال, بھائی, جائے, خدمت, دوست, زونگ, طور, علم, غور, صورتحال, صارف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ایڈوب فوٹو شاپ میں ٹیکسٹ کو آگ کا Effect کیسے دیتے ہیں !!! قیصرجی ایڈوب فوٹو شاپ 5 13-06-11 06:39 PM
ایڈوب میں کلر کے کوڈز عدنان دانی ایڈوب فوٹو شاپ 6 12-06-11 08:33 AM
فیڈورا، سینٹ اوس، ریڈ ہیٹ میں آڈیو اور ویڈیو کی سپورٹ شامل کریں حسن مغل لائینکس کارنر 8 25-01-11 06:07 PM
ایڈوب میں برش بنانا wajee ایڈوب فوٹو شاپ 11 10-11-10 02:16 PM
ایڈوب فوٹو شاپ میں تھری ڈی ڈیزائن بنائیں عدنان دانی ایڈوب فوٹو شاپ 4 16-12-09 03:31 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:15 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger