واپس چلیں   پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان




امن کی آشا ؛ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک نیا پل ؛ آپکی کیا رائے ہے؟

اس موضوع کے 21 جوابات دیےگئے ہیں اور اسے 259 مرتبہ دیکھا گیا ہے
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-01-10, 08:20 PM  
Senior Member
 
گوہر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 256
کمائي: 7,932
شکریہ: 218
200 مراسلہ میں 607 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default امن کی آشا ؛ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک نیا پل ؛ آپکی کیا رائے ہے؟

جنگ نیوز کا ایک متن:

پاکستان اور بھارت کے درمیان ”امن کی آشا‘ جنگ گروپ اور ٹائمز آف انڈیا گروپ امن عمل کو متحرک کریں گے

"کراچی (رپورٹ: … جبران پیش امام) بظاہر ناکام اور غیر موثر پاک بھارت امن عمل کے دوران نئی دہائی کے شروع ہوتے ہی ہمیں ایک اہم ترین موقع مل رہا ہے جس میں سرحد کے دونوں جانب اشتراک کے ساتھ ایک بہت بڑا امن منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ ”امن کی آشا“ کے نام سے اٹھایا جانے والا یہ اقدام پاکستان کے جنگ گروپ اور بھارت کے ٹائمز آف انڈیا گروپ کی مشترکہ کاوش ہے۔ یہ دونوں میڈیا گروپس پاکستان اور بھارت کے سب سے بڑے صحافتی گروپس ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے دونوں گروپس پاک بھارت مذاکرات کو لاثانی اور بے مثال انداز سے متحرک کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد متلون مزاج پاک بھارت امن مذاکرات میں شامل بڑے ایشوز پر بحث کیلئے مشترکہ اور باہمی پلیٹ فارم فراہم کیا جائے؛ چاہے وہ مسئلہ کشمیر ہو، پانی کا مسئلہ ہو یا سیکورٹی کا۔ اس پروجیکٹ کا وضاحتی بیان بالکل واضح ہے۔ اس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ دونوں گروپس نے خود کو ایک ایسی تحریک کیلئے وقف کردیا ہے جو دونوں ملکوں کے قابل احترام، حقیقی اور پائیدار امن کو جنم دینے کی خاطر سویلین اداروں اور عوام کو ایک دوسرے کے قریب لائے گی۔ ”امن کی آشا“ کی بنیادی خواہشات انتہائی بلند ہیں، جس میں وہ تمام تصفیہ طلب معاملات شامل ہیں جو امن اور میڈیا کی زیر قیادت سول سوسائٹی کی تحریک میں اقتصادی و ثقافتی ایشوز پر مہم چلانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں، اس کوشش کو شروع کرنے اور اسے پائیدار بنانے کیلئے کیلئے حقائق پر مبنی اور محتاط انداز سے اقدامات کئے گئے ہیں۔ یہ کوشش ایک منظم انداز سے شروع کی گئی ہے۔ اس کے ذریعے کوشش کی جائے گی کہ امن عمل آگے بڑھے اور ٹھوس نتائج فراہم کرے اور ہم آہنگی، تعاون اور اعتماد کے وہ نتائج سامنے لائے جو برصغیر کے عوام سخت ویزا پالیسیوں اور متصادم سیاست کی وجہ سے گزشتہ 6 دہائیوں میں حاصل نہیں کرپائے۔ یہ مشترکہ کوشش، جس میں ثقافتی تبادلوں سے لے کر پالیسی امور پر مباحثے شامل ہیں، دونوں میڈیا گروپس کی جانب سے تفصیلی مذاکرات اور بے حد محتاط انداز سے کی گئی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ ”امن کی آشا“ کی میڈیا مہم میں بھارتی شاعر گلزار کی جانب سے ترتیب دیئے گئے امن کے ترانے کی شکل میں ایک ولولہ انگیز خاصیت شامل ہے۔ یہ ترانہ کسی اور نے نہیں بلکہ بالی ووڈ کے امیتابھ بچن نے پڑھا ہے جو دونوں ملکوں کے عوام میں مقبول شخصیت ہیں۔ پاکستان کے راحت فتح علی اور بھارت کے شنکر مہادیون، جو برصغیر کے مقبول ترین گائیگ ہیں، نے اس ترانے کو گیت کی شکل میں گایا ہے۔ ثقافتی اور عوام کے مابین تعلقات کو تفریح (اینٹرٹینمنٹ) کے مختلف پروگرامز کی مدد سے مضبوط بنایا جائے گا۔ ان پروگرامز میں میوزک کانسرٹ سے لے کر فیشن شو تک ہر پروگرام شامل ہے جس میں پاکستان اور بھارت کے بہترین آرٹسٹ شرکت کریں گے۔ دانشورانہ سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے تعلیمی اور ادبی وفود کے تبادلوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں مادی تعاون کو فروغ دینے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں کی تاجر برادری کو تبادلہ خیال اور صنعت و تجارت کے اقدامات کو پائیدار بنیادوں پر فروغ دینے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس مقصد کیلئے بھارت اور پاکستان میں باری کے ساتھ منفرد اقتصادی کانفرنس کا اہتمام کیا جائے گا۔ یہ کانفرنس اہم ترین اقتصادی شعبوں میں واضح اور ٹھوس تعاون کی یقین دہانی کرائے گی۔ بات صرف یہیں ختم نہیں ہوتی۔ امن کی آشا کے تحت پاکستان اور بھارت میں سروے منعقد کرانے کی ذمہ داری بھی سنبھالی گئی ہے؛ یہ سروے تواتر کے ساتھ شایع ہوتے رہیں گے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ، آزاد تحقیقاتی ایجنسیوں نے سرحد کی دونوں جانب شفاف سروے کئے ہیں اور اہم ترین ایشوز پر لوگوں کی رائے لی ہے، اور یہ ایجنسیاں لوگوں کی رائے معلوم کرنے کا یہ سلسلہ جاری رکھیں گی۔ حیران کن نتائج فراہم کرنے والی یہ ریسرچ نہ صرف پالیسی کی تشکیل میں مدد دے گی بلکہ امن کیلئے اٹھائے گئے قدم کے اثرات معلوم کرنے میں بھی مدد فراہم کرے گی۔ میڈیا گروپس نے یہ مہم ہر محاذ پر آگے لے جانے کا عہد کیا ہے۔ دونوں گروپس نے مستقل بنیادوں پر سیکریٹریٹ قائم کیا ہے تاکہ کامیابی کیلئے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔ سرحد کے دونوں جانب تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا گیا ہے؛ ان میں حکومت سے لے کر تاجروں تک اور دانشوروں سے لے کر ادبی شخصیات تک سب شامل ہیں۔ اس مقصد کیلئے واضح اہداف کی نشاندہی کی جا چکی ہے اور مشن اسٹیٹمنٹ کو حتمی شکل دیدی گئی ہے۔ مہم شروع کی جا چکی ہے۔ نئی دہائی کے پہلے دن امن کی آشا کا کام شروع ہوجائے گا اور اس کی منزل امن ہے۔ "
دوسری خبر کا متن:
"

72 فیصد پاکستانی اور66 فیصد بھارتی پرُامن تعلقات چاہتے ہیں،دونوں ملکوں میں سروے
کراچی، نئی دہلی( جنگ / ٹائمز نیوز نیٹ ورک) پاکستان اور بھارت میں کرائے جانے والے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ بھارت کے عوام کی دو تہائی جبکہ پاکستان کی تقریباً تین چوتھائی تعداد دونوں ملکوں کے درمیان پرامن تعلقات کی خواہاں ہے۔ صرف ایک معمولی تعداد، بھارت میں 17 فیصد اور پاکستان میں 8 فیصد، مخاصمت کو تاریخ کے کوڑے دان میں ڈالنے کے مخالف ہیں۔ ممکن ہے کہ جس ہمسائیگی میں ہم رہتے ہیں وہ دنیا کا سب سے خطرناک ترین ہو لیکن یہ ایک ایسا خطہ بھی ہے جہاں امن کی خواہش بھی سب سے زیادہ ہے۔ درحقیقت، خوف کے سائے میں رہنے والے لوگوں کو پہلی مرتبہ یہ بات سمجھ میں آچکی ہے اور وہ یہ واضح کرسکتے ہیں کہ ان دو اقوام کے درمیان دانشمندانہ تعلقات کی ضرورت کیوں ہے جن کے درمیان پہلے معاندانہ رویہ تھا۔ بھارت کے ٹائمز آف انڈیا گروپ اور پاکستان کے جنگ گروپ کی جانب سے کئے گئے ایک تفصیلی سروے سے جو اہم بات معلوم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کی ایک بھاری اکثریت پرامن تعلقات کی خواہاں ہے۔ غیر متوقع طور پر اس بات نے امید کی کرن دکھائی ہے کہ بھاری اکثریت مخالفانہ رجحانات کے ممکنہ خاتمے کیلئے پُرامید ہے اور وسیع پیمانے پر اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ اچھے حتمی انجام تک پہنچنا ایک ایسا کام نہیں ہے جو صرف دونوں ملکوں کی حکومتوں پر ہی چھوڑ دیا جائے۔ ”امن کی آشا“ کے تحت بھارت کے 6 شہروں اور پاکستان کے 8 شہروں اور 36 دیہات میں سروے کیا گیا تاکہ تشدد اور خوف کے سائے میں رہنے والے خطے کے لوگوں کے احساسات اور ان کی رائے معلوم کی جاسکے۔ بھارت میں سروے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی دو تہائی تعداد (66 فیصد عوام) اور پاکستان کے تین چوتھائی لوگوں (72 فیصد) نے کہا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان پرامن تعلقات چاہتے ہیں۔ یہ ایسا نہیں ہے کہ باقی لوگوں نے باہمی ہم آہنگی کی مخالفت کی ہے۔ دونوں ملکوں کے لوگوں کی ایک معقول تعداد، بھارت 17 فیصد اور پاکستان 20، نے اس بیان سے اتفاق کیا اور نہ ہی اس کی مخالفت کی کہ ”میں چاہتا ہوں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پرامن تعلقات ہونے چاہئیں“۔ با الفاظ دیگر، صرف معمولی اقلیت یعنی بھارت کے 17 فیصد جبکہ پاکستان کے 8 فیصد لوگوں نے دشمنی کو تاریخ کے کوڑے دان میں ڈالنے کی مخالفت کی۔ ان دو ملکوں کیلئے یہ اعداد و شمار امید سے کہیں زیادہ بہتر ہیں، جنہوں نے تین مکمل جنگیں، ایک چھوٹی جنگ لڑنے کے ساتھ ایک دوسرے پر تشدد کی حمایت کرنے کے الزامات عائد کئے ہوں۔ جنس ہو یا عمر یا سماجی و اقتصادی درجہ بندیبھارت میں امن کی خواہش کم و بیش مساوی تھی، جبکہ پاکستان میں سروے میں شرکت کرنے والے مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں حیران کن انداز سے امن کے نظریے کی زیادہ حامی تھے (66 سے 77 فیصد تک کے درمیان)۔ اس سروے میں بھارت سے دہلی، ممبئی، کولکتہ، چنائے، بنگلور اور حیدرآباد دکن سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی جبکہ پاکستان سے کراچی، حیدرآباد، اسلام آباد و راولپنڈی، لاہور، ملتان، فیصل آباد اور کوئٹہ کے لوگوں نے شرکت کی۔ امن کی خواہش رکھنا ایک بات ہے جبکہ یہ حقیقی احساس کہ آیا یہ ممکن ہے؟ ایک علیحدہ بات ہے۔ ایک مرتبہ پھر، سروے کے اعداد و شمار دیکھ کر ہمیں خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں صورتوں میں واضح اکثریت، یعنی بھارت میں 59 فیصد اور پاکستان میں اس سے بھی زیادہ 64 فیصد، کا کہنا تھا کہ ”وہ بہت زیادہ پرامید ہیں“ یا ”بالکل پرامید ہیں“ کہ موجودہ معاندانہ رویہ ان کی زندگی میں ہی ماضی کا حصہ بن جائے گا۔ بھارت میں اس معاملے میں مردوں کے مقابلے میں خواتین بہت زیادہ پرامید نظر آئیں؛ اگرچہ ان کا مارجن بہت زیادہ نہیں تھا۔ مزید یہ کہ، سروے میں شامل سیکشن بی کی سوشیو اکنامک کیٹگری (سماجی و اقتصادی گروپ) سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تعداد سیکشن اے کی اشرافیہ کیٹگری کے لوگوں سے زیادہ پرامید نظر آئی، جبکہ نوجوانوں (18 سے 19 سال کے درمیان) کی تعداد 30 سے 45 برس کے لوگوں سے معمولی تعداد میں زیادہ پرامید نظر آئی۔ کیا لوگوں کے مابین رابطے، جو امن کی آشا کی روح ہے، پرامن تعلقات کے قیام میں ، جس کی زیادہ خواہش محسوس کی جا رہی ہے، مدد دے سکتے ہیں؟ اس سوالے کے جواب میں لوگوں کی فیصلہ کن تعداد نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ بھارت میں 78 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ امن کیلئے ”موثر“ اور ”انتہائی موثر“ آلہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ پاکستان سے ملنے والا جواب انتہائی زبردست اور غیر مبہم تھا۔ لوگوں کی 85 فیصد تعداد نے بھی ان ہی دو جوابات میں سے ایک کا انتخاب کیا۔ درحقیقت، پاکستان کے 43 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ ”انتہائی موثر“ ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہمیں اپنے اس یقین کامل کی اس سے زیادہ واضح توثیق نہیں مل سکتی تھی کہ سول سوسائٹی کے درمیان رابطے واضح فرق پیدا کرسکتے ہیں اور انہیں یہ فرق پیدا کرنا چاہئے۔ درحقیقت، ہمیں تو امید ہی نہیں تھی کہ ہمیں ایسا واضح رد عمل ملے گا۔ وہ کون سی چیز ہے جو اس توثیق کی حد کی وضاحت کرتی ہے؟ وضاحت کا ایک بڑا حصہ ان مزید سوالوں کے جوابات میں ہے جو اس سروے میں پوچھے گئے۔ ہم نے سروے میں شامل لوگوں سے کہا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی موجودہ حالت کو کس نمبر پر رکھیں گے؛ اس میں نمبر ایک کا مطلب ”دشمنی پر مبنی“ اور 9 کا مطلب ”دوستانہ“ ہے۔ ہم نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ وہ لوگوں کے درمیان تعلقات اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے علیحدہ علیحدہ نمبر دیں۔ سرحد کے دونوں جانب کے لوگوں کی جانب سے دیئے گئے جوابات نمایاں تھے۔ سروے میں شامل بھارت کے شہریوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو اوسطاً 3.65 نمبر دیئے (یہ نمبر سرد تعلقات کی نشاندہی کرتے ہیں)، انہی لوگوں نے لوگوں کے مابین تعلقات کو 4.15 نمبر دیئے (یہ نمبر غیر جانبدار کے قریب ہے)۔ با الفاظ دیگر بھارت کے مقابلے میں پاکستانی شہریوں نے تعلقات کے حوالے سے زیادہ مثبت رائے کا اظہار کیا، دونوں فریقوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ دونوں ملکوں کی حکومت کے مقابلے میں عوام کے مابین بہتر ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ یہ دیکھنا مشکل نہیں ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کیلئے سول سوسائٹی کے اقدامات اچھے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک سوال پر بھارت کے مختلف شہروں سے مختلف جوابات ملے لیکن ان میں ایک رجحان واضح نظر آیا۔ دہلی اور چنائے اور حیدرآباد دکن جیسے جنوبی شہروں اور کسی حد تک بنگلور کے لوگوں کی زیادہ تعداد دوسرے شہروں کے مقابلے میں موجودہ تعلقات اور امن کے تناظر کا مثبت رخ دیکھنے کی جانب مائل نظر آئی۔ اس کے برعکس، ممبئی میں ہر پوچھے گئے سوال کا نمایاں جواب ملا۔ مثال کے طور پر لوگوں کی 54 فیصد تعداد نے کہا کہ انہیں یہ بالکل امید نہیں ہے کہ ان کی زندگی میں کبھی امن کا قیام عمل میں آئے گا، اگر 26/11 کے سانحہ کو ذہن میں رکھا جائے تو اس صورت میں یہ جواب کم چونکانے والا ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ممبئی میں بھی 50 فیصد لوگوں نے کہا کہ انہیں امن چاہئے جبکہ 42 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔ 52 فیصد نے امن کی جانب بڑھنے کے ایک طریقے کے طور پر لوگوں کے مابین رابطوں کی حمایت کی۔ اسے امن کی آشا کا ثبوت سمجھا جانا چاہئے۔ امن کی آشا کی راہ پر چلتے ہوئے ہم آپ کو وقت کے ساتھ منعقد کئے جانے والے مزید سرویز کے نتائج سے آگاہ کریں گے۔"

Last edited by گوہر; 16-01-10 at 09:48 PM.
گوہر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 4 صارفین نے گوہر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
پرانا 07-01-10, 12:26 PM   #16
ذیلی ناظم
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 7,252
کمائي: 118,091
شکریہ: 14,205
5,246 مراسلہ میں 11,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابو عمار مراسلہ دیکھیں
یہ بھی مجھے پرانی چالیں ہی لگتی ہیں۔ بلکہ مشرف دور میں جو آزاد خیالی اور بھارت کی طرف روابط بڑھانے کی کوششیں ہوئی تھیں یہ انہی کا اگلا قدم ہے۔ ابھی تک کی جتنی بھی کوششیں ہوئی ہیں ان سے دونوں ممالک میں کس حد تک امن ہوا ہے۔ اتنے لاکھوں کروڑوں خرچ کرنے کے بعد کیا پاکستان اور بھارت میں عام شہری آرام سے آ جا سکتا ہے۔ کیا ابھی تک کی امن کوششوں سے پاکستان کی اکانومی میں کوئی اضافہ ہوا ہے۔ کیا یہ دونوں ملک اتنے پرامن ہوچکے ہیں کہ انہوں نے اپنے دفاعی بجٹ میں کمی کر کے پیسے اپنی عوام پر لگانا شروع کردیے ہیں۔

ہاں ہوا ہے تو یہ ہوا ہے کہ پاکستان میں ہندی میڈیا کا راج ہوگیا ہے۔ ہر جگہ آپ کو ہندی اداکاروں کی غیر اخلاقی تصاویر نظر آئیں گی۔ ہر سینما میں ہندی فلمیں لگنا شروع ہوگئی ہیں۔ ہندوستان کے ناچنے گانے والے یہاں آتے ہیں اور لاکھوں کما کر لے جاتے ہیں اور یہاں کے ناچنے گانے والے وہاں جاتے ہیں اور ان کو کچھ بھیک مل جاتی ہے بلکہ کئی کے تو پیسے ہی پھنس جاتے ہیں اور ملتے ہی نہیں ہیں۔ ان کے اداکار یہاں آتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ کوئی آسمانی مخلوق زمین پر اتر آئی ہے اور یہاں کے اداکار وہاں جاتے ہیں تو الٹا انہیں دھمکایا جاتا ہے۔ ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم غیور پاکستانی، ہندوستان میڈیا کے لیے اور ان کے کلچرکو اپنانے کے لیے بہت پرامن ہوچکے ہیں۔

مجھے تو یہ سب کاروباری ذہنوں کی کاروباری چالوں کے سوا کچھ نہیں لگتا۔ جنگ گروپ کو اپنا کاروبار چلانے کے لیے کچھ چاہئیے، اگلے امن معاہدے تک بہت سارے ناچ گانے چلانے کو مل جائیں گے، کچھ عرصے اور کاروبار اچھا چلنے لگے گا۔
بہترین بھائی جان
میرے دل کی بات کی ہے آپ نے
راجہ اکرام آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
ابو عمار (07-01-10)
پرانا 07-01-10, 01:42 PM   #17
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 52
مراسلات: 1,289
کمائي: 14,057
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,465
759 مراسلہ میں 1,620 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کیا امن کی آشا میں ۔۔۔۔ بھارت میں نسلی امتیاز ختم کرکے ، مساوات قائم کرنا بھی شامل ہے؟؟؟؟؟
کیا ذات پات کی تمیز ہندوستان میں‌ختم ہوجائے گی؟
کراچی سے کلکتے تک ذات پات ختم کئے بغیر امن کی آشا کیسے قائم ہوگی؟
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 2 صارفین نے فاروق سرورخان کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
ابو عمار (07-01-10), راجہ اکرام (07-01-10)
پرانا 07-01-10, 03:56 PM   #18
ذیلی ناظم
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 7,252
کمائي: 118,091
شکریہ: 14,205
5,246 مراسلہ میں 11,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔

Last edited by راجہ اکرام; 16-01-10 at 03:59 PM. وجہ: اختلاف سے بچنے کے لئے
راجہ اکرام آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 08-01-10, 01:07 AM   #19
Senior Member
 
گوہر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 256
کمائي: 7,932
شکریہ: 218
200 مراسلہ میں 607 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

امن کی آشا کا سلسلہ آج ہی شروع نہیں کیا گیا بلکہ اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ سلسلہ اسی وقت سے ہی وقوع پا چکا تھا جب انڈیا کی فلموں اور ڈراموں کو پاکستان میں سینما اور کیبل کے ذریعہ عام کیا گیا ، اب تو اسکے اثرات بلکہ ثمرات کے دن ہیں ، دیکھیں اور آگے چل کر کیا دکھائی دیتا ہے
گوہر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
گوہر کا شکریہ ادا کیا گیا
ابو عمار (08-01-10)
پرانا 16-01-10, 12:13 PM   #20
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 7,469
کمائي: 37,356
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,096
3,830 مراسلہ میں 9,544 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گوہر بھائی ۔ دیر سے نظر ڈالنے پر معذرت خواہ ہوں۔ سرورق کے لیے پیش کریں۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 2 صارفین نے منتظمین کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
shafresha (16-01-10), گوہر (17-01-10)
پرانا 06-02-10, 06:43 PM   #21
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: ابوظبی، متحدہ عرب امارات
عمر: 26
مراسلات: 602
کمائي: 17,588
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,234
391 مراسلہ میں 856 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

امن سب کی خواہش ہے، لیکن کشمیریوں کی لاشوں پر بیٹھ کر امن کی باتیں نہیں‌کی جاسکتی۔
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 2 صارفین نے ھارون اعظم کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
راجہ اکرام (06-02-10), عبداللہ آدم (20-02-10)
پرانا 06-02-10, 09:21 PM   #22
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 272
کمائي: 3,901
ميرا موڈ:
شکریہ: 43
189 مراسلہ میں 536 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انڈیا ۔ پاکستان کے مابین حالات کی بہتری کی جو بھی بات ہوتی ہے اس پر عمل یکطرفہ ہوتا ہے
اور ہمیشہ پاکستان ہی ہاتھ آگے بڑھاتا ہے انڈیا کے دماغ میں ایشیا کی سپر پاور ہونے کا بھوت سوار ہے
یہ بھوت جب تک اتارا نہیں جائے گا ۔۔۔۔۔ وہ سدھرے گا نہیں ۔۔۔ اور اس بھوت کو سوار کرنے میں ہمارے حکمرانوں اور میڈیا کا رول سب سے زیادہ ہے ۔۔ اس کے بعد عوام بھی اس کھیل میں اس طرح شامل ہے کہ
ایک طرف بڑھ چڑھ کر انڈیا کی مخالفت کررہے ہوتے ہیں دوسری طرف ۔۔ ان ہی کے چینل اور موویز کے رسیا ہیں
یہ دوغلا پن جب تک ختم نہیں ہو گا انڈیا ہمیں ایسے ہی دھوکے دیتا رہے گا ۔۔
ہمارے حکمرانوں کو اس کے سامنے گرنے کے بجائے ۔۔۔ انکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنی پڑے گی ۔۔۔
کشمیر تنازعے کو حل کرنے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کی تقسیم اور نا جائز ڈیم کی تعمیر کو روکنے کے لیے دو ٹوک بات کرنے پڑی گی ۔۔۔۔ اب وہ وقت نہیں کہ ہم انڈیا کے سامنے بجھے جائیں ۔۔۔
ایسا نہ کیا تو ۔۔۔ انڈیا اسرائیل اور امریکہ کی پشت پناہی سے اپنے آپ کوشیر سمجھتا رہے گا ۔۔۔
ہم بھیگی بلی تو بنے ہوئے ہی ہیں
رہی امن کی بات تو وہ سوات اور بلوچستان میں انڈین دہشت گردی اور اس کے ثبوت تک مل جانے بعد کس طرح کی جاسکتی یے ؟؟
انڈیا یہی داغ دھونے کے لیے اس طرح کے لولی پاپ پاکستان کو کھلاتا رہتا ہے ۔۔۔
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں
آؤ۔۔۔
ARHAM آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 5 صارفین نے ARHAM کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
ھارون اعظم (06-02-10), یونس عارف (09-02-10), راجہ اکرام (06-02-10), سحر (06-02-10), عبداللہ آدم (20-02-10)
جواب

Bookmarks

Tags
فارم, کوئٹہ, کراچی, پاکستان, پاکستانی, قدم, نیوز, مکمل, موقع, موجودہ, منصوبہ, ممکن, متوقع, معلوم, اسلام, بہترین, جواب, خواتین, خبر, زندگی, سیاست, سال, عہد, علی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پاک نیٹ کا نیا چہرہ ، آپ کی کیا رائے ہے سحر خاص آفرز اور اعلانات 19 27-11-09 11:30 AM
کیا مرد اور عورت کے درمیان عقل کے لحاظ سے کوئی فرق ہے؟ Real_Light عورت کہانی 50 29-05-09 03:48 PM
خدانخواستہ، اگر پاکستان اور انڈیا کی جنگ ہوگئی۔ تو آپکا کردار کیا ہوگا؟ راجہ اکرام گپ شپ 16 11-05-09 07:22 PM
اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے پر عملدرآمد شروع عبدالقدوس خبریں 0 19-06-08 06:37 PM
لینکس کے بارے میں آپکی رائے عرفان حیدر لائینکس کارنر 0 28-01-08 06:11 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:38 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO 3.3.0
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2010,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger