واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان




::::: ویلنٹائن ڈے ، عید محبت :::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-02-09, 06:46 PM  
::::: ویلنٹائن ڈے ، عید محبت :::::
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 12-02-09, 06:46 PM

[
عید محبت یا ویلنٹائن ڈے
[/]
الحمد للّہ والصلاۃ والسلام عَلی أشرف الأنبیاء والمُرسلین نبینا محمد و علی آلہ وسلم ،
پچھلے چند سالوں سے ہماری امت میں اور ہمارے پاکستانی معاشرے میں بھی ایک """ دن منانے""" کی رسم کو بڑے شد و مد سے رائج کیا جا رہا ہے ، دیگر بیسویں رسموں ، اور عادات کی طرح ہم مسلمان اپنی وسعت قلبی کا ثبوت پیش کرنے کے لیے اسے بھی قبول کرتے جا رہے ہیں ، جبکہ اس رسم اور اس طرح کی دوسری غیر اسلامی رسموں کو قبول کرنے کا اصل اور حقیقی سبب وسعت قلبی نہیں ، اپنے دین سے جہالت اور دین کے مخالفین کی فکری یلغار سے ہارنا ہے ،
جی میں یہاں اس رسم کی بات کرنے والا ہوں جسے """ ویلنٹائن ڈے """ اور """ عید محبت """ کہا جاتا ہے ، اور اس رسم کو پورا کررنے کے لیے ایک خاص دن """ چودہ فروری """ مقرر ہے ، جس دن میں اس رسم کی تکمیل کے لیے نوجوان لڑکے اور لڑکیا ں ، بلکہ مرد و عورت ایک دوسرے کو تحفے تحائف دے کر اپنی محبت اور دوستی کا اظہار و اقرار کرتے ہیں ، اور ناجائز حرام تعلقات کا آغاز یا تجدید کرتے ہیں ،
جی ہاں ، ناجائز اور حرام کام کرتے ہوئے ، ناجائز اور حرام تعلقات قائم کرتے ہیں ، آغاز بھی جہنم اور آخرت بھی جہنم ،
ٹھہریے ، """ بنیاد پرستی """ ، """ دقیانوسیت """ ، اور جدید دور کے نئے مفاہیم کے مطابق """ دہشت گردی """ کی بات سمجھ کر غصہ مت کیجیے ، میں نے جو کچھ کہا اس کا ثبوت اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرامین میں دینے سے پہلے ضروری ہے کہ اس """ ویلنٹائن ڈے """ یا """ عید محبت """ کی اصلیت اور تاریخ جانی جائے ، اور یہ تاریخ میری نہیں ان کی لکھی ہوئی ہے جن کے گھر کی بات ہے ،
علم و حق کی کیسی مفلسی ہے کہ جس عادت اور رسم کو اپنائے ہوئے ہیں اس کی اصلیت و تاریخ بھی ایک نہیں جانتے ، یہ مفلسی اُدھر ہی نہیں اِدھر بھی ہے کہ ہم مسلمان بھی کئی ایسے عقائد اور عبادات اور رسمیں اپنائے ہوئے ہیں جن کی حقیقیت اور اصلیت نہیں جانتے بس """ بل نتبع ما الفینا علیہ آباونا ::: بلکہ ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر اپنے بڑوں کو پایا """ کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں ,
جی تو بات تھی """ ویلنٹائن ڈے """ یا """ عید محبت """ کی اصلیت اور تاریخ کی ، اس کی تاریخ کے بارے میں مختلف باتیں ملتی ہیں ، ان کو بہت مختصر طور پر یہاں ذکر کرتا ہوں ،
::::: (1) ::::: کہا گیا کہ تقریبا 1700 سال پہلے جب روم میں بہت سے رب مانے جاتے تھے بہت سے معبودوں کی عبادت کی جاتی تھی ، بارش والا معبود الگ ، روشنی والا الگ ، اندھیرے والا الگ ، محبت والا الگ ، نفرت والا الگ ، طاقت والا الگ ، کمزوری والا الگ ، کفر و شرک کا ایک لامتناہی سللسہ تھا ، ایسے میں رومیوں کے ایک مذہبی راہنما """ ویلنٹائن """ نے عیسائت قبول کر لی ، پس حکومت روم کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی حل نہ تھا کہ اس کو قتل کر دیا جاتا تا کہ ان کے آباو ا جداد کا اور حکومتی دین محفوظ رہے ، پس """ ویلنٹائن""" کو قتل کر دیا ، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جب روم میں عیسائیت عام ہو گئی تو لوگوں """ ویلنٹائن""" کے قتل کا دن """ منانا """ شروع کیا ، تا کہ اس کو یاد رکھا جائے اور اس کے قتل پر ندامت کا اظہار کیا جائے ، ( وہ اظہار کیسے کیا جاتا تھا اس کا ذکر ان شاء اللہ ابھی کروں گا )
::::: ( 2) ::::: کہا گیا ، 14 فروری رومیوں کی ایک مقدس معبودہ (معبود کی مونث ، دیوی ) """ یونو یا جونو """ کا دن تھا ، اس معبودہ کے بارے میں رومیوں کا عقیدہ تھا کہ وہ ان کے سب معبودوں کی ملکہ ہے اور اس کو عورتوں اور شادی کے معاملات کے لیے خاص سمجھا جاتا تھا ، پس اسی کفریہ عقیدے کی بنا پر اس معبودہ کا دن منانا عورتوں ، محبت اور شادی یا بغیر شادی کے ہی شادی والے تعلقات بنانے کے لیے خاص جان کر """منایا """ جانے لگا ،
::::: (3) ::::: رومیوں کی ایک اور معبودہ """ لیسیوس """ نامی بھی تھی ، جو ایک مونث بھڑیا تھی ، رومیوں کا عقیدہ تھا کہ اس """ لیسیوس """ نے روم کے دونوں بانیوں Rumulusاور Remusکو ان کے بچپن میں دودھ پلایا تھا ، پس اس 14 فروری کو انہوں نے """ محبت """ نامی عبادت گاہ میں اس بھیڑیا معبودہ کا دن """ منانا""" شروع کیا ، اس عبادت گاہ کو """ محبت """ نام اس لیے دیا گیا کہ ان کے کفریہ عقیدے کے مطابق ان کی یہ بھڑیا معبودہ روم بنانے والے دونوں بچوں کو محبت کرتی تھی
::::: ( 4) ::::: قدیم رومی بادشاہ کلاڈیس 2 نے رومی مردوں کی مطلوبہ تعداد کو اپنی فوج میں شامل کرنے میں کافی مشکلات محسوس کیں ، کلاڈیس نے جب اس کا سبب تلاش کرنا چاہا تو پتہ چلا کہ شادی شدہ مرد اپنی بیویوں اور خاندانوں کو چھوڑ کر فوج میں شامل نہیں ہونا چاہتے تو کلاڈیس نے یہ شادیوں سے ممانعت کا فیصلہ صادر کر دیا ، اسوقت کے روم کے ایک بڑے پادری """ ویلنٹائن """ نے اپنے بادشاہ کی بات کو غلط جانتے ہوئے اس کی خلاف ورزی کی اور اپنے گرجا میں خفیہ طور پر محبت کرنے والے جوڑوں کی شادیاں کرواتا رہا کچھ عرصہ بعد یہ بات بادشاہ کو معلوم ہو گئی تو اس نے بتاریخ 14 ، فروری ، 269عیسوئی ویلنٹائن کو قتل کروا دیا ، اور یوں یہ ویلنٹائن محبت کرنے کروانے کے سلسلے میں ایک مثالی شخصیت بن گیا ،
::::: ( 5) ::::: قتل کیے جانے سے پہلے ویلنٹائن اور اس کے ایک اور ساتھی پادری ماریوس کو جیل میں قید رکھا گیا ، اس قید کے دوران ویلنٹائن ایک لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو گیا ، جو غالبا جیلر کی بیٹی تھی ، جو اس کو قتل والے دن یعنی 14 فروری کو دیکھنے یا ملنے آئی تو ویلنٹائن نے اسے ایک محبت نامہ دیا ،
:::: ( 6 ) ::::: قدیم روم میں جوان لڑکے اور لڑکیوں کی ملاقات اور میل جول پر سخت پابندی تھی ، سوائے ایک میلے یا عید کے موقع پر جسے""" Lupercalia لیوپیرکالیا""" کہا جاتا تھا ،
یہ عید بھی ایک جھوٹے باطل معبود """ Lupercus لیوپرکاس """ کی تعظیم کے لیے منائی جاتی تھی جسے رومی اپنے چرواہوں اور جانوروں کی حفاظت اور مدد کرنے والا سمجھتے تھے ،
اس دن جوان لڑکیاں اپنے نام کی پرچیاں بوتلوں میں ڈال کر رکھ دیتیں اور مرد یا لڑکے ان پرچیوں کو نکالتے جس کے ہاتھ جس کے نام کی پرچی لگتی ان کو ایک سال تک یعنی اگلی عید Lupercalia تک ایک دوسرے کے ساتھ تعلق استوار کرنے کی عام چھٹی ہو جاتی کبھی وہ جوڑا شادی کر لیتا اور کبھی بغیر شادی کے ہی سال بھر یا سال سے کم کسی مدت تک میاں بیوی جیسے تعلق کے ساتھ رہتا ،
اس میلے یا عید کی تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فروری تھی ، اور یہ بھی لکھا جاتا ہے کہ سے فروری تک یہ عید منائی جاتی رہتی تھی ،
ویلنٹائن کی موت کی یادگار منانے کی تاریخ اسی میلے کے ساتھ جا ملی اور دونوں کی کہانیاں اور گناہ مل کر ایک دن منائے جانے لگے اور نام بدنام کیا جانے لگا محبت کا ، جو ایک مثبت جذبہ ہے اور صرف اسی کیفیت تک محدود نہیں جس کی تعلیم اس عید اور اس کی کہانی اور اس جیسی دوسری گناہ آلود کہانیوں میں دی جاتی ہے ،
1969 عیسوئی تک تو بین الاقوامی طور پر یہ دن اُس ویلنٹائن سے منسوب کر کے رومی بنیادی گرجا کی طرف سے """ منایا """ جاتا رہا ، اور اس سے کچھ عرصہ پہلے تک اسی گرجا کی طرف سے یہ دن بھیڑیا معبودہ کی طرف منسوب کیا جاتا رہا
::::: (7 ) ::::: پندرھویں صدی کے آغاز میں """ اگن کورٹ Agincourt """کی جنگ میں ایک فرانسی ریاست اورلینز کا نواب """ Duke of Orleans """ انگریزوں کے ہاتھ قید ہوا جسے کئی سال تک لندن کے قلعے میں بند رکھا گیا ، وہاں سے وہ اپنی بیوی کے لیے عشقیہ شاعری بھیجتا رہا ، جن میں سے تقریبا ساٹھ نظمیں اب بھی برٹش میوزم میں موجود ہیں ، اس کی شاعری کو جدید دور کے """ ویلنٹائنز """ کا آغاز سمجھا جاتا ہے ،
::::: ( 8 ) ::::: اس کے تقریبا دو سو سال بعد """ ویلنٹائن کے دن """ پر پھول وغیرہ دینے کی رسم کا یوں آغاز ہوا کہ فرانس کے بادشاہ ہنری چہارم Henry IV کی ایک بیٹی نے """ پادری ویلنٹائن کا دن """ مناتے ہوئے یہ اہتمام کیا کہ ہر عورت اور لڑکی کو اس کا اختیار کردہ مرد یا لڑکا پھولوں کا ایک گلدستہ پیش کرے ،
::::: ( 9 ) ::::: انیسویں صدی کے درمیان میں اس گندگی کو پھیلانے میں تیزی پیدا ہوئی کہ طرح طرح کارڈز اور پیغامات کی چھپائی ہونے لگی ، امریکہ وغیرہ نے ان کارڈز کی ترسیل کے لیے ڈاک کے نرخ بھی کم کر دیے ، اور آہستہ آہستہ ابلیس کا شکار ہو کر بہت سے لوگ اپنی اپنی دنیا کمانے کے چکر میں طرح طرح کی ایجادات کرتے اور ان کو ہر ممکن طور نشر کرتے چلے آ رہے ہیں ،
مسلمانو، اس دن کی نسبت ، اور اس کی اصلییت ، ان مندرجہ بالا قصوں میں سے کسی کے ساتھ بھی ہو ، بہر صورت اس کی اصلییت کفر و شرک گناہ و غلاظت ہی ہے ، اور اب بھی اس دن کو غیر اخلاقی اور یقینا ہمارے دین کے مطابق حرام میل ملاقات رکھنے والے مرد و عورت یا لڑکے اور لڑکیوں کے لیے شیطان ایک """ عید """ کا نام دے کر ، دھوکے کا ایک لباس مہیا کیا ، جسے اوڑھ کر کھلے عام ایک دوسرے کو ناجائز تعلقات کی دعوت دی جاتی ہے ، بلکہ ایسے تعلقات قائم کیے جاتے ہیں ، اور ابلیس کا دیا ہوا یہ لباس ہر دفعہ مزید خوش منظر ہو کر آتا ہے کہ اہل معاشرہ بھی اس کے پیچھے ہونے والے شیطانی کاموں کو اچھا اور بہتر اور فطری سمجھتے ہیں ،
اس بات سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ عید یا دن مسلمانوں کا ہر گز نہیں اور جو کچھ اس دن میں کیا جاتا ہے اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ، اسلام تو بہت بلند و برتر ہے ، عیسائی کنیسا نے بھی اس ویلنٹائن دن میں ہونے والی حرافات کو کسی دین کے ساتھ منسوب رکھنا نا مناسب سمھتے ہوئے اس کی باقاعدہ سرپرستی ترک کر دی ، لیکن افسوس ، مسلمانوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ، اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل ، اپنی تجارت کو بڑھانے چمکانے کے لیے اس غیر اسلامی حرام دن منانے کی رسم کی تمام تر ضروریات کو بدرجہ اتم مہیا کیا جاتا ہے ، اور لوگوں کو اس کی طرف مائل کرنے کے لیے ہر ممکن ذریعہ اور وسیلہ اختیار کیا جاتا ہے ،
اس عید یا دن کو منانے میں اب ہمارے مسلمان بھائی بہن بھی ابلیسی نعروں اور فکر کے زیر اثر شامل ہوتے ہیں ، اور اس کے گناہ کا کوئی شعور نہیں رکھتے ،
اس کفر و شرک اور بے حیائی اور بے غیرتی اور گناہ کی بنیاد پر منائے جانے والے دن اور اس میں کیے جانے والے کاموں کی تاریخ اور اصلییت بتانے کے بعد اب میں کوئی لمبی چوڑی تفصیلی بات کرنے کی بجائے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرامین سناتا ہوں کہ ایمان والوں کے لیے اس سے بڑھ کر حجت کوئی اور نہیں اور نہ ہی اور کی ضرورت رہتی ہے اور جو نہ مانے یا کسی تاویل کے ذریعے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کرے یا کسی فلسفے کا شکار ہو کر اس گناہ کو گناہ سمجھنے میں تردد محسوس کرے وہ اپنے ایمان کی خبر لے ،
::::::: اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا حکم ہے اور تنبیہ ہے((((( لاَّ یَتَّخِذِ المُؤمِنُونَ الکَافِرِینَ أَولِیَاء مِن دُونِ المُؤمِنِینَ وَمَن یَفعَل ذَلِکَ فَلَیسَ مِنَ اللّہِ فِی شَیء ٍ إِلاَّ أَن تَتَّقُوا مِنہُم تُقَاۃً وَیُحَذِّرُکُمُ اللّہُ نَفسَہُ وَإِلَی اللّہِ المَصِیرُ::: ایمان والے ، ایمان والوں کی بجائے کافروں کو اپنا دوست ( راہبر ، راہنما ، پیشوا ) نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس کے لیے اللہ کی طرف سے کوئی مددگاری نہیں ہاں اگر تم لوگوں (کافروں کے شر سے ) کوئی بچاو کرنا چاہو تو (صرف اس صورت میں اسیا کیا جا سکتا ہے ) ، اور اللہ تم لوگوں کو خود اُس (کے عذاب ) سے ڈراتا ہے اور اللہ کی طرف ہی پلٹنا ہے ( پس اسکے عذاب سے بچ نہ پاؤ گے ))))) سورت آل عمران / آیت 28
::::::: اور مزید حکم فرمایا اور نافرمانی کا نتیجہ بھی بتایا ((((( یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا الیَہُودَ وَالنَّصَارَی أَولِیَاء بَعضُہُم أَولِیَاء بَعضٍ وَمَن یَتَوَلَّہُم مِّنکُم فَإِنَّہُ مِنہُم إِنَّ اللّہَ لاَ یَہدِی القَومَ الظَّالِمِینَ ::: اے ایمان لانے والو یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست ( راہبر ، راہنما ،پیشوا ) نہ بناؤ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں (تمہارے ہر گز نہیں ) اور تم لوگوں میں سے جو کوئی انہیں دوست بنائے گا تو بے شک وہ ان ہی میں سے ہے بے شک اللہ ظلم کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا ))))) سورت المائدہ / آیت 51
یہ بات واضح ہے کہ ویلنٹائن کا دن یا محبت کی عید غیر اسلامی دینی تہوار ہے اور اس کو منایا جانا اسلام کی بجائے دوسرے دین کے لیے رضامندی کا اظہار ہے اور اس باطل دین کو پھیلانے کی کوشش اور سبب ہے ، اور اللہ توتعالیٰ کا فرمان ہے ((((( وَمَن یَبتَغِ غَیرَ الإِسلاَمِ دِیناً فَلَن یُقبَلَ مِنہُ وَ ہُوَ فِی الآخِرَۃِ مِنَ الخَاسِرِینَ ::: اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کچھ اور کو دین چاہے گا تو اس کا کوئی عمل قُبُول نہ ہوگا اور وہ آخرت میں نقصان اُٹھانے والوں میں ہو گا ))))) سورت آل عمران / آیت 85
::::::: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا فیصلہ ہے ((((( مَن تشبَّہ بِقومٍ فَھُو مِنھُم ::: جِس نے جِس قوم کی نقالی کی وہ اُن ہی ( یعنی اُسی قوم ) میں سے ہے ))))) سُنن أبو داؤد /حدیث 4025 /کتاب اللباس / باب 4 لبس الشھرۃ ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ عام ہے اور اِس میں سے کِسی چیز کو نکالنے کی کوئی گُنجائش نہیں ، لہذا لباس ، طرز رہائش ، عادات و اطوار ، رسم و رواج ، کِسی بھی معاملے میں کافروں کی نقالی کرنا جائز نہیں ، اپنی بُرائی کو اچھائی بنانے کے لیے اُسے اچھائی سے تبدیل کرنا ہوتا ہے ، کوئی اچھا نام دینے سے وہ بُرائی اچھائی نہیں بنتی ،
جی یہ سمجھ میری نہیں ، انبیاء کے بعد سب سے پاک ہستیوں کی ہے ، جنہیں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کہا جاتا ہے ، ملاحظہ فرمایے ،
::::::: دوسرے بلا فصل خلیفہ امیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے ((((( أجتنبُوا أعداء اللَّہ فی أعیادھم ::: اللہ کے دشمنوں سے ان کی عیدوں (کے دنوں ) میں دور رہو ))))) سنن البیہقی الکبُریٰ ، کتاب الجزیۃ ، باب 56 ، اسنادہ صحیح ،
یعنی جب کسی جگہ پر کفار کے ساتھ معاشرتی ساتھ ہو تو خاص طور پر ان کی عیدوں کے دنوں میں ان سے دور رہا کرو ،
::::::: چوتھے بلا فصل خلیفہ ، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کو ایک دن کچھ تحفہ موصول ہوا ، دریافت فرمایا (((((ما ہذہ ؟ ::: یہ کیا ہے ؟ ))))) بتایا گیا "" اے امیر المؤمنین یہ نیروز (تہوار )کا دن ہے (اور یہ اس تہوار کا تحفہ ہے ) """ فرمایا ((((( فاصنعوا کل یوم نیروز::: تو ہر ایک دن کو ہی نیروز بنا لو ))))) ابو اسامہ اس روایت کے ایک راوی فرماتے ہیں کہ """ کرہ أن یقول نیروز ::: (امیر المؤمنین )علی رضی اللہ عنہ نے اس چیز سے کراہت کا اظہار فرمایا کہ کسی دن کو نیروز کہا جائے """ سابقہ حوالہ ، باسناد صحیح
غور فرمایے ، کہ علی رضی اللہ عنہ نے کسی دن کو وہ نام تک دینا پسند نہیں فرمایا جو کافروں نے دیا ہوا تھا ، اور یہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکام کی قلبی قبولیت اورعملی تطبیق کی ایک بہترین مثال ہے ،
آج ہم انہی شخصیات سے محبت اور ان کی پیروی کا دعویٰ کرتے ہیں ، لیکن ہماری سوچ و فکر ، ایمان و عمل ان سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے ، انا للہ و انا الیہ راجعون،
::::::: عبداللہ بن عَمرو العاص رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے ((((( مَن بَنیٰ ببلاد الأعاجم و صنع نیروزھم و مھرجانھم ، و تشبھ بھم حتیٰ یَموت و ھو کذلک حُشِرَ معھم یوم القیامۃ ::: جس نے کفار کے شہروں میں رہائش گاہیں بنائیں اور ان کے تہوار اور میلے منائے اور ان کی نقالی کی یہاں تک کہ اسی حال میں مر گیا قیامت والے دِن اُس کا حشر اُن کافروں کے ساتھ ہی ہو گا ))))) سابقہ حوالہ ، صحیح الاسناد ،
ایسی روایات کو حُکماً مرفوع یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا قول سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ غیب کی خبر اور غیب کی خبر صرف اللہ کو ہے اور اللہ کی طرف سے جتنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو دی گئی پس کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایسی کوئی خبر اس کی اپنی بات نہیں ہو سکتی ،
اس ویلنٹائن کے دن ، یا عیدء ِ محبت منانے کو ایک اور زوایے سے بھی دیکھتے چلیں کہ اس دن ، اس نسبت سے اور اس کو منانے کے لیے جو کچھ بھی کیا جاتا ہے وہ قطعا غیر ضروری ہے اور ان غیر ضروری چیزوں پر ایک پائی بھی خرچ کرنا فضول خرچی ہے ، اور فضول خرچی کرنے والوں کا اللہ کے ہاں کیا رتبہ ہے وہ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے ((((( اِنَّ المبذِرِینَ کان أِخوان الشیاطین و کان الشیطنُ لِربِّہِ کَفُوراً ::: فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی نا شکرا ہے ))))) سورت الا سراء َ ، ( بنی اسرائیل )/آیت ،27 ،
کفر وشرک ، گناہ و غلاظت کے اس دن کو مناتے ہوئے اگر ایک پیسہ بھی خرچ کیا جائے ، ایک لمحہ بھی خرچ کیا جائے تو وہ سوائے اللہ کے عذاب کے کچھ اور نہیں کمائے گا ، اور اگر یہی کچھ ، کسی مسلمان کی مدد کے لیے خرچ کیا جائے ، یا اپنی اور اپنوں کی کوئی جائز ضرورت پوری کرنے کے لیے خرچ کیا جائے تو ان شاء اللہ تعالیٰ نتیجہ بالعکس ہو گا ،
جو لوگ اس عیدء ِ محبت کو گوارہ کرتے ہیںاور دوسروں کی خواتین کو پھانسنے کی کوشش کرتے ہیں یا ایسا کر گذرنے کو بڑا کارنامہ سمجھتے ہیں اور اس کارنامے کی انتہا جنسی بے راہ روی تک لے جانے کے خواہش مند ہوتے ہیں ، انہیں یہ شعر سناتا چلوں
::: إن الزنا دین فإن أقرضتہ ::: کان الوفاء من أہل بیتک فاعلم
زنا قرض ہے اگر تم نے یہ قرض لیا تو یاد رکھو ::: اس کی ادائیگی تمہارے گھر والوں میں سے ہو گی
من یَزنی یُزنی ولَو بجدارہ ::: إن کنت یا ہذا لبیباً فافہم
جو زنا کرے گا ، اس کے ساتھ زنا ہو گا خواہ اس کی دیوار کے ساتھ کیا جائے ::: اگر اے سننے والے تم عقل مند ہو تو (میری بات )سمجھ جاؤ ( اور ایسے کاموں سے باز رہو )

اللہ تعالیٰ میرے یہ الفاظ ، میرے اور ہر پڑھنے والے کے دین دنیا اور آخرت کی خیر کے اسباب میں بنا دے، ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم کسی ضد ، تعصب اور منطق و فلسفے کا شکار نہ ہوں اور حق پہچانیں ، قبول کریں اور اسی پر عمل کرتے ہوئے ہماری زندگیاں تمام ہوں اور اسی پر یوم قیامت ہمارا حشر ہو ، و السلام علیکم۔[/SIZE]
[SIZE="5"]مضمون کا برقی نسخہ پی ڈی ایف """ یہاں """ سے اتارا جا سکتا ہے ،
ہر پڑھنے والا اس خیر کو نشر کرے اور کفر و شرک اور گناہ و غلاظت کی اور رسم کو اپنے معاشرے میں پنپنے سے روکنے کی کوشش میں شامل ہو ،[/]
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

Last edited by حیدر; 11-02-12 at 09:18 PM..

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2312
Reply With Quote
29 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (13-02-11), Miss Khan (10-02-12), shafresha (16-02-10), skjatala (10-02-12), فیصل ناصر (12-02-09), فرحان دانش (14-02-10), کنعان (14-02-10), پاکستانی (11-02-10), ھارون اعظم (12-02-10), یاسر عمران مرزا (14-02-12), قاسم شاہ (21-02-12), چیتا چالباز (14-02-09), موجو (13-02-11), محمد عاصم (12-02-11), مرزا عامر (14-02-11), Zullu230 (26-03-09), ایکسٹو (11-02-12), ابو عمار (11-02-10), احمد بلال (13-02-09), راجہ اکرام (13-02-09), شکاری (12-02-12), شھزادباجوہ (10-02-12), شمشاد احمد (14-02-11), شبنم (20-02-11), طارق راحیل (13-02-09), عُکاشہ (14-02-11), عمران1111 (11-02-12), عبداللہ آدم (13-02-11), غلام خان (14-02-12)
پرانا 14-02-11, 12:55 AM   #31
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Nasiwise مراسلہ دیکھیں


ویلنٹائن ڈے بند کرنا ہے تو بہتر یہ ہو گا اسکلیے کوئی معتبادل دن پیش کریں کیونکہ چاہت اور مخبت کا اظہار کرنا انسانی فطری ضرورت ہے۔ ہمارے کلچر میں ایسا کوئی دن نہیں اور اسی لیے ویلنٹائن ڈے لوگوں کیلیے کشش رکھتا ہے اور اسکی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔
کیا واقعی اس دن کا متبادل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے ؟؟ اور رہی بات کشش اور مقبولیت کی تو پورنو گرافی نے پچھلی چند دہاییوں میں خوب کشش اور مقبولیت کمائی ہے ۔
اس دن پیار کرنے والے کس قسم کے پھولوں کا تحفہ بھیجھتے ہیں یہ ہم سب جانتے ہیں ۔
یورپ میں کیا دنیا میں اب حقیقی محبت کا خاتمہ ہو چلا ہے ۔ ماں سے محبت باپ سے محبت ۔ یہ کیا چیزیں ہیں اب ہمارے معاشرے سے بھی ختم ہوتی جا رہی ہیں ۔ تو مغربی دنیا میں سال میں ماں باپ کو ایک مرتبہ یاد کرنے کے لیئے بلکہ یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ دکھانے کے لیئے ہیں اپنے ماں باپ یاد ہیں ۔ ایک کارڈ لے جا کر انہیں اس دن کی مبارک باد دی جاتی ہے ۔ کوئی خدمت گزار اولاد تو ڈنر بھی کروا دیتی ہے ۔ اور کچھ اولادیں ایسی بھی ہیں جو ایک ایس ایم کر کے احسان کر دیتی ہے ۔
۔ سچی محبت کرنے والوں کے لیئے ہر دن ماں کا دن ہے ۔ ہر دن باپ کا دن ہے ۔ ہر دن خونی رشتوں کے لیئے ہے اور ہر دن بیوی کا دن ہے ۔ حقیقی محبت کرنے والے کسی دن کا انتظار نہیں کرتے ۔ کیونکہ وہ کسی مخصوص دن کی قید سے آزاد ہوتے ہیں
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (10-02-12), فیصل ناصر (14-02-11), ناصحی (14-02-11), محمد عاصم (18-02-11), حیدر Rehan (11-02-12), شمشاد احمد (14-02-11), عادل سہیل (20-02-12), عبداللہ آدم (14-02-11)
پرانا 14-02-11, 01:18 AM   #32
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,992
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویلنٹائنز ڈے اگر ایک اہم انسانی فطری جذبے کی کمی پوری کرنے کی خوبی نہ رکھتا ہوتا تو یہ پاکستان جیسے ملک میں کیسے جڑ پکڑتا؟

سفر پیدل بھی کیا جا سکتا ہے ایک سائیکل سوار کو کہا جائے کہ اتر کر پیدل چلے تو وہ آسانی سے نہیں مانے گا البتہ اگر اسے کار میں لفٹ کی آفر کی جائے تو میرا خیال ہے وہ سائیکل کو ترک کرنے پر آسانی سے رضامند ہو جائے گا۔

ہم لوگوں کو ایک کام کرنے سے منع کرنے کیلیے زور تو لگاتے ہیں لیکن اس بات پر توجہ نہیں دیتے کہ اسے بہتر معتبادل کیا آفر کیا جائے؟

اچھے کردار اور اچھی پرورش پانے والوں میں اپنے ماں باپ کی محبت کم نہیں ہوتی اسکے علاوہ ایسے لوگوں کے ماں باپ مال دولت والے ہوتے ہیں اسلیے وہ انکی محبت کے معتاج بھی نہیں ہوتے۔
__________________
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
کنعان (14-02-11), مرزا عامر (15-02-11), شمشاد احمد (14-02-11)
پرانا 14-02-11, 02:54 AM   #33
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 38
مراسلات: 558
کمائي: 8,100
شکریہ: 1,348
372 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Wink muhabbat k aadaab

...Or ye baat kitni tawajju talab hy k insaan jitni tarah ki muhabbatein krta hy...un ka tareeqa or aadaab islam ny khud buht wazahat sy bta diyey hein....Allah ki muhabbat tak pohonchney k liye us ki makhlooq or us k pyarey Nabi ki muhabbat ko shart bna diya gya....
mama_shalla آن لائن ہے   Reply With Quote
mama_shalla کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 14-02-11, 04:34 AM   #34
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم!

جیسا کہ ناصی بھائی نے لکھا کہ وہ ویلنٹائن نہیں مناتے، میں بھی نہیں مناتا اور اسی طرح سب، مرزا بھائی کو پوچھ لیں وہ یورپ میں ہیں، پرویز بھائی کو پوچھ لیں وہ امریکہ میں‌ ہیں انہوں نے کبھی منایا تو ان کا جواب بھی وہی ہو گا جو ہمارا ھے۔

جن کا تہوار ھے وہ بھی یہاں پھول اور تحائف کا تبادلہ ہی کرتے ہیں، پاکستان میں بیٹھ کر ان پر خود ہی آئیڈئے لگانا کہ وہ بے حیائی کرتے ہیں تو جس طرح پاکستان میں ہر قسم کے لوگ ہیں اچھے اور برے اسی طرح یہاں بھی ایسا ہی ھے، اچھے بھی ہیں اور برے بھی۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
ناصحی (15-02-11), مرزا عامر (15-02-11), حیدر Rehan (11-02-12)
پرانا 15-02-11, 01:12 AM   #35
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,992
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قادری کیلیے اسکے حمایتوں کی طرف سے ویلنٹائنز ڈے کے کارڈ اور تعفے

Name:  q2.jpg
Views: 82
Size:  87.9 KB
Activists of Islamist organisation Shabab-e-Islami Pakistan shout slogans outside the Adiyala prison in Rawalpindi on February 14, 2011, in the support of detained self-confessed killer Malik Mumtaz Hussain Qadri. A Pakistani court charged Qadri, a police commando with terrorism and the murder of leading liberal politician Salman Taseer, whose assassination divided the country.
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
کنعان (15-02-11), مرزا عامر (15-02-11)
پرانا 18-02-11, 01:10 AM   #36
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,682
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Nasiwise مراسلہ دیکھیں
یعنی کہ جو اس پوسٹ سے اختلاف رکھتا ہے وہ مسلمان نہیں۔ہم اسلام کے ٹھیکے دار ہیں، ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ درست اور باقی لوگ جو کچھ بھی کہتے ہیں غلط ہے۔

ایک لڑکی کے والدین نےاگر اسکی پرورش اچھے طریقے سے انجام دی ہے، جوان ہونے پر اچھے برے کی تمیز وہ خود کرنے کے قابل ہوگی نہ کہ دوسروں کی رہنمائی اور دیکھ بھال کی محتاج رہے گی۔ اسکوویلنٹائن بھیجنے کی ہمت وہی لڑکا کرے گا جسے وہ اپنا شریک حیات بننے کے قابل سمجھتی ہوگی۔ ایسی بہن کیلیے مجھے کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ اسے ویلنٹائن کس نے بھیجا ہے۔

جس طرح ایک بیوی کے ایک ہی وقت میں دو خاوند نہیں ہو سکتے اسی طرح ایک ملک کے دو قانون نہیں ہو سکتے۔ پاکستان میں اسلامی نظامِ حکومت اب نہیں مستقبل میں قائم ہوگا، اسوقت تک پاکستان کا قانون ہی چلے گا۔ اس قانوں کے مطابق ویلنٹائن منانے کی کسی پر پابندی نہیں۔

اگر کسی شخص کیلیے پاکستان کے موجودہ قانون کی کوئی اہمیت نہیں تو اسکیلیے پاکستان کی کیا اہمیت ہے؟
لیٹ سے جواب دینے کی وجہ یہ ہے کہ میرے نیٹ کی ڈیوائس ٹوٹ گئی تھی۔
اقتباس:
یعنی کہ جو اس پوسٹ سے اختلاف رکھتا ہے وہ مسلمان نہیں۔ہم اسلام کے ٹھیکے دار ہیں، ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ درست اور باقی لوگ جو کچھ بھی کہتے ہیں غلط ہے۔
میں نے کب کہا کہ وہ کافر ہے یہ تو آپ کی سوچ ہے جو مرضی ہے اس سے سوچیں۔
اور میں تو اسلام کا ٹھیکے دار نہیں ہوں مگر ایک مسلم ضرور ہوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو قرآن اور حدیث کے مطابق بات کرئے وہ صحیح اور جو ان::قرآن و حدیث:: کے خلاف بات کرئے وہ غلط ہے۔
اقتباس:
ایک لڑکی کے والدین نےاگر اسکی پرورش اچھے طریقے سے انجام دی ہے، جوان ہونے پر اچھے برے کی تمیز وہ خود کرنے کے قابل ہوگی نہ کہ دوسروں کی رہنمائی اور دیکھ بھال کی محتاج رہے گی۔ اسکوویلنٹائن بھیجنے کی ہمت وہی لڑکا کرے گا جسے وہ اپنا شریک حیات بننے کے قابل سمجھتی ہوگی۔ ایسی بہن کیلیے مجھے کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ اسے ویلنٹائن کس نے بھیجا ہے۔
واہ جی واہ کیا سوچ و فکر آپ نے اپنائی ہے۔ آپ ہمیں بچہ سمجھتے ہیں یا خود بچہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں،اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اس محبت کے نام پر اللہ کی پناہ ان برُے اعمال سے یہ کوئی محبت نہیں ہے بلکہ صرف نفس پرستی اور شیطانی حواہشات کی تکمیل کے لیے سب کیا جاتا ہے اور ایک ایک لڑکی نے ۵،۵ لڑکوں سے یارانے لگائے ہوئے ہیں اور لڑکے بھی ایسے ہی ہیں، ہر کوئی دوسرے کو بیوقوف بنانے کے چکر میں ہوتا ہے مگر بیوقوف بن رہا ہوتا ہے اور اسی خوش خیالی میں کئی ایک اپنی عزت و عصمت درندوں کے ہاتھوں لٹا بیٹھی جو یہ صدمہ برداشت کر گئی ان کی ہمت اور کئی ایک نے خودکشی کی، یہ کوئی نئی بات نہیں کر رہا آجکل کی ہی اخبار اُٹھائیں اور عصمت دری کے واقعات خود پڑھیں اور یہ سب کیا کرایہ اسی سوچ و فکر کا ہے کہ ہم آزاد ہیں اپنے ہمسفر کے انتخاب کرنے کے معاملے میں، اور جب ہاتھ لگ جاتے ہیں تو پھر سوائے پچھتاوے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا، اس لیے بہتر یہی ہے کہ ایسا نہ کیا جائے اور شادی کے معاملے میں والدین کی مرضی کو اہمیت دی جائے وہ جو فیصلہ کریں اس کو قبول کیا جائے کیونکہ والدین اولاد کے لیے اچھا ہی سوچتے اور کرتے ہیں۔
اقتباس:
جس طرح ایک بیوی کے ایک ہی وقت میں دو خاوند نہیں ہو سکتے اسی طرح ایک ملک کے دو قانون نہیں ہو سکتے۔ پاکستان میں اسلامی نظامِ حکومت اب نہیں مستقبل میں قائم ہوگا، اسوقت تک پاکستان کا قانون ہی چلے گا۔ اس قانوں کے مطابق ویلنٹائن منانے کی کسی پر پابندی نہیں۔
جی صحیح کہا ہے آپ نے ہم بھی صرف یہ کام کرتے ہیں کہ لوگوں کو اس دن کی برُائی سے آگاہ کرتے ہیں ڈنڈا لے کر کسی کو مارتے نہیں ہیں کہ ایسا نہ کرو اب اگر آپ کو یہ تحریر بھی ڈنڈا نظر آ رہی ہے تو ہم آپ کی سوچ پر پابندی نہیں لگاسکتے جناب جو مرضی ہے سوچیں اور لکھیں۔
اقتباس:
اگر کسی شخص کیلیے پاکستان کے موجودہ قانون کی کوئی اہمیت نہیں تو اسکیلیے پاکستان کی کیا اہمیت ہے؟
اگر میں یہی بات لکھتا کہ جو اسلام کے قانون کو اہمیت نہیں دیتا تو اس کے سامنے اسلام کی کیا اہمیت ہے؟؟؟تو آپ نے پھر وہی بوسیدہ فقرہ لکھنا تھا کہ اسلام کے ٹھیکے دار نہ بنو۔
پاکستان کی اہمیت ہے تو ہم اس میں رائج انگریزی قوانین کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور جس مقصد کے لیے پاکستان بنایا گیا تھا اس کو پورا کرنا چاہتے ہیں اور وہ مقصد تھا ایک ایسا ملک جہاں اللہ کا دیا ہوا قانون چلے اسی لیے یہ نعرہ لگایا گیا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ یعنی پاکستان میں کوئی اور قانون نہیں چلے گا مگر صرف اللہ کا نازل کردہ قانون۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
شھزادباجوہ (10-02-12), عادل سہیل (20-02-12), غلام خان (14-02-12)
پرانا 10-02-12, 02:05 AM   #37
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,487
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم،
چودہ فروری کا دن پھر نزدیک آ گیا ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (10-02-12), عادل سہیل (10-02-12)
پرانا 10-02-12, 10:36 AM   #38
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کمال ہے کہ اتنی تکلیف کے بعد بھی یہ تہوار منانا بند نہیں‌ہوا؟؟؟
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-02-12, 07:12 PM   #39
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم،
چودہ فروری کا دن پھر نزدیک آ گیا ہے۔
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے ،
میں نے مضمون میں کچھ تبدیلی اور اضافے کیے تھے ، لیکن تدوین والا بٹن نظر نہیں آ رہا ،
بہر حال ، نٕئے اصدار کا ڈاون لنک یہاں شامل کیے دیے رہا ہوں ، اگر آپ سے یا کسی اور بھإئی سے ہو سکے تو اصل مضمون میں یہ لنک شامل کر دیجیے ، اور دیکھیے کہ میرے لیے تدوین کا اختیار کام کیوں نہیں کر رہا ، جزاک اللہ خیرا، و السلام علیکم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئے مضمون کا برقی نسخہ """ یہاں """ سے اتارا جا سکتا ہے ۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-02-12, 07:22 PM   #40
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
کمال ہے کہ اتنی تکلیف کے بعد بھی یہ تہوار منانا بند نہیں‌ہوا؟؟؟
السلام علی من اتبع الھدیٰ ،
ان صاحب کا اظہار کمال اگر ان کی حیرت کا اظہار ہے تو ان کی حیرت کی دُوری کے لیے کہتا ہوں کہ """ گناہوں کی دعوت دینے والے ، اُس دعوت پر عمل کرنے والے ہمیشہ زیادہ رہے ہیں ، نیکی کی دعوت دینے والے ، گناہوں سے روکنے والے ، نیکی کی دعوت قبول کرنے والے ، گناہوں سے باز رہنے والے ہمیشہ کم رہے ہیں ، پس اس میں کوٕئی کمال نہیں اور نہ ہی جائے حیرت ہے """،
اور اگر یہ صاحب ایک برإئی کی تکمیل پر خوشی سے اس کو """ کمال """ کہہ رہے ہیں‌تو یہ کہوں گا کہ """ کسی گناہ کا مکمل ہونا لغوی طور پر تو """ کمال """ کہلا سکتا ہے لیکن یہ """ کمال """ بلا شک و شبہ """ مذموم """ ہی قرار پإئے گا ، گناہوں کا """ کمال """ کسی طور بھی قابل ستائش نہیں ہوتا """ ،
و السلام علی من اتبع الھدیٰ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
نئے مضمون کا برقی نسخہ """ یہاں """ سے اتارا جا سکتا ہے ۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (11-02-12), شھزادباجوہ (11-02-12)
پرانا 10-02-12, 08:09 PM   #41
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,487
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم،
چچا جی، نہ چھڑا کریں۔ یہاں قرآن اور اسلام کی مرمت کرنے والے ایسے ماہرین موجود ہیں جو نہ صرف ویلنٹائن ڈے کا جواز قرآن سے نکال لائیں گے بلکہ آپ کو تارک قرآن اور منکر قرآن ہونے کے طعنے بھی سننے پڑیں گے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (10-02-12), احمد نذیر (11-02-12), شھزادباجوہ (11-02-12), عادل سہیل (10-02-12), غلام خان (14-02-12)
کمائي نے عبداللہ حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
11-02-12 حیدر قرآن اور اسلام کی مرمت کرنے والے ماہرین hahahaha 2
پرانا 10-02-12, 08:17 PM   #42
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,487
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اور مراسلے کی تدوین کے لیے اب 12 گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ناظم سے رابطہ کرنا پڑے گا۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (10-02-12), حیدر (11-02-12), عادل سہیل (10-02-12)
پرانا 11-02-12, 12:02 AM   #43
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم،
چچا جی، نہ چھڑا کریں۔ یہاں قرآن اور اسلام کی مرمت کرنے والے ایسے ماہرین موجود ہیں جو نہ صرف ویلنٹائن ڈے کا جواز قرآن سے نکال لائیں گے بلکہ آپ کو تارک قرآن اور منکر قرآن ہونے کے طعنے بھی سننے پڑیں گے۔
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا بھتیجے ، کوٕئی نٕئی بات بتائی ہوتی ،اگر ایسا نہ ہو تو لگتا ہی نہیں‌کہ میں نے پاک نیٹ کے اسلامی سیکشن میں کچھ ارسال کیا ہے ،
جنہیں اللہ نے اپنے دین کے درست منہج اور علم سے محروم رکھا ہو وہ لوگ طعنے ہی دے سکتے ہیں اور اپنی خود ساختہ سوچوں کو ٹھیک دکھانے کے لیے اللہ کے کلام کی باطل تاویلات اور اللہ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سنت مبارکہ کے خلاف شبہات ہی پھیلا سکتے ہیں ، اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے اور اگر اللہ کی مشیٕت میں ان کے لیے ہدایت نہیں تو اللہ اپنی ساری ہی مخلوق کو ان کے شر سے محفوظ کر دے ۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
اور مراسلے کی تدوین کے لیے اب 12 گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ناظم سے رابطہ کرنا پڑے گا۔
بھتیجے اپنی دی ہوئی اس خبر کی وضاحت کرو،
کیا ایک دفعہ تدوین کے بعد دوسری تدوین کے لیے بارہ گھنٹے کا وقفہ مقرر کیا گیا ہے
اگر ایسا ہے تو ذرا جلدی سے پتہ کرنا کہ وہاں ایک گھنٹہ کتنے مہینوں کا ہوتا ہے ،
یا مراسلہ ارسال کرنے کے بعد تدوین کے لیے بارہ گھنٹے انتظار کرنا پرٹا ہے ، اگر ایساہے تو ابھی ارسال کیے گٕئے مراسلات میں تو تدوین کا اختیار فورا ہی نظر آنے لگا تھا ،
ابے بھتیجے کاہے کو بوڑھے چچا کو تنگ کر رہے ہو والسلام علیکم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئے مضمون کا برقی نسخہ """ یہاں """ سے اتارا جا سکتا ہے ۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-02-12, 12:29 AM   #44
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,487
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نیا مراسلہ ارسال کرنے کے 12 گھنٹے کے اندر اس کی تدوین کی جا سکتی ہے۔ یہ پابندی حال ہی میں منتظمین نے عائد کی ہے۔ کچھ ممبران سالہا سال پرانے مراسلوں کی تدوین کر دیتے تھے جس سے گفتگو کا تسلسل اور بعد کے مراسلات کا مقصد سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (11-02-12)
پرانا 11-02-12, 08:08 AM   #45
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم،
چچا جی، نہ چھڑا کریں۔ یہاں قرآن اور اسلام کی مرمت کرنے والے ایسے ماہرین موجود ہیں جو نہ صرف ویلنٹائن ڈے کا جواز قرآن سے نکال لائیں گے بلکہ آپ کو تارک قرآن اور منکر قرآن ہونے کے طعنے بھی سننے پڑیں گے۔
آپ کا خصوصی شکریہ۔ اس یاد دہانی کا ۔ دیکھتے ہیں‌کہ اللہ تعالی کا فرمان کیا کہتا ہے ۔

سورۃ‌النساء آیت نمبر ایک

اللہ تعالی ، ہمارے رب نے ایک جان سے ابتداء کی اور اس کا جوڑا بنایا اور اس سے دنیا میں‌ عورتوں اور مردوں کو پھیلادیا۔۔ کیا اللہ تعالی نے منع کیا ہے کہ مرد و عورت شادی نا کریں اور محبت نا کریں؟؟ یا تجرد کی زندگی گذار دیں؟ اگر مرد و عورت تجرد کی زندگی گذار دیں گے تو صرف سو سے ڈیڑھ سو سال کے عرصے میں‌ زمین پر نسل انسانی ختم ۔۔ گویا شادی و محبت ایک ضروری عمل جو کہ اللہ تعالی کا بنیادی مقصد ۔

4:1 يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُواْ اللّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا، اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابتوں (میں بھی تقوٰی اختیار کرو)، بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے

اللہ تعالی کا فرمان کہ جو عورتیں‌ تم کو پسند آئیں ان سے نکاح‌کرلو۔۔۔
4:3 وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُواْ فِي الْيَتَامَى فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلاَّ تَعُولُواْ
اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے (نکاح کرو) یا وہ کنیزیں جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں آئی ہوں، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو

مرد و عورت کو اللہ تعالی نے نکاح‌کرنے کا حکم دیا ، کچھ لوگ جو یہ نہیں‌ چاہتے تھے ان لوگوں نے شادی پر پابندی لگادی ، یہ عیسائی پرکھے تجرد کی تعلیم دیتے تھے۔ آج بھی کچھ لوگ انہیں‌ پرکھوں کی تعلیم کے مطابق ، تجرد کی تعلیم دیتے ہیں‌اور مرد و عورت کو نکاح کرنے سے روکتے ہیں۔

یہ عیسائی، اپنے کلیساء‌میں‌ مردو عورت کو شادی نہیں‌کرنے دیتے تھے ۔۔۔ سینٹ وینٹائین ایسا سینٹ تھا جو لوگوں کو مردوں اور عورتوں کو اللہ تعالی کے فرمان مبارک کے مطابق شادی کرنے کا حوصلہ دیتے تھے اور اس طرح کلیساء‌کی مخالفت کرتے تھے۔ بالآخر 14 فروری کو کلیساء نے ان کو پھانسی دے دی تاکہ یہ لوگوں کو کلیساء‌کی کافرانہ تعلیم کے خلاف شادی کا حوصلہ نا دے سکیں۔ آج بھی کلیسا ، نن اور پریسٹ بنا کر مردوں اور عورتوں‌کو شادی کے بغیر زندگی گذارنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ نکاح یا شادی ایک گناہ ہے جو آدم اور حوا سے سرزد ہوا تھا۔ لہذا شادی کرنا یا محبت کرنا ایک گناہ عظیم ہے ۔ بہت سے لوگ جو عیسائیت سے مسلمان ہوئے آج بھی اس قسم کے تجرد کے قائیل ہیں‌۔ اور اپنے پرکھوں کی روایات دانستہ یا نادانستہ طور پر بڑھا کر خوش ہوتے ہیں۔

اس کے برعکس سینٹ‌ویلنٹائین ایک خدا ترس سینٹ تھا۔ یہ لوگوں‌کو شادی کا حوصلہ دیتا تھا اور اللہ کے فرمان اور اللہ کے احکام کو جاری و ساری رکھنے کے لئے جدو جہد کرتا تھا۔ چرچ نے اس سینٹ‌کو موت کی نیند سلا تو دیا لیکن آج بھی محبت کرنے والے ، شادی کرنے والے اس سینٹ‌کو یاد رکھتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہ سینٹ‌اللہ تعالی کے فرمان کا داعی تھا۔

14 فروری اس سینٹ‌کی اللہ کے حکم کے لئے شہادت کا دن ہے ، تجرد کے خلاف سب لوگ اس دن کو اس محترم سینٹ‌کی یاد میں‌مناتے ہیں‌اور اپنی بیویوں اور ہونے والی بیویوں کو تحفے دیتے ہیں ۔

49:13 يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے

مرد و عورت کا ملاپ، زندگی کو آگے بڑھانے کا طریقہ
7:189 هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلاً خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ فَلَمَّا أَثْقَلَت دَّعَوَا اللّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحاً لَّنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ
اور وہی (اللہ) ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا فرمایا اور اسی میں سے اس کا جوڑ بنایا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے، پھر جب مرد نے اس (عورت) کو ڈھانپ لیا تو وہ خفیف بوجھ کے ساتھ حاملہ ہوگئی، پھر وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی رہی، پھر جب وہ گراں بار ہوئی تو دونوں نے اپنے رب اللہ سے دعا کی کہ اگر تو ہمیں اچھا تندرست بچہ عطا فرما دے تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوں گے


رب عظیم نے ایسے لوگوں کو شیاطین کا پروکار کہا ہے ، جو مرد و عورت میں جدائی ڈالتے ہیں‌،

2:102 وَاتَّبَعُواْ مَا تَتْلُواْ الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَـكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولاَ إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلاَ تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلاَ يَنفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُواْ لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاَقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْاْ بِهِ أَنفُسَهُمْ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
اور وہ اس چیز کے پیچھے (بھی) لگ گئے تھے جو سلیمان (علیہ السلام) کے عہدِ حکومت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے حالانکہ سلیمان (علیہ السلام) نے (کوئی) کفر نہیں کیا بلکہ کفر تو شیطانوں نے کیا جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اس (جادو کے علم) کے پیچھے (بھی) لگ گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت (نامی) دو فرشتوں پر اتارا گیا تھا، وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے تھے یہاں تک کہ کہہ دیتے کہ ہم تو محض آزمائش (کے لئے) ہیں سو تم (اس پر اعتقاد رکھ کر) کافر نہ بنو، اس کے باوجود وہ ان دونوں سے ایسا (منتر) سیکھتے تھے جس کے ذریعے شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے، حالانکہ وہ اس کے ذریعے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اللہ ہی کے حکم سے اور یہ لوگ وہی چیزیں سیکھتے ہیں جو ان کے لئے ضرر رساں ہیں اور انہیں نفع نہیں پہنچاتیں اور انہیں (یہ بھی) یقینا معلوم تھا کہ جو کوئی اس (کفر یا جادو ٹونے) کا خریدار بنا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (ہوگا)، اور وہ بہت ہی بری چیز ہے جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانوں (کی حقیقی بہتری یعنی اُخروی فلاح) کو بیچ ڈالا، کاش! وہ اس (سودے کی حقیقت) کو جانتے


اللہ تعالی نے نکاح‌کا حکم دیا ہے جو کہ سینٹ ویلنٹائین کا بھی پیغام ہے ۔ یہ سینٹ‌ ویلنٹائین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہو گذرا ہے ۔۔

نکاح فرمان الہی :
24:32 وَأَنكِحُوا الْأَيَامَى مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
اور تم اپنے مردوں اور عورتوں میں سے ان کا نکاح کر دیا کرو جو (عمرِ نکاح کے باوجود) بغیر ازدواجی زندگی کے (رہ رہے) ہوں اور اپنے باصلاحیت غلاموں اور باندیوں کا بھی (نکاح کر دیا کرو)، اگر وہ محتاج ہوں گے (تو) اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا، اور اللہ بڑی وسعت والا بڑے علم والا ہے

اور نکاح‌ یعنی شادی اور محبت سے دور کرنے والا شیاطین کا پیروکار۔۔
کیا آپ اس سینٹ ویلنٹائین کو اچھے نام سے یاد کریں گے جو نکاح کی تعلیم دیتا تھا اور کلیساءٰ‌ کی نکاح‌کی حوصلہ شکنی کی مخالفت کرتا تھا ، نکاح‌ رسول اکرم کی سنت مبارکہ ہے ۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو رسول اللہ صلعم کی سنت مبارکہ کی مخالفت کرتے ہیں ۔ ؟؟؟؟ صرف اس لئے کہ یہ شخص رسول اکرم سے پہلے ہو گذرا تھا جبکہ اس کا پیغام اللہ اور اس کے رسول کا پیغام ہے ؟

یقیناً نکاح‌ سے دور رکھنے اور نکاح‌ کی حوصلہ شکنی کرنے والے لوگوں‌کو سینٹ‌ویلینٹائین پسند نہیں‌ ۔ لہذا کلیساء کے پیرو کار ، سینٹ‌ویلینٹائین کے پیغام کو یاد کرنا پسند نہیں کرے ۔ ان کا پیغام ہے تجرد، بناء‌شادی کے زندگی گذارنا اور شیاطین کی پیروی کرکے میاں‌بیوی میں‌ تفرقہ ڈلوانا اور اس دن کی مخالفت کرنا جو تحائف کے باعث میاں‌ اور بیوی میں‌ محبت بڑھانے کا سبب بنتی ہے ۔

سینٹ‌ویلنٹائین ، جو پیغام الہی کو پھیلاتا تھا کہ
24:32 اور نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ انہیں غنی کردے گا اپنے فضل کے سبب اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،


شیاطین کی پیروی کریں گے آپ یا اللہ تعالی کے فرمان اور رسول اکرم کی سنت کی پیروی کریں‌گے آپ ؟

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (11-02-12)
جواب

Tags
کورٹ, کارنامے, پھول, پاکستانی, پسند, نفرت, موت, معاشرہ, ایمان, امریکہ, بنیاد پرستی, بچوں, تلاش, تعلیم, جیل, حدیث, خواتین, دریافت, شاعری, عورت, عقل, علی, عبادت, صحابہ, صحابی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عید محبت ( ویلنٹائن ڈے ) فیصل ناصر عمومی بحث 0 02-02-10 03:08 AM
::::: ویلنٹائن ڈے ، عید محبت ::::: عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 0 12-02-09 06:52 PM
شعیب اختر پر ڈیڑھ سال کی پابندی 70 لاکھ روپے جرمانہ عبدالقدوس خبریں 0 15-06-08 08:08 PM
قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کے باوجود انڈین لیگ کھیلنے کا خواہشمند ہوں ،انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے سے انکار بھی نہیں کیا ہے ۔ شعیب اختر کا خصوصی خرم شہزاد خرم کرکٹ 0 03-09-07 10:41 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:34 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger