واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان




استحکام پاکستان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-04-09, 12:01 PM   #1
استحکام پاکستان
Zullu230 Zullu230 آف لائن ہے 25-04-09, 12:01 PM

تمہید۔ استحکام کے لغوی معنی ہیں پختگی، مضبوطی اور اُستواری ۔

کسی بھی ملک کی مضبوطی، اور استحکامت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ ایک آزاداور خود مختار ریاست ہو۔ امور مملکت ایک واضح اور متعین کردہ سیاسی نظام کے تحت چل ر ہے ہوں۔ دفاعی ، معاشی، صنعتی اورزرعی پیداوار کے لحاظ سے مستحکم ہو۔ مملکت سیاسی طور پر مستحکم ہو، قانون سازی میں عوامی خواہشات اور آرا کو مدِ نظر رکھا جائے۔ بلا تخصیص تمام شہری آئین اور ملکی قوانین کا احترام کرتے ہوں ۔ تما م شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کےلئےمتعلقہ ادارے فعال ہوں، اقلیتوں کو مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق حاصل ہوں۔ فوری اور بروقت انصاف کی فراہمی کےلئے عدالتیں قائم ہوں۔تعلیم، صحت، پینے کا صاف پانی، ذرائع مواصلات، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات دستیاب ہوں، اشیاء خورد و نوش اور دیگر ضروریات زندگی وافر مقدار میں سستے داموں عوام کو میسّر ہوں۔ روز گار کے مواقع اقربا پروری اور سیاست سے بالا ترصرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر سب کےلئے یکساں ہوں۔ کاروباری اداروں کو حکومت کی مکمل معاونت اور ضروری انفرا سٹرکچر موجود ہو۔ ملکی خزانے میں زرِ مبادلہ کے ذخائر موجود ہوں۔ اور ملک بیرونی قرضوں کے جال میں نہ پھنسا ہوا ہو۔ تجارتی خسارہ نہ ہو۔ برآمدات اور درآمدات میں توازن قائم ہو۔
زیر عنوان مضمون کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے یعنی داخلی استحکام اور خارجی استحکام ۔ ان دونوں حصوں میں مذکورہ بالا تما م شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا کہ کس طرح پاکستان بحیثیت ایک اسلامی مملکت اندرونی اور بیرونی طور پر مستحکم ہو سکتا ہے اور بطور ایک فلاحی مملکت اپنا جدا گانہ تشخص قائم کر سکتا ہے۔
داخلی استحکام.1
جمہوری اور سیاسی استحکام: پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد بد قسمتی سے جمہوریت کو خاطر خواہ فروغ نہ مل سکا ۔ گزشتہ ساٹھ سالوں میں نصف سے زائد عرصہ فوجی آمریت کے زیرِ تسلط رہا جس کے باعث جمہوری قوتوں کو پھلنے پھولنے کا چنداں موقع نہ مل سکا ۔ جب کبھی جمہوریت کی اُمید کی کوئی ہلکی سی کرن وطن عزیزکے آنگن میں اُتری تو تھوڑے ہی عرصے کے بعد اُس کی جگہ آمریت کی سیاہ رات نے لے لی۔ اگر حقیت پسندی سے جائزہ لیا جائے تو جتنا قصور آمریت کا ہے اُس سے زیادہ ہمارے سیاستدانوں کا ہے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ ہماری عدلیہ نے اکثر اوقات آمریت کو جائز قرار دیا اور "نظریہ ضرورت" جیسی عدالتی اصطلاح متعارف کروا کر آمریت کے غیرآئینی اقدامات کو سہارہ اور قانونی جواز فراہم کیا۔ قائد اعظم کو پاکستان پر حکومت کے لئے مشیت ایزدی نے صرف ایک سال اور اٹھائیس دنوں کا ہی موقع دیا۔ اس سارے عرصے میں قائد اعظم شدید علیل رہے اور بالآخر اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ آزادی کے وقت نو زائدہ مملکت کو بے شمار مسائل کا سامنا تھا جن سے نبرد آزما ہونا ایک کٹھن مرحلہ تھا۔ لیکن اس کے باوجود اُس وقت کے ہمارے سیاستدان اور حکمران آ ئین سازی اور جمہوریت کی نشوو نما کی بجائے اقتدار کی رسّہ کشی میں مشغول ہو گئے اور آئے روز حکومتیں بدلنے کی روایت پڑ گئی۔ دوسری طرف فوج کو حکومت پر قبضہ کرنے کا بہانہ مل گیا اور یوں پاکستان میں جمہوریت کی گاڑی کبھی پٹڑی پر چڑھا دی جاتی تو کبھی اُتار دی جاتی ۔ یہ سلسلہ تا حال جاری ہے ۔ ہمارے سیاستدانوں کو تحمل ،بُرد باری،برادشت اور اپنے روّیوں میں واضح تبدیلی کی ضرورت ہے اور مخالفت برائے مخالفت کی پالیسی کو ترک کر کے صرف قومی اور ملکی مفاد میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر اب بھی ہمارے سیاستدانوں نے ماضی سے سبق نہ سیکھا تو آمریت کو جمہوریت پر شبخون مارنے اور اقتدار پر قبضہ کر نے کے بہانے ملتے رہیں گے ۔ جب ایک بار آمریت کی سیاہ رات کسی ملک کو اپنے گہرے سایوں کی آغوش میں لے لیتی ہے تو سحر ہوتے ہوتے کئی سال گزر جاتے ہیں۔جب آنکھ کھلتی ہے تو ہم بحیثیت قوم اپنے آپ کو وہیں پاتے ہیں جہاں سے ہم نے ساٹھ سال پہلے اپنا جمہوری سفرشروع کیا تھا۔ ہمارے سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ نچلی سطح سے عوام کی جمہوری اور سیاسی تربیت کریں تاکہ مجموعی طور پر قومی اور جمہوری سوچ اور کلچر کوفروغ ملے ۔لہذا قومی اتفاق رائے سے ایسی قانون سازی کی اشد ضرورت ہے کہ مستقبل میں فوج کو اقتدار کی کُرسی پر قبضہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا پڑے۔ فوج کو صرف اور صرف ملکی سرحدوں کی حفاظت پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور اس مقصد کے لئے اُنہیں جدید ترین جنگی سازو سامان سے لیس کیا جائے تا کہ وہ اُنکی تربیت حاصل کریں اور اُن ہتھیاروں کے استعمال میں مہارت حاصل کریں۔ سول اداروں میں فوجیوں کی خدمات مستعار لینے پر پابندی عائد کی جائے البتہ آفات ناگہانی ، دہشت گردی کی روک تھام اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانے کےلئے محدود عرصے کےلئے فوج کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

(الف) چھوٹے صوبوں کی محرومیاں اور صوبائی خود مختاری : پاکستان چار صوبوں ، قبائلی اور شمالی علاقہ جات کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب بڑا صوبہ ہے اور زرعی لحاظ سے تمام صوبوں سے زیادہ زرخیز بھی ہے۔ دیگر صوبوں کو ہمیشہ یہ شکایت رہتی ہے کہ پنجاب ہمارے حقوق پر ڈاکہ ڈالتا ہے اور ہمیں کم حصہ ملتا ہے۔ اس میں کہاں تک صداقت ہے یہ تو وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت ہی بتا سکتی ہے لیکن میرا ذاتی مشاہدہ کچھ اس طرح ہے کہ صوبہ بلوچستان کو تمام صوبوں کی نسبت شاید جان بوجھ کرپس ماندہ رکھا گیا۔وفاقی حکومت کو چاہیے کہ تمام صوبوں کے ساتھ انصاف کرے ۔اور اُنہیں اُن کے پورے پورے حقوق دے۔ اس کے علاوہ 1973کے آئین میں صوبائی خود مختاری کی مکمل ضمانت دی گئی ہے لیکن صورت حال اس کے بالکل بر عکس ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ جلد از جلد آئین میں دیے گئے اختیارات صوبوں کو منتقل کر دے ۔

(ب) سرکاری محکموں کی کار کردگی اور رشوت ستانی و اقربا پروری کا خاتمہ: ہم سب کو یہ معلوم ہے کہ ہمارے سرکاری محکموں کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے۔ خصوصاً وہ ادارے جو حکومت کی طرف سے عوامی خدمت کے لئے وقف ہیں اُن کی کار کردگی ناقابل ستائش ہے۔خصوصاً پولیس کا محکمہ سب سے زیادہ بد نام ہے۔ رشوت لینا تو اُن کا عام پیشہ ہے لیکن اس سے بڑا ستم اور کیا ہو سکتا ہے کہ چوری اور ڈکیتی کی دس وارداتوں میں دو یا تین میں پولیس ملازمین بذات خود سول کپڑوں میں ملوث ہوتے ہیں اور باقی وارداتوں میں اگر شامل نہیں ہوتے تو کم ازکم اُنہیں یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ فلاں تاریخ کو فلاں علاقے میں فلاں وقت ڈاکوئوں کا فلاں گروہ چوری اور ڈکیتی کی واردات کر ے گا۔ پولیس کی چوروں اور ڈاکوئوں سے ملی بھگت کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں۔ اور حکومت کی طرف سے بھی ان واقعات کی روک تھا م کا کوئی موثر انتظام نہیں کیا جاتا ۔ اس کے علاوہ بے گناہ شہریوں کو گرفتار کرکے تشدد کرنا، جعلی پولیس مقابلے کی آڑ میں شہریوں کو موت کے گھاٹ اُتار دینے کے واقعات بھی منظر عام پرآتے رہتے ہیں۔ کیا پاکستان میں کوئی ایسی حکومت آئے گی جو پولیس کا قبلہ سیدھا کر سکے۔ شاید اس کے لئے عوام کو نسل در نسل صدیوں تک انتظار کے ساتھ ساتھ کشتہ ِستم بھی بننا پڑے گا۔ اسی طرح دیگر سرکاری محکموں میں واپڈا، پی ٹی سی ایل، محکمہ مال، محکمہ صحت، محکمہ خوراک اور عوامی خدمات کے دیگر محکمے بھی کوئی اچھی شہرت نہیں رکھتے۔ ان محکمہ جات میں بد عنوانی کی ایک بڑی وجہ جائز حقوق سے محرومی بھی ہے۔ نچلے طبقے کے اکثرسرکاری ملازمین مالی مشکلات سے دو چار ہوتے ہیں ۔ تنخواہوں سے بمشکل گھروں کے چولہے جلتے ہیں۔ اور زندگی کی دیگر ضروریات پوری کرنے کےلئے اُنہیں کوئی چھوٹا موٹا کاروباریا پارٹ ٹائم جاب کرنا پڑتی ہے ۔لیکن آئے روز کی بڑھتی ہوئی مہنگائی پھر بھی سُکھ کا سانس لینے نہیں دیتی۔ حکومت کے با اختیار افسران کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ بد عنوانی کا بنیادی سبب نچلے طبقے کے ملازمین کو جائز مالی حقوق سے محروم کرنا بھی ہے ۔ اس لئے حکومت کو اس بنیادی مسئلے کی طرف توجہ دینا پڑے گی ورنہ بد عنوانی کم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گی۔
.1 عوام کے منتخب کردہ نمائیندوں کی حکومت: زمانہ قدیم میں زیادہ تر نظامِ حکومت بادشاہت کے زیرِ سایہ ہوتا تھا یا علاقے کا نواب ایک مخصوص علاقے کا حکمران ہوتا تھا۔شخصی حاکمیت کی کوئی بھی قسم ہو سب آمریت کے زمرے میں آتی ہے اور ایک آمر خواہ کتنا ہی نیک ، مخلص ، محبِ وطن کیوں نہ ہو؛ ہوتا آمر ہی ہے جو ملکی اور ریاستی اُمور میں عوام کی رائے ، مرضی اور خواہشات کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔ وہ خود کو عقل کُل کا مالک سمجھ کر عوام پر اُنکی مرضی اور منشاء کے خلاف فرامین جاری کرتا رہتاہے اوربعض اوقات اپنی آمریت کی زندگی کے ایا م میں اضافہ کرنے کے لئے عوام کے قتل عام سے بھی گریز نہیں کرتا۔ایک آمر کے مُنہ سے نکلا ہوا لفظ قانون بن جاتا ہے ۔اس لئے ایک جمہوری حکومت خواہ وہ کتنی ہی خراب یا کمزور کیوں نہ ہو آمریت سے بحر حال بہتر ہوتی ہے جس میں عوام کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے اور قانون سازی میں عوامی رائے کا وزن ہوتا ہے۔ آمرانہ نظام حکومت اب بھی کئی ممالک میں رائج ہے جبکہ پاکستان اپنی عمر کا نصف سے زائد حصہ آمریت کی نذر کر چکا ہے۔ آمریت کے مقابلے میں جمہوری نظام حکومت دنیا کے اکثر ممالک کے عوام میں مقبول اور رائج ہے۔ جمہوری نظام میں عوام کے منتخب کردہ نمائندے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اپنے اپنے حلقہ کے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اور اُن کے مطالبات کوحکومت سے منواتے ہیں۔ اس طرح عوام اپنے منتخب کردہ نمائیدوں کے ذریعے اسمبلی اور حکومت میں شامل ہوتے ہیں۔ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے اور تحریک پاکستان کا دو ٹوک مطالبہ بھی دو قومی نظریے کی بنیاد پر تھا ۔ دو قومی نظریے کو حصولِ پاکستان کی بنیاد بنا کر اس لئے پیش کیا گیا تھا کہ ہندوستان میں بسنے والی دو بڑی قومیں ہندو اور مسلم صدیوں سے ایک ساتھ ایک ہی ملک میں آباد تھیں لیکن دونوں کی مذہبی اور معاشرتی روایات جُدا جُدا ہونے کے باعث مسلمانانِ ہند نے اپنے لئے ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کیا تا کہ وہ اپنی مرضی سے مذہبی اور معاشرتی روایات کے مطابق زندگی گزار سکیں اور نئی مملکت میں اسلامی اُصولوں کے مطابق اپنی حکومت قائم کر سکیں۔تحریک پاکستان کا مقبول عوامی نعرہ بھی یہی تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاللہ۔ اسلام ایک آفاقی اور سچا مذہب ہے۔ اسلام کا ہر قانون، ہر حکم اور ہر اصول فطرت کے عین مطابق ہے۔ جو قانون ، حکم یا اُصول غیر فطری ہے اُسے مذہب اسلام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ لہذا پاکستان کے لئے سب سے بہتر نظام حکومت اسلامی جمہوری نظام ہے اور اسی نظام کے تحت پاکستان بطور اسلامی فلاحی مملکت کے مستحکم پاکستان کہلائے گا۔
.2 دفاع: ایک عوامی اور جمہوری حکومت کے قیام کے بعد سب سے اہم ضرورت ملکی سرحدوں کی حفاظت ہوتا ہے اور یہ فریضہ ملکی افواج کے ذمہ ہوتا ہے ۔ پاکستان کی افواج میں برّی، بحری اور فضائی افواج شامل ہیں جو تربیت یافتہ بھی ہیں اورروایتی و جدید اسلحہ اور سازو سامان سے بھی لیس ہیں۔ 1998ء میں ایٹمی دھماکوں کے نتیجہ میں پاکستان اب تک واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی قوت ہے۔ پاکستان کے پڑوسی ملک اور ایٹمی طاقت بھارت نے تقسیم ہند سے آج تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور شاید قیامت تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہ کرے۔ تقسیم ہند کے بعد سے اب تک بھارت اور پاکستان کے مابین تین جنگیں لڑی جا چکی ہیں ۔ آخری جنگ 1971میں لڑی گئی جب بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کر کے پاکستان کے مشرقی حصے پر چڑھائی کر کے ملک کے دو ٹکڑے کر دیے۔ پاکستان کے ایٹمی طاقت بن جانے کے بعد دشمن کو پاکستان پر حملہ کرنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑے گا۔ لیکن ایٹمی طاقت بن جانا اور اُسی پر تکیہ کرکے بیٹھ جانا دانش مندی نہیں۔ اگر چہ پاکستان نے میزائل سازی میں کافی پیش رفت کی ہے لیکن میزائل بنانے والے دنیا کے دیگر ممالک اس میدان میں پاکستان سے بہت آگے ہیں۔ پاکستان کو میزائل سازی کے میدان میں مزید جدّت لانے اور اسے دنیا کے دیگر ممالک کے ہم پلہ لانے کی ضرورت ہے۔

.3 تعلیم: بد قسمتی سے حکومتی سطح پر گزشتہ ساٹھ سالوں میں کوئی واضح اور قابل عمل تعلیمی پالیسی تشکیل نہیں دی جا سکی جسے عوام میں مقبولیت حاصل ہو اور پوری قوم اُس پر عمل کرے۔ حکومت اورہمارے تعلیمی ماہرین ابتک عوامی رجحان کے مطابق نصاب تیار کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ ایک اور قباحت یہ ہے کہ پاکستان کی قومی زبان اُردو ہے جو ملک کے ہر حصہ میں بولی اور سمجھی جاتی ہے جبکہ ہماری دفتری زبان انگریزی ہے۔ ایک لحاظ سے پوری قوم اُردو اور انگریزی کے درمیان لٹکی ہوئی ہے۔ ہمارا تعلیمی نصاب انگریزی اور اُردو دونوں میں ہے اور طلبہ بیچارے بھی دونوں زبانوں کے درمیان اٹکے ہوئے ہیں ۔ اگر کوئی دلیرانہ فیصلہ کیا جائے اور تمام تعلیمی نصاب ایک زبان اُردو یا انگریزی میں ترتیب دیا جائے تا کہ ایک بچہ جب سکول جائے تو اُسے پڑھنے اور سمجھنے کے لئے ایک ہی زبان ملے ۔ طلبہ کی رجحان سازی کے لئے ضروری ہے کہ نویں سے بارہویں جماعت تک نصاب میں فنی تعلیم کے مضامین کو بھی شامل کیا جائے ۔ اس سے طلبہ کو اپنے رجحان کا علم بھی ہو سکے گا اور بہت مناسب ہے اگر اساتذہ اس معاملے میں طلبہ کے رجحان کو دیکھ کر اُنہیں مناسب رہنمائی کریں تاکہ ایک طالب علم اگر یہ سمجھ پاتا ہے کہ مجھ میں ایسی صلاحیت ہے کہ میں ڈاکٹر، انجنئیر،پائلٹ، وکیل یا کسی بھی ایسے ہنر کو جو اُسے پسند ہو اور اُس کا رجحان بھی اُسی طرف ہو تو اُسے اپنی پسنداور مرضی سے علم و ہُنر سیکھنے کا موقع اور تمام معلومات فراہم کی جائیں اور کسی ایسے شعبے میں جسے وہ نا پسند کرتا ہو جانے کےلئے ہرگز مجبور نہ کیا جائے کیونکہ اس طرح اُس طالبعلم کی صلاحیتوں کو گرہ لگ جائے گی۔ اسی طرح سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے بھی خصوصی توجہ کے طالب ہیں۔ پاکستان میں آبادی کے اعتبار سے سائنسی اور فنی تعلیمی اداروں کی نہایت کمی ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ہر ضلع کی سطح پر فنی تعلیم کا ایک ادارہ قائم کرے جو جدید فنی تعلیم کے رجحان کے مطابق ہُنرمند افرادی قوت پیدا کریں تاکہ یہ لوگ ملکی ضروریات کو بھی پورا کریں اور بیرون ممالک میں جا کر اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کر کے پاکستان کا نام روشن کریں۔ اپنے لئے روزی کمائیں اور وطن عزیز کے لئے زرِ مبادلہ بھی بھیجیں۔ شرح خواندگی میں اضافہ کی غرض سے اگر حکومت ایک نیک کام کر سکتی ہے تو ضرور کرے اور وہ یہ کہ میٹرک تک تعلیم مفت کر دے اور فنی اداروں کے طلبہ کو سکالر شپ دے یا کم از کم غریب، بے سہارا اور یتیم طلبہ کی تعلیم مفت کر دے اور اُنہیں روزگار کی فراہمی تک حکومت معاونت کرے تاکہ ٹیلنٹ ضائع نہ ہو۔

.4 صحت: سیانوں کا قول ہے کہ "تندرستی ہزار نعمت ہے"۔ صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ لیکن پاکستان میں صحت کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو یہ حقیت بڑی پریشان کُن ہے کہ ہمارے ملک میں ڈاکٹروں کی تعداد اتنی کم ہے کہ سینکڑوں لوگوں کے لئے ایک ڈاکٹر ہے۔ شہروں میں تو حالت کچھ قدرے بہتر ہے لیکن دیہاتوں میں صحت کی حالت انتہائی دگر گوں ہے۔ میلوں تک کوئی ڈاکٹر میسر نہیں ہوتا۔ سرکاری ہسپتالوں ، ڈسپنسریوں اور صحت کے دیگر مراکز میں ڈاکٹروں کی دستیابی شازو نادر ہی ہوتی ہے۔ بالخصوص شام کے بعد اگر کسی دیہات میں کوئی شخص اچانک بیمار ہوجائے اور اُس کی حالت خطر ناک ہو جائے تو دیہات سے شہر میں ڈاکٹر تک پہنچتے پہنچتے مریض اللہ کو پیارا ہو جاتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ کم از کم ایک یونین کی سطح تک ایک طبی مرکز قائم کیا جائے جہاں چوبیس گھنٹے ڈاکٹر دستیاب ہو تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں کو کم وقت میں ڈاکٹر سے مشورہ لینے کی سہولت میسرہو۔ پینے کے صاف پانی اور ملاوٹ سے پاک اشیائے خوردونوش کی وافر مقدار میں فراہمی ہر شہر ی کا بنیادی حق ہے لیکن حکومت کی عدم توجہی سے ان دونوں شعبوں کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔ اگر ان مسائل پر قابو پا لیا جائے تو بہت سے دیگر مسائل سے چھٹکارہ مل سکتا ہے۔

.5 قانون کی بالا تری اور انصاف کی جلد فراہمی: اگرقانون کی بالا تری اور انصاف کی فراہمی سے متعلق پاکستان کی پوری تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو کہیں بھی اس شعبے کی کارکردگی قابلِ فخر نہیں ہے۔ جب ایک قانون بن جاتا ہے تو اُس کا احترام پاکستان کے تمام شہریوں پر لازم ہوتا ہے ۔ایسا نہیں ہوتا کہ قانون بنانے والے اور نافذ کرنے والے قانون سے بالا تر ہوتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں سربراہ مملکت بشمول حکومتی اراکین ، ممبران اسمبلی ، بااثر افسران، سیاستدان اور ہر با اختیار شخص ذاتی مفاد کی خاطر قانون کی دھجیاں بکھیر دیتا ہے ۔ اس قسم کے بہت سے واقعات پاکستانی تاریخ کا حصہ ہیں ۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ حال ہی میں ذاتی مفاد اور من مانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایمر جنسی نافذ کر کے آئین اوربنیادی شہری حقو ق معطل کر دیے گئے اور ایک شخص کا ذاتی بنایا ہوا آئین نافذ کیا گیا۔ اسی طرح ایمر جنسی کی آڑ میں سپریم کے چیف جسٹس سمیت ساٹھ ججوں کو بر خاست کر دیا گیا۔اور اُن ججوں کی جگہ ذاتی آئین کے وفا دار ججوں کو لایا گیا۔ اگر مستقبل میں بھی اسی طرح آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیری جاتی رہیں تو پاکستان میں کبھی بھی استحکامت اور جمہوری روایات پروان نہ چڑھ سکیں گی۔ اس لئے ہمار ے سیاستدانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اگر وہ پاکستان میں صیحح معنوں میں ایک اسلامی جمہوری فضا قائم کرنے میں مخلص ہیں تو اُنہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر یہ عہد کرنا ہوگا کہ مستقبل میں کوئی سیاستدان کسی آمر کا کسی صورت میں نہ ساتھ دے گا اور نہ حمایت کرے گا۔ماضی میں جب بھی فوجی آمریت مسلط ہوئی ابن الوقت اور اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں نے جمہوریت کو پسِ پُشت ڈال کر آمریت کی گاڑی کو پیٹرول فراہم کیا اور قتدار کے مزے لُوٹے۔ اس طرح کا اقدام جمہوری اصولوں کو کچلنے کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور سوہانِ روح یہ ہے کہ ہمارے عدالتی قوانین اتنے پیچیدہ اور پُر پیچ ہیں کہ مظلوم عوام جب حصولِ انصاف کے لئے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں تو انصاف کی آس میں اللہ کوپیارے ہوجاتے ہیں۔ کئی دہائیاں گزر جاتی ہیں اور بعض اوقات مقدمات نسل در نسل منتقل ہوتے جاتے ہیں اور دادا کے دائر کردہ مقدمات کا فیصلہ پوتوں کی زندگی میں بھی نہیں ہو پاتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوانین کو سہل بنایا جائے تا کہ حصول انصاف کے طلبگار جب عدالتوں میں جائیں تو انہیں فوری اور بر وقت انصاف مل سکے۔
.6 معیشت: حکومت کو چلانے کے لئے اور شہریوں کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ معیشت ایک ایسا شعبہ ہے جو اس ضرورت کو پورا کرتا ہے۔پاکستانی معیشت اب تک خاطر خواہ ترقی نہیں کر سکی ۔ آزادی کے وقت پاکستانی علاقوں میں صنعتیں بہت کم تھیں اور ایک نو زائیدہ مملکت کو صنعتی اور معاشی بحران ورثے میں ملا۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ ہماری حکومتوں نے صنعتی ترقی کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی تو غلط نہ ہوگا۔ 1947ء سے لے کر اگلے دس سالوں میں آئے روزحکومتیں آتی اور جاتی رہیں۔ اسی اثناء میں جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی ۔ مارشل لاء نافذ کر کے ایک فوجی جرنیل نے حکومت پرقبضہ کر لیااور فوجی آمریت عوام پر مسلط کر دی گئی اور معیشت کی طرف کوئی توجہ نہ دی گئی ۔ اگر دی بھی گئی تو وقتی ضرورت کو مدّ نظر رکھ کر دی گئی ۔ یعنی ڈنگ ٹپائو کی حکمت عملی اپنائی گئی۔اور مستقبل کی ضروریات کو مدّ نظر نہیں رکھا گیا۔معیشت کی ترقی اور استحکام کے لئے مندرجہ ذیل تجاویز پیشِ خدمت ہیں:۔
(الف) صنعتی ترقی
(ب) بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی
(ج) درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ
(د) تیل کی ضروریات کا نعم البدل
(ج) صنعتوں کے لئے بجلی اور گیس چارجز کا خاتمہ
(د) صنعتی علاقوں میں انفرا سٹرکچر
(ر) زرعی خود کفالت:

پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور معیشت کا بیشتر حصہ زراعت پر مشتمل ہے۔ گندم ،چاول ،کپاس ، گنا اور مکئی کثیر رقبے پر کاشت کی جاتی ہیں اور چاول اور کپاس بیرون ملک برآمد کر کے قیمتی زرِ مبادلہ بھی کمایا جاتا ہے۔ لیکن گزشتہ کئی سالوں سے گندم کی فصل سے ملکی ضروریات بھی پوری نہیں ہو پاتیں جس کے باعث گندم درآمد کرنا پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ وائلڈ لائف بھی بحران کا شکار ہے۔
.7 جذبہ حُب الوطنی: اپنے وطن سے کس کو پیار نہیں ہوتا۔ انسان جہاں رہتا ہے وہ اُس کا گھر ہوتا ہے۔ اور اپنے گھر سے ہر کسی کو پیار ہوتا ہے۔لیکن اگر اپنا وطن سلامت ہے تو اپنا گھر بھی سلامت ہے۔ ہر پاکستانی کے دل میں اپنے وطن کےلئے محبت کا جذبہ بدرجہ اُتم موجود ہونا چاہئیے۔ اگر ہمارا گھر تباہ و برباد بھی ہو جائے تو دوبارہ بن سکتا ہے لیکن اگر اپنا وطن نہیں تواپنا گھر بھی نہیں۔ ہمارا یہ ایمان ہونا چاہئیے کہ جب کبھی ہمارے پیارے وطن کی طرف کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو وہ آنکھ سلامت نہیں رہے گی۔ ہمیں اپنے وطن کی سا لمیت ، آزادی اور خود مختاری کی حفاظت خود کرنا ہے۔ اور پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہے۔اور ہمارے دلوں میں آزادی کی خاطراور وطن کی خاطر خون کا آخری قطرہ بھی بہانے کا جذبہ ہمہ وقت موجزن رہنا چاہئیے۔
.8 قومی اور ملکی مفاد کی پالیسیاں مرتب کرنے والا خود مختار ادارہ: قومی سطح پر ایک ایسا خود مختار ادارہ تشکیل دیا جائے جو اعلی تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ہو ۔ ہر شعبے کے لئے ایسے ماہرین کا انتخاب کیا جائے جو اپنے اپنے شعبوں میں پی ایچ ڈی ہوں ۔اور تجربے کے ساتھ ساتھ مخلص اور حب الوطنی سے سر شار ہوں۔
.9 تنخواہ دار طبقے اور مزدور پیشہ افراد کی تنخواہیں ، مراعات اور حقوق: پاکستان کی آبادی کا بیشتر حصہ تنخواہ دار طبقے سے تعلق رکھتا ہے جس میں نچلے طبقے کے ملازمین کی حالت قابلِ رحم ہے۔ حکومت نچلے طبقے کے ملازمین کی ضروریات کو مدِ نظر رکھ کر تنخواہوں میں اضافہ نہیں کرتی۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور و فکر ہے کہ کیا مارکیٹ میں اشیائے خوردو نوش کی قیمتیں غریبوں کے لئے سستی اور امیروں کے لئے مہنگی ہوتی ہیں جو حکومت غریب طبقے کی تنخواہوں میں انتہائی کم اور افیسران کی تنخواہوں میں بہت زیادہ اضافہ کر دیتی ہے ۔ ایک چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گا۔ کیا ایک غریب شخص کو مارکیٹ میں چینی 30 روپے کلو ملتی ہے اور ہمارے صدر صاحب ، وزیر اعظم صاحب اور گریڈ 17سے گریڈ22تک کے سرکاری افسران کو مارکیٹ سے چینی 60روپے کلو ملتی ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک غریب شخص کی تنخواہ میں 300روپے اضافہ کیا جاتا ہے اور ایک افسر کی تنخواہ میں 5000 سے زیادہ کااضافہ کیا جاتا ہے جبکہ قیمتیں سب کے لئے ایک ہی ہیں۔ جب تک نچلے طبقے اور افسران کی تنخواہوں میں پائی جانے والی اس وسیع خلیج کو کم نہیں کیا جاتا اور نچلے طبقے کے ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ نہیں کیا جاتا اُس وقت تک ملکی آبادی کے 90فی صد سے زائد غریب خاندانوں کی معاشی حالت دن بدن خراب ابترہوتی جائے گی اور امیر امیر تر ہوتا جائے گا۔
خارجی استحکام
خارجہ پالیسی: داخلی استحکام کے بعد کسی ملک کے لئے خارجی پالیسیوں میں استحکام بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ جس طرح ایک محلہ کے باسی مل جُل کر ایک ساتھ رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے دُکھ درد میں شریک ہوتے ہیں ۔ مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور باہم مل کر کاروبار بھی کرتے ہیں اس طرح آج کے جدید اور الیکٹرانک میڈیا کے دور میں دوریوں کے تمام فاصلے مٹ چکے ہیں۔ اب ساری دنیا ایک عالمی گائوں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اگر کسی گھر میں کوئی بھی خاص یا عام منٹوں سیکنڈوں میں پورے محلے اور گائوں میں پھیل جاتی ہے اسی طرح جدید الیکٹرانک میڈیا کے باعث ایک ملک کی خبر منٹوں سیکنڈوں میں پور ی دنیا میں پھیل جاتی ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی ایسی ہو کہ اُسے دنیا کے تمام ممالک پسند کریں اور قدر کی نگا ہ سے دیکھیں۔ ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کو تمام اسلامی ممالک کو ایک لڑی میں پرو کر کسی بھی عالمی فورم پر بیک زبان اپنا مدعا سامنے لانا چاہیے۔
.2 بہترین سفارتکاری: دنیا کے بہت سے ممالک سفارتی تعلقات کے ذریعے باہم مربوط ہوتے ہیں۔ پاکستان نے بھی بہت سے ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ ہر سفارت خانے کا ایک سربراہ (سفیر یا ہائی کمشنر) اور بہت سے ماتحت اراکین بھی ہوتے ہیں۔ پاکستانی حکومت کو ایسے سفیر مقرر کرنے چاہیں جو دوسرے ملک میں پاکستانی موقف کو بہترین انداز میں پیش کر سکیں۔ تمام ممالک کے سفیروں کو تجارت اور دیگرمتعلقہ شعبوںکا ایک واضح ٹارگٹ دیا جائے اور سفارت خانے کے سربراہ اور عملہ کے دیگر اراکین اُس ٹارگٹ کو حتیٰ الامکان پورا کرنے کوشش کریں۔ اور بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کے ساتھ مل کر اُن کے مسائل سُنیں اور ملکی حکومت سے رابطہ کر کے اُنہیں حل کروانے کی کوشش کریں۔
.3 بیرون ملک پاکستانی تشخص: کسی دوسرے ملک میں جا کر ہم اپنے ملک کی نما ئیندگی کر رہے ہوتے ہیں۔ ہماری بول چال اور ہمارے ہر فعل سے پاکستانیت کی جھلک نظر آناچاہیے۔ اور تمام پاکستانیوں کو اپنے ملک کی عزت اور وقار کو ہر لمحہ دھیان میں رکھنا چاہیے۔
.4 اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل: پاکستان کو اقوام متحدہ کے تمام اور پاکستانی عوام کے کےلئے فائدے مند جتنے بھی پروگرامز ہیں اُن پر عمل کرنا چاہیے اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے جتنے بھی پراجیکٹ اقوام متحدہ کے زیر انتظام چل رہے ہیں اُن میں مکمل تعاون کران چاہیے۔
.5 دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی : دہشت گردی ایک ایسی لعنت ہے جس سے پاکستان براہ راست متاثر ہے اور دنیا کے دیگر ممالک بھی ۔ بد قسمی سے امریکہ اور یورپی ممالک نے دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ نتھی کر کے ایسی فضا بنائی ہوئی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کا منبع اور تربیت گاہ اور جنت کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جبکہ اسلام اور دہشت گردی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔خود کُش حملے کے نتیجے میں اپنے آپ کو مارنا اور دیگر بیگناہ افراد کو موت کے گھاٹ اُتارنا صریحاً غیر اسلامی فعل ہے۔ پاکستانی حکومت کو مذہبی علماء سے مل کر اس غیر اسلامی فعل سے متعلق پاکستانی عوام اور بیرونی دنیا میں یہ شعور اُجاگر کرنا چاہیے کہ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اور جو لوگ اس غیر اسلامی اور قبیح فعل میں ملوث ہیں اُن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ہر شہر میں بڑے بڑے بینر آویزاں کئے جائیں جن پر اس طرح کی عبارت در ج ہو "خود کشی حرام موت ہے اور حرام موت مرنے والے کا ٹھکانہ ہمیشہ کےلئے دوزخ ہے" ۔ اندرون ملک الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
طالب دعا
ذوالفقار احمد خان

Last edited by Zullu230; 15-01-10 at 11:23 PM..

 
Zullu230's Avatar
Zullu230
Senior Member

تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 948
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے Zullu230 کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-04-09), فاروق سرورخان (25-11-09), ھارون اعظم (11-03-11), منتظمین (19-06-09), محمدخلیل (28-04-09), wajee (25-04-09), yashaka (28-04-09), ام غزل (27-04-09), احمد بلال (30-04-09), راجہ اکرام (19-06-09)
پرانا 25-04-09, 02:22 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,204
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی زبردست تحریر عمدہ مراسلات
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (25-11-09), Zullu230 (27-04-09)
پرانا 25-04-09, 05:35 PM   #3
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھے زولو بھائی
۔
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (25-11-09), Zullu230 (27-04-09)
پرانا 27-04-09, 09:18 AM   #4
Senior Member

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,230
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وقاص علی اور فیصل ناصر بھائیو ۔۔۔ آپ دونوں کا بہت بہت شکریہ
Zullu230 آف لائن ہے   Reply With Quote
Zullu230 کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 27-04-09, 12:32 PM   #5
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی کم مراسلے اس طرح کے لکھے گئے ہیں۔ ویسے میں چند دنوں کے بعد اس مراسلے کو دوبارہ فرنٹ پیج پر لائے آوں گا۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-04-09), فاروق سرورخان (25-11-09), ام غزل (27-04-09), راجہ اکرام (19-06-09), رضی (21-05-09)
پرانا 27-04-09, 01:37 PM   #6
Senior Member

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,230
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ کا شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
Zullu230 آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-04-09, 06:03 PM   #7
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ نے بالکل درست فرمایا منتظمین کہ ایسے مراسلے جن میں استحکامٍ پاکستان کو اجاگر کرنے کی بات ہوئی ہو بہت کم پڑھنے کو ملتے ۔ہم ہروقت یہ شکائیت کرتے نظر آتے ہیں ہمارے ملک میں یہ نہیں ہے ،ایسے نہیں ہورہا ہم تباہ ہورہے ہیں ،اور یہ کہ ہمارے سیاستدان نااہل ہیں اپنا ضمیر اور اپنا ملک دونوں ہی بالائے طاق رکھ صرف امریکہ کی غلامی کررہے ہیں۔مگر ہم میں سے کسی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم کو ایسا کرنا چاہئیے ، ہم ایسا کریں گے تو ملک کو فائدہ ہوگا ، ہم یہ تبدیلیاں لاسکتے ہیں ، غرض ہم صرف شکائیت کرتے نظر آتے ہیں لیکن مسلے کا حل کیسے نکلے ایسی تحریر میں نے اس فورم پر پہلی بار دیکھی اور پڑھی ۔
میری طرف سے زوالفقار بھائی آپ کا بہت بہت شکریہ ۔امید بہرحال باقی ہے۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-04-09), فاروق سرورخان (25-11-09), Zullu230 (28-04-09), راجہ اکرام (19-06-09), رضی (21-05-09)
پرانا 27-04-09, 06:06 PM   #8
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی اچھی اور معیاری تحریر ہونے کا ساتھ ساتھ اس میں ہمارے بہت سے مسائل کا حل بھی ہے ،جن کا ذکر آپ نے کیا اور اگر ان میں کسی دو پر بھی عمل ہوا تو ملک بہتری کی طرف پھر سے گامزن ہوجائے گا ،
ہمارے ملک کو آپ جیسے بیٹوں کی ہی ضرورت ہے آپ کا بہت بہت شکریہ۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-04-09), فاروق سرورخان (25-11-09), Zullu230 (28-04-09), راجہ اکرام (19-06-09), رضی (21-05-09)
پرانا 27-04-09, 06:24 PM   #9
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشااللہ اسلوب بیان میں ترقی
اور تجزیہ میں بہتری
وقت سکھا دیتا ہے سب کچھ

آپ نے "میبل اور میں ' پڑھا ہے ؟
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (25-11-09), Zullu230 (28-04-09), ام غزل (27-04-09)
پرانا 27-04-09, 06:36 PM   #10
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی نہیں میں نے نہیں پڑحا کس موضوع پر ہے۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-04-09, 07:04 PM   #11
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پطرس کا مضمون ہے
بہت جاندار
میرے پاس بھی کہیں پڑا ہوا ہے لیکن فورم میں بھی میں نے دیکھا تھا
پطرس کے مضامین والے سیکشن میں تلاش کریں تو مل جائے گا

عورت اور مرد کی برابری پر ہے
بہترین چیز ہے وقت ملے تو ضرور پڑھیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (25-11-09), ام غزل (28-04-09), رضی (21-05-09)
پرانا 28-04-09, 04:42 AM   #12
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی ضرور ! میں‌ڈھونڈتی ہوں مل گیا تو ٹھیک ورنہ آپ کو ذحمت دوں گی ۔
شکریہ ۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
ام غزل کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 28-04-09, 01:45 PM   #13
Senior Member

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,230
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ سب بھائیوں اور بہنوں کا شکریہ خصوصآ منتظمین بھائی اور ام غزل کا۔ آپ نے پورا آرٹیکل پڑھ کر اپنے بے لاگ تبصرے کئے۔ ایکبار پھر آپ کا شکریہ
Zullu230 آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Zullu230 کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (25-11-09), ام غزل (29-04-09)
پرانا 28-04-09, 03:56 PM   #14
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

زولو بھائی کیا خیال ہے کس طرح سے وزیراعلی پنجاب کو یہ مراسلہ بھیجا جائے؟ شائد انجم بھائی اس میں کوئی مدد کر سکیں؟
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (28-04-09), فاروق سرورخان (25-11-09), ام غزل (29-04-09), رضی (21-05-09)
پرانا 28-04-09, 04:39 PM   #15
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ویسے انجم بھائی کو کہ کر کسی بھی نیوز پیپر میں یہ چھاپ دینا چاہیے
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (28-04-09), فاروق سرورخان (25-11-09), ام غزل (29-04-09), راجہ اکرام (19-06-09), رضی (21-05-09)
جواب

Tags
فورم, فنی, فارم, کرن, پولیس, پاکستان, پاکستانی, واقعات, وزیر, لوگ, نظر, مہنگائی, مفت, موت, محبت, مسائل, آج, ایمان, اقوام متحدہ, امریکہ, بھائی, بادشاہت, سیاست, سائنس, عقل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ترکمانستان افغانستان پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی کمپنی آئی او سی کو دینے کی منظوری دے دی گئی: پاکستانی خبریں 2 23-02-12 06:09 PM
اکتالیس فیصد پاکستانیوں کی ویزہ درخواستیں مسترد کنعان دیس ہوئے پردیس 4 12-12-09 11:55 PM
جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو ابن جلال خبریں 0 11-10-08 11:03 PM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 08:45 PM
السلام علیکم پاکستان۔۔۔۔۔ میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے Zullu230 تعارف 9 21-07-07 10:59 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:13 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger