|
بلوچستان اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں

04-08-09, 03:48 PM
یہ مضمون روزنامہ جنگ میں شائع ہوا۔میرا اس مضمون کو یہاں نقل کرنے کا مقصد ان فاتر العقل مصنف کے مضمون کا جواب دینا ہے جن کا دعوایٰ ہے کہ بلوچستان کے تمام سردار پاکستان مخالف تھے اور ہیں۔ امید ہے کہ اس مضمون کو پڑھ کر ان جیسے (اگر وہ بلوچ یہ ہیں تو) کئی افراد کو نئی سوچ ملے گی۔
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::: :::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::: :::::::::::::::
نواب ذوالفقار علی مگسی ، بلوچوں کے مگسی قبیلے کے سربراہ ہیں۔یہ قبیلہ بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں آباد ہے۔اس ضلع کی آبادی تقرایباََ ڈیڑھ لاکھ نفوس ہے۔لیکن اس سے ملحقہ سندھ کے علاقے شہداد کوٹ میں بھی تقریباِِ چھہ لاکھ مگسی آباد ہیں۔اور انکے سربراہ بھی نواب ذولفقار علی مگسی ہیں۔اس لحاظ سے نواب ذوالفقار مگسی کا اثر و رسوخ بلوچستان سے باہر سندھ میں بھی ہے۔انکے ایک بھائی سندھ میں وزیر خوراک ہیں۔
نواب ذوالفقار علی مگسی 1985 سے سیاست میں ہیں۔دو بار صوبائی وزیر اور دو بار سزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی اہلیہ بیگم پروین مگسی کا تعلق ریاست قلات کے خاندان سے ہے اور وہ وفاقی حکومت میں وزیر کے عہدے پر متمکن ہیں۔
نواب ذوالفقار علی مگسی کے ایم بھائی صوبائی اسمبلی میں،دوسرے بھائی علاقہ کے ناظم اور تیسرے بھائی سنیٹر ہیں۔ نواب ذوالفقار علی مگسی کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے نہیں ہے۔
نواب ذوالفقار علی مگسی دلکش شخصیت کے مالک ہیں۔مگسی قبائل میں انہیں ہمدرد اور انسان دوست شخصیت کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ وہ روایتی نوابوں میں سے نہیں ہیں۔
نواب ذوالفقار علی مگسی انتہائی صاف گو انسان ہیں اور لگی لپٹی نہیں رکھتے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب بلوچستان کے حوالے سے کئی لیڈرز اپنا موقف ظاہر کرنے سے جھجھکتے ہیں اور اپنا پہلو بچا لیتے ہیں۔نواب ذوالفقار علی مگسی کھل کر اپنا موقف بیان کرتے ہیں اور جو کچھ دل میں ہے صاف صاف بیان کر دیتے ہیں۔
بلوچستان اور پاکستان لازم و ملزوم قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاکستان سے الگ ہو کر بلوچستان کا کوئی مستقبل نہیں۔
ان سے جب کل جماعتی کانفرنس کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر اس کانفرنس کا مقصد پاکستان توڑنے کی بات کرنا ہے تو میں کبھی بھی اس کا حصہ نہیں بنوں گا۔کیونکہ میں پاکستان پر کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتا۔
مزاحمت کاروں سے مزاکرات اور مفاہمت کا جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بلا تامل جواب دیا کہ پاکستان سے علحدگی پر توع نہ کوئی بات ہو سکتی ہے اور نہ اس پر کوئی مفاہمت۔
تارگٹ کلنگ اور بد امنی کے واقعات پر انکا کہنا تھا کہ یہ چور اچکوں اور رہزنوں کا کام ہے ایسے لوگ ہر صوبے میں ہیں اورایسی وارداتیں کر کے لاقانونیت اور عدم استحکام کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نواب ذوالفقار علی مگسی نے بلوچستان کے حوالے سے اپنے موقف کی مزید وضاحت کی۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی بات کر رہا ہے تو میں اس سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ کس کی نمائندگی کر رہا ہے؟ کیا پشتونوں نے اسے نمائندگی کا حق دیا ہے؟ ہزارا قوم نے دیا ہے؟ کیا سیٹلرز نے انہیں یہ حق دیا ہے؟ مگسی یا کسی اور قوم نے انہیں یہ مطالبہ کرنے کا اختیار دیا ہے؟
براہمداغ بگٹی اور ہیر بیار مری کے بیانات کی طرف توجہ دلانے پر انہوں نے کہا کہ انکے بیانات سے بلوچستان ۔۔۔پاکستان سے کبھی الگ نہیں ہوگا۔ایک یا دو افراد یا کسی ایک جماعت کے کہنے پر بلوچستان ۔۔۔پاکستان سے الگ نہیں ہو سکتا۔
پاکستان زندہ باد
|
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|