(جب میں نے یہ مضمون تقریباً لکھ لیا تھا تو بد قسمتی سے بجلی چلی گئی۔ چناچہ ساری محنت ضائع ہو گئی۔ اب دوبارہ لکھ رہا ہوں لیکن زیادہ تر یادداشت کے سہارے اور جلدی میں۔ اس لیے ممکن ہے تحریر میں "معیار" نہ مل سکے۔ ایڈوانس میں معذرت)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک وقت تھا کہ پاکستان کے شہری کراچی کی سڑکوں پر ٹراموں کو ادھر اُدھر دوڑتے دیکھنے کے عادی تھے۔ اُس زمانے میں ٹرام پر سفر کرنا کراچی کا سب سے پسندیدہ ذریعہ سفر تھا ۔آج اس شاندار تاریخ کی محض چند تصاویر، چند نشانات اور محض یادیں باقی رہ گئی ہیں۔
آج بھی اگر آپ کراچی کے کسی ایسے باسی سے بات کریں جس نے 1975 سے پہلے کا کراچی دیکھا ہو، وہ ان ٹراموں کے بارے میں بڑے nostalgic انداز میں بات کرے گا۔اس نیٹ ورک کو 1975 میں صدر میں بے انتہا رش اور ٹراموں کی دیکھ بھال مشکل سے مشکل تر ہوتے جانے کی وجہ سے بند کر دیا گیا۔
کراچی ٹرام کی تاریخ 90 سال(1885 تا 1975)کے دورانیہ پر محیط ہے۔ 1881 میں کراچی کے مینوسپل سیکرٹری اور انجینیر James Strachan نے اسکا آئیڈیا پیش کیا تھا جبکہ اس پروجیکٹ پر کام 1883 میں کیا گیا۔ اس پروجیکٹ میں ٹرام کی پٹری کا گیج 4 فیٹ کی طے کی گئی۔ 10 اپریل 1885 کو پہلی پبلک سروس کا آٍغاز کر دیا گیا جو موجودہ جناح پُل(سابقہ Napier Mole) سے لے کر کیماڑی تک تھا۔
اس ٹرام سروس کو سب سے پہلے سٹیم انجن کی مدد سے چلایا گیا۔ اس پر سواری کے علاوہ بار برداری کا بھی کام لیا جاتا تھا۔ تاہم 1886 میں ہی ستیم انجن کے بجائے گھوڑوں سے ٹرام چلائے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے سے کراچی کے شہریوں نے سکون کا سانس لیا۔ کیونکہ یہ ٹرام کراچی کے کمرشل اور آبادی والے علاقوں سے گزرتی تھی۔ اور اسکا روٹ ہر 15 منٹ کا تھا۔ چناچہ اس کے شور کی وجہ سے کراچی کے باسی نہایت پریشانی کا شکار رھے۔ آج بھی ڈینسو ہال اور صدر کے کئی علاقوں میں ان گھوڑوں کی "خدمت سیوا" کے لیے بنائی گئی جگہوں کی باقیات دیکھی جا سکتی ہیں۔
1902 میں یہ ایسٹ انڈیا ٹرام وے کمپنی میں تبدیل کر دی گئی اور جلد ہی اس میں گھوڑوں کی جگہ پٹرول سے چلنے والے انجن لگائے جانے لگے(کہا جاتا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے ٹرام کے لیے پٹرول انجن کا استعمال کراچی میں ہی کیا گیا تھا)۔شروع میں دو پٹرول انجن استعمال کیے گئے ۔جو 46 مسافروں کو لے جا سکتے تھے اور انکی رفتار 18 میل فی گھنٹہ تھی۔ اس سروس نے اس قدر مقبولیت حاسل کی کہ عوام کے اصرار پر Frere Street(داؤد پوتہ روڈ)، Soldier Bazaar، Mansfield Street (برہان الدین روڈ)، Chakiwara ،Lawrence RoadEmpress Market وغیرہ کو بھی اس کے روٹ میں شامل کر دیا گیا۔
1913 تک ، کراچی میں چلنے والی ٹرام کارز کی تعداد 37 تک پہنچ گئی۔ 1949 میں ایسٹ انڈیا ٹرام کمپنی کو محمد علی ٹرام کمپنی میں تبدیل کر دیا گیا کیونکہ اس کو کراچی کے ایک تاجر محمد علی نے خرید لیا تھا۔ اور جلد ہی اس کی حالت ۔۔ ۔ ۔بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔صفائی کا فقدان اور ٹائمنگ خراب ہو گئی۔
تاہم 1955 میں چلنے والی ٹراموں کی تعداد بھی 64 تک پہنچ چکی تھی ۔ یہ ٹرامیں 28 فیٹ لمبی اور تقریباً ساڑھے چھہ فٹ چوڑی تھیں۔ اس طرح یہ زیادہ مسافروں کو لے جانے کی اہلیت رکھتی تھیں۔ان میں سے بیشتر ڈیزل پر چلنے والی کاریں تھیں۔
لیکن بد قسمتی سے 1975 میں ٹرام کا سنہرا دور اختتام پذیر ہوا اور اس ٹرام سروس کو بند کر دیا گیا
تلخیص و ترجمہ : The Karachi Tramway of Yesteryears : مصنف اویس مغل (بشکریہ : پاکستانیات ڈاٹ کام )