واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان




تعلیم کی بدحالی کے اسباب

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-09-07, 04:37 PM   #1
تعلیم کی بدحالی کے اسباب
شیخ ہمدان شیخ ہمدان آف لائن ہے 30-09-07, 04:37 PM

تعلیم کی بدحالی کے ذمہ دار ہمارے طلبہ، اساتذہ اور والدین ہیں یا حقیقت میں‌ اس کے پیچھے دوسری چھپے ہوئے ہاتھ بھی ہیں۔ اس کے اسباب جانچنے کے لئے ہمارے یہاں روزانہ بڑے ہوٹلوں میں وزراء اور دانشور حضرات کی زیر صدارت اجتماعات اور کانفرنسیں ہوتی رہتی ہیں اور تعلیمی بدحالی پر سب عقلمند، مفکر، دانشور اور وزیر صاحبان ٹھنڈی آہیں بھر کے گھروں پر جا کر چین کی نیند سوتے ہیں لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ اس سارے مسئلے کا ذمہ دار اساتذہ اور طلبہ کو قرار دیا جاتا رہا ہے۔
کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں اس ہی موضوع پر ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا جس میں اکثر تعلیمی ماہرین کی جانب سے طلبہ کو قصور وار ٹھہرانے کا سلسلہ جاری تھا کہ وہ محنت نہیں کرتے، تعلیمی اداروں کا ماحول بگاڑتے ہیں اور غنڈہ گردی کرکے تعلیم کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں۔ کئی کی رائے تھی کہ اساتذہ کی نظریں کلاس میں‌ موجود وال کلاک / گھڑی اور دل تنخواہ میں‌ اٹکا رہتا ہے، وہ درس و تدریس کے عمل میں سچے نہیں ہیں اور فرض نبھانے میں کوتاہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے سیمینار میں‌ تعلیم کی بدحالی کا ذمہ دار اساتذہ تنظیموں اور ملک کے سیاستدانوں‌کو قرار دیا۔ ان کا خیال تھا کہ سیاست دان طلبہ کو بیکار کے نعروں میں الجھا کر ان کا بیڑہ غرق کردیتے ہیں اور اپنے مقاصد کے حصول کےلئے انہیں‌ بلی کا بکرا بنا کر ان کی زندگی ویران کردیتے ہیں۔ اس حوالے سے مذکورہ بالا آراء کسی حد تک درست بھی ہوسکتی ہیں لیکن یہاں میں چند باتیں واضح کرنا چاہوں گا۔ میرے خیال میں‌ مندرجہ ذیل اسباب ہی ہمارے تعلیمی نظام کی خرابی کی اصل وجوہات ہیں:
1۔ تعلیم کا موجودہ نظام
2۔ نوکر شاہی / بیوروکریسی کی عوام دشمنی
3۔ معاشی بدحالی
4۔ سماجی اثرات

تعلیم کا موجودہ نظام
ہمارے ملک میں‌ تعلیم کے دو نظام رائج ہیں۔ پہلا سرکاری دوسرا نجی۔ دونوں کے نصاب، ماہانہ فیس اور اساتذہ بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اگر بڑے شہروں میں دیکھا جائے تو ان میں امیر و کبیر لوگوں اور فوجی افسران کے بچوں کے لیے بنائے گئے سرکاری اسکول بھی مختلف ہیں بلکہ زیادہ تر امراء کے بچے تو پڑھتے ہی ملک سے باہر ہیں۔ اس بات کو چھوڑ کر اگر نجی اسکولوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں‌ معیاری اسکولوں‌ میں‌ پڑھنے والے طالب علم کی فیس پانچ ہزار روپے ماہانہ سے لے کر بیس ہزار روپے ماہانہ تک بھی ہے۔ یہ فیس دیہات میں‌ کام کرنے والے مزارعین اور مزدوروں کی سالانہ آمدنی سے بھی زیادہ ہے۔ ایسے نجی اسکولوں میں‌ اساتذہ کو بھاری بھر کم معاوضہ دیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ سہولتیں‌ الگ۔ یہ اساتذہ بچوں‌ کے ساتھ کبھی بھی پاکستان کی قومی زبان میں بات نہیں کرتے۔ ایسے اسکولوں‌ کا نصاب پاکستان کے قومی اداروں کے مقرر کردہ نصاب سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ایسے اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے پیشگی غیر ممالک میں‌ تعلیم کا بندوبست ہوچکا ہوتا ہے اور پھر یہ بین الاقوامی اداروں میں‌ پڑھ لکھ کر اور سپرمین بن کر وطن واپس آتے ہیں تو کروڑوں پاکستانیوں کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایک طرف تو ان نجی تعلیمی اداروں میں‌اعلیٰ ماحول، جدید سہولتیں، کمپیوٹرائرڈ تعلیمی نظام اور جدید تدریسی ساز و سامان جبکہ دوسری طرف ہمارے تھکے ہوئے سرکاری اسکول جن میں‌ اکثر اساتذہ مقررہ وقت پر آنے یا جانے کی زحمت تک نہیں‌ کرتے۔ میں سرکاری اسکولوں کی حالت زار کی تفصیل میں جانا بالکل بےکار سمجھتا ہوں۔ ملک بھر کے دیہی علاقوں میں‌ چلے جائیں، شاید ہی کوئی ایسا اسکول ہوگا جہاں دو کمرے کی عمارت کا اسکول ہوگا۔ اگر اسکول ہوگا تو فرنیچر غائب ہوگا اور طالب علم زمین پر بیٹھ کر پڑھیں‌گے۔ کئی دیہات میں تو بچے اب تک پیڑ کی چھائوں کے نیچے بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ دوسری جانب سرکاری اسکولوں کے لیے اساتذہ کی بھرتی پر بھی کوئی خاص توجہ نہیں‌ دی جاتی۔ پچھلے دنوں‌ پنجاب میں پرائمری ٹیچرز کی بھرتی کا ٹیسٹ ہوا جس میں ایک صاحب نے جنرل پرویز مشرف کو وزیراعظم پاکستان اور وزیراعظم شوکت عزیز کے خانے میں‌ پتہ نہیں لکھ کر ٹیسٹ مکمل کیا تھا جبکہ ایک خاتون نے مذکورہ سوالات کے جواب کی جگہ ایک شعر لکھا تھا جو مجھے مکمل طور پر یاد تو نہیں‌ لیکن وہ ختم اس پر ہوتا تھا کہ ’’میں‌ میک اپ کرنی آں تو آلو چھل ماہیا‘‘۔ نہ تو ایسے افراد کو ٹیسٹ دیتے ہوئے شرم آتی ہے اور نہ ہی ہمارے حکمراں غیرت مند ہیں جو اپنے بچوں کو تو اعلیٰ تعیلم یافتہ اداروں‌ میں‌ پڑھاتے ہیں لیکن قوم کے بچوں کے ساتھ ان کا اللہ واسطے کا بیر ہے۔ اگر آپ نے میٹرک کیا ہوا ہے چاہے وہ سی یا ڈی گریڈ‌ میں ہی کیوں‌ نہ ہو، اگر آپ نفسیاتی مریض ہیں، اول نمبر کے راشی ہیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ پاکستان میں ایک ٹیچر بننے کے مکمل اہل ہیں۔ اس کے بعد معاشی بدحالی، ناانصافی اور عدم مساوات کے شکار سرکاری اسکولوں میں بھرتی ہونے والے اساتذہ کو ماہانہ تنخواہ بھی اتنی دی جاتی ہے کہ وہ اسکول میں‌ حاضر دماغ رہنے کی بجائے خیالات ہی میں‌اپنے گھر کے مسائل حل کرنا شروع کردیتا ہے۔ خاتون معلمہ ہوں گی تو یاد تو گپیں‌ لڑانے میں‌ مصروف ہونگی یا پھر سوئیٹر بننے میں۔ اگر کسی طالب علم نے ان کے خیالی پلائو بنانے کے عمل میں مداخلت کی تو بس پھر کیا ۔۔۔۔ مولا بخش برسنا شروع۔ یہ نظام حال ہی میں نہیں بلکہ سالوں سے چلتا آ رہا ہے اور اس کے نتیجے میں‌ ہم جیسے قابل افراد بھی شاذو نادر نکل آتے ہیں۔ ایسے اسکولوں کا سلسلہ صرف مڈل اور ہائی اسکولوں تک ہے جن میں سے پاس ہو کر اگر کوئی خوش قسمت انسان یونیورسٹیوں تک پہنچتا ہے تو اس پورے پس منظر میں‌ ذاتی محرومیوں، خاندانی مسائل اور معاشی عدم مساوات سے قطع نظر اگر اسے تعلیمی بدحالی کا ذمہ دار قرار دیا جائے تو یہ ناانصافی ہوگی۔

بیوروکریسی / نوکر شاہی کی عوام دشمنی
ہمارے تعلیمی نظام کی بربادی کی اصل ذمہ دار بیورو کریسی ہے جو بالواسطہ طرح سے پاکستان کی حکمران بھی ہے۔ یہ جو تعلیمی نصاب بناتے ہیں اور تعلیمی نظام چلاتے ہیں ان سے صرف یہ معمولی سوال پوچھا جائے کہ کیا ان کے بچے بھی یہ نصاب پڑھتے ہیں، کیا ان کے بچے بھی اس ہی نظام میں‌ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ کیا ان کی اولاد سرکاری اساتذہ سے سرکاری اسکولوں میں‌ تعلیم حاصل کرتی ہے؟ اگر نہیں‌ تو پھر ہمیں بدحالی میں رکھنے کے لیے Out-dated نطام کو کیوں برقرار رکھا جا رہا ہے۔ آخر کیوں افسران کی اولاد افسر اور کسان کی اولاد کسان بنتی آ رہی ہے۔ کیا اللہ غرباء کے بچوں کو کم عقل اور امراء کے بچوں‌کو زیادہ عقل والا بنا کر پیدا کرتا ہے۔ نہیں بالکل نہیں۔ ایسی ناانصافی اللہ تبارک و تعالیٰ سے منسوب نہیں کی جا سکتی۔

معاشی بدحالی
یہ ایک ایسا مرض ہے جو ذہنی صلاحیتوں، محنت کے جذبے، شخصیت، مستقل مزاجی، ارادے کی قوت اور اخلاقی جرئت جیسے جذبوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ یہ معاشی بدحالی ہی ہے جو ہماری ناخواندگی کی شرح میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ سرکاری اسکولوں میں میٹرک تک تعلیم مفت قرار دی جا چکی ہے لیکن معمولی ماہانہ فیس طالب علم کو دینا ہی پڑتی ہے اور والدین غربت کے باعث یہ معمولی فیس بھی نہیں دے پاتے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طالب علم کو مجبورا تعلیم کو خیرباد کہنا پڑتا ہے۔ معاشی بدحالی کے باعث اکثر والدین بچپن ہی سے بچوں کو تعلیم سے دور رکھتے ہیں اور یہ بچہ اپنے بنیادی حق سے محروم رہ جاتا ہے۔ غریبی اور کوہلو کے بیل کی طرح پستے پستے کچھ ایسے بھی ہیں جو اعلیٰ تعلیم کی دہلیز پر پہنچ بھی جاتے ہیں لیکن اکثر تعلیمی اداروں کی بندش، تعلیمی اداروں میں‌ سیاست، بائیکاٹ اور دیگر مسائل کے باعث اکثر نوجوان تعلیم کی بجائے کاغذی سرٹیفیکیٹ حاصل کرکے نوکری کے حصول کےلئے دفاتر کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔

سماجی اثرات
جاگیرداری دور کی پیدوار پرانے رواج، تعلیم کی کمی، غربت، ذہنی غلامی، محرومیوں، سماجی عدم مساوات اور نا انصافیوں کے باعث جو خطرناک ماحول جنم لیتا ہے اس کے اثرات سے بچنا یا بغاوت کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اس معاشرے میں جو منفی سوچ پیدا ہوتی ہے اس سے نجات حاصل کرنا ہمارے نوجوان کے لئے ایک للکار کی حیثیت رکھتا ہے۔ قدم قدم پر اس کے لئے رکاوٹیں پیدا ہوتی رہتی ہیں اور کئی نوجوان ان رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے بالآخر ہتھیار ڈال کر حالات سے سمجھوتا کرلیتے ہیں۔ اس ساری صورتحال کو تبدیل کرنے کے لئے جب تک تعلیمی نظام اور ملک کا نظام تبدیل نہیں ہوجاتا اس تباہی سے جان چھڑانا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مایوس ہو کر ہمیں ایسے ہی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے نہیں بیٹھنا۔ اگر صرف اساتذہ اور طلبہ کو قصور وار ٹھہرانے کی بجائے حقائق سے پردہ اٹھایا جائے اور تعلیم کی بہتری اور فروغ کے لئے ایمانداری سے اقدامات کئے جائیں تو ہمارا تعلیمی نظام تباہی سے بچ سکتا ہے۔

 
شیخ ہمدان's Avatar
شیخ ہمدان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 50
مراسلات: 280
شکریہ: 12
163 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 991
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (30-09-07), محمدعدنان (30-09-07), Zullu230 (31-05-09), عبدالقدوس (08-08-08)
پرانا 08-08-08, 02:53 AM   #2
Senior Member
 
تانیہ رحمان ستارہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,791
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,049 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: تعلیم کی بدحالی کے اسباب

دوستوں یہاں ھم سب جانتے اور مانتے ھیں، کہ تعلیمی لحاظ سے ھم بہت پیچھے ھیں، اس کی وجہ ھمارہ نظام سہی نہیں ھے۔باقی رہی سہی کس ھمارے ان لوگوں نے پوری کر دی جو نہیں چاہتےکہ لڑکیاں اسکول جاہیں ،خاص کر اگر لڑکیوں نے پڑھ لیا تو شعور آجائے گا ۔وہ باتیں بھی پڑھ لیں گی ،جن کا لاعلم رہنا ھی اچھا ھے ورنہ وہ حق مانگنے لگے گی ۔ جو مرد حضرات دینا نہیں چاہتے۔تعلیم حاصل کرنے کے لیے بہت ضروری ھے ،کہ جب تک ھمارے بھائی باپ چچا ماموں اور وہ بزرگ جھنوں نے اس کو اپنی آنا کا مسلہ بنایا ھوا ھے۔ ان کی سوچ تبدیل نہیں ھو گی ۔تعلیم ناممکن ھے ۔
تانیہ رحمان ستارہ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 31-05-09, 03:50 PM   #3
Senior Member

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,230
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ستارہ مراسلہ دیکھیں
دوستوں یہاں ھم سب جانتے اور مانتے ھیں، کہ تعلیمی لحاظ سے ھم بہت پیچھے ھیں، اس کی وجہ ھمارہ نظام سہی نہیں ھے۔باقی رہی سہی کس ھمارے ان لوگوں نے پوری کر دی جو نہیں چاہتےکہ لڑکیاں اسکول جاہیں ،خاص کر اگر لڑکیوں نے پڑھ لیا تو شعور آجائے گا ۔وہ باتیں بھی پڑھ لیں گی ،جن کا لاعلم رہنا ھی اچھا ھے ورنہ وہ حق مانگنے لگے گی ۔ جو مرد حضرات دینا نہیں چاہتے۔تعلیم حاصل کرنے کے لیے بہت ضروری ھے ،کہ جب تک ھمارے بھائی باپ چچا ماموں اور وہ بزرگ جھنوں نے اس کو اپنی آنا کا مسلہ بنایا ھوا ھے۔ ان کی سوچ تبدیل نہیں ھو گی ۔تعلیم ناممکن ھے ۔
میں ایک بات پر بہت حیران ہوتا ہوں کہ جو شخص خود کو مسلمان کہلواتا ہے اُسے یہ نہیں معلوم کہ "حصول علم ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے" علم حاصل کرنا صرف مردوں ہی پر فرض تو نہیں۔ اگر ایک عورت تعلیم یافتہ ہو گی تو وہ ایک تعلیم یافتہ معاشرے کو جنم دے گی۔ ہمارے معاشرے میں تعلیم کی کمی کی یہی وجہ نہیں کیا؟ ہم نے عورت پر تعلیم کے دروازے بند کر کے اسلام کی کونسی خدمت کی ہے یا کوئی یہ بتا دے کہ قرآن نے منع کیا ہے یا کسی سنت اور حدیث میں ہے کہ عورتوں کو تعلیم نہیں دلوانی۔ ہمارا معاشرہ خود کو اسلامی معاشرہ کہلاتا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن ذرا غور کریں کہ ۔۔۔۔۔۔ ہم اپنی بیٹیوں کے کونسے حقوق پورے کرتے ہیں۔ خصوصآ شادی کے بعد۔ کیا اُنہیں باپ کی وراثت سے حصہ ملتا ہے؟ ہمارے ہاں اس طرح کی چند گنی چنی مثالییں ہیں۔ جو مسلمان کسی عورت کی تعلیم کی مخالفت کرتا ہے وہ مذکورہ بالا حدیث سے رو گردانی کرتا ہے۔
Zullu230 آف لائن ہے   Reply With Quote
Zullu230 کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 31-05-09, 03:57 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے پیش کریں ۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 31-05-09, 04:56 PM   #5
Senior Member
 
تانیہ رحمان ستارہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,791
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,049 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

zullua ہماری یہی بد قسمتی رہی ہے کہ جو بھی بات ہو اسلام کو لے آتے ہیں ۔ جہاں سنت ملتی ہے اس کو فرض پر اہمیت دیتے ہیں ۔ اب علم کے بارے میں کھلے عام کہا گیا ہے ہمارے نبی نے فرمایا ہے کہ تعلیم حاصل کرو چاہے چین بھی جانا پڑے تھوڑی دیر سوچنے کی بات ہے جب انہوں نے فرمایا تھا اس وقت کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچا جائے تو چین کتنا دور ہے مطلب صاف واضع ہے ۔ کہ تعلیم یا علم کتنا دور سہی اس کو حاصل کرنا ہر مرد و عورت پر فرض ہے ۔ لیکن ہم نے محدود کرکے قرآن کے علم تک بات روک دی ہے مجھے آج تک یاد نہیں کہ ماسوائے عورت کے گھر میں قید کرنے کے آج تک کسی مولانا نے یہ نہیں کہا کہ عورت پر علم فرض ہے ۔ اور لڑکیوں کو لازمی پڑھنا چاہے ۔آج کی صورتحال ہم سب کے سامنے ہیں ۔ اس سے ذیادہ کیا کہوں
تانیہ رحمان ستارہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-05-09), Zullu230 (23-06-09)
پرانا 31-05-09, 09:32 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,989
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ھمارے نام نہاد علماء اکرام نے کبھی حق کی آواز نہیں اٹھائ بہت بار پاکستان میں عورتوں کے ساتھ سر عام زیادتی ھوئ اسکول جلائے گئے کاروکاری ونی کی رسومات کبھی کسی عالمِ دین کی طرف سے کوئ فتویٰ نہیں آیا
کیا ملا کا کام جہاد کے لیے تیار کرنا ھے ؟دنیاوی زندگی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا کوئ حکم نہیں ؟؟ زندہ رہ کر اللہ کے احکام پر عمل کرنے کا بہت ثواب ھے شاید یہ لوگ نہیں جانتے
Haya 786 آف لائن ہے   Reply With Quote
Haya 786 کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 23-06-09, 01:19 PM   #7
Senior Member

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,230
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حصول علم بھی ہر عورت پر فرض ہے اور میں تو یہ کہوں گا کہ عورتوں کو علم کے میدان میں آگے آنا چائیے لیکن با پردہ رہ کر جس طرح مذہب نے حکم دیا ہے۔ اگر ایک عورت تعلیم یافتہ ہوگی تو وہ ایک ایسے معاشرے کو جنم دے گی جو پڑھا لکھا اور با شعور ہو گا۔ پاکستان میں ایسی لاتعداد خواتین ہیں جنہوں نے با پردہ رہ کر علم حاصل کیا۔ سروس کی اور گھریلو ذمہ داریوں کو بھی پورا کیا۔ صرف مصمم اردے اور نیک نیتی کی ضرورت ہے۔
Zullu230 آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, پاکستان, وزیر, وزیراعظم, قدم, چین, نیند, نوکری, مفت, مکمل, موجودہ, مسائل, معلوم, اللہ, انسان, امیر, بچپن, بچوں, تعلیم, جواب, حل, خوش, زندگی, صدارت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سرٹیفکیشن اور انٹرنیٹ پر تعلیم کے متعلق مشورہ درکار یاسر عمران مرزا Computer Certifications 29 20-03-11 12:11 AM
سلمان تاثیر کا تعلق تعلیم یافتہ عاشق رسول گھرانے سے تھا گلاب خان خبریں 16 08-01-11 04:53 AM
تعلیمی سیمینار تعلیم Real_Light خبریں 0 21-04-08 09:20 AM
سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 10:24 AM
سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی خرم شہزاد خرم خبریں 0 26-10-07 10:57 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:14 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger