واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان




جشن

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-12-07, 11:46 PM   #1
جشن
چاچا کمال چاچا کمال آف لائن ہے 05-12-07, 11:46 PM

کچھ دیر پہلے میں نے ۱۴ اگست ۲۰۰۵ کا سورج غروب ہوتے دیکھا ہے۔

پچھلے ۱۴ دنوں سے میں اس چمکدار ستارے کو مشرق سے ابھرتا اور مغرب میں ڈوبتا دیکھ رہا ہوں۔ ہر روز صبح سویرے اس کے اشاروں پر ہوا کے جھونکے آ کر مجھے گدگدایا کرتے۔ میں پہلو بدل کر سونے کی کوشش کرتا مگر کچھ ہی دیر بعد اس کی کرنیں مجھ پر برسنے لگتیں۔ ہار مان کر میں آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھتا اور اسے اپنی جانب مسکراتے پا کر جواباً خود بھی مسکراتا۔ مسکراہٹوں کے اس تبادلے کے بعد وہ تو اپنے سفر پر روانہ ہو جاتا اور میں اپنی جگہ پر ہی رہ جاتا۔ کپڑے کا ایک ٹکڑا ہی تو ٹھہرا۔

مجھے یاد ہے کہ یکم اگست کی صبح ایک چھوٹے سے بچے نے مجھے اُس تاریک الماری سے نکالا تھا۔ دو تین بار زور زور سے مجھے جھٹکے دے کر لہرانے کے بعد اس نے مجھ پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالی تھی اور میں اُس کی آنکھوں میں ابھرنے والی چمک کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ چند منٹوں بعد وہ بچہ مجھے “غسل” دے رہا تھا اور چند گھنٹوں بعد میں ایک بانس سے چمٹا اُس بچے کے گھر کی چھت پر لہرا رہا تھا۔ نجانے کتنے عرصے بعد میں نے ہوا کو اپنے بدن پر محسوس کیا تھا۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ اِسی طرح ہوا چلتی رہے اور میں اس کے دوش پر اپنا آپ لہراتا رہوں۔ مگر کچھ ہی دیر بعد میری مایوسی کی انتہا نہ رہی جب میں بالکل ساکت ہو کر اس بانس سے لٹکا ہوا تھا۔

چند دنوں میں میرے آس پاس مجھ جیسوں کی بھر مار ہو گئی۔ کچھ مجھ سے چھوٹے اور بے حد شوخ تھے۔ اپنے بدن پر اللہ جانے کیا کچھ سجائے، سیٹیاں مارتے لہرائے پھرتے تھے۔ کچھ کے اوپر تو ھلال اور ستارہ ڈھونڈنے کے لئے مجھے خاصی محنت کرنا پڑی تھی۔ ان کے بالکل برعکس کچھ بہت ہی بڑے تھے۔ ذرا سی ہوا چلنے پر جہاں چھوٹے پھڑپھڑانا شروع کر دیتے، وہاں وہ بڑے بس سر اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھتے اور پھر کسی گہری سوچ میں غرق ہو جاتے۔

ایک شام میں نے دیکھا کہ میرے ہی جیسے کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ایک لمبی سی ڈوری پر بندھے میرے بالکل ارد گرد جمع ہو رہے ہیں۔ وہی بچہ جس نے مجھے الماری سے نکالا تھا، بڑے جوش و خروش سے ان “جھنڈیوں” کو عجیب و غریب انداز میں لگائے جا رہا تھا اور اپنی امی کو دکھا دکھا کر ان سے شاباش وصول کر رہا تھا۔ یہ جھنڈیاں بھی عجیب ہی مخلوق تھیں، چھوٹوں سے بھی زیادہ شوخ۔ ہوا چلنے پر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے تالیاں پیٹ رہی ہوں۔ سیٹیاں بجانے پر آتیں تو چھوٹے بھی اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے۔ لیکن ماننے کی بات ہے، جب بھی ہوا چلتی تو ایسا جنگل میں منگل کا سماں ہوتا تھا کہ میں ہوا کے رکنے کے بعد بھی کچھ دیر تک لہراتا رہتا۔ چھوٹے زور زور سے میرے لہرانے پر سیٹیاں بجاتے اور جھنڈیاں تالیاں پیٹ پیٹ کر مجھے داد دیتیں۔

پھر ایک دن جیسے طوفان آ گیا۔ اتنے گہرے بادل تھے کہ مجھے سورج نظر آنا بند ہو گیا تھا۔ ہوا اس زور کی تھی کہ جھنڈیوں اور چھوٹوں کی سیٹیاں چیخوں میں تبدیل ہو گئی تھیں، اور بڑے انتہائی فکر مندانہ انداز میں اِدھر سے اُدھر لہرا رہے تھے۔ میں اپنے بانس کو مضبوطی سے تھامے تھر تھر کانپ رہا تھا کہ جیسے آسمان سے قیامت برس پڑی۔ اس زور کی بارش ہوئی تھی کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ جھنڈیوں کی چیخوں نے پہلے ہی کان پھاڑ رکھے تھے کہ مجھے بچوں کے قہقہوں کی آواز آئی۔ میں نے بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھا اور سناٹے میں آ گیا۔

فضا میں ہر طرف وہ چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں چکراتی پھر رہی تھیں۔ میں نے بوکھلا کر انہیں سنبھالنے کی کوشش کی مگر خود ہی ڈول کر رہ گیا۔ وہ بچے ان جھنڈیوں کے ساتھ اچھل اچھل کر کھیل رہے تھے اور میں صدمے کی سی کیفیت میں انہیں تکے جا رہا تھا۔ پھر یکا یک بارش رک گئی اور تمام جھنڈیاں سسکتی ہوئی زمین پر بکھر گئیں۔ ان بچوں کا کھیل اسی طرح جاری تھا۔ اچھلتے کودتے، ایک دوسرے کو پانی میں دھکے دیتے وہ اٹھکیلیاں کر رہے تھے اور ان کے پیر اپنے نیچے آنے والی جھنڈیوں کو روندتے چلے جا رہے تھے۔ میں اپنا سر جھکا کر بے آواز رو رہا تھا جب یکدم ایک بڑے کے ہنسنے کی آواز آئی۔

میں نے دیکھا، وہ تمام بچے اب بھی ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ لیکن ان میں سے ایک باقی سب سے لا پروا ہو کر جھُک جھُک کر جھنڈیاں چن رہا تھا۔ وہی جس نے مجھے الماری سے نکالا تھا۔

“بہت جلدی مایوس ہو جاتے ہو دوست۔” ۱۴ اگست کی شام میں نے سورج کو کہتے سنا۔ وہ اس بچے کو بڑے پیار سے مجھے لپیٹتا دیکھ رہا تھا۔ “یاد رکھنا دوست۔ جشن دنوں میں نہیں، دلوں میں ہوتے ہیں۔”

غروب ہوتے ہوئے اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

سورس الٹرا سیدھا

 
چاچا کمال's Avatar
چاچا کمال
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 349
Reply With Quote
جواب

Tags
نظر, معلوم, اللہ, بچوں, سفر, ستارے, شام, صبح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:14 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger