ہمارے ملک میں کسی بھی چیز کی بازار میں قیمت مقّرر نہیں ہے کینکہ حکومت کی طرف سےاس پر کوئی باقاعدہ پابندی نہیں ہے کہ کوئی کسی چیز کو کس قیمت پر کب فروخت کرتا ہے۔ اسکا فائدہ چوربازاریوں اور ذخیرہ اندوزوں کو ہوتا ہے جو وقت اور استعمال کی کسی چیز کی مانگ بڑھنے پر اسکی قیمت آپ لگا لیتے ہیں۔ اسطرح دوسرے سوداگر خودبخود اس قیمت پر چیز کو چڑھا دیتے ہیں یا اس سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یوں مختلف جگہوں میں ایک ہی چیز کی مانگ کے حساب سے قیمت مختلف ہوتی ہے۔ اس دوران ایسا بھی ہوتا ہے کہ چوربازاریوں کو علم ہوجاتا ہے کہ فلاں ضلعے یا صوبے میں فلاں چیز مہنگی بک رہی ہے تو اس کو وہاں منتقل کئے جانے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔ اس تمام کام کی تنظیم کا ذمّہ حکومت کا ہے جو ایک چیز کی ناپیدگی یا قحط کو روک تو نہیں سکتی مگر اس کو ایک معلوم قیمت پر بیچنے کی پابندی بٹھا سکتی ہے چاہے جتنی کمی کیوں نہ پڑ جائے۔ اب تو حکومت کے ڈھیلے پن سے یہ بدعنوان عناصر اتنے قوّی ہو گئے ہیں کہ ایک ذرعی ملک کا پورا غلّہ باہر ملکوں کو چوری سے پہنچا کر اس ملک کو دوسرے ملکوں سے مانگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
یہ کاروائی یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ اب پاکستان کے مختلف شہروں میں عام استعمال کی چیزوں چینی، روٹی، گھی وغیرہ کے جدا نرخ ہیں بلکہ بعض جگہوں پر دوسے علاقوں سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ یہ عمل جرائم کی شرح میں اضافے،بھوک، احساس محرومی کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت پر بھی منفی اثر ڈال رہا ہے۔