واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان




سانحہ یا المیہ؟ An Analysis of Musharaf Regim

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-07-09, 06:54 PM   #1
سانحہ یا المیہ؟ An Analysis of Musharaf Regim
حیدر حیدر آف لائن ہے 29-07-09, 06:54 PM

(فورم کے ایک ٹاپک میں مشرف مخالفت، عدلیہ تحریک بحالی مخالفت وغیرہ کے مباحث دیکھ کر یہ مضمون لکھنے کو خیال آیا)
المیہ ایک ایسے سانحہ کو کہہ سکتے ہیں کہ جو نہ صرف اس وقت بھی نقصان دے کہ جب وہ سانحہ وقوع پذیر ہوا ہو بلکہ اس سانحہ کے ما بعد اثرات بڑھتے ہی چلے جائیں۔ المیہ ہم ایک ناسور کو بھی کہہ سکتے ہیں جسکی تکلیف نہ صرف مقامی طور پر محسوس ہوتی ہے بلکہ وہاں بھی محسوس ہوتی ہے جہاں اس ناسور کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔یہ ناسور نہ صرف ظاہری تباہی مچاتا ہے بلکہ اسکی اندرونی اور خفیہ تباہ کاریاں اسکی ظاہری تباہ کاریوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں۔

اس ملک کے گھٹیا افراد کا اس ملک کا حکمران بننا سانحہ سے بڑھ کر المیہ ہے۔ایسا المیہ جسکی المناکی کم ہونے کو ہی نہیں آ رہی۔1950 کی دہائی کی طوائف الملوکی ہو یا ساٹھ کی دہائی کا مارشل لا۔ ستر کی دہائی کی جمہوری ڈکٹیٹر شپ ہو یا 80 کی دہائی کا اسلامی لبادے والا مارشل لا۔ نوے کی دہائی کی اذیت ناک یادیں ہوں یا مشرف دور کی تاریک روشن خیالی۔ ہر کسی نے اس ملک جس کو پاکستان کہتے ہیں کی تباہی میں اپنا حصہ بٹایا ہے۔

ہر حکمران اچھے اور برے اعمال کا مجموعہ ہوتا ہے۔اپنے اچھے اعمال کی وجہ سے وہ عوام میں اپنے تائید کنندگان بنا لیتا ہے اور برے اعمال کی وجہ سے اپنے مخالف بھی۔ تاہم کسی حکمران کے عوام میں مقبولیت اسکے کارناموں سے بڑھ کر اسکی بات کرنے کی صلاحیت، مارکیٹنگ وغیرہ پر بھی منحصر ہوتی ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں ایک شخص محمد علی جناح کو الگ کر کے باقی سبھی حکمرانوں کی مقبولیت کی بنیادی وجہ دوسرا فیکٹر یعنی انکی مارکیٹنگ ہی رہی ہے۔

مجھ کو نواز شریف اچھا لگتا ہے۔کیوں؟ بس اچھا لگتا ہے۔ اور اسکی دلیل میں چند فضول سے دلائل رکھتا ہوں۔مجھے مشرف برا لگتا ہے۔ کیوں؟ بس برا لگتا ہے۔ اور اسکی دلیل میں چند فضول سے دلائل رکھتا ہوں۔ پسند نا پسند کے انہی دلائل کی بحث میں ہماری قوم کچھ ایسا الجھ کر رہ گئی ہے کہ اپنا اصل مقصدِ حیات ہی بھول کر رہ گئی۔

آج یہ صورت حال ہے کہ اگر کوئی مشرف کی مخالفت کرتا ہے تو جھٹ سے کوئی دوسرا اسکی حمایت میں چھلانگ لگا دیتا ہے۔ پھر بحث ایسا رنگ اختیار کر لیتی ہے کہ وہ بحث سے ہٹ کر اول فول بکنا بن جاتی ہیے۔

کسی حکمران پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے اور تایئد بھی۔ لیکن ہم کو جزئیات کو چھوڑ کر پوری تصویر دیکھنے کی بھی عادت ڈالنی چاہیے۔ جب تک ہم کسی بھی مسئلہ میں پوری تصویر کو دیکھنے کی عادت نہیں ڈالیں گے تب تک مسئلے کا حل نکلنا ممکن نہیں۔ پوری تصویر دیکھنے کا طریقہ یہ ہےکہ آدمی اپنے حکران کا Cost vs Benefit Analysisکرے۔اگر اس حکمران کے کاموں میں مثبت عنصر زیادہ ہے اور منفی عنصر کم۔تو اسکی تعریف کرنا حق۔تاہم اگر اس حکمران کے اعمال میں منفی عنصر زیادہ ہو جائے تو کس برتے پر اسکی تعریف کی جائے؟

اسکی مثال کچھ یوں لیتے ہیں کہ حجاج بن یوسف ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر تھا۔اسکو ملک میں امن قائم رکھنے کا ڈھنگ آتا تھا۔اس نے ایک مسلمان بہن کی پکار پر ہندوستان میں فوجیں بھیج دیں جسکی وجہ سے آج ہندوستان میں 40 کروڑ سے زائد مسلمان ہیں۔ اس نے قرآن پراعراب لگوائے وغیرہ۔ یہ سب حجاج بن یوسف کے اچھے اعمال ہیں۔
لیکن
اسی حجاج بن یوسف نے 6 لاکھ سے زائد مسلمانوں کا خون بہایا۔ صحابہ اور کئی تابعین کا خون بھی اسکی گردن پر ہے۔اس نے مکہ مکرمہ پرحملہ کروایا اور سنگ باری کی۔جسکی وجہ سے مسجد حرام کو کافی نقصان پہنچا۔ اس نے مسلمانوں کا خون اللہ کے گھر یعنی مساجد میں بہایا۔ وغیرہ

جب ہم اسکے اچھے اعمال کا مقابلہ اسکے برے اعمال سے کرتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ حجاج بن یوسف ایک سفاک شخص تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ سے آگاہی رکھنے والا کوئی بھی مستند مورخ حجاج بن یوسف کی اس قدر تعریفیں نہیں کرتا جس قدر اس کی برائیاں۔

یہی ہمکو اپنے حکمرانوں کے سلسلہ میں بھی کرنا چاہیے۔
آج کل موضوع ہے مشرف۔ تو اسی پر بات کیے لیتے ہیں۔
کارگل اور 12 اکتوبر کی متنازعہ تاریخ کو تو الگ رکھیے۔ ہم اس کے بعد کی بات کیے لیتے ہیں۔
مشرف دور کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرف حکومت کو ہم دو ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں
۔ 9/11 سے پہلے کا دور
۔ 9/11 کے بعد کا دور
9/11 سے پہلے کا دور کو ہم مشرف کا سنہری دور کہ سکتے ہیں ۔اس دور میں اس نے ظاہر کیا کہ اسکو امریکہ کی کوئی پرواہ نہیں۔وہ ایک دلیر فیصلے کرنے والا۔ ۔ ۔ پر اعتماد حکمران ہے۔اسکو ہر فیکٹ اینڈ فگر ازبانی یاد ہیں ۔ ٹرین کی ٹائیمنگ کا درست ہونا۔ میڈیا کی آزادی۔ سرکاری اداروں کا کلچر ٹھیک ہونا۔ کرپشن کا کم ہونا۔پاکستانی اکانومی میں پیسے کی ریل پیل۔انفراسٹرکچر کا بہتر کرنا وغیرہ

9/11 کے بعد کا دور: ایک فون کال پر کمانڈو کا گھٹنوں کے بل گر جانا۔ افغانستان میں لاکھوں افراد کے قتل کی ذمہ داری۔
پاکستان میں غیر اسلامی قوانین کا انعقاد جنکی وجہ سے بڑے شہروں میں کھلے عام بے حیائی کے مناظر نظر آنا۔ـ(لاہور اسلام آباد میں تو میں گواہ ہوں ان واقعات کا )
بے لگام میڈیا جسکی وجہ سے پاکستانی معاشرہ میں عریانی و فحاشی کی بڑہوتری۔
پاکستانی عوام کو تعیشیات جیسے لیز پر گاڑیاں دینے میں پروموٹ کرنا۔
بلوچستان میں سردار اکبر بگٹی کو محض ذاتی عناد میں قتل کروا دینا جسکی وجہ سے آج بلوچستان میں جس قدر شدید بغاوت کی آگ بھڑک رہی ہے کہ تاریخ میں کبھی نہ تھی۔
محض ذاتی عناد پر لال مسجد کا سانحہ۔جس میں بقول مشرف 94 افراد۔اور بقول آزاد میڈیا 1000 سے زائد افراد کا قتل۔جنکے خلاف اج بھی کوئی ثبوت پیش نہ کیا جا سکا۔/
عدلیہ پر حملہ محض اپنی حکومت مضبوط کرنے کے لیے کہ جس نے ملکی تاریخ کی سب سے لمبی تحریک کو جنم دیا۔ اس بحران کی وجہ سے ملک کی بنیادیں حل کر رہ گیئں۔
فاٹا میں طالبان نامی مجرم گروہ کو تشکیل دینا کہ جس کے ثمرات سے ہم آج بھی فیض یاب ہو رہے ہیں۔
اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیئےکراچی میں ایم کیو ایم کو مضبوط کرنا۔جسکی وجہ سے آج کراچی پھر سے 1980-1990 کی دہائی کی سی بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔اور سیکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
دنیا کا کالا قانون یعنی این آر او دینا۔ جسکی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ اس قانون کی وجہ سے اج ہم موجودہ حکمرانوں کے فیض سے فیضیاب ہو رہے ہیں
سیکڑوں پاکستانیوں اور بالخصوص ڈاکٹر عافیہ صدیقی نامی ہماری بہن کو کفار کے حوالے کرنا(اتنا بیغیرت تو حجاج بن یوسف بھی نہ تھا)
وغیرہ

تو اگر ہم مشرف کے اعمال کا مجموعی اثر دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ یہ اعمال سانحہ سے بڑھ کر ہمارے لیے المیہ ثابت ہوتے جا رہے ہیں۔ ان منفی اعمال کی کوئی بھی دلیل دے لیں لیکن اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ آج ہماری قوم جو کچھ بھگت رہی ہے اس کی اصل وجہ پچھلے 6 سال ہی ہیں۔
میں مشرف کے اچھے کاموں سے انکاری نہیں ۔ ۔ ۔ لیکن اس بات کو بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ پاکستانی معاشرے میں انارکی اور ٹینشن لانے والا خود مشرف ہی ہے۔اور اسی نے اسکی حکومت کا تختہ بھی الٹ دیا۔ میں کسی ک تھپڑ مارون اور توقع رکھوں کہ جواب میں جی حضور ہی آئے گا تو مجھ سے بڑا بیوقوف کوئی نہیں ہوگا۔ مشرف نے ایک کے بعد ایک پنگا خود ہی لیا۔ لیکن اس کے نتائج اس کے ساتھ ساتھ ہم بھی بھگت رہے ہیں۔
باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

Last edited by حیدر; 29-07-09 at 06:56 PM.. وجہ: Topic Name Correction

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 365
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (30-07-09), رضی (09-08-09)
پرانا 29-07-09, 08:39 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحر جی سے گزارش ہے کہ اس کو جلد جگہ دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 29-07-09, 09:33 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,204
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیئےکراچی میں ایم کیو ایم کو مضبوط کرنا۔جسکی وجہ سے آج کراچی پھر سے 1980-1990 کی دہائی کی سی بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔اور سیکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
ایم کیو ایم کراچی ، حیدرآباد میں‌ پہلے سے ہی مضبوط ہے اسکو مشرف کی ضرورت نہیں تھی۔ ضیاالحق کے دور سے ایم کیو ایم کراچی اور حیدرآباد کی مضبوط اور طاقت ور جماعت ہے اسے کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ کراچی کے حالات ایم کیو ایم نہیں کوئی اور کرتا ہے نام صرف ایم کیو ایم کا ہی آتا ہے
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-07-09, 07:04 AM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : waqas ali مراسلہ دیکھیں
ایم کیو ایم کراچی ، حیدرآباد میں‌ پہلے سے ہی مضبوط ہے اسکو مشرف کی ضرورت نہیں تھی۔ ضیاالحق کے دور سے ایم کیو ایم کراچی اور حیدرآباد کی مضبوط اور طاقت ور جماعت ہے اسے کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ کراچی کے حالات ایم کیو ایم نہیں کوئی اور کرتا ہے نام صرف ایم کیو ایم کا ہی آتا ہے
چونکہ یہ اس ٹاپک کا موضوع نہیں ہے اس لیے میں اس سلسلہ میں اس ٹاپک میں کسی قسم کی کوئی بحث نہیں کروں گا۔ تاہم اگر کسی کا ارادہ محض اندھی عقیدت سے ہٹ کر حقیقت کی تلاش ہے اور وہ کھلے دل سے حقائق دیکھنا چاہتا ہے تو اس مقصد کے لیے علحدہ سے ٹاپک کا آغاز کرنے پر غور کر سکتا ہوں۔جہاں ہم سب ایم کیو ایم کے سلسلہ میں اپنے خیالات ڈسکس کر سکتے ہیں ۔اور کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر مقصد صرف بحث ہوگا اور عقیدت کی وجہ سے حقائق کو تسلیم کرنے سے انکار ہو گا تو میں کسی لا یعنی بحث کا حصہ نہیں بن پاوں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مجھ پر صرف پہنچا دینا ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (30-07-09), رضی (09-08-09)
پرانا 30-07-09, 11:03 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,204
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ الگ ٹاپک کر سکتے ہیں ہمیں کسی سے کیا ڈر!
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-07-09, 06:11 PM   #6
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,788
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں

اسکی مثال کچھ یوں لیتے ہیں کہ حجاج بن یوسف ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر تھا۔اسکو ملک میں امن قائم رکھنے کا ڈھنگ آتا تھا۔اس نے ایک مسلمان بہن کی پکار پر ہندوستان میں فوجیں بھیج دیں جسکی وجہ سے آج ہندوستان میں 40 کروڑ سے زائد مسلمان ہیں۔ اس نے قرآن پراعراب لگوائے وغیرہ۔ یہ سب حجاج بن یوسف کے اچھے اعمال ہیں۔
لیکن
اسی حجاج بن یوسف نے 6 لاکھ سے زائد مسلمانوں کا خون بہایا۔ صحابہ اور کئی تابعین کا خون بھی اسکی گردن پر ہے۔اس نے مکہ مکرمہ پرحملہ کروایا اور سنگ باری کی۔جسکی وجہ سے مسجد حرام کو کافی نقصان پہنچا۔ اس نے مسلمانوں کا خون اللہ کے گھر یعنی مساجد میں بہایا۔ وغیرہ

جب ہم اسکے اچھے اعمال کا مقابلہ اسکے برے اعمال سے کرتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ حجاج بن یوسف ایک سفاک شخص تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ سے آگاہی رکھنے والا کوئی بھی مستند مورخ حجاج بن یوسف کی اس قدر تعریفیں نہیں کرتا جس قدر اس کی برائیاں۔

باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
بدر بھائی ایک اور بہترین تحریر پر میری جانب سے مُبارک باد قبول فرمائیے!
چند ایک جگہوں پر آپ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر چوں کے یہ آپ کے اپنے خیالات ہیں تو جناب آپ کے خیالات ہمارے لیئے بھی محترم ہے۔

اسی طرح لکھتے رہیئے، مجھے آپ کی تحریر کا انتظار رہتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (09-08-09)
پرانا 31-07-09, 07:50 AM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اختلاف ہی تو باعث ترقی ہے۔اگر اختلاف نہ ہوتا تو ہم آج بھی ہزاروں سال قبل کی حالت میں ہوتے۔ تاہم اختلاف کو وجہ نزاع نہیں بنانا چاہیے۔ جب رائے کے اختلاف کو ذاتی عناد کی بنیاد بنایا جاتا ہے تب انسانی ترقی کا پہیہ رک جاتا ہے۔ اس لیے مجھے آپکا اوروقاص بھائی کا اختلاف بھی عزیز ہے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-07-09), رضی (09-08-09)
جواب

Tags
9/11, Layers Movement, Musharaf, pakistan, فورم, پاکستان, قرآن, نواز شریف, مکہ, موجودہ, مقابلہ, مسجد, معلوم, معاشرہ, آج, اللہ, امریکہ, اسلامی, اسلامی تاریخ, بہترین, بھائی, تحریر, جلد, خون, شخص, طالبان, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
Numerical Analysis/Computing Project aruz اوپن سورس ڈیویلپمنٹ 11 01-02-10 11:19 PM
Numerical Analysis Question Solver رضی اوپن سورس ڈیویلپمنٹ 10 15-06-09 03:41 PM
geo musharaf حضرت بنگش قہقہے ہی قہقے 1 23-02-09 04:10 PM
SWOT Analysis طاھر Chit Chat 1 08-03-08 08:13 AM
Psycho Analysis خرم شہزاد خرم اشفاق احمد 0 27-09-07 09:49 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:17 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger