شکوہ پاکستان کا اپنے رب کے حضور
کیـوںزیـاں کاربنــوںســودفــراموش رہــوں؟---------فــــکرفــردانہ کروںمحــوغــــم دوش رہـــوں؟
نالےبلبل کےسنوں اورہمــہ تـن گـوش رہوں؟--------ہمنــوامیــںبھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں؟
جرات آموز میری تاب سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے 'خاکم بدہن' ہے مجھ کو
ہےبجــاشیـوہ تسلیـم میںمشہورہیں ہم------------قصئہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
سازخاموش ہیں'فریادسےمعمورہیں ہم-----------نالہ آتـا ہے اگرلب پــرتــو مجـبور ہیں ہم
اےخدا!شــکوہ اربــاب وفــابھــی سن لــــے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گِلا بھی سن لے
ہم ســـےپہلےعجـــب تـھا تــیرےجہاں کامنـــظر------کہیںمقتول تھےمسلمان،کہیںمحبوس شجر
خونخواراورمکارتھی یہاں کےحکمران کی نظر-------بچتا پھر کوئی ماننے والا تیرے نام کا کیونکر
تجھ کو معلوم ہے کسی نے لینا تھا نام تیرا؟
قوتِ بـــــازوئـــےجناح نےکیــاکـــــام تــیرا !
بس رہےتھےاس دنیا میں عرب بھی،ایرانی بھی--------اہل مصر مصـــر میں،شام میں شامــی بھی
اس معمورےمیں آباد تھےافغانی بھی،تورانی بھی-------اس دنیا میں مراکشی بھی تھے ،ہسپانی بھی
پر تیرے نام پہ آزادی کی آواز اٹھائی کس نے؟
بات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنــائی کـس نے؟
(تقسیم سے قبل جنگ آزادی، بوسنیا ہرزیگوینا کی جنگ میں سربیا کے خلاف اور عرب اسرایئل جنگ میں اسرائل کے خلاف پاک فوج کے جرات مندانہ کاروائیوں کی طرف اشارہ)
تھــےہمــیں اک تــیرےمعرکہ آراوںمیں----------خشکیوں میں کبھی لڑتے ،کبھــی دریاؤں میں
دیں آذانیں کبھی یورپ کےکلیساؤںمیں-----------کبــھی ایشیا کے تپتے ہوئے صحراوں میں
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی
کلمہ پڑھتے تھــے ہـــم چھاؤں میں تــلواروں کی
اس میں روس کے خلاف جنگ افغانستان میں فتح اور1965 میں 'آپریشن دوارکا' کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔اس آپریشن کو سومنات پر اٹھارویں حملہ کہا جاتا ہے)
ہم جوجیتےتھےتوجنگوں کی مصیبت کےلیے...........اور مرتے تھے تیرے نام کی عظمت کے لیے
تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومــت کــےلیــے..........سربکف پھرتےتھےکیا دہرمیںدولت کے لیے؟
قوم اپـــنی جـــو زر و مالِ جـــہاں پـــر مرتــــی
بت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتی؟
1965 کی جنگ کی طرف اشارہ ہے
ٹل نہ سکتےتھےاگر جنگ میں اڑجاتےتھے.......پاوں شیروں کے بھی میدان سےاکھڑ جاتے تھے
تجھ سےسرکش ہواکوئی توبگڑجاتـــےتھـــے......تیغ کیا چـــیز ہــے ، ہم توپ سـے لڑ جاتے تھے
تقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے
زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے !
توہی کہہ دےکہ توڑازورِرُوس کس نے؟..........ملک دہرے کا جو تھا اُس کو کیا سَر کس نے؟
توڑےدنیاوی خداؤں کے پیکرکس نے؟............کاٹ کر رکھ دیئے کفار کے لشکر کس نے؟
کس نے ٹھنڈا کیا بوسنیا و چچنیا میں جلتی آگ کو؟
کس نے پھر زندہ کیا مرتے ہوئے اســلام کی دھـاک کو؟
کون سی قوم فقط تری طلب گارہوئی؟.............اور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئی؟
کس کی ایٹمی طاقت جہاندار ہوئی؟............کس کی تکبیر سے دنیا تیری بیدار ہوئی؟ِ
کس کی ہیبت سے کفار سہمے ہوئے رہتے تھے
منہ کے بل گر کہ دوستی دوستی کہتے تھے؟
صفحہ دہرسےباطل کومٹایا ہم نے.........نوع انسانی کو غلامی سے چھڑایا ہم نے
مسجدوں کوجبینوںسےسجایاہم نے........تیرے قرآں کو سینوں سے لگایا ہم نے
پھر بھی ہم سے یہ گِلا ہے کہ وفادار نہیں
ہم وفــادار نہیں ، تُو بھی تو دلــدار نہیں !
مُلـک اوربھی ہیں،ان میں گنہــگاربــھی ہیــں..........عجز والے بھی ہیں ،مست مئے پندار بھی ہیں
اُن میں کاہل بھی ہیں،غافل بھی،ہشیاربھی ہیں.........سیکڑوں ہیں کہ تیرے نام سے بیزار بھی ہیں
رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بیچارے پاکستانیوں پر
بت صنم خانوںمیں کہتےہیں کہ پاکستان گیا..............ہے خوشی انکو کہ کعبے کا نگہبان گیا
منـزل دہـــر ســـےنبـــــی کاثـــناخــــوان گیا.............اپنــــی بغــــلوں دبــائـےہوئـےقــران گیا
خندہ زن ہے کفر تجھے احساس ہے کہ نہیں
اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں
یہ شکایت نہیں کہ ہیں انکےخزانےمعمور............. نہیںمحفل میں جنہیں بات کرنے کا بھی شعور
قہرتویہ ہِِِِِِِـــــےکہ انـــکوملیـــںحوروقصور...... .........اور بیچارے پاکستانی کو فقط وعدہ حور !
اب وہ الطاف نہیں ، ہم پہ عنایات نہیں
بات کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں
کیوںپاکستان میں ہےدولت دنیانایاب؟....................تیری قدرت تو وہ ہے جس کی نہ حد نہ حساب
توجوچاہےتواٹھےسینہ صحراسےحباب.................پہاڑ اور میداں ہوں معدنیات سے معمور و سیراب
طعن اغیار ہے، رسوائی ہے، ناداری ہے
کیا تیرے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے
تیری محفل بھی گئی،چاہنےوالےبھی گئے..............قائد اعظم بھی گئے ، قائد ملت بھی گئے
دل تجھےدےبھی گئے،اپنا صلہ لےبھی گئے...........ہم آ کر بیٹھے بھی نہ تھے کہ نکالے بھی گئے
(1947 میں پاکستان کے ساتھ تقسیم کی زیادتیاں اور سقوط ڈھاکہ کی طرف اشارہ)
تجھ کوچھوڑا کہ رسول عربی کوچھوڑا؟.................بت گری پیشہ کیا، بت شکنی کو چھوڑا؟
عشق کوعشق کی آشفتہ سری کوچھوڑا؟..................رسم سلمان و اویس قـــرنی کو چـــھوڑا؟
آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں
زندگی مثـل بـلال حبــــشی رکھـــتے ہیں
عشق کی ہم میں وہ پہلی سی ادا نہ سہی....................تیرے احکام میں تسلیم و رضا بھی نہ سہی
اضطراب میں ہمــارا رخ قبلــہ نما نہ سہی.................اور پابندیـــئ آئیـــــن وفــــا بھــی نہ سہـــی
کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنــے کــی نہیں ،تُو بھـــی تو ہرجـــائی ہے
وادئی کوئٹــــہ میں وہ لطفِ مسلسل نہ رہا.............شمال کے پہاڑوں میں نظارہ محمل نہ رہا
حوصلے وہ نہ رہے، ہم نہ رہے،دل نہ رہا............یہ گھر کچھ یوں اجڑا کہ حُــسن محــفل نہ رہا
آج کیوں سینــــے ہمــــارے شـــرر آبــاد نہیں
ہم وہی سوختہ ساماں ہیں،تجھے یاد نہیں؟
کفارواغیارگلشن میںلبِ خوںبیٹھے ہیں...............سنتے ہیں وطن کے ٹکڑے کرنے خُوب بیٹھے ہیں
دورلندن ودہلی میں ہوکےیکسُوبیٹھے ہیں............اِدھر تیرے دیوانے بھی منتظر ھُــــــــــو بیٹھے ہیں
اپنے پروانوں کو پھر ذوقِ زندگی دے
برقِ دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دے
لطف مرنےمیں ہے باقی نہ مزاجینےمیں..............کچھ مــــــزا ہــــے تــــو یہـــی خـــونِِ جـــگر پینـــے میں
کتنے مر چکے ہیں 'کھا کہ گولی سینے میں.........کس قدر مرنے ہیں ابھی خود کش حملوں کے سفینے میں
اس گلستاں کو مگر دیکھنــے والـــے ہی نہیں
داغ جو سینوں میں رکھتے ہیں وہ لالے ہی نہیں
چڑیاںشاخ صنـوبرسےگریزاں بھی ہوئیـں...........پتیاں پھولوں کی جھڑ جھڑ کہ پریشاں بھی ہوئیں
وہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیں...........اپنے پیاروں کو دیکھنے کو ترســاں بھــی ہوئیں
مشکلیںوطن عزیزکی آســــاں کردے.................بحرانوں میں ہم گھرے ہیں انکو ســـاماں کر دے
نایاب محبت کوپھرسےارزاں کر دے.................ہمارے بگڑے ہووں کو پھر سے مسلمــاں کر دے
چاک اس بلبلِ تنہا کی نوا سے دل ہوں
جاگنے والے اس بانگِ درا سے دل ہوں