|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 271
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,914
شکریہ: 10,606
1,223 مراسلہ میں 3,229 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت پیاری اور مفصل تحقیق ہے آپکی۔بہت مزہ آیا پڑھ کے ابھی پوری تحریر نہیں پڑھی وقت کم تھا۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,239
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ دیکھ کر احمد شاہ پطرس بخاری کا تحریر " لاہور کا جعرافیہ" یاد آگیا
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Lahore, Pakistan
مراسلات: 27
کمائي: 952
شکریہ: 43
25 مراسلہ میں 96 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,992
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ کا یہ فیچر پاک نیٹ پہ گرمی میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح مَحْسُوس ہوا
![]() ابھی ذرا جلدی میں پڑھا ہے وقت ملنے پر غور سے پڑھنے کی کوشش کرونگا۔ اتنے میں یہ بتا دیجیے کے کونسے چیلسی سے بھاٹی دروازے کے علاقے کو ملا رہے ہیں؟ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
بہت اچھی نقشہ کشی کی ھے پڑھ کر لاہور کی تمام گلیاں یاد آ گئیں، لاہور شہر جو کہ 12 دروازں پر مشتمل تھا اور اب بھی بارہ دروزں کے اندر جو ھے اسے ہی لاہور شہر ہی کہا جاتا ھے باقی تو صرف لاہور ہی ھے جو بے شمار رقبوں تک پھیل چکا ھے۔ باغوں سے بھرا، پاکستاں کا دوسرا سب سے بڑا شہر لاہور دریاے راوی کے بائیں کنارے پر واقع ہے۔ صدہا سال سے یہ شہرخط پنجاب کا حاکم نشین اور صوبہ کا مقام رہا۔ مغل بادشاہ بابر یا ہمایوں کے عہد میں شہر لاہور دارلسلطنت قرار پایا۔ مغل بادشاہ اکبر نے اس کے گرد پختہ حصار بنوایا۔ فصیل کی دیوار بہت بلند اور چوڑی تعمیر کی ایک ایک دروازہ کے درمیان دس دس برج کلان بنوائے۔ اس شہر کے 12 دروازے 01- یکی دروزہ 02- دہلی دروزہ 03- موچی گیٹ 04- شاہ عالمی گیٹ 05- لوہاری گیٹ 06- موری گیٹ 07- بھاٹی گیٹ 08- ٹکسالی دروزہ 09- روشنی دروزہ 10- اکبری گیٹ 11- مستی گیت 12- شیرونوالہ گیٹ، ضری اور مکی کہلاتے ہیں۔ لاہور 13 صدیوں کے باوجود بھی آج بھی قائم ہے۔ محلہ پیر عزیز مرنگ، محلہ موج دریا بخاری، محلہ سید چراغ شاہ گیلانی، محلہ دولا واڑی، سید شاہ شرف کا محلہ، لکھی محلہ، درگاہی شاہ کا محلہ، شاہ بدر کا محلہ، کہوجیوں کا محلہ ، محلہ جاٹ پورہ ،محلہ میانی، دایہ لاڈو محلہ زین حان، پیروں کا محلہ، محلہ دائ انگا دائ محلہ، محلہ سرسید، محلہ تیل پورہ، محلہ نج ،محلہ قصاباں، محلہ مغل پورہ، محلہ چوک داراشکوہ ، لاہور کے پرانے محلے ہیں۔ مساجد: مسجد بادشاہی، دیا انگا مسجد، رحیمیہ مسجد، شیہ مسجد، سنھری مسجد، وزیر خان مسجد، موتی مسجد اور مسجدِ شہدہ۔ باغات میں شالیمار گارڈن، حضوری باغ، اقبال پارک اور جناح باغ/لارنس گارڈن ہیں۔ خریداری کی جگہیں مال روڈ، جیل روڈ، ایم ایم عالم روڈ ، مین بلوارڈ، کینال بنک ، فیروز پور روڈ ، فوڈ ارسٹریٹ اور ٹوریسٹ اسٹریٹ اور انارکلی بازار ہیں
__________________
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,239
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تمہید
تمہید کے طور پر صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ لاہور کو دریافت ہوئے اب بہت عرصہ گزرچکا ہے، اس ليے دلائل و براہین سے اس کے وجودکو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کہنے کی اب ضرور نہیں کہ کُرے کو دائیں سے بائیں گھمائیے۔ حتیٰ کہ ہندوستان کا ملک آپ کے سامنے آکر ٹھہر جائے پھر فلاں طول البلد اور فلاں عرض البلد کے مقام انقطاع پر لاہور کا نام تلاش کیجیئے۔ جہاں یہ نام کُرے پر مرقوم ہو، وہی لاہور کا محل وقوع ہے۔ اس ساری تحقیقات کو مختصر مگر جامع الفاظ میں بزرگ یوں بیان کرتے ہیں کہ لاہور، لاہور ہی ہے، اگر اس پتے سے آپ کو لاہور نہیں مل سکتا، تو آپ کی تعلیم ناقص اور آپ کی دہانت فاتر ہے۔ محل وقوع ایک دو غلط فہمیاں البتہ ضرور رفع کرنا چاہتا ہوں۔ لاہور پنجاب میں واقع ہے۔ لیکن پنجاب اب پنج آب نہیں رہا۔ اس پانچ دریاؤں کی سرزمین میں اب صرف چار دریا بہتے ہیں۔ اور جو نصف دریا ہے، وہ تو اب بہنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ اسی کو اصطلاح میں راوی ضعیف کہتے ہیں۔ ملنے کا پتہ یہ ہےکہ شہر کے قریب دو پل بنے ہیں۔ ان کے نیچے ریت میں دریا لیٹا رہتا ہے۔ بہنے کا شغل عرصے سے بند ہے، اس ليے یہ بتانا بھی مشکل ہے کہ شہر دریا کے دائیں کنارے پر واقع ہے یا بائیں کنارے پر۔ لاہور تک پہنچنے کے کئی رستے ہیں۔ لیکن دو ان میں سے بہت مشہور ہیں۔ ایک پشاور سے آتا ہے اور دوسرا دہلی سے۔ وسط ایشیا کے حملہ آور پشاور کے راستے اور یو۔پی کے رستے وارد ہوتے ہیں۔ اول الذکر اہل سیف کہلاتے ہیں اور غزنوی یا غوری تخلص کرتے ہیں مؤخر الذکر اہل زبان کہلاتے ہیں۔ یہ بھی تخلص کرتے ہیں، اور اس میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ حدود اربعہ کہتے ہیں، کسی زمانے میں لاہور کا حدوداربعہ بھی ہوا کرتا تھا، لیکن طلباء کی سہولت کے ليے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کردیا ہے۔ اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقعہ ہے۔ اور روزبروز واقع تر ہورہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے، کہ دس بیس سال کے اندر لاہور ایک صوبے کا نام ہوگا۔ جس کادارالخلافہ پنجاب ہوگا۔ یوں سمجھئے کہ لاہور ایک جسم ہے، جس کے ہر حصے پر ورم نمودار ہورہا ہے، لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے۔ گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے۔ جو اس کے جسم کو لاحق ہے۔ آب و ہوا لاہور کی آب وہوا کے متعلق طرح طرح کی روایات مشہور ہیں، جو تقریباً سب کی سب غلط ہیں، حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے باشندوں نے حال ہی میں یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ اور شہروں کی طرح ہمیں بھی آب و ہوا دی جائے، میونسپلٹی بڑی بحث وتمحیص کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی کہ اس ترقی کے دور میں جبکہ دنیا میں کئی ممالک کو ہوم رول مل رہا ہے اور لوگوں میں بیداری کے آثار پیدا ہو رہے ہیں، اہل لاہور کی یہ خواہش ناجائز نہیں۔ بلکہ ہمدردانہ غوروخوض کی مستحق ہے۔ لیکن بدقسمتی سے کمیٹی کے پاس ہوا کی قلت تھی، اس ليے لوگوں کو ہدایت کی گئی کہ مفاد عامہ کے پیش نظر اہل شہر ہوا کا بیجا استعمال نہ کریں، بلکہ جہاں تک ہوسکے کفایت شعاری سے کام لیں۔ چنانچہ اب لاہور میں عام ضروریات کے ليے ہوا کے بجائے گرد اور خاص خاص حالات میں دھواں استعمال کیا جاتا ہے۔ کمیٹی نے جابجا دھوئیں اور گرد کے مہیا کرنے ليے مرکز کھول دیئے ہیں۔ جہاں یہ مرکبات مفت تقسیم کئے جاتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے، کہ اس سے نہایت تسلی بخش نتائج برآمد ہوں گے۔ بہم رسائی آب کے ليے ایک اسکیم عرصے سے کمیٹی کے زیرغور ہے۔ یہ اسکیم نظام سقے کے وقت سے چلی آتی ہےلیکن مصیبت یہ ہے کہ نظام سقے کے اپنےہاتھ کے لکھئے ہوئے اہم مسودات بعض تو تلف ہوچکے ہیں اور جو باقی ہیں ان کے پڑھنے میں بہت دقت پیش آرہی ہے اس ليے ممکن ہے تحقیق وتدقیق میں چند سال اور لگ جائیں، عارضی طور پر پانی کا یہ انتظام کیا گیا ہے کہ فی الحال بارش کے پانی کو حتی الوسع شہر سے باہر نکلنے نہیں دیتے۔ اس میں کمیٹی کو بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ تھوڑے ہی عرصے میں ہر محلے کا اپنا ایک دریا ہوگا جس میں رفتہ رفتہ مچھلیاں پیدا ہوں گی اور ہر مچھلی کے پیٹ میں کمیٹی کی ایک انگوٹھی ہوگی جو رائے دہندگی کے موقع پر ہر رائے دہندہ پہن کر آئے گا۔ نظام سقے کے مسودات سے اس قدر ضرور ثابت ہوا ہے کہ پانی پہنچانے کے ليے نل ضروری ہیں چنانچہ کمیٹی نے کروڑوں روپے خرچ کرکے جابجا نل لگوا دیئے ہیں۔ فی الحال ان میں ہائیڈروجن اور آکیسجن بھری ہے۔ لیکن ماہرین کی رائے ہے کہ ایک نہ ایک دن یہ گیسیں ضرور مل کر پانی بن جائیں گی۔ چنانچہ بعض بعض نلوں میں اب بھی چند قطرے روزآنہ ٹپکتے ہیں۔ اہل شہر کو ہدایت کی گئی ہے، کہ اپنے اپنے گھڑے نلوں کے نیچے رکھ چھوڑیں تاکہ عین وقت پر تاخیر کی وجہ سے کسی کو دل شکنی نہ ہو، شہر کے لوگ اس پر بہت خوشیاں منا رہے ہیں۔ ذرائع آمد و رفت جو سیاح لاہور تشریف لانے کا ارادہ رکھے ہوں، ان کو یہاں کے ذرائع آمدورفت کے متعلق چند ضروری باتیں ذہن نشین کرلینی چاہئیں۔ تاکہ وہ یہاں کی سیاحت سے کماحقہ اثرپذیر ہوسکیں۔ جو سڑک بل کھاتی ہوئی لاہور کے بازاروں میں سے گزرتی ہے، تاریخی اعتبار سے بہت اہم ہے۔ یہ وہی سڑک ہے جسے شیرشاہ سوری نے بنایا تھا۔ یہ آثار قدیمہ میں شمار ہوتی ہے اور بےحد احترام کی نظروں سے دیکھی جاتی ہے۔ چنانچہ اس میں کسی قسم کا ردوبدل گوارا نہیں کیا جاتا۔ وہ قدیم تاریخی گھڑے اور خندقیں جوں کی توں موجود ہیں۔ جنہں نے کئی سلطنتوں کے تختے اُلٹ د یئے تھے۔ آج کل بھی کئی لوگوں کے تختے یہاں اُلٹتے ہیں۔ اور عظمت رفتہ کی یاد دلا کر انسان کو عبرت سکھاتے ہیں۔ بعض لوگ ز یادہ عبرت پکڑنے کے ليے ان تختوں کے نیچے کہیں کہیں دو ایک پہیے لگا لیتے ہیں۔ اور سامنے دو ہک لگا کر ان میں ایک گھوڑا ٹانگ د یتے ہیں۔ اصطلاح میں اس کو تانگہ کہتے ہیں۔ شوقین لوگ اس تختہ پر موم جامہ منڈھ لیتے ہیں تاکہ پھسلنے میں سہولت ہو اور بہت زیادہ عبرت پکڑی جائے۔ اصلی اور خالص گھوڑے لاہور میں خوراک کے کام آتے ہیں۔ قصابوں کی دوکانوں پر ان ہی کا گوشت بکتا ہے۔ اور زین کس کو کھایا جاتا ہے۔ تانگوں میں ان کی بجائے بناسپتی گھوڑے استعمال کئے جاتے ہیں۔ بناپستی گھوڑا شکل وصورت میں دم دار تارے سے ملتاہے۔ کیونکہ اس گھوڑے کی ساخت میں دم زیادہ اور گھوڑا کم پایا جاتا ہے، حرکت کرتے وقت اپنی دم کو دبا لیتا ہے۔ اور اس ضبط نفس سے اپنی رفتار میں ایک سنجیدہ اعتدال پیدا کرتاہے۔ تاکہ سڑک کا ہر تاریخی گڑھا اور تانگے کا ہر ہچکولا اپنا نقش آپ پر ثبت کرتا جائے اور آپ کا ہر ایک مسام لطف اندوز ہوسکے۔ قابل دید مقامات لاہور میں قابل دید مقامات مشکل سے ملتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لاہور میں ہر عمارت کی بیرونی دیواریں دہری بنائی جاتی ہیں۔ پہلے اینٹوں اور چونے سے دیوار کھڑی کرتے ہیں اور پھر اس پر اشتہاروں کا پلستر کردیا جاتا ہے، جو دبازت میں رفتہ رفتہ بڑھتا جاتا ہے۔ شروع شروع میں چھوٹے سائز کے مبہم اور غیرمعروف اشتہارات چپکائے جاتے ہیں۔ مثلاً "اہل لاہور کو مژدہ" "اچھا اور سستا مال" اس کے بعد ان اشتہاروں کی باری آتی ہے، جن کے مخاطب اہل علم اور سخن فہم لوگ ہوتے ہیں مثلاً "گریجويٹ درزی ہاؤس" یا "اسٹوڈنٹوں کے ليے نادر موقع"، یا "کہتی ہے ہم کو خلق خدا غائبانہ کیا۔" رفتہ رفتہ گھر کی چار دیواری ایک مکمل ڈائرکٹری کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ دروازے کے اوپر بوٹ پالش کا اشتہار ہے۔ دائیں طرف تازہ مکھن ملنے کا پتہ درج ہے۔ بائیں طرف حافظ کی گولیوں کا بیان ہے۔ اس کھڑکی کے اوپر انجمن خدام ملت کے جلسے کا پروگرام چسپاں ہے۔ اُس کھڑکی پر کسی مشہور لیڈر کے خانگی حالت بالوضاحت بیان کردیئے ہیں۔ عقبی دیوار پر سرکس کے تمام جانوروں کی فہرست ہے اور اصطبل کے دروازے پر مس نغمہ جان کی تصویر اور ان کی فلم کے محاسن گنوا رکھے ہیں۔ یہ اشتہارات بڑی سرعت سے بدلتے رہتے ہیں اور ہر نیا مژدہ اور ہر نئی دریافت یا ایجاد یا انقلاب عظیم کی ابتلا چشم زدن میں ہر ساکن چیز پر لیپ دی جاتی ہے۔ اس ليے عمارتوں کی ظاہری صورت ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے اور ان کے پہنچانے میں خود شہر کے لوگوں کوبہت دقت پیش آتی ہے۔ لیکن جب سے لاہور میں دستور رائج ہوا ہے کہ بعض اشتہاری کلمات پختہ سیاہی سے خود دیوار پر نقش کردیئے جاتے ہیں۔ یہ دقت بہت حد تک رفع ہوگئی ہے، ان دائمی اشتہاروں کی بدولت اب یہ خدشہ نہیں رہا کہ کوئی شخص اپنا یا اپنے کسی دوست کا مکان صرف اس ليے بھول جائے کہ پچھلی مرتبہ وہاں چارپائیوں کا اشتہار لگا ہوا تھا اور لوٹتے تک وہاں اہالیان لاہور کو تازہ اور سستے جوتوں کا مژدہ سنایا جا رہا ہے۔ چنانچہ اب وثوق سے کہا جاسکتا ہےکہ جہاں بحروف جلی "محمد علی دندان ساز" لکھا ہے وہ اخبار انقلاب کا دفتر ہے۔ جہاں "بجلی پانی بھاپ کا بڑا ہسپتال" لکھا ہے، وہاں ڈاکٹر اقبال رہتے ہیں۔ "خالص گھی کی مٹھائی" امتیاز علی تاج کا مکان ہے۔ "کرشنا بیوٹی کریم" شالامار باغ کو، اور "کھانسی کا مجرب نسخہ" جہانگیر کے مقبرے کو جاتا ہے۔ صنعت و حرفت اشتہاروں کے علاوہ لاہور کی سب سےبڑی صنعت رسالہ بازی اور سب سے بڑی حرفت انجمن سازی ہے۔ ہر رسالے کا ہر نمبر عموماً خاص نمبر ہوتا ہے۔ اور عام نمبر صرف خاص خاص موقعوں پر شائع کئے جاتے ہیں۔ عام نمبر میں صرف ایڈیٹر کی تصویر اور خاص نمبروں میں مس سلوچنا اور مس کجن کی تصاویر بھی دی جاتی ہے۔ اس سے ادب کو بہت فروغ نصیب ہوتا ہے اور فن تنقید ترقی کرتا ہے۔ لاہور کے ہر مربع انچ میں ایک انجمن موجود ہے۔ پریذیڈنٹ البتہ تھوڑے ہیں اس ليے فی الحال صرف دو تین اصحاب ہی یہ اہم فرض ادا کر رہے ہیں چونکہ انجمنوں کے اغراض ومقاصد مختلف ہیں اس ليے بسااوقات ایک ہی صدر صبح کسی مذہبی کانفرنس کا افتتاح کرتا ہے۔ سہ پہر کو کسی سینما کی انجمن میں مس نغمہ جان کا تعارف کراتا ہے اور شام کو کسی کرکٹ ٹیم کے ڈنر میں شامل ہوتا ہے۔ اس سے ان کا مطمح نظروسیع رہتا ہے۔ تقریر عام طور پر ایسی ہوتی ہے جو تینوں موقعوں پر کام آسکتی ہے۔ چنانچہ سامعین کو بہت سہولت رہتی ہے۔ پیداوار لاہور کی سب سے مشہور پیداوار یہاں کے طلباء ہیں جو بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں دساور کو بھیجے جاتے ہیں۔ فصل شروع سرما میں بوئی جاتی ہے۔ اور عموماً اواخر بہار میں پک کر تیار ہوتی ہے۔ طلباء کی کئی قسمیں ہیں جن میں سے چند مشہور ہیں، قسم اولی جمالی کہلاتی ہے، یہ طلباء عام طور پرپہلے درزیوں کے ہاں تیار ہوتے ہیں بعد ازاں دھوبی اور پھر نائی کے پاس بھیجے جاتے ہیں۔ اور اس عمل کے بعد کسی ریستوران میں ان کی نمائش کی جاتی ہے۔ غروب آفتاب کے بعد کسی سینما یا سینما کے گردونواح میں: رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں ادھر جاتا ہے دیکھیں یا اُدھر پروانہ آتا ہے شمعیں کئی ہوتی ہیں، لیکن سب کی تصاویر ایک البم میں جمع کرکے اپنےپاس رکھ چھوڑتے ہیں، اور تعطیلات میں ایک ایک کو خط لکھتے رہتے ہیں۔ دوسری قسم جلالی طلباء کی ہے۔ ان کا شجرہ جلال الدین اکبر سے ملتا ہے، اس ليے ہندوستان کا تخت وتاج ان کی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔ شام کے وقت چند مصاحبوں کو ساتھ ليے نکلتے ہیں اور جودوسخا کے خم لنڈھاتے پھرتے ہیں۔ کالج کی خوارک انہیں راس نہیں آتی اس ليے ہوسٹل میں فروکش نہیں ہوتے۔ تیسری قسم خیالی طلباء کی ہے۔ یہ اکثر روپ اور اخلاق اور اداگون اور جمہوریت پر باآواز بلند تبادلہٴ خیالات کرتے پائے جاتے ہیں اور آفرینش اور نفسیات جنسی کے متعلق نئے نئے نظریئے پیش کرتے رہتے ہیں، صحت جسمانی کو ارتقائے انسانی کے ليے ضروری سمجھتے ہیں۔ اس ليے علی البصح پانچ چھ ڈنٹر پیلتے ہیں، اور شام کو ہاسٹل کی چھت پر گہرح سانس لیتے ہیں، گاتے ضرور ہیں، لیکن اکثر بےسرے ہوتے ہیں۔ چھوتھی قسم خالی طلباء کی ہے۔ یہ طلباء کی خالص ترین قسم ہے۔ ان کا دامن کسی قسم کی آلائش سے تر ہونے نہیں پاتا۔ کتابیں، امتحانات، مطالعہ اور اس قسم کے خرخشے کبھی ان کی زندگی میں خلل انداز نہیں ہوتے۔ جس معصومیت کو ساتھ لے کر کالج میں پہنچتے تھے، اسے آخر تک ملوث ہونے نہیں دیتے اورتعلیم اور نصاب اور درس کے ہنگاموں میں اس طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح بتیس دانتوں میں زبان رہتی ہے۔ پچھلے چند سالوں سے طلباء کی ایک اور قسم بھی دکھائی دینے لگی ہے، لیکن ان کو اچھی طرح سے دیکھنے کےليے محدب شیشے کا استعمال ضروری ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ریل کا ٹکٹ نصف قیمت پر ملتا ہے اور اگر چاہیں تو اپنی انا کے ساتھ زنانے ڈبے میں بھی سفر کرسکتے ہیں۔ ان کی وجہ سے اب یونیورسٹی نے کالجوں پر شرط عائد کر دی ہے کہ آئندہ صرف وہی لوگ پروفیسر مقرر کئے جائیں جو دودھ پلانے والے جانوروں میں سے ہوں۔
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا مت سوچو ! |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Lahore, Pakistan
مراسلات: 27
کمائي: 952
شکریہ: 43
25 مراسلہ میں 96 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دراصل لندن کا ایک علاقہ ہے چیلسی ۔۔۔ جو علم و ادب کے حوالے سے خاص شہرت کا حامل ہے۔ ادب، آرٹ، کلچر، تھیٹر ،ڈرامہ کے حوالے سے چیلسی لندن کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
Last edited by شیراز حسن; 19-06-10 at 12:31 PM. |
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,992
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آجکل مغرب پر تنقید کچھ رواج کی سی شکل اختیا ر کرتی جا رہی ہے ۔ بھاٹی دروازے کے علاقے کوچیلسی سے ملانا آپ کے کُشادَہ سوچ اور ذہَن کی علامت اور قابل داد ہے۔ میری طرح غالباً آپکو بھی یہ جان کر ما یوسی ہو گی کہ مرکزی لندن کا یہ علاقہ انیسویں صدی میں آرٹ اور کلچر کا گَہْوارَہ ضرور تھا مگر علم و ادب سے وابستہ شاعر، مصور اور ادیبوں جیسی ہستیاں چیلسی سے کب کی کوچ کر چکی ہیں۔ اب تو وہاں بڑے بڑ ے بینکروں جیسے مالدار رَہائِش پذیرہیں۔ آپکی پاک نیٹ پہ آئندہ تعریروں اور خاصکر لاہور کی بادشاہی مسجد پہ فیچر کیلے انتظا ر رہے گا۔ |
|
|
|
|
|
|
#11 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اگر کبھی بھاٹی گیٹ سے گزر ہو یا کبھی پاکستان جانا ہو تو ایک مرتبہ وہاں کا وزٹ ضرور کیجئے گا اور کسی کو پوچھ بھی لیجئے گا۔ وہاں پر بھی مالدار لوگ ہی بستے ہیں، 12X12 کی دکان کی قیمت پوچھنا میلیئنز سے کم نہیں ہو گی یا شائد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ھے آج کے دور میں۔ اور گھر کی قیمت لندن "چل سی" سے کم نہیں اسی لئے قیمت کے اعتبار سے بھی یہ لندن کا "چل سی" سے کم نہیں۔ والسلام |
|
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Lahore, Pakistan
مراسلات: 27
کمائي: 952
شکریہ: 43
25 مراسلہ میں 96 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بادشاہ مسجد اور لاہور کے دیگر اہم روحانی و مذہبی اور تاریخی مقامات کےحوالےسے بہت جلد تحاریر آپ کو پیش کروں گا۔ |
|
|
|
|
| شیراز حسن کا شکریہ ادا کیا گیا | ناصحی (22-06-10) |
|
|
#13 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپکی طرف سے مفید معلومات کا انتظار رہے گا۔ ایک تصویر بہت اچھی ملی ھے آپکی نظر کر رہا ہوں۔ اس کے میناروں پر ایک خصوصیت شائد آپ بھی نہ بتا سکیں تو وہ بھی میں بتا دیتا ہوں کہ بادشاہی مسجد کے چار میناروں میں سے ہر مینار پر آپ چڑھ کے جہانگیر کے مقبرہ کے میناروں کو دیکھیں تو آپ کو 3 مینار نظر آئیں گے اور اسی طرح جہانگیر کے مقبرہ کے چاروں میناروں میں سے کسی بھی مینار پر آ چڑھ کے بادشاہی مسجد کے میناروں کو دیکھیں تو آپ کو ہر مینار سے اس کے بھی 3 ہی مینار نظر آئیں گے اب یہ قدرتی ایسا ھے یا پرانے زمانہ کے تجربہ کار انجینیئروں کا فن کمال۔ واللہ اعلم ![]() ہندوستان کے چھٹے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر تمام مغلوں میں سے سب سے زیادہ مذہبی بادشاہ تھا۔ انھوں نے اس مسجد کو اپنے سوتیلے بھائی مضفر حسین، جن کو فدائی خان کوکا بھی کہا جاتا تھا (جو کہ لاہور کا گورنر بھی تھا) کی زیر نگرانی تعمیر کروایا۔ 1671 سے لیکر 1673 تک مسجد کی تعمیر کو دو سال لگے۔ مسجد کو شاہی قلعہ کے برعکس تعمیر کیا گیا۔ Last edited by کنعان; 19-06-10 at 09:22 PM. وجہ: zoom in |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (20-06-10), شیراز حسن (21-06-10) |
![]() |
| Tags |
| کمال, کالج, کربلا, گانے, پھول, پولیس, ڈاٹ, لطیفہ, نواز شریف, نظر, منتقل, محمد اقبال, مسجد, اکبر, اندازِ, امیر, اردو, اسلام, اعلیٰ, تلاش, خطاطی, سیاست, ستارے, علامہ محمد اقبال, صدائے |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| انٹرنیٹ سیکورٹی | حیدر شاہ | سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست | 9 | 31-08-10 12:57 PM |
| پی ٹی اےکی اردو ویب سائیٹ | ALI-OAD | ویب سائٹس کا جائزہ | 5 | 20-03-10 12:53 AM |
| انٹرنیٹ کی سہولت کے ساتھ ٹی وی فروخت کے لیے پیش | محمدعمر | خبریں | 3 | 10-12-09 09:33 PM |
| سیکیورٹی کیمرا کو اپنی سائیٹ پر ہینڈل کرنا | محمدخلیل | Ask Experts ماہرین کی رائے | 10 | 17-09-09 05:00 AM |
| لندن، متحدہ انٹرنیشنل سیکرٹریٹ پر وکلاء و سول سوسائٹی کی احتجاجی ریلی | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 14-04-08 10:23 AM |