واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان




لاہور : بھاٹی گیٹ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-06-10, 01:10 PM   #1
لاہور : بھاٹی گیٹ
شیراز حسن شیراز حسن آف لائن ہے 18-06-10, 01:10 PM

لاہور کا چیلسی

کبھی لاہور کے گلی کوچوں اور راہ گزاروں سے خوشبوئوں کے قافلے اور یادوں کی باراتیں گزرا کرتی تھیں لیکن اب ایک ہڑبونگ ہے ۔ بے سمت اور بے یقین ہجوم جس نے یادوں اور خوشبوئوں کو اپنے قدموں تلے روند دیا ۔لاہور کے آسمان پر ستارے دکھائی نہیں دیتے ۔چاند بھی پیلا ہو تا جا رہا ہے اور باغوں میں پھول اور پتے زرد پڑ چکے ہیں ۔آج سے محض تین عشرے پہلے کے لاہور اور آج کے لاہور میں زمیں آسمان کا فرق ہے ۔اس خطہ زمیں پر چہار جانب سے یلغار ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کی قدیم تہذیب وثقافت کو تاخت و تاراج کیا جارہا ہے ۔لاہور کی ثقافتی حیثیت یہاں پر برپا کی جانے والی ادبی اور ثقافتی تقریبات کی مرہون منت ہے لیکن وہ بھی اب خال خال اور معدوم ہوتی جارہی ہےں یا ان کی شکل اب کچھ تجارتی اور لاہور کی اصل شناخت کے برعکس ہے۔ اس حوالے سے شہر قدیم کا بھاٹی دروازہ روز اول سے ہی علمی و ادبی اور فنون لطیفہ کا مرکز رہا ہے۔ بھاٹی دروازے کے اندر داخل ہوں تو چہار جانب آپ کو لاہور کی ثقافت اور قدیم تہذیب کی چند جھلکیاں آج بھی نظر آتی ہیں ۔بل کھاتی نیم روشن گلیاں، شکستہ جھروکے اور پرانی وضع قطع کے دروازے اپنے شاندار ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔ بھاٹی دروازے کو فنون لطیفہ اور علمی و ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ حکیم احمد شجاع نے بھاٹی دروازے کے علاقے میں ہونے والی ادبی و ثقافتی سرگرمیوںکو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ٴلاہور کا چیلسیٴ قرار دیا ہے۔

بھاٹی دروازہ شہر قدیم کے جنوب کی جانب وا قع ہے۔ اس دروازے کے دائیں جانب موری دروازہ اور بائیں جانب ٹکسالی دروازہ ہے اس کے سامنے لوئر مال روڈ ہے۔ بھاٹی دروازے کے دائیں جانب تانگوں کا اڈہ اور خالی میدان تھا جہاں سرکس کا میدان سجتا تھا۔ جبکہ بائیں طرف مزار و مسجد غلام رسول ہے یہ بزرگٴٴبلیوں والی سرکارٴ کے نام سے مشہور ہیں۔ دروازے کے بالکل ساتھ بائیں جانب ایک بڑا درخت ہے جس کی شاخوں نے جھک کر دروازے کا منظر چھپایا ہوا ہے۔


بھاٹی دروازے کا تذکرہ تاریخ کے اوراق میں تیسری صدی عیسوی کے وسط میں لاہور کے علاقے کو فتح کرنے والے راجہ کیرپال رائو کا حوالے سے ملتا ہے ،جو بھٹنیر کا راجہ تھا۔ شہر بھٹنیر راجہ کیر پال رائو کے جد امجد راجہ بھاٹی رائو نے آباد کیا اوراس نے لاہور میں بھٹنیر کے نام سے ایک قلعہ بھی تعمیر کیا۔اس راجہ کی اولاد ٴبھاٹیٴ اور ٴبھاٹیہٴ کہلائی۔ حکیم احمد شجاع مرحوم اپنی تصنیف ٴٴلاہور کا چیلسی ٴٴمیں بھاٹی دروازے کی وجہ تسمیہ یوں بیان کرتے ہیں کہ ٴٴبھاٹی دروازے کا اصل نام بھٹی دروازہ اور یہی وہ مقام تھا جہاں مغلوں کی سلطنت سے پہلے بھٹی قوم کے جنگجودلیروں نے ملتان کے بعد لاہور آکر پڑائو ڈالا تھا۔ امتداد زمانہ بگڑتے بگڑتے بھٹی بھاٹی دروازہٴ ہو گیا۔

گیارہویں صدی عیسوی میں حضرت داتا گنج بخش غزنی سے تبلیغ اسلام کی غرض سے لاہور تشریف لائے اور انہوں نے بھاٹی دروازے کے باہر قیام کیا۔ بھاٹی دروازے کے بیرونی جانب سرکلر روڈ پر حضرت داتا گنج بخش ہجویری کا مزار ہے اور اس کے قریب ہی کربلا گامے شاہ ہے۔ ملک ایاز کے زمانے میں یہاں بھٹ قبیلے کے لوگوں کو رہائش اختیار کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کی گئی اور انہوں نے صدیوں اس دروازے کے اندر قیام کیا اور ان کی مناسبت سے ہی دروازے کا نام بھاٹی دروازہ مشہور ہو گیا۔ بھٹ قبیلے کے لوگ تالا سازی کے پیشہ سے منسلک رہے۔ غزنوی عہد میں شہر قدیم یہاں اختتام پذیر ہوتا تھا اور اکبر کے عہد میں جب شہر نو گزروں میں تقسیم کیا گیا تو تلواڑہ گزر اور مبارا خان گزر بھاٹی دروازے کے باہم ملتی تھی۔

بیرون بھاٹی دروازے کھلے احاطے میں روایتی تھیٹر کمپنیاں اور سرکس کا میدان سجتا تھا۔ قیاس ہے کہ حضرت داتا گنج بخش کے عرس کے موقع پر اسی قسم کی تفریحات معمول کا حصہ ہوں تاہم 1930ء کے اواخر میں جب فلموں کا رواج پروان چڑھا تو یہ تھیٹر کمپنیاں رفتہ رفتہ اپنی اہمیت کھونے لگیں۔ اسی دور میں یہاں لاہور کا سب سے پہلا سینما گھر قائم ہوا جہاں خاموش فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔ بھاٹی دروازے کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ لاہور کی فلم انڈسٹری کی بنیاد یہیں رکھی گئی تھی۔ محقق اقبال قیصر کے مطابق ملکہ ترنم نور جہاں نے اپنے فلمی کیریئر کے ابتدائی دور میں متعدد بار بیرون بھاٹی دروازے میں پیش کئے جانے والے تھیٹر میں پرفارم کیا تھا۔ آج بیرون بھاٹی دروازے مدرسہ جامعہ حنفیہ کی کثیر المنزلہ عمارت اور دوکانیں قائم ہیں۔ یہ دوکانیں نواز شریف کے دور حکومت میں داتا دربار کمپلکس کی تعمیر کے وقت یہاں منتقل کی گئی تھیں۔

بھاٹی دروازے کا علاقہ روز اول سے ہی علم و ادب کا مرکز اور تاریخی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ قدیم ٴاونچی مسجدٴ بھاٹی دروازے کے اندر واقع ہے جسے مقامی زبان میں ٴاُچی مسجدٴ کہا جاتا ہے ۔ انیس ناگی ٴبلھے شاہ، فن شخصیتٴ میں لکھتے ہیں کہ اس مسجد کی امامت مرشد شاہ عنایت قادری کرتے تھے۔ مسجد کے سامنے ہی شاہ عنایت قادری کا ڈیرہ تھا ۔ بلھے شاہ ان کی تلاش کرتے ہوئے وہاں جا پہنچے اور ان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر سارنگی پر اپنی کافی گانے لگے تھے۔ مسجد کی سیڑھیوں پر بلھے شاہ کو گاتا دیکھ کر لوگ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ان کی پٹائی کر دی۔ بعدازاں وہ شاہ عنایت قادری کی مریدی میں آگئے اور خاصا عرصہ ان کی صحبت میں رہے۔ یہ اونچی مسجد کب تعمیر ہوئی اور کس نے اسے تعمیر کروایا اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔

شہر قدیم کے دیگر دروازوں کی طرح بھاٹی دروازے میں بھی سکھ دور حکومت کے آخری دو عشروں میں اس علاقے میں بہت ساری حویلیاں اور عمارات تعمیر کی گئیں جن میں بیشتر آج موجود نہیں ہیں۔

فن تعمیر کے حوالے سے بھاٹی ، شیرانوالہ اور کشمیری دروازہ روکار کے میں ایک جیسے ہیں، البتہ سطحی نقشے کے اعتبار سے بھاٹی دروازہ شیرانوالہ اور کشمیری دروازے سے مختلف ہے۔ غافر شہزاد کے مطابق ٴٴبھاٹی دروازہ اپنی ظاہری سطح پر یوں تو گوتھک اندازِ تعمیر کی دوہری کمان پر مشتمل ہے مگر دروازے کے دائیں اور بائیں دونوں جانب دو لمبی لمبی بیرکیں ہیں جن کے سامنے برآمدے بنے ہوئے ہیں۔ ان بیروکوں کی بیرونی دیواریں شہر کی فصیل کی جگہ لئے ہوئے ہیں۔ دائیں اور بائیں دونوں جانب دو دو دروازے ڈیوڑھی میں کھلتے ہیں۔ لمبائی کے اعتبار سے بھاٹی دروازہ دیگر دروازوں کی عمارات سے طویل ترین ہے۔ اس کی لمبائی 187فٹ تک پہنچتی ہے۔ دروازے کی بڑی ڈاٹ کو دو پلر سہارا دیئے ہوئے ہیں۔ ہر پلر پر اوپر نیچے مستطیل چوکھٹے بنے ہوئے ہیں۔ ڈیوڑھی کی چھت بھی گوتھک انداز کی ڈاٹ سے بنتی ہے۔ ڈیوڑھی کا حصہ دائیں اور بائیں ملحقہ بیرک کی عمارت سے خاصا بلند ہے۔ ڈاٹ کے دونوں اطراف بیرونی جانب موغولے بنے ہوئے ہیں جو اس کی خوبصورتی میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ٴٴ


اس دروازے کی تعمیر نو بھی انگریز عہد میں ہوئی۔ اس کی تعمیر کے وقت نہ تو عسکری ضرورت کو اس طرح ترجیح دی گئی جیسے سکھوں یا مغلوں کے زمانے میں تھی اور نہ ہی اصل دروازوں کی جمالیات کے تناسب شکل کو بحال رکھنے کی کوشش کی گئی۔ اس عمارت میں بیرک اور اور برآمدہ یک منزلہ ہیں جبکہ اصل دروازے میں بالائی منزل پر داروغوں کی رہائش کیلئے کمرے تعمیر تھے جن میں آجکل پولیس کے ملازم آباد ہیں۔ بھاٹی بازار، بازار حکیماں اور ٹبی بازار سے ہوتا ہوا شاہی محلہ تک جاتا ہے جہاں سے ٹکسالی دروازے سے سڑک آکر مل جاتی ہے۔

بھاٹی دروازہ کوچہ فقیر خانہ اور فقیر خانہ میوزیم کے حوالے سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ فقیر خاندان مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد سے معزز و مکرم چلا آرہا ہے۔ فقیر خاندان کی تین بھائی فقیر عزیز الدین، فقیر نورالدین اور امام الدین رنجیت سنگھ کے دربار میں خاص مرتبہ کے حامل تھے۔ اس خاندان کا مورث اعلیٰ غلام شاہ تھا۔1799ءمیں جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے انیس برس کی عمر میں اقتدار سنبھالا تو فقیر خاندان نے اس کے دربار میں اطاعت کا حلف اٹھایا۔ عرصہ دراز تک یہ خاندان شاہی دربار کا حصہ بنا رہا اور اس عرصہ کے دوران انہیں رنجیت سنگھ اور ملکہ وکٹوریا کی جانب سے بے شمار انعام واکرام سے نوازا گیا۔ آج بھی فقیر خاندان اندرون بھاٹی دروازے مقیم ہے اور فقیر خاندان کی تاریخی حویلی کو عجائب گھر کی شکل دی گئی جو جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے بڑا نجی نوعیت کا عجائب گھر ہے۔ اس عجائب گھر میں سکھ اور انگریز عہد کے نوادرات نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں۔ فقیر خانہ سے ذرا آگے جائیں تو سید مراتب علی شاہ کی اہلیہ سیدہ مبارک بیگم کا امام باڑہ ہے اور ساتھ ہی ان کے والد فقیر سید افتخار الدین کی حویلی ہے۔ اسی حویلی سے ملحق فقیر سید امام الدین کی حویلی ہے جو سکھوں کے زمانے میں قلعہ گوبند گڑھ کے صوبیدار اور شاہی خزانے کے محافظ تھے۔ اسی حویلی کے احاطے میں سید مراتب علی شاہ، سیدہ مبارک علی اور سید غضنفر مہدی کی قبریں ہیں جبکہ حویلی کو آرٹ گیلری اور سکول میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں بلا معاوضہ طالب علموں کو نقاشی، خطاطی اور مجسمہ سازی کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس کوچے کے بالمقابل حکیم عبداللہ انصاری کی تعمیر کردہ مسجد ہے۔ اسی مسجد کے قیام کے بعد بازار حکیماں آباد ہوا تھا۔اسی بازار میں تھوڑا آگے جا کر دائیں جانب فقیر عزیزالدین کی حویلی ہے جو ان کے بیٹے سید جمال الدین کو ورثے میں ملی تھی اور آج کل اس میں امام بارگاہ واقع ہے۔ اس کے ساتھ ہی کوچہ تحصیل آتا ہے جہاں ایک زمانے میں لاہور کی تحصیلدار کچہری ہوا کرتی تھی۔

بھاٹی دروازہ کبھی علم و ادب کی بڑی ہستیوں کا گہوارہ رہا تھا۔ منشی محبوب عالم نے ٴٴپیسہ اخبارٴٴ یہیں سے نکالا تھا۔ سر عبدلقادر نے اپنا مشہور رسالہ ٴمخزنٴ بھاٹی دروازے میں اپنے قیام کے دوران نکالنا شروع کیا۔ اردو ڈرامے میں نامور شخصیت ڈرامہ نگار آغا حشر کا مسکن بھی بھاٹی دروازہ تھا۔ بھاٹی دروازہ کے محلہ جلوٹیاں میں علامہ محمد اقبال کی رہائش بھی ہے۔

حکیم احمد شجاع اپنی تصنیف ٴٴلاہور کا چیلسیٴٴ میں اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ 1900ء میں جب اقبال ایم اے پاس کرنے کے بعد اورئینٹل کالج لاہور میں میکلوڈ عربک ریڈر مقرر ہوئے، اور پھر کچھ مدت کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور کے اسسٹنٹ پروفیسر ہوئے تو وہ بھارٹی دروازے کے اندر اس بالا خانے میں جو محلہ جلوٹیاں کے سامنے گھسیٹو حلوائی کی دوکان کے اوپر واقع ہے رہنے لگے، اقبال 1900ءسے1905تک اسی مکان میں رہے۔ اس تمام عرصے میں وہ ہر شام کو بازار حکیماں میں حکیم شہباز دین کی بیٹھک میں آتے تھے اور اپنے دوستوں کو اپنا کلام سناتے تھے۔ 1901ء میں جب سر عبدالقادر نے اپنا مشہور ادبی رسالہ ٴٴمخزنٴ بازار حکیماں سے شائع کیا تو اقبال کی پہلی نیچرل نظم ٴٴہمالہٴٴ ، جسے شیخ عبدالقادر نے اسی بیٹھک میں سنا تھا، مخزن کی پہلی اشاعت میں شائع ہوئی۔ اقبال کی وہ نظمیں جو انہوں نے انگلستان جانے سے پہلے لکھیں اور بعد میں ان کی کتاب ٴٴبانگ دراٴٴ میں شائع ہوئیں اس زمانے میں لکھی گئی تھیں جب وہ بھاٹی دروازے کے اندر رہتے تھے اور اس لئے اس عظمت کی سعادت جو اقبال سے منسوب ہے بھاٹی دروازے کو ہی نصیب ہوئی۔ تحصیل بازار کے ٴٴکوچہ بھابڑوں کی تھڑیاںٴ میں تین بھائی خواجہ کریم بخش، خواجہ امیر بخش اور خواجہ رحیم بخش مقیم تھے۔ بقول حکیم احمد شجاع ان کی قابلیت کا یہ ثبوت تھا کہ آغاز میں علامہ اقبال جب تک ان بزرگوں کو اپنا کلام نہ سنا لیتے تھے کسی مجلس عام میں نہیں پڑھتے تھے۔ ٴٴنالہ یتیمٴٴ، ٴٴہلال عیدٴٴ ،ٴٴشمع و شاعرٴٴ اور ٴٴتصویر دردٴٴ کی سی مشہور نظمیں انہوں نے پہلے انہی بزرگوں کو پڑھ کر سنائی تھیں۔

اندرون بھاٹی دروازہ کوچہ بازار حکیماں میں حکیم شہباز دین کی بیٹھک میں ہر شام لاہور کے معروف ادیب ، شاعر، سیاست دان اور علمائے کرام کی محفل سجتی تھی۔ ان میں مولانا محمد حسن جالندھری، سر عبدالقادر، علامہ اقبال،سر شہاب الدین ، سر محمد شاہ دین، سر محمد شفیع اور فقیر خاندان کے چشم و چراغ فقیر ید افتخار الدین کے نام اہم ہیں۔ اندرون بھاٹی دروازے کے جج بازار میں ٴتاریخ لاہورٴ کے مصنف اور سیشن جج سید محمد لطیف کی حویلی تھی اور اسی نسبت سے یہ جج بازار کہلاتا ہے۔اسی بازار میں سر شہاب الدین کا چھاپہ خانہ اور مکان بھی تھا۔لاہور کی اولین ادبی انجمن جس کے اجلاس میں امین الدین بیرسٹر کے مکان پر ہوتے تھے اندرون بھاٹی دروازے قائم ہوئی۔ اس انجمن کی بنیاد معروف ڈرامہ نویس حکیم احمد شجاع پاشا کے والد اور فلمی ہدایت کار انور کمال پاشا کے دادا نے رکھی۔ مسلم لیگ کا ترجمان ٴٴخالدٴٴ نامی اخبار بھی بھاٹی دروازے سے ہی شائع ہوتا تھا۔ ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کا مکان بھی کوچہ پیڑنگاں اندرون بھاٹی دروازے میںتھا ، وہ اورئینٹل کالج کے پرنسپل اور کالج میگزین کے ایڈیٹر رہے۔ کوچہ تحصیل میں رسالہٴٴتہذیب نسواںٴٴ کے مالک سید ممتاز علی اور کچھ دیر کے لئے مولانا حسین آزاد بھی قیام پذیر رہے۔ بارود خانے کے علاقہ میں ٴٴنیرنگ خیالٴٴ کے ایڈیٹر حکیم یوسف حسن بھی مقیم رہے تھے۔ آغا حشر جب اپنی کمپنی کے ساتھ لاہور آتے تھے تو بھاٹی دروازے کے باہر اس مکان میں ٹھہرتے جو ہری کرشن تھیٹر سے ملحق تھا اور یہیں ان کے کھیل دکھائے جاتے تھے۔ کوچہ سبز پیر کی کٹڑی امیر چند میں مولانا ظفر علی خان حیدر آباد دکن سے آپس آنے کے بعد کچھ عرصہ قیام کیا۔ انہوں نے ٴٴپنجاب ریویوٴٴ کے نام سے رسالہ بھی نکالا تھا۔ ساغر صدیقی کی عمر کا بیشتر حصہ بھاٹی دروازے اور اس کے قرب و جوار میں گزرا تھا۔حکیم احمد شجاع مولانا محمد حسین آزاد کے بارے میں ٴلاہور کا چیلسیٴ میں بیان کرتے ہیں کہ ٴٴاِسے بھاٹی دروازے کی خوش قسمتی کہئے کہ جب 1857ءکے ہنگامے کے بعد دہلی اجڑی تو دہلی کے سب سے پرانے اردو اخبار کے مالک اور ایڈیٹر مولوی محمد باقر کے بیٹے مولوی محمد حسین آزاد نے انقلابات زمانہ کے گونا گوں مصائب سے تنگ آکر اپنے وطن مالوف سے ہجرت کی اور آخر کار لاہور آکر بھاٹی دروازے کے اندر وہ تحصیل بازار میں گوشہ نشین ہوگئے ۔ٴٴ بعدازاں وہ اکبری دروازے اپنے بیٹے آغاز محمد ابراہیم کے مکان میں منتقل ہوگئے ۔ 1910ء میں ان کا انتقال ہوا اور وہ بھاٹی دروازے کے قریب کربلا گامے شاہ میں دفن ہیں۔ معروف افسانہ نگار غلام عباس ، ادبی جریدوں ٴٴادب لطیفٴٴ اور ٴٴسویراٴٴ کے مدیران چودھری برکت علی مرحوم اور نذیر چودھری اور ٴٴنقوشٴٴ کے مدیر محمد طفیل کا مسکن بھی بھاٹی دروازہ تھا۔ بھاٹی دروازے سے تعلق رکھنے والی دیگر نامی گرامی شخصیات میں ابتدائی فلمی دور کے اداکار لقمان، لالہ یعقوب ، عالمی شہرت یافتہ حسن عرف حسا پہلوان اور برصغیر فلم کی فلم انڈسٹری میں کئی دہائیوں تک اپنی آواز کا جادو جگانے والے گلوکار محمد رفیع شامل ہیں۔


اب حالات یکسر تبدیل ہوگئے ہیں۔ادبی بیٹھکیں ویران ہوچکی ہیں اور علم و ادب سے وابستہ ہستیوں کی بازگشت ان گلی کوچوں میں رقصاں ہیں۔ لاہورئیے اس کی دم توڑتی ہوئی ثقافت کو اپنی آنکھوں کے سامنے ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔لاہور کا تاریخی ورثہ زبوں حالی کا شکار ہے ۔یہاں کے روایتی بازار اور گلی کوچے ناکافی شہری سہولتوں کے باعث بے ترتیبی ،بدنظمی اور عدم تحفظ سے دوچار ہیں ۔لاہور کو اپنی شناخت اور معدوم ہوتی ہوئی ثقافت کو بچانے کے لئے ایک ایسے معمار کی ضرورت ہے جو اس بے ترتیب ہوتے ہوئے شہر کو نئے سرے سنوارنے کا عزم رکھتا ہو۔وگرنہ دنیا کی تاریخ کا یہ قدیم ترین شہر اپنے تاریخی ورثوں کو بچا نہیں پائے گا۔اے حمید اپنی تصنیف ٴٴلاہور لاہور اےٴٴ میں بھاٹی دروازے کی دم توڑتی ہوئی ثقافت کے حوالے سے کچھ یوں بیان کرتے ہیںٴٴ مجھے یاد ہے کہ ہمارے بچپن میں ، ایک فقیر سردیوں کی راتوں کو اذان کے بعد اپنی پُر سوز آواز میں شاہ حسین کی کافی گاتا گزر جاتا تھا۔ میں ٹھٹھرتی رات کے سناٹے میں اپنے گھر میں لحاف میں دُبکا اس کی آواز سنا کرتا تھا۔ اس کی آواز دور سے آتی تھی اور سرد رات میں، بھاٹی دروازے کی نیم تاریک خاموشی میں اپنی آواز کی صدائے بازگشت چھوڑتی دور ہوتے ہوئے غائب ہو جایا کرتی تھی۔ وہ نہ کوئی صدا لگاتا تھا نہ کسی سے کچھ مانگتا تھا۔ بس اپنی دل گذاز آواز میں شاہ حسین کی کافی گاتا گزر جاتا تھا۔ آج بھاٹی دروازے کی نہ وہ عظیم شخصیات باقی ہیں جنہوں نے علوم و فنون میں بڑی عظمتوں کے مقام حاصل کئے اور جن کے فیض سے آج علوم و فنون کے دیوان جگمگا رہے ہیں نہ اس فقیر کی صدائے بازگشت باقی ہے جو سردیوں کی ڈھلتی رات کے سناٹے میں بھاٹی دروازے کی نیم تاریک گلیوں میں شاہ حسین کی کافی گاتا گزر جاتا تھا۔
کہے حسین ! فقیر نمانا
دنیا چھوڑ آخر مر جانا
آخر کم اللّہ دے نال
دل لا لیا بے پرواہ دے نال

میں نے روزنامہ وقت کے سنڈے میگزین کے لئے اندرون لاہور کے تمام دروازوں پر تفصیلی فیچرز کئے۔ ان میں بھاٹی دروازہ کے حوالے سے فیچر آپ کی نذر ہے۔

Last edited by شیراز حسن; 18-06-10 at 01:19 PM..

 
شیراز حسن's Avatar
شیراز حسن
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Lahore, Pakistan
مراسلات: 27
شکریہ: 43
25 مراسلہ میں 96 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 271
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے شیراز حسن کا شکریہ ادا کیا
کنعان (18-06-10), ھارون اعظم (19-06-10), ناصحی (18-06-10), اویسی (19-06-10), احمد بلال (18-06-10), اخترحسین (19-06-10), حیدر (18-06-10)
پرانا 18-06-10, 03:35 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,914
شکریہ: 10,606
1,223 مراسلہ میں 3,229 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت پیاری اور مفصل تحقیق ہے آپکی۔بہت مزہ آیا پڑھ کے ابھی پوری تحریر نہیں پڑھی وقت کم تھا۔
احمد بلال آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا
کنعان (18-06-10), حیدر (18-06-10), شیراز حسن (18-06-10)
پرانا 18-06-10, 04:19 PM   #3
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,239
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ دیکھ کر احمد شاہ پطرس بخاری کا تحریر " لاہور کا جعرافیہ" یاد آگیا
عدنان دانی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا
کنعان (18-06-10), اویسی (19-06-10), حیدر (18-06-10), شیراز حسن (18-06-10)
پرانا 18-06-10, 04:34 PM   #4
Junior Member
اجنبی
 
شیراز حسن's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Lahore, Pakistan
مراسلات: 27
کمائي: 952
شکریہ: 43
25 مراسلہ میں 96 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عدنان دانی مراسلہ دیکھیں
یہ دیکھ کر احمد شاہ پطرس بخاری کا تحریر " لاہور کا جعرافیہ" یاد آگیا
ارے جناب کہاں ہم اور کہاں اعلی حضرت پطرس بخاری!!!
حوصلہ افزائی کا شکریہ!
شیراز حسن آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شیراز حسن کا شکریہ ادا کیا
کنعان (18-06-10), اویسی (19-06-10), حیدر (18-06-10)
پرانا 18-06-10, 08:15 PM   #5
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,992
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ کا یہ فیچر پاک نیٹ پہ گرمی میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح مَحْسُوس ہوا

ابھی ذرا جلدی میں پڑھا ہے وقت ملنے پر غور سے پڑھنے کی کوشش کرونگا۔ اتنے میں یہ بتا دیجیے کے کونسے چیلسی سے بھاٹی دروازے کے علاقے کو ملا رہے ہیں؟
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
کنعان (18-06-10), اویسی (19-06-10), حیدر (18-06-10), شیراز حسن (19-06-10)
پرانا 18-06-10, 10:10 PM   #6
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

بہت اچھی نقشہ کشی کی ھے پڑھ کر لاہور کی تمام گلیاں یاد آ گئیں، لاہور شہر جو کہ 12 دروازں پر مشتمل تھا اور اب بھی بارہ دروزں کے اندر جو ھے اسے ہی لاہور شہر ہی کہا جاتا ھے باقی تو صرف لاہور ہی ھے جو بے شمار رقبوں تک پھیل چکا ھے۔

باغوں سے بھرا، پاکستاں کا دوسرا سب سے بڑا شہر لاہور دریاے راوی کے بائیں کنارے پر واقع ہے۔ صدہا سال سے یہ شہرخط پنجاب کا حاکم نشین اور صوبہ کا مقام رہا۔ مغل بادشاہ بابر یا ہمایوں کے عہد میں شہر لاہور دارلسلطنت قرار پایا۔ مغل بادشاہ اکبر نے اس کے گرد پختہ حصار بنوایا۔ فصیل کی دیوار بہت بلند اور چوڑی تعمیر کی ایک ایک دروازہ کے درمیان دس دس برج کلان بنوائے۔

اس شہر کے 12 دروازے

01- یکی دروزہ
02- دہلی دروزہ
03- موچی گیٹ
04- شاہ عالمی گیٹ
05- لوہاری گیٹ
06- موری گیٹ
07- بھاٹی گیٹ
08- ٹکسالی دروزہ
09- روشنی دروزہ
10- اکبری گیٹ
11- مستی گیت
12- شیرونوالہ گیٹ،


ضری اور مکی کہلاتے ہیں۔

لاہور 13 صدیوں کے باوجود بھی آج بھی قائم ہے۔

محلہ پیر عزیز مرنگ، محلہ موج دریا بخاری، محلہ سید چراغ شاہ گیلانی، محلہ دولا واڑی، سید شاہ شرف کا محلہ، لکھی محلہ، درگاہی شاہ کا محلہ، شاہ بدر کا محلہ، کہوجیوں کا محلہ ، محلہ جاٹ پورہ ،محلہ میانی، دایہ لاڈو محلہ زین حان، پیروں کا محلہ، محلہ دائ انگا دائ محلہ، محلہ سرسید، محلہ تیل پورہ، محلہ نج ،محلہ قصاباں، محلہ مغل پورہ، محلہ چوک داراشکوہ ، لاہور کے پرانے محلے ہیں۔

مساجد: مسجد بادشاہی، دیا انگا مسجد، رحیمیہ مسجد، شیہ مسجد، سنھری مسجد، وزیر خان مسجد، موتی مسجد اور مسجدِ شہدہ۔

باغات میں شالیمار گارڈن، حضوری باغ، اقبال پارک اور جناح باغ/لارنس گارڈن ہیں۔

خریداری کی جگہیں مال روڈ، جیل روڈ، ایم ایم عالم روڈ ، مین بلوارڈ، کینال بنک ، فیروز پور روڈ ، فوڈ ارسٹریٹ اور ٹوریسٹ اسٹریٹ اور انارکلی بازار ہیں
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
اویسی (19-06-10), حیدر (18-06-10), شیراز حسن (19-06-10)
پرانا 19-06-10, 09:00 AM   #7
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,239
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default لاہور کا جغرافیہ از احمد شاہ پطرس بخاری

تمہید


تمہید کے طور پر صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ لاہور کو دریافت ہوئے اب بہت عرصہ گزرچکا ہے، اس ليے دلائل و براہین سے اس کے وجودکو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کہنے کی اب ضرور نہیں کہ کُرے کو دائیں سے بائیں گھمائیے۔ حتیٰ کہ ہندوستان کا ملک آپ کے سامنے آکر ٹھہر جائے پھر فلاں طول البلد اور فلاں عرض البلد کے مقام انقطاع پر لاہور کا نام تلاش کیجیئے۔ جہاں یہ نام کُرے پر مرقوم ہو، وہی لاہور کا محل وقوع ہے۔ اس ساری تحقیقات کو مختصر مگر جامع الفاظ میں بزرگ یوں بیان کرتے ہیں کہ لاہور، لاہور ہی ہے، اگر اس پتے سے آپ کو لاہور نہیں مل سکتا، تو آپ کی تعلیم ناقص اور آپ کی دہانت فاتر ہے۔

محل وقوع
ایک دو غلط فہمیاں البتہ ضرور رفع کرنا چاہتا ہوں۔ لاہور پنجاب میں واقع ہے۔ لیکن پنجاب اب پنج آب نہیں رہا۔ اس پانچ دریاؤں کی سرزمین میں اب صرف چار دریا بہتے ہیں۔ اور جو نصف دریا ہے، وہ تو اب بہنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ اسی کو اصطلاح میں راوی ضعیف کہتے ہیں۔ ملنے کا پتہ یہ ہےکہ شہر کے قریب دو پل بنے ہیں۔ ان کے نیچے ریت میں دریا لیٹا رہتا ہے۔ بہنے کا شغل عرصے سے بند ہے، اس ليے یہ بتانا بھی مشکل ہے کہ شہر دریا کے دائیں کنارے پر واقع ہے یا بائیں کنارے پر۔ لاہور تک پہنچنے کے کئی رستے ہیں۔ لیکن دو ان میں سے بہت مشہور ہیں۔ ایک پشاور سے آتا ہے اور دوسرا دہلی سے۔ وسط ایشیا کے حملہ آور پشاور کے راستے اور یو۔پی کے رستے وارد ہوتے ہیں۔ اول الذکر اہل سیف کہلاتے ہیں اور غزنوی یا غوری تخلص کرتے ہیں مؤخر الذکر اہل زبان کہلاتے ہیں۔ یہ بھی تخلص کرتے ہیں، اور اس میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔

حدود اربعہ
کہتے ہیں، کسی زمانے میں لاہور کا حدوداربعہ بھی ہوا کرتا تھا، لیکن طلباء کی سہولت کے ليے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کردیا ہے۔ اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقعہ ہے۔ اور روزبروز واقع تر ہورہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے، کہ دس بیس سال کے اندر لاہور ایک صوبے کا نام ہوگا۔ جس کادارالخلافہ پنجاب ہوگا۔ یوں سمجھئے کہ لاہور ایک جسم ہے، جس کے ہر حصے پر ورم نمودار ہورہا ہے، لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے۔ گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے۔ جو اس کے جسم کو لاحق ہے۔

آب و ہوا
لاہور کی آب وہوا کے متعلق طرح طرح کی روایات مشہور ہیں، جو تقریباً سب کی سب غلط ہیں، حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے باشندوں نے حال ہی میں یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ اور شہروں کی طرح ہمیں بھی آب و ہوا دی جائے، میونسپلٹی بڑی بحث وتمحیص کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی کہ اس ترقی کے دور میں جبکہ دنیا میں کئی ممالک کو ہوم رول مل رہا ہے اور لوگوں میں بیداری کے آثار پیدا ہو رہے ہیں، اہل لاہور کی یہ خواہش ناجائز نہیں۔ بلکہ ہمدردانہ غوروخوض کی مستحق ہے۔

لیکن بدقسمتی سے کمیٹی کے پاس ہوا کی قلت تھی، اس ليے لوگوں کو ہدایت کی گئی کہ مفاد عامہ کے پیش نظر اہل شہر ہوا کا بیجا استعمال نہ کریں، بلکہ جہاں تک ہوسکے کفایت شعاری سے کام لیں۔ چنانچہ اب لاہور میں عام ضروریات کے ليے ہوا کے بجائے گرد اور خاص خاص حالات میں دھواں استعمال کیا جاتا ہے۔ کمیٹی نے جابجا دھوئیں اور گرد کے مہیا کرنے ليے مرکز کھول دیئے ہیں۔ جہاں یہ مرکبات مفت تقسیم کئے جاتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے، کہ اس سے نہایت تسلی بخش نتائج برآمد ہوں گے۔

بہم رسائی آب کے ليے ایک اسکیم عرصے سے کمیٹی کے زیرغور ہے۔ یہ اسکیم نظام سقے کے وقت سے چلی آتی ہےلیکن مصیبت یہ ہے کہ نظام سقے کے اپنےہاتھ کے لکھئے ہوئے اہم مسودات بعض تو تلف ہوچکے ہیں اور جو باقی ہیں ان کے پڑھنے میں بہت دقت پیش آرہی ہے اس ليے ممکن ہے تحقیق وتدقیق میں چند سال اور لگ جائیں، عارضی طور پر پانی کا یہ انتظام کیا گیا ہے کہ فی الحال بارش کے پانی کو حتی الوسع شہر سے باہر نکلنے نہیں دیتے۔ اس میں کمیٹی کو بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ تھوڑے ہی عرصے میں ہر محلے کا اپنا ایک دریا ہوگا جس میں رفتہ رفتہ مچھلیاں پیدا ہوں گی اور ہر مچھلی کے پیٹ میں کمیٹی کی ایک انگوٹھی ہوگی جو رائے دہندگی کے موقع پر ہر رائے دہندہ پہن کر آئے گا۔

نظام سقے کے مسودات سے اس قدر ضرور ثابت ہوا ہے کہ پانی پہنچانے کے ليے نل ضروری ہیں چنانچہ کمیٹی نے کروڑوں روپے خرچ کرکے جابجا نل لگوا دیئے ہیں۔ فی الحال ان میں ہائیڈروجن اور آکیسجن بھری ہے۔ لیکن ماہرین کی رائے ہے کہ ایک نہ ایک دن یہ گیسیں ضرور مل کر پانی بن جائیں گی۔ چنانچہ بعض بعض نلوں میں اب بھی چند قطرے روزآنہ ٹپکتے ہیں۔ اہل شہر کو ہدایت کی گئی ہے، کہ اپنے اپنے گھڑے نلوں کے نیچے رکھ چھوڑیں تاکہ عین وقت پر تاخیر کی وجہ سے کسی کو دل شکنی نہ ہو، شہر کے لوگ اس پر بہت خوشیاں منا رہے ہیں۔

ذرائع آمد و رفت
جو سیاح لاہور تشریف لانے کا ارادہ رکھے ہوں، ان کو یہاں کے ذرائع آمدورفت کے متعلق چند ضروری باتیں ذہن نشین کرلینی چاہئیں۔ تاکہ وہ یہاں کی سیاحت سے کماحقہ اثرپذیر ہوسکیں۔ جو سڑک بل کھاتی ہوئی لاہور کے بازاروں میں سے گزرتی ہے، تاریخی اعتبار سے بہت اہم ہے۔ یہ وہی سڑک ہے جسے شیرشاہ سوری نے بنایا تھا۔ یہ آثار قدیمہ میں شمار ہوتی ہے اور بےحد احترام کی نظروں سے دیکھی جاتی ہے۔ چنانچہ اس میں کسی قسم کا ردوبدل گوارا نہیں کیا جاتا۔ وہ قدیم تاریخی گھڑے اور خندقیں جوں کی توں موجود ہیں۔ جنہں نے کئی سلطنتوں کے تختے اُلٹ د یئے تھے۔ آج کل بھی کئی لوگوں کے تختے یہاں اُلٹتے ہیں۔ اور عظمت رفتہ کی یاد دلا کر انسان کو عبرت سکھاتے ہیں۔

بعض لوگ ز یادہ عبرت پکڑنے کے ليے ان تختوں کے نیچے کہیں کہیں دو ایک پہیے لگا لیتے ہیں۔ اور سامنے دو ہک لگا کر ان میں ایک گھوڑا ٹانگ د یتے ہیں۔ اصطلاح میں اس کو تانگہ کہتے ہیں۔ شوقین لوگ اس تختہ پر موم جامہ منڈھ لیتے ہیں تاکہ پھسلنے میں سہولت ہو اور بہت زیادہ عبرت پکڑی جائے۔
اصلی اور خالص گھوڑے لاہور میں خوراک کے کام آتے ہیں۔ قصابوں کی دوکانوں پر ان ہی کا گوشت بکتا ہے۔ اور زین کس کو کھایا جاتا ہے۔ تانگوں میں ان کی بجائے بناسپتی گھوڑے استعمال کئے جاتے ہیں۔ بناپستی گھوڑا شکل وصورت میں دم دار تارے سے ملتاہے۔ کیونکہ اس گھوڑے کی ساخت میں دم زیادہ اور گھوڑا کم پایا جاتا ہے، حرکت کرتے وقت اپنی دم کو دبا لیتا ہے۔ اور اس ضبط نفس سے اپنی رفتار میں ایک سنجیدہ اعتدال پیدا کرتاہے۔ تاکہ سڑک کا ہر تاریخی گڑھا اور تانگے کا ہر ہچکولا اپنا نقش آپ پر ثبت کرتا جائے اور آپ کا ہر ایک مسام لطف اندوز ہوسکے۔

قابل دید مقامات
لاہور میں قابل دید مقامات مشکل سے ملتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لاہور میں ہر عمارت کی بیرونی دیواریں دہری بنائی جاتی ہیں۔ پہلے اینٹوں اور چونے سے دیوار کھڑی کرتے ہیں اور پھر اس پر اشتہاروں کا پلستر کردیا جاتا ہے، جو دبازت میں رفتہ رفتہ بڑھتا جاتا ہے۔ شروع شروع میں چھوٹے سائز کے مبہم اور غیرمعروف اشتہارات چپکائے جاتے ہیں۔ مثلاً "اہل لاہور کو مژدہ" "اچھا اور سستا مال" اس کے بعد ان اشتہاروں کی باری آتی ہے، جن کے مخاطب اہل علم اور سخن فہم لوگ ہوتے ہیں مثلاً "گریجويٹ درزی ہاؤس" یا "اسٹوڈنٹوں کے ليے نادر موقع"، یا "کہتی ہے ہم کو خلق خدا غائبانہ کیا۔" رفتہ رفتہ گھر کی چار دیواری ایک مکمل ڈائرکٹری کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ دروازے کے اوپر بوٹ پالش کا اشتہار ہے۔ دائیں طرف تازہ مکھن ملنے کا پتہ درج ہے۔ بائیں طرف حافظ کی گولیوں کا بیان ہے۔ اس کھڑکی کے اوپر انجمن خدام ملت کے جلسے کا پروگرام چسپاں ہے۔ اُس کھڑکی پر کسی مشہور لیڈر کے خانگی حالت بالوضاحت بیان کردیئے ہیں۔ عقبی دیوار پر سرکس کے تمام جانوروں کی فہرست ہے اور اصطبل کے دروازے پر مس نغمہ جان کی تصویر اور ان کی فلم کے محاسن گنوا رکھے ہیں۔ یہ اشتہارات بڑی سرعت سے بدلتے رہتے ہیں اور ہر نیا مژدہ اور ہر نئی دریافت یا ایجاد یا انقلاب عظیم کی ابتلا چشم زدن میں ہر ساکن چیز پر لیپ دی جاتی ہے۔ اس ليے عمارتوں کی ظاہری صورت ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے اور ان کے پہنچانے میں خود شہر کے لوگوں کوبہت دقت پیش آتی ہے۔

لیکن جب سے لاہور میں دستور رائج ہوا ہے کہ بعض اشتہاری کلمات پختہ سیاہی سے خود دیوار پر نقش کردیئے جاتے ہیں۔ یہ دقت بہت حد تک رفع ہوگئی ہے، ان دائمی اشتہاروں کی بدولت اب یہ خدشہ نہیں رہا کہ کوئی شخص اپنا یا اپنے کسی دوست کا مکان صرف اس ليے بھول جائے کہ پچھلی مرتبہ وہاں چارپائیوں کا اشتہار لگا ہوا تھا اور لوٹتے تک وہاں اہالیان لاہور کو تازہ اور سستے جوتوں کا مژدہ سنایا جا رہا ہے۔ چنانچہ اب وثوق سے کہا جاسکتا ہےکہ جہاں بحروف جلی "محمد علی دندان ساز" لکھا ہے وہ اخبار انقلاب کا دفتر ہے۔ جہاں "بجلی پانی بھاپ کا بڑا ہسپتال" لکھا ہے، وہاں ڈاکٹر اقبال رہتے ہیں۔ "خالص گھی کی مٹھائی" امتیاز علی تاج کا مکان ہے۔ "کرشنا بیوٹی کریم" شالامار باغ کو، اور "کھانسی کا مجرب نسخہ" جہانگیر کے مقبرے کو جاتا ہے۔

صنعت و حرفت
اشتہاروں کے علاوہ لاہور کی سب سےبڑی صنعت رسالہ بازی اور سب سے بڑی حرفت انجمن سازی ہے۔ ہر رسالے کا ہر نمبر عموماً خاص نمبر ہوتا ہے۔ اور عام نمبر صرف خاص خاص موقعوں پر شائع کئے جاتے ہیں۔ عام نمبر میں صرف ایڈیٹر کی تصویر اور خاص نمبروں میں مس سلوچنا اور مس کجن کی تصاویر بھی دی جاتی ہے۔ اس سے ادب کو بہت فروغ نصیب ہوتا ہے اور فن تنقید ترقی کرتا ہے۔
لاہور کے ہر مربع انچ میں ایک انجمن موجود ہے۔ پریذیڈنٹ البتہ تھوڑے ہیں اس ليے فی الحال صرف دو تین اصحاب ہی یہ اہم فرض ادا کر رہے ہیں چونکہ انجمنوں کے اغراض ومقاصد مختلف ہیں اس ليے بسااوقات ایک ہی صدر صبح کسی مذہبی کانفرنس کا افتتاح کرتا ہے۔ سہ پہر کو کسی سینما کی انجمن میں مس نغمہ جان کا تعارف کراتا ہے اور شام کو کسی کرکٹ ٹیم کے ڈنر میں شامل ہوتا ہے۔ اس سے ان کا مطمح نظروسیع رہتا ہے۔ تقریر عام طور پر ایسی ہوتی ہے جو تینوں موقعوں پر کام آسکتی ہے۔ چنانچہ سامعین کو بہت سہولت رہتی ہے۔

پیداوار
لاہور کی سب سے مشہور پیداوار یہاں کے طلباء ہیں جو بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں دساور کو بھیجے جاتے ہیں۔ فصل شروع سرما میں بوئی جاتی ہے۔ اور عموماً اواخر بہار میں پک کر تیار ہوتی ہے۔

طلباء کی کئی قسمیں ہیں جن میں سے چند مشہور ہیں، قسم اولی جمالی کہلاتی ہے، یہ طلباء عام طور پرپہلے درزیوں کے ہاں تیار ہوتے ہیں بعد ازاں دھوبی اور پھر نائی کے پاس بھیجے جاتے ہیں۔ اور اس عمل کے بعد کسی ریستوران میں ان کی نمائش کی جاتی ہے۔ غروب آفتاب کے بعد کسی سینما یا سینما کے گردونواح میں:

رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
ادھر جاتا ہے دیکھیں یا اُدھر پروانہ آتا ہے

شمعیں کئی ہوتی ہیں، لیکن سب کی تصاویر ایک البم میں جمع کرکے اپنےپاس رکھ چھوڑتے ہیں، اور تعطیلات میں ایک ایک کو خط لکھتے رہتے ہیں۔ دوسری قسم جلالی طلباء کی ہے۔ ان کا شجرہ جلال الدین اکبر سے ملتا ہے، اس ليے ہندوستان کا تخت وتاج ان کی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔ شام کے وقت چند مصاحبوں کو ساتھ ليے نکلتے ہیں اور جودوسخا کے خم لنڈھاتے پھرتے ہیں۔ کالج کی خوارک انہیں راس نہیں آتی اس ليے ہوسٹل میں فروکش نہیں ہوتے۔ تیسری قسم خیالی طلباء کی ہے۔ یہ اکثر روپ اور اخلاق اور اداگون اور جمہوریت پر باآواز بلند تبادلہٴ خیالات کرتے پائے جاتے ہیں اور آفرینش اور نفسیات جنسی کے متعلق نئے نئے نظریئے پیش کرتے رہتے ہیں، صحت جسمانی کو ارتقائے انسانی کے ليے ضروری سمجھتے ہیں۔ اس ليے علی البصح پانچ چھ ڈنٹر پیلتے ہیں، اور شام کو ہاسٹل کی چھت پر گہرح سانس لیتے ہیں، گاتے ضرور ہیں، لیکن اکثر بےسرے ہوتے ہیں۔ چھوتھی قسم خالی طلباء کی ہے۔ یہ طلباء کی خالص ترین قسم ہے۔ ان کا دامن کسی قسم کی آلائش سے تر ہونے نہیں پاتا۔ کتابیں، امتحانات، مطالعہ اور اس قسم کے خرخشے کبھی ان کی زندگی میں خلل انداز نہیں ہوتے۔ جس معصومیت کو ساتھ لے کر کالج میں پہنچتے تھے، اسے آخر تک ملوث ہونے نہیں دیتے اورتعلیم اور نصاب اور درس کے ہنگاموں میں اس طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح بتیس دانتوں میں زبان رہتی ہے۔

پچھلے چند سالوں سے طلباء کی ایک اور قسم بھی دکھائی دینے لگی ہے، لیکن ان کو اچھی طرح سے دیکھنے کےليے محدب شیشے کا استعمال ضروری ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ریل کا ٹکٹ نصف قیمت پر ملتا ہے اور اگر چاہیں تو اپنی انا کے ساتھ زنانے ڈبے میں بھی سفر کرسکتے ہیں۔ ان کی وجہ سے اب یونیورسٹی نے کالجوں پر شرط عائد کر دی ہے کہ آئندہ صرف وہی لوگ پروفیسر مقرر کئے جائیں جو دودھ پلانے والے جانوروں میں سے ہوں۔
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا
مت سوچو !
عدنان دانی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (19-06-10), اویسی (19-06-10), شیراز حسن (19-06-10)
پرانا 19-06-10, 11:42 AM   #8
Junior Member
اجنبی
 
شیراز حسن's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Lahore, Pakistan
مراسلات: 27
کمائي: 952
شکریہ: 43
25 مراسلہ میں 96 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Nasiwise مراسلہ دیکھیں
آپ کا یہ فیچر پاک نیٹ پہ گرمی میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح مَحْسُوس ہوا

ابھی ذرا جلدی میں پڑھا ہے وقت ملنے پر غور سے پڑھنے کی کوشش کرونگا۔ اتنے میں یہ بتا دیجیے کے کونسے چیلسی سے بھاٹی دروازے کے علاقے کو ملا رہے ہیں؟
دراصل لندن کا ایک علاقہ ہے چیلسی ۔۔۔ جو علم و ادب کے حوالے سے خاص شہرت کا حامل ہے۔ ادب، آرٹ، کلچر، تھیٹر ،‌ڈرامہ کے حوالے سے چیلسی لندن کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

Last edited by شیراز حسن; 19-06-10 at 12:31 PM.
شیراز حسن آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شیراز حسن کا شکریہ ادا کیا
ناصحی (19-06-10), اویسی (19-06-10)
پرانا 19-06-10, 12:28 PM   #9
Senior Member
 
اخترحسین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: karachi
مراسلات: 1,529
کمائي: 37,057
شکریہ: 4,903
809 مراسلہ میں 1,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں اخترحسین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

گڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
اخترحسین آف لائن ہے   Reply With Quote
اخترحسین کا شکریہ ادا کیا گیا
شیراز حسن (19-06-10)
پرانا 19-06-10, 04:23 PM   #10
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,992
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شیراز حسن مراسلہ دیکھیں
دراصل لندن کا ایک علاقہ ہے چیلسی ۔۔۔ جو علم و ادب کے حوالے سے خاص شہرت کا حامل ہے۔ ادب، آرٹ، کلچر، تھیٹر ،‌ڈرامہ کے حوالے سے چیلسی لندن کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
جواب دینے کا شکریہ۔

آجکل مغرب پر تنقید کچھ رواج کی سی شکل اختیا ر کرتی جا رہی ہے ۔ بھاٹی دروازے کے علاقے کوچیلسی سے ملانا آپ کے کُشادَہ سوچ اور ذہَن کی علامت اور قابل داد ہے۔

میری طرح غالباً آپکو بھی یہ جان کر ما یوسی ہو گی کہ مرکزی لندن کا یہ علاقہ انیسویں صدی میں آرٹ اور کلچر کا گَہْوارَہ ضرور تھا مگر علم و ادب سے وابستہ شاعر، مصور اور ادیبوں جیسی ہستیاں چیلسی سے کب کی کوچ کر چکی ہیں۔ اب تو وہاں بڑے بڑ ے بینکروں جیسے مالدار رَہائِش پذیرہیں۔

آپکی پاک نیٹ پہ آئندہ تعریروں اور خاصکر لاہور کی بادشاہی مسجد پہ فیچر کیلے انتظا ر رہے گا۔
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
کنعان (19-06-10), شیراز حسن (19-06-10)
پرانا 19-06-10, 04:38 PM   #11
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Nasiwise مراسلہ دیکھیں
جواب دینے کا شکریہ۔

آجکل مغرب پر تنقید کچھ رواج کی سی شکل اختیا ر کرتی جا رہی ہے ۔ بھاٹی دروازے کے علاقے کوچیلسی سے ملانا آپ کے کُشادَہ سوچ اور ذہَن کی علامت اور قابل داد ہے۔

میری طرح غالباً آپکو بھی یہ جان کر ما یوسی ہو گی کہ مرکزی لندن کا یہ علاقہ انیسویں صدی میں آرٹ اور کلچر کا گَہْوارَہ ضرور تھا مگر علم و ادب سے وابستہ شاعر، مصور اور ادیبوں جیسی ہستیاں چیلسی سے کب کی کوچ کر چکی ہیں۔ اب تو وہاں بڑے بڑ ے بینکروں جیسے مالدار رَہائِش پذیر ہیں۔

آپکی پاک نیٹ پہ آئندہ تعریروں اور خاصکر لاہور کی بادشاہی مسجد پہ فیچر کیلے انتظا ر رہے گا۔
السلام علیکم بھائی

اگر کبھی بھاٹی گیٹ سے گزر ہو یا کبھی پاکستان جانا ہو تو ایک مرتبہ وہاں کا وزٹ ضرور کیجئے گا اور کسی کو پوچھ بھی لیجئے گا۔ وہاں پر بھی مالدار لوگ ہی بستے ہیں، 12X12 کی دکان کی قیمت پوچھنا میلیئنز سے کم نہیں‌ ہو گی یا شائد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ھے آج کے دور میں۔ اور گھر کی قیمت لندن "چل سی" سے کم نہیں اسی لئے قیمت کے اعتبار سے بھی یہ لندن کا "چل سی" سے کم نہیں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
ناصحی (22-06-10), شیراز حسن (19-06-10)
پرانا 19-06-10, 05:31 PM   #12
Junior Member
اجنبی
 
شیراز حسن's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Lahore, Pakistan
مراسلات: 27
کمائي: 952
شکریہ: 43
25 مراسلہ میں 96 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Nasiwise مراسلہ دیکھیں

میری طرح غالباً آپکو بھی یہ جان کر ما یوسی ہو گی کہ مرکزی لندن کا یہ علاقہ انیسویں صدی میں آرٹ اور کلچر کا گَہْوارَہ ضرور تھا مگر علم و ادب سے وابستہ شاعر، مصور اور ادیبوں جیسی ہستیاں چیلسی سے کب کی کوچ کر چکی ہیں۔ اب تو وہاں بڑے بڑ ے بینکروں جیسے مالدار رَہائِش پذیرہیں۔

آپکی پاک نیٹ پہ آئندہ تعریروں اور خاصکر لاہور کی بادشاہی مسجد پہ فیچر کیلے انتظا ر رہے گا۔
یہی حال تو بھاٹی دروازہ کا ہوا ہے۔ بھاٹی دروازہ کسی زمانے میں علم و ادب کی قدآور شخصیات کا مسکن تھا لیکن اب ایسا کچھ باقی نہیں رہا۔ بالکل لندن کے چیلسی کی طرح۔۔۔۔

بادشاہ مسجد اور لاہور کے دیگر اہم روحانی و مذہبی اور تاریخی مقامات کے‌حوالےسے بہت جلد تحاریر آپ کو پیش کروں گا۔
شیراز حسن آف لائن ہے   Reply With Quote
شیراز حسن کا شکریہ ادا کیا گیا
ناصحی (22-06-10)
پرانا 19-06-10, 09:15 PM   #13
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شیراز حسن مراسلہ دیکھیں
بادشاہ مسجد اور لاہور کے دیگر اہم روحانی و مذہبی اور تاریخی مقامات کے‌حوالےسے بہت جلد تحاریر آپ کو پیش کروں گا۔
السلام علیکم

آپکی طرف سے مفید معلومات کا انتظار رہے گا۔ ایک تصویر بہت اچھی ملی ھے آپکی نظر کر رہا ہوں۔ اس کے میناروں پر ایک خصوصیت شائد آپ بھی نہ بتا سکیں تو وہ بھی میں بتا دیتا ہوں کہ بادشاہی مسجد کے چار میناروں میں سے ہر مینار پر آپ چڑھ کے جہانگیر کے مقبرہ کے میناروں کو دیکھیں تو آپ کو 3 مینار نظر آئیں گے اور اسی طرح جہانگیر کے مقبرہ کے چاروں میناروں میں سے کسی بھی مینار پر آ چڑھ کے بادشاہی مسجد کے میناروں کو دیکھیں تو آپ کو ہر مینار سے اس کے بھی 3 ہی مینار نظر آئیں گے اب یہ قدرتی ایسا ھے یا پرانے زمانہ کے تجربہ کار انجینیئروں کا فن کمال۔ واللہ اعلم







ہندوستان کے چھٹے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر تمام مغلوں میں سے سب
سے زیادہ مذہبی بادشاہ تھا۔ انھوں نے اس مسجد کو اپنے سوتیلے بھائی مضفر
حسین، جن کو فدائی خان کوکا بھی کہا جاتا تھا (جو کہ لاہور کا گورنر بھی تھا)
کی زیر نگرانی تعمیر کروایا۔ 1671 سے لیکر 1673 تک مسجد کی تعمیر کو دو
سال لگے۔ مسجد کو شاہی قلعہ کے برعکس تعمیر کیا گیا۔

Last edited by کنعان; 19-06-10 at 09:22 PM. وجہ: zoom in
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (20-06-10), شیراز حسن (21-06-10)
جواب

Tags
کمال, کالج, کربلا, گانے, پھول, پولیس, ڈاٹ, لطیفہ, نواز شریف, نظر, منتقل, محمد اقبال, مسجد, اکبر, اندازِ, امیر, اردو, اسلام, اعلیٰ, تلاش, خطاطی, سیاست, ستارے, علامہ محمد اقبال, صدائے


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
انٹرنیٹ سیکورٹی حیدر شاہ سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست 9 31-08-10 12:57 PM
پی ٹی اےکی اردو ویب سائیٹ ALI-OAD ویب سائٹس کا جائزہ 5 20-03-10 12:53 AM
انٹرنیٹ کی سہولت کے ساتھ ٹی وی فروخت کے لیے پیش محمدعمر خبریں 3 10-12-09 09:33 PM
سیکیورٹی کیمرا کو اپنی سائیٹ پر ہینڈل کرنا محمدخلیل Ask Experts ماہرین کی رائے 10 17-09-09 05:00 AM
لندن، متحدہ انٹرنیشنل سیکرٹریٹ پر وکلاء و سول سوسائٹی کی احتجاجی ریلی عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 10:23 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:19 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger