![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 382
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
دوسرے دن ایبٹ آباد سے ھم نے نتھیا گلی جانے کا پروگرام بنایا، اور وہاں سے مری کے علاقے بھوربن اور جھیکا گلی کی طرف رخ کرنا تھا، کیونکہ جھیکاگلی میں بھی ھمارے پرانے جاننے والے رھتے تھے، اور شام تک ان کے گھر پہنچنا چاھتے تھے، ھمارے ڈرائیور صاحب بھی ماشااللٌہ بہت ھی پہاڑوں میں گاڑی چلانے کے ماھر تھے، اور ان تمام پہاڑی علاقوں کی کافی معلومات تھیں، اور انہیں کی وجہ سے ھم سب نے اس یادگار سفر سے خوب اچھی طرح لطف آٹھایا، !!!!!!!!!!
یہ ضلع ہزارہ کے اطراف کے علاقے تھے، خوبصورت پہاڑوں اور لمبے لمبے چیڑ کے درختوں سے گھرے ھوئے، ان کے ساتھ ساتھ چلتی ھوئی شاراہیں بہت ھی ایک جادوئی طلسماتی منظر پیش کرتی ھیں، اللٌہ تعالیٰ نے ھمارے ملک میں ھر جگہ اتنا حسن اور خوبصورتی عطا فرمائی ھے، لیکن ھمیں اپنے ملک کی کوئی قدر نہیں ھے، انہیں خوبصورت مقامات سے ھوتی ھوئی، ھماری گاڑی بہت احتیاط سے بل کھاتی ھوئی سڑکوں پر چل رھی تھی، اور ھم سب انھی خوبصورت مناظروں سے لطف اندوز ھو رھے تھے، اگلا مقام ایوبیہ تھا، جسے نتھیا گلی بھی کہتے ھیں، وہاں پہنچتے پہنچتے ٹھنڈ تو اور زیادہ ھی بڑھ گئی،!!!! وہاں پر کیبل لفٹ چئیرز کا انتظام تھا، سب لوگ باری باری لفٹوں میں بیٹھے، کیا بات تھی اتنی اونچائی کے مقام پر ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ پر جانے والی یہ لفٹ چیر جب بادلوں میں سے گزرتی تھی، تو بہت ھی زیادہ لطف آتا تھا، اب تو یہ لفٹیں مری میں گھوڑا گلی کے مقام پر بھی لگ چکی ھیں اور آج کل کیبل چیر کے لئے یہاں آنے کی ضرورت بھی نہیں ھے، لیکن ایوبیہ نتھیا گلی کا اپنا ایک الگ ھی حسن ھے، ایک تو سب سے اونچی جگہ پر ھے، اور اگر آپ کو کہیں بھی برف جمی ھوئی نہ ملے، تو یہاں ضرور ھی برف سفید چادر کی طرح جمی ھوئی نظر آئے گی، یہاں ھم کچھ زیادہ دیر تک نہیں رکے اور مری کی طرف نکل گئے، کیونکہ ھم چاھتے تھے کہ شام سے پہلے پہلے مری پہنچ جائیں، کیونکہ وہاں ھم نے کسی کے یہاں قیام کرنا تھا یہ بھی ھمارے بہت پرانے جاننے والے تھے، ھم اکثر ان کے یہاں ھی کچھ دن ضرور قیام کرتے تھے، ان کا گھر جھیکا گلی کے علاقے میں پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹے سے گاؤں “سانٹھی“ میں تھا، ان کے گھر کے سامنے دوسرے پہاڑ پر پیرموڑہ شریف کا مزار ایک چاند کی طرح چمکتا ھوا صاف نظر آتا تھا، اور رات کو سالانہ عرس کے موقع پر وہاں خوب رونق ھوتی تھی،!!!!! جھیکا گلی کے علاقے پر پہنچتے ھی روڈ کے کنارے سے ایک چھوٹی سی پگڈنڈی “سانٹھی“ نام کے ایک چھوٹے سے گاؤں کی طرف جاتی تھی، اور یہ راستہ کچھ خطرناک بھی تھا، اگر کسی کا پیر پھسل گیا تو بس سونچ لیں کہ نیچے ہزاروں فٹ کی کھائی تھی، وہاں پر اس وقت کوئی ٹیلفون یا موبائل کی سہولت نہیں تھی، ورنہ ھم پہلے ھی آنے کی اطلاع دے دیتے، بہرحال سب ویسے ھی بہت تھکے ھوئے تھے، مزید پہاڑ کے نیچے اترنا تو ایک بہت بڑا کٹھن مرحلہ تھا، ھم سب کچھ دیر کیلئے سڑک کے کنارے ھی پگڈنڈی کے موڑ پر ھی چادر بچھا کر بیٹھ گئے، دونوں لیڈیز تو لیٹ گئیں، اب فیصلہ یہ کرنا تھا کہ نیچے اترا جائے یا اوپر ھی مری کے کسی ھوٹل میں ٹہرا جائے،!!!!!! اتفاق سے اسی گاؤں کی طرف جانے والے مل گئے، جو انہیں بھی جانتے تھے، انہوں نے ھمیں وہاں تک کی راہنمائی کی پیش کش کی، اور پھر ھم تیار ھوگئے، لیکن نوبیاہتا جوڑا نیچے اترنے سے گھبرا رھا تھا، اسلئے انہوں نے واپس اسلام آباد جانے کا فیصلہ کرلیا، اور دوسرے دن کے آنے کا وعدہ کرکے اسی کار میں واپس چلے گئے اور اسی وقت ھم اور ھمارے بچے اپنے آپ کو سنبھالتے ھوئے پہاڑ کے نیچے اترنے کی کوشش کررھے تھے،!!!!!!!! ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ ٔٔٔٔٔٔٔ بچے تو گود میں آنے کو تیار ھی نہیں تھے، ساتھ راہنمائی کرنے والوں نے ھمارے ھاتھ کا سامان اٹھا رکھا تھا، اور ایک نے ھماری چھوٹی گود کی بچی کو اٹھایا ھوا تھا، بڑے بیٹا اور بیٹی جو 8 اور 6 سال کے تھے وہ تو خود ھی تفریح کرتے ھوئے اتر رھے تھے، ان کے بعد کا ایک بیٹا جو تقریباً اس وقت 4 سال کا تھا، وہ میری گود میں نیچے اترنے کے لئے مچل رھا تھا، آج میں یہ سوچتا ھوں کہ یہ چاروں بچے اب بڑے ھو چکے ھیں دو کی تو اب شادیاں بھی ھو چکی ھیں، لگتا ھے کہ یہ سب کل کی سی بات ھو، وقت کیسے اتنی جلدی گزر گیا کہ کچھ پتہ ھی نہیں چلا، کل تک جب میرے بچے میری انگلی پکڑ کر چلتے تھے، پچھلے دنوں وہ میری بیماری کے دوران وہ مجھے سہارا دے کر سیڑھیوں پر چڑھا رھے تھے، اور وہ دونوں میرے بیٹے آج قد میں مجھ سے بھی بڑے ھیں، کیا شان ھے میرے رب کی، سبحان اللٌہ !!!!!! دونوں بڑے بچوں کو بھی ایک تفریح مل گئی تھی، جگہ جگہ وہ ٹہر جاتے اور پھولوں پر بیٹھی ھوئی تتلیوں کو پکڑنے کی کوشش کرتے، اور میں ڈرتا رھتا کہ ان کا پیر سلپ نہ ھوجائے، مگر انہیں کسی بات کی فکر ھی نہیں تھی، کیونکہ وہ چھوٹی سی پگڈنڈی آگے چل کر تو بہت ھی خطرناک ڈھلان کی شکل اختیار کر چکی تھی، میں تو بس پیچھے پیچھے دونوں بچوں کو ڈانٹتا ھوا جا رھا تھا، اور ھماری بیگم بھی بہت محتاط ھوکر چل رھی تھیں، مگر کچھ غصہ میں بھی نظر آرھی تھیں، اور میں تیسرے نمبر کے بیٹے کو گود میں اٹھائے ھوئے ھانپتا ھوا پہاڑوں کی ڈھلان کی طرف آہستہ آہستہ اتر رھا تھا شکر تھا کہ ابھی کچھ شام کی ھلکی سی روشنی باقی تھی اور سورج کی آخری کرنیں جدا ھوتی ھوئی نظر آرھی تھیں،!!!!! بالآخر ھانپتے کانپتے ھم اپنے مطلوبہ مقام “سانٹھی“ تک پہنچ گئے، وہاں پر بھی وہ سب اپنے گھر سے باھر آگئے اور ھمیں پہچاننے کی کوشش کرنے لگے، جیسے ھی انہوں نے پہچانا ایک شور مچ گیا، اپنی پہاڑی زبان میں “چھوٹے شاہ جی کراچی سے آگئے“ سارے خوش ھوگئے، سردی تو بہت تھی کپکپی لگی ھوئی تھی، فوراً انھوں نے مہمانوں کا کمرہ کھولا انگیٹھی پہلے ھی سے جل رھی تھی، کمرے کے بیچوں بیچ انگیٹھی تھی اور چاروں طرف پلنگ رضائیوں سے لدے ھوئے، میں اور دو بچے میں ایک بستر میں گھس گئے اور ھماری بیگم دوسرے پلنگ پر باقی دونوں چھوٹے بچوں کے ساتھ رضائی کو چاروں طرف سے لپیٹ لیا، تیسرے پلنگ پر میزبان فیملی تھی اور سب خیر خیریت معلوم کررھے تھے،!!!!! کیونکہ کافی عرصہ بعد ملاقات ھوئی تھی، اس لئے سب کو بہت ھی خوشی ھورھی تھی، بجلی تو تھی، کمرے میں ایک بلب اور ایک ٹیوب لائٹ جل رھی تھی، سب لوگ خاطر مدارات میں لگ گئے، کوئی تو انہی کے باغات کے پھل سیب، بگو گوشہ، ناشپاتیاں لارھا تھا کوئی خشک میوہ جات، ھمارے بچے بھی ان کے بچوں کے ساتھ ھی کمرے میں ایک دوسرے سے باتیں کررھے تھے، مگر ھمارے بچے ان کی زبان سمجھ نہیں پارھے تھے، بار بار میرے پاس آتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے رھے، شاید کھانا پکانے کی تیاری بھی ھورھی تھی، دروازہ کھلتا تو سامنے تندور جلتا ھوا نظر آرھا تھا اور ساتھ ھی ایک کھلا باورچی خانہ دکھائی دے رھا تھا، جہاں دو عورتیں لکڑی کے چولہے پر ایک بڑی مٹی کی ھانڈی میں کچھ پکاتی ھوئی نظر آرھی تھیں، بھوک بھی شدید لگی ھوئی تھی، اور باھر سے پکتے ھوئے کھانوں کی سوندھی سوندھی خوشبو نے تو اور بھوک میں چار چاند لگا دئے تھے، !!!! ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ ٔٔ یہاں کے سیدھے سادے پرخلوص لوگ کتنے مہمان نواز ھوتے ھیں، گھر پر کوئی بھی آتا ھے تو اس کے آگے پیچھےخاطر مدارات میں لگ جاتے ھیں، کاش ھم سب کے دلوں میں بھی یہی محبت جذبہ خلوص ھو، اسی کمرے میں نیچے دستر خوان بچھا کر کھانا لگایا گیا، گرم گرم کھانوں سے بھاپ نکل رھی تھی، ایک طرف سبزی شاید پکی تھی اور ایک پلیٹ میں مرغی نظر آرھی تھی، اور سلاد کے ساتھ پودینہ کی چٹنی، اور پھر گھر کے تندور کی تازہ تازہ گرم گرم روٹیاں سوندھی اپنی ایک روائتی مہک کے ساتھ، کیا خوشگوار ماحول تھا، کتنے ھی مزیدار ذائقےدار کھانے کسی شاھی دسترخوان کے اعلیٰ ذائقوں سے کم نہیں تھے،!!!!!! کھانے سے فارغ ھوئے تو ذرا دروازہ کھول کر اھر جھانکنا چاھا تو سرد ھوا کے جھونکے نے واپس اندر آنے کیلئے مجبور کردیا، اندر کمرہ گرم تھا، میں نے فوراً ھی اپنی جیکٹ پہنی کانوں پر پشاوری ٹوپی ڈالی اور ایک گرم مفلر لپیٹ کر پھر سے قدم باہر نکالا، اب کچھ غنیمت تھا، لیکن پھر بھی سردی پیروں کی طرف سے لگ رھی تھی، مگر میں تو باھر کے مناظر کو دیکھتے ھی سردی کو تو بھول ھی گیا،رات ھوچکی تھی تمام آس پاس کے پہاڑون پر ایسا لگتا تھا کہ ساری کائنات کے ستارے ان پہاڑوں میں جگمگا رھے ھیں، ھر گھر کی کھڑکیوں دروازوں سے روشنیاں چھن چھن کے باھر کے فضا کو چمکدار بنائے ھوئے تھیں، دوسرے پہاڑ کی جانب پیر موڑہ شریف کی درگاہ بھی روشنیوں سے جگمگا رھی تھی اور پہاڑوں میں وہاں سے سریلی مست قوالیوں کی گونج چاروں طرف گونج رھی تھی، دل یہی چاہ رھا تھا، بس اس طلسماتی منظر سے کبھی بھی دور نہ رھوں،!!!!!!! اندر کمرے سے آوازیں آرھی تھیں، شاید مجھے بلارھے تھے کیونکہ اندر کی انگیٹھی پر رکھی ھوئی کیتلی میں چائے پک چکی تھی، اور پھر کھانے کے بعد ان سرد علاقوں میں گرم گرم چائے کا اپنا ایک الگ ھی مزا ھے، یہاں آکر تو میں سب دفتر کی ٹینشن، شہر کے بے ہنگام شور کو بھول چکا تھا، میں تو بس یہی چاھتا تھا کہ کہ یہاں کے ھر ایک یادگار لمحہ کو اپنی آنکھوں میں سما لوں، نہ جانے پھر کب یہاں آنے کا موقع ملے گا، !!!! باتیں کرتے کرتے کافی رات ھوگئی، اور اسی طرح پتہ ھی نہیں چلا کہ کب سب اپنے اپنے بستروں میں لحافوں میں گھس کر خوب گہری نیند سوگئے، صبح صبح کھڑکی کی درزوں سے سورج کی کرنیں پھوٹتی نظر آئیں تو میری آنکھ کھل گئی، باھر پرندوں کی آوازیں اور بھی مجھے باہر جانے کیلئے بےچین کررھی تھیں،!!!! دروازے کو آہستہ سے کھولا، سورج نکلا ھوا تھا، ٹھنڈ ابھی تک زیادہ تھی لیکن دھوپ کی وجہ سے کچھ شدت میں کمی تھی، کیا خوبصورت منظر تھا، پہاڑوں کے بیچوں بیچ کھڑا ھوا چاروں طرف ان خوبصورت مناظروں سے میں لطف اندوز ھورھا تھا، تمام پہاڑ ھرے بھرے لمبے لبے طویل چیڑ کے درخت بہت ھی خوبصورت منظر پیش کررھے تھے اور میرے سامنے چاروں طرف مختلف پھلوں کے درخت لگے ھوئے تھے، ناشتہ سے فارغ ھوکر ھم سب مل کر اور مزید نیچے کی طرف نکلے وھاں پر پانی کے جھرنے اور چشمے بہہ رھے تھے کیا حسین مناظر تھے، یہ ستمبر کا مہینہ تھا اور یہ سب کچھ تیں مہینے بعد سفید برف کی چادروں میں چھپ جانے والا تھا، قدرت بھی اس پیاری دھرتی پر کیا کیا رنگ بکھیرتی ھے، سبحان اللٌہ!!!!!!!!! ابھی اوپر مین روڈ بھی جانا تھا کیونکہ دوپہر کو ھمارے سالے صاحب اور انکی نوبیہاتا دلہن سے جو وعدہ کیا تھا کہ وہ لوگ دوسرے دن ھمارا جھیکاگلی کے اس موڑ پر انتظار کریں گے، اور میں نے یہ سوچا بھی تھا کہ کچھ پکانے کیلئے تازہ گوشت اور قیمہ وغیرہ بھی اوپر سے خرید لائیں گے، اور ساتھ ھی کچھ چاول اور مصالہ جات بریانی وغیرہ بنوانے کیلئے، اور کچھ میزبان کے بچوں کیلئے کچھ تحفے تحائف بھی خریدنے تھے، پھر اسی طرح اوپر چڑھنے لگے ساتھ میں وھاں کے بس ایک دو بندے ساتھ وھاں کے چند بچے بھی تھے اور میرا بڑا بیٹا ساتھ تھا جو تقریبا 8 سال کا تھا، اسے بھی میری طرح خوب گھومنے پھرنے کا شوق تھا، اوپر چڑھنا تو واقعی بہت مشکل مرحلہ تھا، لیکن وہان کے مقامی بچے تو اچھلتے اچھلتے تیزی سے چڑھتے جارھے تھے، اور میرا بیٹا بھی انہی کے جیسے چھلانگیں مارتا ھو جارھا تھا، اور میں پیچھے سے چیختا ھی جارھا تھا اور اسے تو کوئی فکر ھی نہیں تھی، وہ اپنے ھم عمر بچوں کے ساتھ خوب خوش خوش پہاڑ پر چڑھتا جارھا تھا،!!!!! اوپر جیسے ھی ھم پہنچے تو واقعی وہ دونوں بمعہ کار کے ھمارا انتظار کررھے تھے، میں نے تو ان کو بچوں کے ساتھ نیچے بھیج دیا، اور میں ڈرائیور کے ساتھ مری کے میں بازار چلا گیا، میرے ساتھ وہاں کے ایک میزبان کے بھی ساتھ ھی تھے، وھاں سے تازہ گوشت قیمہ اور ضرورت کی تمام چیزیں خریدیں اور پھر واپس جھیکاگلی کی طرف آگئے مری سے تقریباً چار یا پانچ کلومیٹر کا فاصلہ ھی ھوگا، وہاں پر نیچے جانے کے موڑ پر ھی اتر گئے کار کا روکنا بھی صحیح نہیں تھا، کیونکہ پارکنگ کا مسئلہ تھا، اس لئے ڈرائیور کو کل دوپہر کا آنے کا کہہ کر انہیں رخصت کردیا، سامان تو دوسرے نے اٹھایا ھوا تھا، میں تو بس جھاڑیاں پکڑ پکڑ کر نیچے اتر رھا تھا، کبھی کبھی میں جگہ جگہ رک کر تھوڑا آرام بھی کرلیتا تھا، آخر ایک گھنٹے بعد ھے گھر تک پہنچ ھی گئے، اور بس صحن میں چارپائی پر دھوپ سیکنے بیٹھ گیا اور قدرتی نظاروں میں پھر گم ھوگیا، ساتھ ھی میرے سالے صاحب بھی، وہ تو میرا دوست بھی تھا، نئی نئی شادی کراکر میرے ساتھ ھی آگئے تھے، اور انہوں نے بھی خوب لطف اٹھایا،!!!!!! ھم خوب باتیں کرتے رھے، ھماری بیگمات وہاں کی عورتوں کے ساتھ گپ شپ میں مصروف اور ساتھ ھی دوپہر کے کھانے کی تیاری بھی کررھی تھیں، اس صحن کے نیچے بھی جانوروں اور ذخیرہ گندم اور چارے کے اسٹور اور کمرے بنے ھوئے تھے جہاں انہوں نے بھینسیں بکریاں رکھی ھوئی تھی اس کے علاوہ مرغیاں تو کافی ادھر چلتی پھرتی نظر آرھی تھیں، کچھ تو اپنے چوزوں کے ساتھ دانہ چگ رھی تھیں، اور کبھی کبھی بادل بھی ھمارے ساتھ آس پاس ھی گھوم رھے ھوتے تھے جس سے کچھ نمی کا احساس ھوتا تھا، کھانا بن رھا تھا شہری اور گاؤں کی عورتیں دونوں مل کر کھانے پکانے میں مصروف تھیں، اور بچے اپنے ھم عمر دوستوں کے ساتھ ادھر ادھر گھومتے پھر رھے تھے،مجھے ڈر بھی لگ رھا تھا کہ اپنے بچے کہیں ادھر ادھر پھسل کر نیچے نہ گر جائیں، مگر ان کو کوئی پرواہ بھی نہیں تھی!!!!!! نوبہاتا جوڑے نے بھی خوب پہلی مرتبہ ان خوبصورت پہاڑوں کے حسین طلسماتی نظاروں کا لطف اٹھایا، وھاں کے زیر زمین پانی کے چشموں کی اور اوپر سے چھنا چھن شور میں گرتے ھوئے جھرنوں اور چھوٹے آبشاروں کی خوبصورتی اور حسن کا زندگی میں پہلی بار نزدیک جاکر جائزہ لیا، اس کے علاؤہ وہاں کے خوبصورت مناظر میں اور بھی خوب لطف آتا جب ھلکی ھلکی پھوار پڑنا شروع ھوجاتی، اور عورتیں اور بچے تو سردی کی پرواہ کئیے بغیر ھی بارش میں خوب تفریح لیتے تھے، یہ تمام وادیاں سردیوں میں مکمل طور سے برف میں ڈھک جاتی ھیں، اور یہ مقامی لوگ ان دنوں محفوظ مقامات پر نقل مکانی پر مجبور ھوجاتے ھیں، مگر صرف اپنے ھی خرچے پر، یہ لوگ ھمارے ملک کے لئے کتنی محنت کرتے ھیں، لیکن ان کی پریشانیوں کا حال کوئی ان کے گھر جاکر کوئی ان سے پوچھے کہ موسموں کی ھر تکلیف سہنے کے باوجود یہ اپنے ملک کی قوم کیلئے پھل فروٹ اور دنیا کی نعمتیں ھم تک پہنچانے کے لئے ھر سال ان موسموں کی ناقابل برداشت صورت حال میں بھی کتنی خدمت کرتے ھیں، لیکن ان کو اس کا معاوضہ انہیں نہ ھونے کے برابر ملتا ھے، منڈی کے بڑے بڑے ٹھیکیدار یہاں آکر اپنی مرضی کی بہت ھی چند گنے چنے نوٹوں کے عوض زبردستی تمام باغوں کے مالک بن بیٹھتے ھیں اور پھل پکنے کے بعد سب کچھ توڑ کر لے جاتے ھیں، یہ لوگ بس دیکھتے ھی رہ جاتے ھیں، اگر یہ لوگ خود منڈی تک جائیں تو ان کو ان کا اپنا مال بیچنے کی اجازت نہیں ملتی، بلکہ ان سے غنڈوں کے ذریعے مال کو لوٹ ھی لیتے ھیں، یہی حال دوسرے کسانوں کا بھی ھوتا ھے،!!!! اتنا دکھ ھوتا ھے ان سب کی روداد سن کر ان کے بچوں کے لئے اچھی تعلیم اور صحت کیلئے کوئی بھی اچھے مراکز نہیں ھیں، جو بھی فلاح و بہبود کے ادارے ھیں ان لوگوں کی آڑ میں پیسہ بٹور رھے ھیں، اور وہ صرف اپنے ھی مفاد کیلئے اپنی ھی جیبیں بھر رھے ھیں،!!!! ھم نے وھاں پر اتنے لذیذ اور خوش ذائقہ سیب، بگوگوشہ،ناشپاتی کے علاوہ املوک اور دوسرے پھل بھی دیکھے اور کھائے بھی، جو انھوں نے خاص طور سے پہلے سے ھی اپنے ذخیرہ اسٹور میں رکھے ھوئے تھے جو میں نے اپنی زندگی میں شہروں میں کسی بھی فروٹ مارکیٹ میں نہیں دیکھے، نہ جانے یہ ٹھیکیدار لوگ ان سے ان کی محنت سے حفاظت کئے ھوئے پھلوں کو کہاں بیچ آتے ھیں جو قوم کو کھانے کو میسر نہیں ھیں، اللٌہ تعالیٰ ان کو ان ظالم ٹھیکیداروں سے بچائے، آمین،!!!!! دوسرے دن جب ھم ان سے جدا ھورھے تھے تو میزبان کے تمام گھر والے آنسوؤں سے رو رھے تھے، اور ھمیں بھی ان سے بچھڑ کے بہت دکھ ھورھا تھا، ان کی میزبانی میں کوئی شک نہیں اپنوں سے بھی بڑھ کر ھماری جس خلوص دل سے خاطر مدارات کیں، اس کا صلہ کوئی بھی نہیں دے سکتا سوائے اللٌہ تعالیٰ کے،!!!! وہ ھمیں دعائیں دے رھے تھے، اور ھم سب ان کا شکریہ ادا کرتے ھوئے وداع ھورھے تھے، اوپر ھانپتے کانپتے پہنچے تو وہاں فوراً ھی سرد ھواؤں کے جھکڑ شروع ھوگئے، ھم سب اوپر کانپ رھے تھے حالانکہ سب نے گرم کپڑے اور شالیں لپیٹ رکھی تھیں اور ابھی تک ڈرائیور گاڑی لے کر نہیں پہنچا تھا، ھمارے ساتھ آئے ھوئے میزبان جو ھمارا سامان بھی اٹھا کر لائے اور ساتھ کافی پھل فروٹ بھی باندھ کر تحفے میں دئیے، اس خوش دل میزبانی کو میں اپنی زندگی میں کبھی بھول نہیں سکتا،!!!! کچھ ھی دیر میں گاڑی بھی آگئی سامان وغیرہ کار کی ڈگی میں رکھا اور وہاں سب کو الوداع کہتے ھوئے روانہ ھوگئے، پہلے تو کچھ دیر کے لئے بھور بن کے جنگلات کی طرف نکلے اور کار میں رھتے ھوئے ھی باھر سے ھی دیکھا، کیونکہ ٹھنڈی ھوائیں چل رھی تھیں، باھر نکلنے کی ھمت کسی میں بھی نہیں تھی، وھاں سے واپس اسلام آباد کیلئے روانہ ھوئے بیگمات کے اصرار پر مری کے سنر میں اپر مال اور لوئر مال روڈ کی سیر کرائی، مگر سرد ھواؤں اور جھکڑ کی وجہ سے زیادہ رکنا محال ھورھا تھا، اس لئے فوراً ھی وھاں سے جانے میں ھی بہتری سمجھی، ورنہ تو شاید سب کی قلفی جم جاتی، مری سے نکلے تو گھوڑا گلی کے پاس کچھ دیر کیلئے چائے پینے کیلئے رکے، دوپہر کا کھانا اور ناشتہ بھی ایک ساتھ ھی ھم لوگ کھا پی کر ھی گھر سے نکلے تھے، اس لئے صرف چائے پر ھی اکتفا کیا، اس سے کچھ جسم میں حرارت محسوس ھوئی، ورنہ تو منہ پر ناک بھی غائب نظر آتی تھی، اور ھاتھ پاؤں بھی سن ھوچکے تھے،!!!!! وہاں سے آگے نکلے تو پھر ھلکی ھلکی پھوار شروع ھوگئی تھی، اور ھمارے ڈرائیور صاحب بھی بل کھاتی ھوئی سڑک ہر بہت ھی محتاط ھو کر آہستہ آھستہ گاڑی چلارھے تھے، جیسے جیسے ھم پہاڑوں سے نیچے آرھے تھے، سردی کی شدت میں کمی ھوتی جارھی تھی، جب “چھتر“ کا علاقہ آیا تو کچھ دھوپ کے آثار دکھائی دئیے تو جان میں جان آئی، کچھ دیر کے لئے وہاں کے موسم کا بھی لطف اٹھایا، دھوپ کا مزا لیا اور ساتھ ھی وہاں کی ایک ندی کے پاس بیٹھ کر آس پاس کی حسین وادیوں کو آخری بار للچائی ھوئی نظروں سے جائزہ لیتے رھے، یہ علاقہ بالکل پہاڑوں کی آخری ڈھلان کا حصہ تھا، وہاں سے پہاڑوں کی اونچی اونچی چوٹیاں نظر آرھی تھیں،!!!!! وہاں سے بھی بالآخر روانہ ھوگئے، موسم بہت ھی خوشگوار ھوچکا تھا، سیدھا ھم اسلام آباد کے اپنے گیسٹ ھاؤس میں پہنچے، بہت ھی زیادہ تھک چکے تھے شام ھو چکی تھی، سامان وغیرہ کار سے نکالا اور کمروں میں رکھ دیا، اور ڈرائیور بھائی صاحب کا بہت ھی شکریہ ادا کیا، انہوں نے جس طرح ھمیں اپنی فیملی سے زیادہ خیال کیا اور اپنا سمجھ کر ھمیں ھمارے ملک کے خوبصورت اور حسین تر علاقوں کی سیر کرائی، جس کا احسان ھم زندگی بھر نہیں بھول سکتے، آج بھی جب ھم وھاں کی تصویروں کو دیکھتے ھیں، تو ساری یادیں تازہ ھوجاتی ھیں، اور ھم اپنے ان بھائی کو اور ھمارے تمام میزبانوں کو دل سے ھمیشہ یاد کرتے ھیں اور بہت دعائیں دیتے ھیں، اللٌہ تعالیٰ ان سب کو صدا خوش رکھے اور جائز خواھشات کی تکمیل کرے،!!!!!! ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ میں اپنا یہ سفر اپنی زندگی میں کبھی بھی نہیں بھول سکتا، کیونکہ یہ سفر میری زندگی کا طویل ترین سفر تھا، ساتھ میری چھوٹی سی فیملی بھی تھی، اور پہلی بار مجھے پاکستان کے خوبصورت علاقوں کا دیدار نصیب ھوا، جو کہ میں اپنے خوابوں میں بھی تصور نہیں کرسکتا تھا،!!!!! ھمارا ملک پاکستان کتنا خوبصورت ھے، دنیا میں سیاحت سے دلچسپی رکھنے والے اس کے حسن اور خوبصورتی کی تعریفیں کرتے ھیں، اور ھم اس کے بارے میں کیا سوچتے ھیں،؟؟؟؟ محبت تو بہت کرتے ھیں لیکن عملی طور پر بے قدری کررھے ھیں،!!!!! |
|
|
|
| عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا گیا | ابن جلال (18-10-08) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
آپ سب کو یہ میرا ایک خوشگوار سفر نامہ اگر پسند آیا ھو تو میں مزید کچھ اور میری چند یادوں کے اقتباس پیش کرنے کی اجازت چاھوں گا،،!!!!!
شکریہ،!!!!! |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فن, کالج, کباب, پہچان, پاکستان, پسندیدہ, لوگ, نیند, نماز, نظر, مفت, مکمل, مسجد, معذرت, آج, انسان, اجنبی, اسلام, بھائی, بچپن, بچوں, تلاش, ریڈیو پاکستان, راستہ, سودا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| فرانسیسی ،این جی او، متاثرین کے اربوں روپے کھا گئی | ALI-OAD | خبریں | 0 | 26-12-10 10:18 AM |
| بھاگو، بھاگو، بلی آگئی ،منشیات فروشوں کے ساتھی طوطے کو عمر قید کی سزا | جاویداسد | خبریں | 1 | 24-09-10 05:19 PM |
| انٹرنیٹ سافٹ وئر فراڈ، کروڑوں متاثر | کنعان | کمپیوٹر کی باتیں | 0 | 20-10-09 02:20 AM |
| علم کی جستجو، فائدہ سب کو!!!!!!! | وجدان | دلچسپ اور عجیب | 2 | 06-11-08 02:07 PM |
| علم کی جستجو، فائدہ سب کو | ابن ضیاء | کمپیوٹر کی باتیں | 0 | 25-12-07 03:15 AM |