|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 509
|
||||
| 11 قاری/قارئین نے محمد الیاس کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (05-01-12), پاکستانی (04-01-12), ھارون اعظم (05-01-12), یاسر عمران مرزا (04-01-12), نبیل خان (04-01-12), محمد یاسرعلی (05-01-12), مرزا عامر (04-01-12), احمد نذیر (05-01-12), حیدر (04-01-12), زارا (04-01-12), عبدالقدوس (04-01-12) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ضلع کے حجم کے صوبے بننے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ بلکہ عوام کو سہولیات ہی ملتی ہیں۔ لیکن مسئلہ لسانی بنیادوں پر ایسا کرنے میں ہے۔
اب کون سمجھائے ہمارے دانشور حکمرانوں اور ان کے بے عقل ووٹروں کو اور خاص کر میرے بہنوئی کو۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | پاکستانی (04-01-12), یاسر عمران مرزا (04-01-12), رضی (09-01-12), زارا (04-01-12), غلام خان (06-01-12) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,204
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لسانیت پر صوبے نہیں بننے چاہیے لیکن یہ جو چاروں صوبے ہیں انکے نام بدل دو یہ بھی تو لسانیت پر ہیں سرحد کو پختونخوں کا نام دینا ہزارا والوں کو گرمانا لسانیت لسانیت کے نام نہ کرنے والوں پہلے چاروں صوبوں کے نام بدلوں کیا یہ لسانیت پر نہیں ہے ورنہ صوبے ضرور بننے چاہیے بھلے لسانیت پر ہی کیوں نا ہو
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
انتظامی بنیادوں پر صوبے بننے چاہئیے لیکن لسانی بنیادوں پر ہرگز نہیں
|
|
|
|
|
|
#5 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | محمد الیاس (05-01-12), غلام خان (06-01-12) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
ویسے میری تاریخ کچھ اچھی تو نہیں ہے لیکن شاید پنجابی زبان سے پہلے علاقہ پنجاب موجود تھا جس سے اس زبان کا نام پنجابی پڑا اور بلوچستان علاقہ کی تاریخ بھی بلوچی زبان سے بہت پہلے کی ہے۔ سندھ کی تاریخ تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں زمانہ قدیم سے اس علاقہ کا نام سندھ ہے جس سے سندھی زبان معرض وجود میں آئی۔ تو ان صوبوں کی تقسیم جغرافیائی ہے نا کہ لسانی۔۔۔
__________________
اے اللہ! ان سنگین حالات میں ملکِ پاکستان کی حفاظت فرما۔ آمین ثم آمین بزنس ایجوکیشن ایک تعلیمی بلاگ ، اب نئے انداز میں - http://bizedu.co.cc |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے معظم کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (05-01-12), پاکستانی (04-01-12), محمد یاسرعلی (05-01-12), حیدر (05-01-12), رضی (09-01-12), غلام خان (06-01-12) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
ہم تو شروع سے کہتے ہیں کہ تمام صوبوں کو ختم کرکے ڈویژن کو صوبوں کے اختیارات دے دیں لیکن اگر لسانی بنیادوں پہ سرائیکی اور ہزارہ صوبہ بنایا گا تو پھر ہم بھی صوبہ پوٹھوار کی مانگ کریں گئے ویسے تو ایم کیو ایم یہ سب جناح پور کی بنیاد رکھنے کے لیے کر رہی ہے کیوں کہ اگر وہ سیدھا کراچی کو صوبہ بنانے کی بات کرے گئی تو پھر اس کا سندھ سے ووٹ بنک ختم ہو سکتا ہے ویسے تعجب کی بات ہے کہ ایم کیوایم نئے صوبے تو بنانے کے حق میں ہے لیکن کراچی کو 5 اضلاع میں تقسیم کرنے کے حق میں نہیں
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب https://www.facebook.com/groups/pak.net دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نہ تو ہندوستان کی تقسیم لسانیت کی بنیاد پر ہوئی اور نہ ہی پاکستان کے صوبے کسی قسم کی لسانیت کی تقسیم پر ہیں۔
یہ ایم کیو ایم اور چند دیگر تنظیموں کی پھیلائی ہوئی مضموم سوچ کا نتیجہ ہے کہ نئی نسل کو اس سے آگاہی نہیں ہے۔ اگر صوبوں کی تقسیم لسانی بنیادوں پر ہوئی ہوتی تو 1:ڈیرہ غازی خان، راجن پور سے روجھان مزاری، تا علی پور کا علاقہ قدرتی طور پر بلوچستان میں شامل ہوتا ۔ کیوں کہ اس علاقے میں غالب اکثریت بلوچوں کی ہے۔ لیکن یہ پنجاب میں شامل ہیں 2:سندھ کے وہ علاقے جو بلوچستان کو ٹچ کرتے ہیں وہ بھی بلوچستان میں شامل ہوتے کیوں کہ وہاں کلپر بگٹی، مری اور دیگر بلوچ قبائل موجود ہیں۔ 3:راولپنڈی اور ایبٹ آباد کی ثقافت خاصی ملتی جُلتی ہے (کنفرم نہیں ہوں)۔ ۔ ۔ ان کو الگ صوبہ ہونا چاہیے تھا 4:ملتان، بہاولپور کی ثقافت ملتی جُلتی ہے (ویسے ملتان والے سرائیکی اور بہاولپور والے ریاستی کہلاتے ہیں ) ان کو ایک صوبہ ہونا چاہیے تھا 5: کراچی میں اُردو بولنے والے آغاز سے ہی آباد ہیں۔ اور جب ون یونٹ ٹوٹا تھا ، تب اگر صوبے لسانی بنیادوں پر بنائے جاتے تو کراچی آج ایک الگ صوبہ ہوتا۔ 6:بلوچستان میں کوئٹہ سے اوپر کا سارا علاقہ پشتون آبادی پر مشتمل ہے۔ اس اعتبار سے اس کو خیبر پی کے میں شامل ہونا چاہئے تھا۔ لیکن ماضی میں صوبوں کی جغرافیائی حدود کا تعین کرتے ہوئے اس بات کا شاید خیال رکھا گیا تھا کہ ہر صوبے میں ہر زبان کی اقوام ضرور موجود ہوں تاکہ ہم آہنگی میں اضآفہ ہو سکے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے دماغوں پر ایم کیو ایم، اے این پی، پونم، بی این پی جیسی شیطانی تنظیموں کے افکار چھائے رہتے ہیں تبھی ہم کو ہماری حقیقت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ آج اگر ایم کیو ایم کی تحریک پر لسانی بنیادوں پر پنجاب کو تقسیم کیا گیا تو پنجاب سے زیادہ کراچی بھگتے گا۔ کیوں کہ پھر وہاں لیاری والے، کورنگی واے، سُرجانی ٹاؤن والے، سہراب گوٹھ والے۔ ۔ ۔ اسی قسم کے مطالبہ جات بھی کریں گے۔ ہماری ساری زندگی ایک دوسرے کو گولیاں مارتے ہی گزر جائے گی۔ |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
حیدر بھائی راولپنڈی اورایبٹ آباد کی ثقافت کا تو پتا نہیں زبان میں بہت فرق ہے وہ ہندکو بولتے ہیں اور ہم پوٹھواری
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
سرحد کا نام خیبر پختونخواہ رکھ کے اے این پی نے صرف سیاسی دکان چمکانے کی کوشش کی ہے۔ اس سے عوام کو کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ البتہ نام تبدیل ہونے کے بعد اس پر جو اعتراضات سامنے آرہے ہیں وہ کافی عجیب ہیں۔ مثلاً یہ کہ کیا وہاں پر صرف پختون رہتے ہیں جو خیبر نام رکھ دیا؟ حالانکہ آج تک کسی نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ پنجاب میں بھی تو مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں تو اس کا نام پنجاب کیوں ہے؟ (معظم بھائی نے اس حوالے سے بات کی ہے، لیکن صوبے اور علاقے میں فرق ہوتا ہے)
اے این پی والوں کو چھوڑ کر باقی پورے صوبے کے لوگوں کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ صوبے کا نام سرحد ہو، یا خیبر پختونخواہ۔ البتہ جس طرح کا رد عمل دیکھنے میں آتا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ باقی صوبوں والے اپنے صوبوں کے نام جو چاہے رکھ لیں لیکن سرحد کی بات آئے تو ان کو لسانیت نظر آنا شروع ہوجاتی ہے۔ معیار سب جگہ ایک ہونا چاہیئے۔ اگر خیبر پختونخواہ نام صرف اس وجہ سے غلط ہے کہ یہاں سارے پختون نہیں رہتے تو پنجاب، سندھ اور بلوچستان پر بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیئے۔ رہی بات نئے صوبوں کی، تو ہزارہ کے لوگ صوبے کے اقتدار میں برابر کے شریک رہے ہیں۔ اور خیبر پختونخواہ کے اکثر وزرائے اعلیٰ کا تعلق بھی اسی علاقے سے رہا ہے۔ دوسری طرف جنوبی علاقہ جات کی پسماندگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ لہٰذا آج کل کے سیاسی قائدین کا یہ کہنا کہ ہزارہ کو نظر انداز کیا جارہا ہے، حقائق کے لحاظ سے ٹھیک نہیں۔ نئے صوبے بنانے سے صرف اتنا فائدہ ہوگا کہ چند درجن وزیر اور مشیر برسر روزگار ہوجائیں گے۔ عوام اب پشاور میں اپنے کام کے لئے لائنوں میں کھڑے ہوتے ہیں، بعد میں شائد ایبٹ آباد میں لائنوں میں کھڑے ہوں۔ اور سرائیکی صوبے کی بات تو صرف مسلم لیگ ن کا زور توڑنے کی حکمت عملی لگتی ہے۔ عوام کا اتنا خیال ہوتا تو یہ نیک کام پہلے بھی کیا جاسکتا تھا۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
|
|
#15 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
![]() |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سندھی کسی صورت صوبہ تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دینگے، مظاہرین | زبیرافتحار | خبریں | 1 | 10-08-11 04:50 PM |
| صوبائی اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت کے بغیر نئے صوبے نہیں بن سکتے | گلاب خان | خبریں | 3 | 07-08-11 05:27 AM |
| خوبصورت جانور خوبصورت پوز دیتے ہوئے ۔۔۔۔ | احمد بلال | دلچسپ اور عجیب | 23 | 06-06-11 11:18 PM |
| یہی قصور ھے میرا کہ بے قصور ھوں میں۔۔۔ | چاند | شعر و شاعری | 3 | 19-12-10 12:52 AM |
| مصور منصوراے کا سوئم آج ہوگا | عبدالقدوس | خبریں | 2 | 20-10-10 03:40 PM |