پیسے کی ہوس نے لوگوں کو بالکل اندھا کررکھا ہے۔ لوگ اپنی جائز اور ناجائز خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کوئی بھی راستہ اپنانے پر ہر وقت تیار دکھائی دیتے ہیں، یہ دیکھے اور سوچے بغیر کہ یہ کام جائز ہے یا ناجائز، حلال طریقہ ہے یاحرام؟ لوگوں کو حرام کی طرف لے جانے اور حرام کی ترغیب دینے میں میڈیا نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج کل میڈیا پر جس طرح کے پروگرامات اور فلمیں نشر کی جاتی ہیں ان کا تعلق حقیقی زندگی سے بہت دور ہوتا ہے۔ ان پروگرامات میں روپے پیسے کی ریل پیل اس حد تک دکھائی جاتی ہے کہ ایک عام غریب آدمی بھی اس خواہش میں پیسے جمع کرنا شروع کردیتا ہے تاکہ وہ بھی ایک عالیشان اور پرسکون زندگی گزارے۔ اس پیسے جمع کرنے کی مہم میں وہ یہ سوچنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرے گا کہ یہ پیسہ کہاں سے حاصل کروں گا، حلال طریقے سے یا حرام سے؟ درحقیقت پیسہ ہی پرسکون زندگی گزارنے کے لیے ضروری نہیں، اس سے بڑھ کر ایک چیز ہی، وہ ہے قلبی سکون جو صرف اللہ کے ذکر اور حلال کمائی اور ایمانداری سے ہی حاصل ہوسکتا ہے نہ کہ حرام سے۔
گزشتہ کچھ برسوں سے ہمارے ملک میں لینڈ مافیا جس قدر سرگرم دکھائی دے رہا ہے اس سے قبل شاید ہی اس کی نظیر ملتی ہو۔ لینڈ مافیا ناجائز طریقے سے دوسروں کی املاک پر قبضہ کرکے اسے فروخت کرتا اور خوب روپے پیسے کماتا ہے، اور ظاہر سی بات ہے کہ اوپر والوں کو بھی ان کا حصہ ملتا ہوگا جب ہی تو وہ خاموش ہیں۔ لینڈ مافیا تو بہت بڑے پیمانے پر کام کرتا ہے، لیکن ہمارے اردگرد بھی اسی طرز کے کام ہوتے دکھائی دیتے ہیں جسے ہم ناجائز قبضہ یا غصب وغیرہ کہتے ہیں۔ ’غصب‘ زمین سے لے کر ایک چھوٹی سی چیز میں بھی ہوسکتا ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے غصب کرنے والوں کے متعلق سخت وعیدیں بیان کی ہیں۔ ”غصب“ کے معنی چھیننے کے ہیں۔ علماءنے غصب کی اصطلاحی تعریف یوں بیان کی ہی: ”چوری کے بغیر ازراہِ ظلم و جور کسی کا مال زبردستی چھین لینا“۔ (اخذ الشئی ظولماً) ایسے شخص کو جو کسی کی کوئی چیز زبردستی چھین لے یا ہڑپ کرلے ”غاصب“ کہتے ہیں، اور اس چھینی ہوئی یا ہڑپ کی ہوئی چیز کو ”مغصوب“ کہا جاتا ہے۔
حضرت سعید ابن زیدؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کی بالشت بھر زمین بھی ازراہِ ظلم لے گا قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں بطور طوق ڈالی جائے گی۔ (بخاری و مسلم) کسی کی کوئی بھی چیز خواہ وہ زیادہ قیمتی ہو یا کم، زور زبردستی چھین لینا یا ہڑپ کرلینا نہ صرف سماجی طور پر ایک ظلم اور اخلاقی طور پر ایک بھیانک برائی ہے بلکہ شرعی طور پر بھی انتہائی سخت جرم اور گناہ ہے۔ اسلام نے انسانی حقوق کے تحفظ کا جو اعلیٰ تصور پیش کیا ہے اور اسلامی شریعت نے حقوق العباد پر ڈاکا ڈالنے والوں کو سخت سزاﺅں اور عقوبتوں کا مستوجب گردانا ہے، یہ حدیث اس کا ایک نمونہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو کوئی دوسرے کی زمین کا ایک بالشت بھر حصہ بھی زبردستی ہتھیائے گا اسے اس کے ظلم و جور کی یہ سزا دی جائے گی کہ قیامت کے دن زمین کا صرف وہی حصہ نہیں جو وہ غصب کرے گا، بلکہ ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین لے کر اس کے گلے میں بطور طوق ڈال دی جائے گی۔
شرح السنہ میں ”طوق ڈالنے“ کا یہ مفہوم بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص کسی کی زمین کا بالشت بھر حصہ بھی غصب کرے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے زمین میں دھنسائے گا، چنانچہ زمین کا وہ قطعہ جو اس نے غصب کیا ہوگا اس کے گلے کو طوق کی مانند پکڑے گا۔ (مظاہر حق) حضرت سالمؓ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی بیان کیا کہ ”جو شخص زمین کا کوئی حصہ بھی ناحق لے گا (یعنی کسی کی زمین کا کوئی بھی قطعہ ازراہ ظلم و زبردستی لے گا) تو قیامت کے دن اسے زمین کے ساتویں طبقہ تک دھنسایا جائے گا“۔ (بخاری) مسند احمد کی ایک حدیث ہے کہ حضرت یعلیٰ ابن مرةؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”جو شخص زمین کا کوئی بھی حصہ ناحق لے گا، اسے حشر کے دن اس بات پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس زمین کی (ساری) مٹی اپنے سر پر اٹھائے۔“ حضرت یعلیٰ ابن مرة سے ہی ایک اور روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (کسی کی) بالشت بھر بھی زمین ازراہ ظلم لے گا اسے (اس کی قبر میں) اللہ تعالیٰ اس بات پر مجبور کرے گا کہ وہ اس زمین کو ساتویں طبقہ زمین تک کھودتا رہے، پھر وہ زمین اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالی جائے گی اور وہ قیامت تک اسی حالت میں رہے گا حتیٰ کہ قیامت کے دن لوگوں کا حساب کتاب ہوجائے گا۔“
یہ تمام احادیث ِمبارکہ ازراہِ ظلم زمین غصب کرنے والے شخص کی سزاﺅں کے بیان میں ہیں، ان احادیث میں غاصب کی سزاﺅں کا تعین اور بیان کیا گیا ہے کہ غاصب کو قبر میں اتارتے وقت سے اس کے گناہ کے مثل سزا دینا شروع کردی جائے گی۔ آخر الذکر حدیث کے بیان کے مطابق وہ شخص قبر میں زمین ہی کھودنا شروع کردے یہاں تک کہ وہ ساتویں زمین تک پہنچی، اور جب وہ ساتویں زمین پر پہنچ جائے گا تو یہ ساتوں زمینیں اس کے گلے میں طوق بناکر ڈالی جائیں گی اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔ اس سے پہلے والی حدیث میں حشر کے میدان کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے کہ غاصب کو حشر کے میدان میں اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ اس زمین کی ساری مٹی کو اپنے سر پر اٹھائے۔ اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ ان کے اعمال کے مطابق سلوک کرتا ہے۔ جو جیسا عمل کرے گا اسے ویسی ہی سزا و جزا ملے گی، اگر کوئی شخص اس دنیا میں اللہ کی صفات کو اختیار کرتے ہوئے لوگوں کی غلطیوں کو معاف کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت ِ وسیع سے اس کے گناہ اور خطاﺅں سے درگزر فرما دیتے ہیں۔
اگر کوئی شخص تنگ دستوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرماتا ہے تو بروز قیامت اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بھی نرمی کا معاملہ فرمائیں گے۔ جو شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے بروزِ قیامت اللہ اسے اس عمل کے بدلے 70 گنا زیادہ عطا فرمائیں گے۔ اِس طرح اس دنیا میں جو شخص جیسا عمل کرتا ہے بروز قیامت اللہ عزوجل بھی اس کے ساتھ وہی معاملہ فرماتے ہیں۔ جو شخص اس عارضی دنیا میں اللہ کی صفت قہاریت و جباریت اپنانے کی کوشش کرے گا بروز قیامت اللہ اس کے ساتھ بھی قہار و جبار بن کر معاملہ فرمائیں گے۔ کوئی دنیا میں غیبت کے مرض میں مبتلا تھا تو قیامت کے دن بطور سزا وہ کچا گوشت کھائے گا کہ غیبت کرنا اپنے موردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔ اسی طرح جو شخص اس دنیا میں ناحق ظلم کرتے ہوئے غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی زمین پر قبضہ کرکے فائدہ اٹھائے گا اور ان غریبوں کو ان کے حق سے محروم کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص پر بطور عذاب یہی زمین طوق (پھانسی کے پھندی) کے طور پر پہناکر عذاب دیں گے کہ یہی وہ زمین کا ٹکڑا ہے جو تو نے کسی کا حق مار کر حاصل کرکے اس سے فائدہ اٹھایا تھا، آج یہی زمین کا ٹکڑا تیرے لیے عذاب کا ذریعہ بن رہا ہے۔ بعض لوگوں میں یہ مرض دیکھا گیا ہے کہ وہ اعلانیہ طور پر تو کسی کی کوئی چیز غصب نہیں کرتے لیکن کسی حیلے بہانے یا کوئی چال کرکے اس کی چیز پر قبضہ کربیٹھتے ہیں۔
حقیقت میں یہ بھی غصب کے زمرے میں آتا ہے۔ حضرت صائب بن یزیدؓ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بھائی کا عصا (لاٹھی) ہنسی مذاق میں اس مقصد سے نہ لے کہ وہ اس کو رکھ لے گا۔ جو شخص اپنے کسی بھائی سے عصا (لاٹھی) لے تو اسے واپس کردینا چاہیے“۔ (ترمذی و ابو داﺅد) اس حدیث میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ دھوکے بازی سے کوئی چیز حاصل کرنا اسلام کی نظر میں درست نہیں ہے۔ یہ چیز بہت عام ہوچکی ہی، معاشرے میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ یہ معاملہ دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ہی پیش آتا ہے کہ ہم ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ اس حدیث میں لاٹھی کا ذکر بطریق مبالغہ ہے کہ اگر ایک معمولی لاٹھی کا لینا ممنوع ہے تو اس سے زیادہ حیثیت اور مالیت کی چیز لینا تو بطریق اولیٰ ممنوع ہوگا۔ مالِ مغصوب کا حکم یہ ہے کہ اگر مال موجود ہو تو اس کی واپسی واجب ہوگی اور اگر اس مال یا چیز میں کوئی بہت بڑی تبدیلی آگئی ہو تو وہ بھی مال کے ہلاک (ختم) ہونے کے حکم میں آئے گی اور اس صورت میں بھی مالک کو اختیار ہے کہ اس کا بدل لے لے اور یہ تبدیل شدہ چیز غاصب کو دے دے یا اس حالت میں قبول کرلی، اور اس تبدیلی کی وجہ سے جو نقص پیدا ہوا ہے اس کا ہرجانہ وصول کرلے۔
اگر مقبوضہ زمین پر قابض نے مکان بنادیا یا درخت لگادیا تو قابض سے کہا جائے گا کہ وہ درخت اور مکان کو وہاں سے اکھاڑ لی، اور اگر درخت کے اکھاڑنے یا عمارت کو منہدم کرنے میں زمین کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے تو مالکِ زمین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کھڑی ہوئی حالت میں درخت کی اور منہدم حالت میں عمارت کے ملبہ کی جو قیمت بنتی ہے ادا کرکے عمارت اور درخت کا مالک ہوجائے۔ اگر زمین پر قبضہ کرکے اس پر کاشت کی گئی تو اگر مالک ِزمین نے کاشت ہی کے لیے زمین رکھی تھی تو ان دونوں کے درمیان بٹائی کا معاملہ تصور ہوگا، اور اس علاقے کے عرف و رواج کے مطابق دونوں کے حصص مقرر ہوں گے۔ اور اگر وہ زمین کرایہ پر لگایا کرتا تھا تو اس کی معروف اجرت ادا کرنی ہوگی۔ اگر کسی مسلمان کی شراب غصب کرکے اس کو ضائع کردیا گیا تو غاصب مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس کا ضمان واجب نہیں، کیونکہ شراب مسلمان کے حق میں مال نہیں۔ اگر غیر مسلم کی شراب ضائع کردی تو ضمان واجب ہوگا کیونکہ شراب غیر مسلموں کے حق میں مال ہے۔
یہی حکم خنزیر کا بھی ہے (یہاں ایک شرعی مسئلہ ہے کہ مسلمان کبھی بھی حرام چیز کا مالک نہیں بن سکتا اگرچہ وہ پیسوں سے ہی کیوں نہ خریدے جیسے شراب، خنزیر اور آلات ِموسیقی وغیرہ) غصب کی ہوئی زمین یا کسی بھی چیز کا استعمال مطلقاً گناہ ہے، اس لیے ایسی زمین پر نماز پڑھنا بالاجماع حرام ہے، البتہ نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی۔
ناحق قبضہ یا ”غصب“ (عابد علی جوکھیو)