آج 3 مئی 2011 کو پاکستان ریلوے پورے 150 سال کا ہو گیا کیونکہ اس خطہ میں ریلوے کی سب سے پہلی پٹڑی 03 مئی 1861 کو بچھائی گئی تھی۔ وہ سیکشن جہاں 150 سال قبل پٹڑی بچھا کر ریلوے کا آغآز کیا گیا تھا وہ کراچی-کوٹری کا 175 میل کا فاصلہ تھا۔ چونکہ میں اس سے قبل بھی پاکستان ریلوے کے متعلق بہت کُچھ لکھ چُکا ہوں اس لیے میں ان تفصیلات میں نہیں پڑوں گا، اس کے بر عکس میں اس بات کا احاطہ کرنے کی کوشش کروں گا کہ پاکستان ریلوے کیا ہو سکتا تھا اور اب بھی کیا بن سکتا ہے۔

(بلوچستان کے علاقے بولان پاس میں ایک سرنگ کا بیرونی منظر)
ہم جانتے ہیں کہ پاکستان ریلوے ، پاکستان نے ان بہت سے محکموں میں سے ایک ہے جو خطرے میں ہیں۔ اس کا انفراسٹرکچر کئی جگہوں پر 150 سال پرانا ہے اور اس بات کی شدت سےضرورت ہے کہ ان پرانے حصوں کو بحال کیا جائے۔"رولنگ سٹاک" اپنی پرانی کوچز اور بوسیدہ انجنوں کی وجہ سے "لافنگ سٹاک" بن چُکا ہے۔درج ذیل میں 1953 میں شائع شدہ ایک اشتہار۔
میری رائے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سے پہلے کراچی-پشاور روٹ اور سکھر-کوئٹہ-زاہدان روٹ پر پٹڑیوں کو بحال کیا جائے۔ پاکستان ریلوے سامان کی ترسیل کا کام با آسانی سنبھال سکتی ہے بہ نسبت روڈ ٹرانسپورٹ کے، اس طرح پاکستان ریلوے کے پاس قابل ذکر آمدنی کے وسائل حاصل ہونا شروع ہو جائیں گے۔مجھے معلوم ہے یہ کہنا کرنے کی نسبت بہت آسان ہے کیونکہ گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان کا روڈ سٹریکچر بہت زیادہ بہتر ہو چُکا ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان ریلوے کا انفرا سٹرکچر مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔اس لیے کہ ایک تاجر اپنا سامان تب تک ریلوے کے حوالے نہیں کرے گا جب تک ریلوے خود کو روڈ سٹریکچر کے مقابلے میں بہتر ثابت نہیں کر دیتا۔تاہم چونکہ پاکستان ریلوے حکومتی ادارہ ہے اس لیے یہ بھی نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی طرح حکومتی مدد سے اپنے انفرا سٹرکچر کو بہتر کر سکتا ہے۔درج ذیل میں فرانس سے درآمد شدہ انجن کو بحری جہاز سے اتارا جا رہا ہے۔
ایک اور نہج جس پر میں بات کرنا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ پاکستان ریلوے سیاحت کے سلسلے میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان ریلوے کے کئی حصے مثلاً "خیبر پی کے" اور بلوچستان سیکشن ریلوے کے اعتبار سے انجنیرئنگ اور تعمیرات کے شاہکار ہیں ۔ اور ان کو استعمال کر کے دنیا کے دور دراز حصؤں سے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچا جا سکتا ہے۔ ابھی بظاہر یہ بہت دور کی سوچ لگتی ہے لیکن مسافروں کو مناسب تحفظ اور آرام دہ سفر دے کر اس کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ابھی چند سال قبل تک پاکستان دنیا کے اُن چند ممالک میں سے تھا جہاں سٹیم انجن ابھی تک کام کر رہے تھے۔ دنیا کے مختلف گوشوں سے سیاح ان قدیم اور انوکھے سٹیم انجنوں پر سفر کا لطف اُٹھانے کے لیے آیا کرتے تھے۔

(سبی اور مچھ کے درمیان گزرتی ایک ٹرین کا منظر)
ابھی چند ماہ قبل ایک افسوس ناک خبر سُننے کو ملی تھی کہ لاہور-خانیوال سیکشن میں موجود "الیکٹرک ٹرین" چلانے والا سیکشن ختم کیا جا رہا ہے۔ اس خبر نے دل اداس کیا ۔ کیونکہ میرے ایک کزن کی بھی 1960 کی دہائی میں اس الیکٹرک ماڈل کو کھڑا کرنے میں محنت شامل تھی۔ اب اس کو یوں ٹوٹتے بکھرتے دیکھ کر دل مسوم کر رہ جاتا ہے
میری اپنے ساتھیوں سے درخؤاست ہے کہ جب بھی وہ ٹرین کا سفر کریں تو اسکا خیال رکھا کریں، ہر جگہ گند اور اسکی دیواروں پر سیاسی نعرے لکھنے سے گریز کیا کریں۔ کیونکہ ریلوے ہمارا سرمایہ ہے اور اس کو محفوظ کرنا ہماری کوشش ہونا چاہیے
بشکریہ:
پاکستانیات اور اویس مغل