واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان




پاکستان کا مانچسٹر،

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-01-11, 09:59 PM   #1
پاکستان کا مانچسٹر،
رانا امر رانا امر آف لائن ہے 04-01-11, 09:59 PM

اسلام وعلیکم:
دوستوں آج سے میں آپ کو اپنے خوبصورت شہر کی سیرکرواتا ہوں ،
فیصل آباد پاکستان کے عظیم قوال و موسیقار نصرت فتح علی خان کا شہر ہے۔ اپنے دیہاتی تمدن کی وجہ سے ایک وقت تک اسے ایشیا کا سب سے بڑا گاؤں کہا جاتا تھا، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ وہ ایک عظیم شہر بن کر سامنے آیا ہے اور اب اسے کراچی اور لاہور کے بعد پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
نام:
1 پکا ماڑی (پکی ماڑی) - 1890ء کے لگ بھگ طارق آباد کے قریب واقع شہر کی سب سے قدیم بستی
2 ساندل بار - لائلپور کے قیام سے قبل یہ زرخیز میدانی علاقہ ساندل بار کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔
3 لائلپور - 1896ء میں جھنگ کی تحصیل کے طور پر لائلپور کے نام سے شہر کا باقاعدہ قیام عمل میں آیا۔
4 فیصل آباد - 1985ء میں ڈویژنل صدر مقام بناتے وقت سعودی فرمانروا شاہ فیصل شہید کے نام سے موسوم کیا گیا۔
تاریخ
شہر فیصل آباد کی تاریخ صرف ایک صدی پرانی ہے۔ آج سے کم و بیش 100 سال پہلے جھاڑیوں پر مشتمل یہ علاقہ مویشی پالنے والوں کا گڑھ تھا۔ 1892ء میں اسے جھنگ اور گوگیرہ برانچ نامی نہروں سے سیراب کیا جاتا تھا۔ 1895ء میں یہاں پہلا رہائشی علاقہ تعمیر ہوا، جس کا بنیادی مقصد یہاں ایک منڈی قائم کرنا تھا۔ ان دنوں شاہدرہ سے شورکوٹ اور سانگلہ ہل سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مابین واقع اس علاقے کو ساندل بار کہا جاتا تھا۔ یہ علاقہ دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان واقع دوآبہ رچنا کا اہم حصہ ہے۔ لائلپور شہر کے قیام سے پہلے یہاں پکا ماڑی نامی قدیم رہائشی علاقہ موجود تھا، جسے آجکل پکی ماڑی کہا جاتا ہے اور وہ موجودہ طارق آباد کے نواح میں واقع ہے۔ یہ علاقہ لوئر چناب کالونی کا مرکز قرار پایا اور بعد ازاں اسے میونسپلٹی کا درجہ دے دیا گیا۔

موجودہ ضلع فیصل آباد انیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ، جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ جھنگ سے لاہور جانے والے کارواں یہاں پڑاؤ کرتے۔ اس زمانے کے انگریز سیاح اسے ایک شہر بنانا چاہتے تھے۔ اوائل دور میں اسے چناب کینال کالونی کہا جاتا تھا، جسے بعد میں پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل سر جیمز بی لائل کے نام پر لائلپور کہا جانے لگا۔

* 1896ء میں گوجرانوالہ، جھنگ اور ساہیوال سے کچھ علاقہ الگ کر کے اس پر مشتمل لائلپور تحصیل قائم ہوئی جسے انتظام و انصرام کے لئے ضلع جھنگ میں شامل کر دیا گیا۔
* 1902ء میں اس کی آبادی 4 ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔
* 1903ء میں گھنٹہ گھر کی تعمیر کا آغاز ہوا اور وہ 1906ء میں مکمل ہوا۔
* 1904ء میں ضلع کا درجہ دیا گیا، اس سے قبل یہ ضلع جھنگ کی ایک تحصیل تھا۔
* 1906ء میں لائلپور کے ضلعی ہیڈکوارٹر نے باقاعدہ کام شروع کیا۔ یہی وہ دور تھا جب اس کی آبادی سرکلر روڈ سے باہر نکلنے لگی۔
* 1908ء میں یہاں پنجاب زرعی کالج اور خالصہ سکول کا آغاز ہوا، جو بعد ازاں بالترتیب زرعی یونیوررسٹی اور خالصہ کالج کی صورت میں ترقی کر گئے۔ خالصہ کالج آج بھی جڑانوالہ روڈ پر میونسپل ڈگری کالج کے نام سے موجود ہے۔
* 1909ء میں ٹاؤن کمیٹی کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دے دیا گیا اور ڈپٹی کمشنر کو پہلا چیئرمین قرار دیا گیا۔
* 1910ء میں پنجاب کے نہری نظام کی قدیم ترین اور مشہورنہر لوئر چناب تعمیر ہوئی۔
* 1920ء میں سرکلر روڈ سے باہر پہلا باقاعدہ رہائشی علاقہ ڈگلس پورہ قائم ہوا۔
* 1930ء میں یہاں صنعتی ترقی کا آغاز ہوا۔
* 1934ء میں مشہورِ زمانہ لائلپور کاٹن ملز قائم ہوئی۔
* 1943ء قائد اعظم محمد علی جناح فیصل آباد تشریف لائے اور انہوں نے دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں عظیم الشان اجتماع سے خطاب کیا۔
* 3 مارچ 1947ء کو قیام پاکستان کا اصولی فیصلہ اور لائلپور کی پاکستان میں شمولیت بارے خبر ملنے پر لائلپور کے مسلمانوں نے شکرانے کے نوافل ادا کئے اور مٹھایاں بانٹیں۔
* 1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس کے باعث شہر کا رقبہ بھی وسعت اختیار کر گیا۔ قیامِ پاکستان کے وقت شہر کا رقبہ صرف 3 مربع میل تھا، جو اب 10 مربع میل سے زیادہ ہو چکا ہے۔ بہت سے نئے رہائشی علاقے بھی قائم ہوئے، جن میں پیپلزکالونی اور غلام محمدآباد جیسے بڑے علاقے بھی شامل ہیں۔
* 1977ء میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر لائلپور کو میونسپلٹی سے ترقی دے کر میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا گیا۔
* 1985ء میں اسے ضلع فیصل آباد، ضلع جھنگ اور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ پر مشتمل ڈویژنل صدر مقام قرار دیا گیا۔ اسی موقع پر اس کا نام لائلپور سے تبدیل کرتے ہوئے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل شہید کے نام پر فیصل آباد رکھ دیا گیا۔
* 2005ء میں یہاں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نظام لاگو کیا گیا۔

گھنٹہ گھر


گھنٹہ گھر، فیصل آباد کا مرکز

فیصل آباد کی اہم خصوصیت شہر کا مرکز ہے، جو ایک ایسے مستطیل رقبے پر مشتمل ہے، جس کے اندر جمع اور ضرب کی اوپر تلے شکلوں نے اسے 8 حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اس کے درمیان میں، جہاں آ کر آٹھوں سڑکیں آپس میں ملتی ہیں، مشہورِ زمانہ گھنٹہ گھر کھڑا ہے۔ گھنٹہ گھر کے مقام پر ملنے والی آٹھوں سڑکیں شہر کے 8 اہم بازار ہیں، جن کی وجہ سے اسے آٹھ بازاروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ گھنٹہ گھر سے شروع ہو کر بیرونی طرف پھیلتے ہوئے بازار اس جگہ کو برطانوی پرچم کی شکل دیتے ہیں، جو سر جیمز لائل نے اپنے ملک کی یادگار کے طور پر یہاں چھوڑا ہے۔

گھنٹہ گھر کی تعمیر کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر جھنگ کیپٹن بیک (Capt Beke) نے کیا اور اس کا سنگ بنیاد 14 نومبر 1903ء کو سر جیمز لائل نے رکھا۔ جس جگہ کو گھنٹہ گھر کی تعمیر کے لئے منتخب کیا گیا وہاں لائلپور شہر کی تعمیر کے وقت سے ایک کنواں موجود تھا۔ اس کنوئیں کو سرگودھا روڈ پر واقع چک رام دیوالی سے لائی گئی مٹی سے اچھی طرح بھر دیا گیا۔ یونہی گھنٹہ گھر کی تعمیر میں استعمال ہونے والا پتھر 50 کلومیٹر کی دوری پر واقع سانگلہ ہل نامی پہاٹی سے لایا گیا۔

1906ء کے اوائل میں گھنٹہ گھر کی تعمیر کا کام گلاب خان کی زیرنگرانی مکمل ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ گلاب خان کا تعلق اسی خاندان سے تھا، جس نے بھارت میں آگرہ کے مقام پر تاج محل تعمیر کیا تھا۔ گھنٹہ گھر 40 ہزار روپے کی لاگت سے 2 سال کے عرصے میں تعمیر ہوا۔ اس کی تکمیل پر ایک تقریب کا انعقاد ہوا، جس کے مہمانِ خصوصی اس وقت کے مالیاتی کمشنر پنجاب مسٹر لوئیس تھے۔

گھنٹہ گھر میں نصب کرنے کے لئے گھڑی بمبئی سے لائی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ لائلپور کا گھنٹہ گھر ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں تعمیر کیا گیا، جو 80 سال قبل فوت ہو چکی تھیں۔ گھنٹہ گھر کی تعمیر سے پہلے شہر کے آٹھوں بازار مکمل ہو چکے تھے۔

برطانوی پرچم یونین جیک پر مبنی فیصل آباد شہر کا نقشہ اس دور کے ماہرتعمیرات ڈیسمونڈ ینگ (Desmond Yong) نے ڈیزائن کیا، جو درحقیقت سرگنگا رام کی تخلیق تھا، جو اس دور کے مشہور آبادیاتی منصوبہ ساز (town planner) تھے۔

آٹھ بازاروں پر مبنی شہر کا کل رقبہ 110 مربع ایکڑ تھا۔ گھنٹہ گھر کے مقام پر باہم جڑنے کے علاوہ یہ آٹھوں بازار گول بازار نامی دائرہ شکل کے حامل بازار کی مدد سے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ یونین جیک کی بیرونی مستطیل آٹھوں بازاروں کے آخری سروں کو بھی سرکلر روڈ کی شکل میں آپس میں ملاتی ہے۔

گھنٹہ گھر کی تعمیر کے وقت اس کے گرد 4 فوارے بنائے گئے تھے، جو کچہری بازار، امیں پور بازار، جھنگ بازار اور کارخانہ بازار کی سمت موجود تھے اور انہیں آٹھوں بازاروں میں سے دیکھا جا سکتا تھا، مگر مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ ان میں سے 2 فوارے غائب ہو چکے ہیں۔ اب صرف کچہری بازار اور جھنگ بازار کی سمت والے فوارے قائم ہیں۔

اگرچہ 100 سال گزرنے کے باوجود گھنٹہ گھر کی بیرونی حالت درست حالت میں ہے، تاہم اس کی اندرونی حالت شکست و ریخت کا شکار ہے۔ اگر اس کی مرمت پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو اہل فیصل آباد زلزلے کے کسی چھوٹے جھٹکے سے ایک اہم تاریخی ورثے سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

گھنٹہ گھر کی اندرونی سیڑھیوں اور ستونوں کا پلستر ٹوٹنا شروع ہو چکا ہے۔ سیاح اس کی اڑی ہوئی رنگت اور ہر طرف اڑتی ہوئی دھول سے پریشان ہوتے ہیں۔
آٹھ بازار

گھنٹہ گھر کے گرد قائم 8 بازاروں کے نام اس سمت واقع کسی اہم علاقے کی غمازی کرتے ہیں۔
1. ریل بازار - اس کی بیرونی سمت ریلوے روڈ واقع ہے، جو ریلوے اسٹیشن کو جا نکلتا ہے۔
2. کچہری بازار - اس کی بیرونی طرف عدالتیں قائم ہیں۔
3. چنیوٹ بازار - اس طرف ضلع جھنگ کی تحصیل چنیوٹ ( جو اب ضلع بن چکا ہے) واقع ہے۔
4. امیں پور بازار - یہاں سے ایک سڑک امیں پور بنگلہ کی طرف جاتی ہے۔
5. بھوانہ بازار - اس سمت میں بھوانہ واقع ہے۔
6. جھنگ بازار - اس بازار کا رخ جھنگ کی طرف ہے۔
7. منٹگمری بازار - اس بازار کا نام ساہیوال کے پرانے نام منٹگمری کی وجہ سے رکھا گیا، جو اسی سمت واقع ہے۔
8. کارخانہ بازار - اس جانب قدیم دور میں کارخانے قائم تھے، جن میں سے چند ایک اب بھی باقی ہیں۔
آٹھ بازاروں کی کہاوت
قیام پاکستان کے موقع پر انگریزوں کا یہ کہنا تھا کہ وہ لائلپور کے آٹھ بازاروں کی صورت میں اپنی شناخت، برطانوی پرچم (یونین جیک) ہمیشہ کے لئے اس خطے میں امر کر کے جا رہے ہیں، جبکہ ردعمل میں یہاں کے باسیوں کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ برطانیہ کے پرچم کو صبح و شام اپنے قدموں تلے روندھتے رہیں گے۔
جغرافیہ
پاکستان کے نقشے میں فیصل آباد کا مقام

فیصل آباد صوبہ پنجاب (پاکستان) کے شمال مشرقی حصے میں لاہور سے 120 کلومیٹر دور مغرب کی سمت واقع ہے۔ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد اس سے 360 کلومیٹر دور شمال کی سمت واقع ہے۔ ضلع فیصل آباد 30.35 سے 31.47 شمالی عرض بلد اور 72.73 سے 73.40 مشرقی طول بلد کے درمیان سطح سمندر سے 605 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ فیصل آباد کی نواحی اضلاع کے ساتھ کوئی قدرتی حدود موجود نہیں ہیں اور یہ بالعموم میدانی خطے پر مشتمل ہے۔
حدودِ اربعہ

* مشرق میں ضلع ننکانہ صاحب واقع ہے۔
* مغرب میں جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے اضلاع واقع ہیں۔
* شمال کی سمت چنیوٹ(یہ شہربھی میرا ہے( اور ننکانہ صاحب کے اضلاع واقع ہیں۔
* جنوب میں دریائے راوی کے اس پار ضلع اوکاڑہ اور ساہیوال واقع ہے۔

آبی ذخائر

* دریائے چناب شہر کی شمال مغربی سمت میں 30 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔
* دریائے راوی شہر کی جنوب مشرقی سمت میں 40 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔
* نہر لوئر چناب آب رسانی کا واحد ذریعہ ہے، جو قابل کاشت رقبے کے 80 فیصد حصے کو سیراب کرتی ہے۔

رقبہ

* فیصل آباد کا کل رقبہ 5,856 مربع کلومیٹر ہے، جس میں سے 830 مربع کلومیٹر پر فیصل آباد شہر قائم ہے۔

آب و ہوا

ضلع فیصل آباد کی آب و ہوا دو انتہاؤں کو چھوتی ہے۔ گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 50 سینٹی گریڈ (122 فارن ہائیٹ) تک جا پہنچتا ہے اور سردیوں میں کبھی کبھار درجہ حرارت صفر تک گر جاتا ہے۔ تاہم یومیہ اوسط درجہ حرارت گرمیوں میں 39 سے27 سینٹی گریڈ اور سردیوں میں 21 سے 6 سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے۔
موسم گرما

موسم گرما اپریل سے شروع ہو کر اکتوبر تک ختم ہوتا ہے۔ مئی، جون اور جولائی کے مہینوں میں گرم ترین موسم ہوتا ہے۔

موسم سرما

موسم سرما کا آغاز ماہ نومبر میں ہوتا ہے، جو مارچ تک جاری رہتا ہے۔ دسمبر اور جنوری سردترین مہینے ہوتے ہیں۔

آبادی

آبادی کے لحاظ سے فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ صنعتی شہر ہونے کی وجہ سے اس کی آبادی دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ بےشمار لوگوں نے زندگی کی بہتر سہولیات کی تلاش میں دیہات چھوڑ کر شہر کی طرف ہجرت کی اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس وقت شہر کی آبادی 19,86,000 ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق 46 فیصد آبادی 15 سال سے کم عمر، 52 فیصد 15 سے 64 سال کی عمر میں اور باقی 2 فیصد 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد پر مشتمل ہے۔ آبادی کا تناسب فی مربع کلومیٹر 9,594 ہے۔

1961ء میں فیصل آباد کی آبادی 4,30,000 تھی، جو 1972ء تک بڑھ کر 8,30,000 کو جا پہنچی اور 1981ء میں یہاں کل 11,00,000 سے زیادہ نفوس آباد تھے۔ 2006ء میں فیصل آباد کی آبادی45,82,1 75 نفوس پر مشتمل تھی۔ 47 سالوں میں فیصل آباد کی آبادی میں ایک ہزار گنا اضافہ ہو چکا ہے، جس کی سالانہ شرح 21.3 فیصد ہے۔ آبادی کے اسی تیزی سے بڑھتے ہوئے تناسب نے اسے جلد ہی کراچی اور لاہور کے بعد پاکستان کا سب سے بڑا شہر بنا دیا۔
حکومت

2005ء میں ملک کے دوسرے بڑے شہروں ی طرح یہاں بھی سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نظام لاگو کیا گیا، جس کے مطابق اسے 8 مختلف ٹاؤن میں تقسیم کر دیا گیا۔ [2]

* لائلپور ٹاؤن (شہر کا مرکزی حصہ)
* جناح ٹاؤن (شہر کا شمالی حصہ)
* مدینہ ٹاؤن (شہر کا جنوب مشرقی حصہ)
* اقبال ٹاؤن (شہر کا جنوب مغربی حصہ)
* سمندری ٹاؤن (سابقہ تحصیل سمندری)
* جڑانوالہ ٹاؤن (سابقہ تحصیل جڑانوالہ)
* تاندلیانوالہ ٹاؤن (سابقہ تحصیل تاندلیانوالہ)
* چک جھمرہ ٹاؤن (سابقہ تحصیل چک جھمرہ)

علم و سائنس
زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد
نامکلمل

Attached Images
 

__________________
اپنی موت آسان بناناچاہتے ہوتو لوگوں کی زندگی آسان بنادو۔

Last edited by رانا امر; 05-01-11 at 06:59 PM..

 
رانا امر's Avatar
رانا امر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 833
شکریہ: 4,245
514 مراسلہ میں 1,420 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 245
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے رانا امر کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (03-03-11), فیصل ناصر (04-01-11), پاکستانی (04-01-11), ھارون اعظم (04-01-11), یاسر عمران مرزا (05-01-11), ام حازم (05-01-11), شاہ بھائی (05-01-11), عروج (03-03-11)
پرانا 03-03-11, 06:50 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واہ۔ کیا زبردست سیر کرائی۔ فیصل آباد کی کہ بچپن یاد آ گیا۔۔۔۔۔ شکریہ اچھی معلومات بہم پہنچانے پر۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-03-11, 06:56 PM   #3
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مقام: خواب نگر
مراسلات: 13
کمائي: 315
شکریہ: 0
6 مراسلہ میں 13 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھی معلومات دیں ہیں‌آپ نے فیصل آباد کے بارے میں
اسما آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-03-11, 07:02 PM   #4
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,685
شکریہ: 873
1,315 مراسلہ میں 2,843 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی معلومات وہ بھی اتنی تفصیل کے ساتھ ۔ ۔ شکریہ
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-03-11, 07:49 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 762
کمائي: 15,424
شکریہ: 2,138
583 مراسلہ میں 1,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تصویر کے بیک گراونڈ میں موجود یادگار دبئی کے گھنٹہ گھر سے مشابہت رکھتا ہے۔
dxbgraphics آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, کلومیٹر, کنوئیں, کالج, کراچی, ٹیک, پاکستان, نظر, مکمل, موقع, موجودہ, منصوبہ, آبادی, آج, اسلام, تاج, ترمیم, خان, خبر, زمانہ, سال, شہر, صدی, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
چیف منسٹر بلوچستان! shafresha سیاسی تصاویر اور ویڈیوز 26 13-09-10 08:09 PM
پاکستان اورآسٹریلیا کا اہم میچ آج ہوگا گلاب خان کرکٹ 4 01-10-09 02:01 AM
پاکستان آج آسٹریلیا کے مقابل محمدعدنان کرکٹ 0 30-09-09 08:22 AM
کر کٹ آسٹریلیا کا وفدعام انتخابات کے بعد پاکستان آئے گا عبدالقدوس خبریں 0 24-12-07 04:34 PM
آسٹریلیا کی اے کرکٹ ٹیم ٢٢ روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئی ، پاکستان آسان حریف نہیں ہو گا ۔ میچز دلچسپ ہوں گے۔ آسٹریلوی ٹیم مینجر خرم شہزاد خرم کرکٹ 0 03-09-07 10:44 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:22 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger