شعیب صفدر کے بلاگ سے خصوصی تحریر۔
ایک طرف تو ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہوں نے دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہے۔ کراچی میں اگر آپ کہیں کسی شاہراہ پر افطار کے وقت ہوں تو آپ کو بے شمار لوگ اللہ کی خوشنودی کے لئے روزہ دار کے انتطار میں روزہ افطار کروانے کے لئے نظر آئیں گے! صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے اور ثواب کا لالچ میں۔
اس ہی طرح ایسےبھی افراد کی تعداد بھی بے شمار ہے جو چیریٹی کے نام پر لوٹ مار کرتے ہیں! خواہ وہ مذہب کے نام پر ہو یا سیاست کے پردے میں! چلتی گاڑیوں میں کسی دور دراز کی مسجد و مدرسے کے نام پر چندہ لینا، اپنی مظلومیت و پریشانی کی روداد سنا کر پیسے مانگنا اور بھتہ سے فطرے تک کا سفر بھی ہم نے اپنے شہر میں ہوتا دیکھا! مقصد روپیہ ہے خلق کی خدمت نہیں!
ملک میں سیلاب آ گیا ہے! کوئی شک نہیں اپنوں کو مدد کی ضرورت ہے اور امداد ہمارا فرض ہے مگر ایسے میں بھی کچھ بُری خبریں دل کو دُکھ دیتی ہیں!
جب سے یار لوگوں کو معلوم ہوا ہے کہ بیرونی امداد حکومت کے بجائے پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے خرچ کی جائے گی، امدادی رقم کے تخمینے اور طریقہ استعمال بھی ایجاد کیئے جانے لگ پڑے ہیں! یار لوگ علاقے کے رجسٹرار اور ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں اپنا ٹرسٹ اور نئی این جی او رجسٹر کروانے پہنچ گئے ہیں! اور متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار رشوت کے نام پر 20 سے 50 ہزار روپے طلب کر رہے ہیں!! اور دینے والے خوشی خوشی دے رہے ہیں کہ بعد میں سود سمیت واپس لے لیں گے!! اس عمل میں وزیر و مشیر اور اُن کے اہل خانہ، میڈیا کے افراد، مذہبی گروپ اور عام افراد میں سے موقع پرست سب ہی شامل ہے! اس بات کا مشاہدہ ہمیں گزشتہ دنوں ایک ویلفیئر آرگنائزیشن کی رجسٹریشن کے موقع پر ہوا!
امداد کو لوٹنے کی تیاری ابھی مکمل نہیں ہوئی شاید!!
کیسے کیسے لوگ ہیں یار ہمارے پاکستانی معاشرے میں۔