واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان




کرپشن نہ کھپے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-11-10, 03:18 AM   #1
کرپشن نہ کھپے
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 06-11-10, 03:18 AM

لندن میں 2012ءاولمپک کھیلوں کا سال ہوگا ان کھیلوں میں دنیا کے 205 ممالک شرکت کرینگے۔ 10 ہزار 500 کے قریب اولمپک کھلاڑی کھیلوں میں حصہ لیں گے اسکے علاوہ پارلمپک کھیلوں میں 4000 ہزار سے زیادہ معذور کھلاڑی بھی میں شریک ہونگے۔ Paralympic Games پارلمپک کھیلوں کا آغاز پہلی بار 1988ءکے سیول (کوریا) میں ہونے والے کھیلوں میں ہوا تھا جس میں عالمی سطح پر معذور کھلاڑیوں کو ان کھیلوں میں حصہ لینے کا موقع ملا تھا۔ اب اسکے بعد یہ روایت بن گئی ہے کہ Olympic Games کے بعد Paralympic Games منعقد ہوتے ہیں۔

2012ءکے لندن اولمپک کھیلوں میں کھلاڑیوں کے علاوہ 6000 ہزار سے زائد اولمپک افسران اور 20,000 کے قریب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندے ان کھیلوں کی کوریج کیلئے موجود ہونگے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ عالمی سطح پر اولمپک کھیلوں کو سپانسر کرنیوالے 7000 ہزار ادارے عملی طور پر تعاون کرینگے۔ کھیلوں میں اولمپک انتظامیہ کی مدد کیلئے 70,000 رضاکار بھی اپنی خدمات پیش کرینگے۔ جنکی تربیت کا کام شروع ہو چکا ہے۔ اولمپک کھیلوں کا جو ماٹو رکھا گیا ہے۔ اس کیمطابق اولمپک کھیل 27 جولائی سے 12 اگست 2012ء تک اور پھر پارلمپک کھیل 29 اگست سے 9 ستمبر 2012ءتک منعقد ہونگے۔ کھیلوں کی میزبانی کے فرائض مشرقی لندن کی مقامی کونسل ”نیوہم“ بارو انجام دیگی۔ اولمپک سٹی اس کونسل ہی کے علاقے سٹیفرڈ Stratford میں قائم کیا جارہا ہے۔ اسکی تعمیر کا کام آدھے سے زیادہ مکمل ہو چکا ہے اس جگہ دنیا کے اعلیٰ ترین شاپنگ سنٹرز اور انٹرنیشنل ریلوے سٹیشن کا قیام اہم اقدام ہیں ”نیو ہم“ کونسل کے علاقے سٹیفرڈ، ایسٹ ہم اور گرین سٹریٹ کے علاوہ ویسٹ ہم فٹبال کلب یہ تمام علاقے پاکستانیوں کے گڑھ ہیں ۔

یہاں پاکستانیوں کے علاوہ بنگلہ دیشی، بھارتی اور سری لنکن شہریوں کی کثیر تعداد آباد ہے جو پاکستانی یہاں رہ رہے ہیں انکی اکثریت ان سیاسی کارکنوں کے خاندانوں پر مشتمل ہے جو کہ جنرل ضیاءالحق مرحوم کے دورِ حکومت میں لندن آکر سیاسی پناہ حاصل کی تھی اب یہ خاندان برطانوی شہری ہیں اور برطانوی معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں اب پاکستانی نڑاد ان برطانوی خاندانوں کے بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر برطانوی معاشرے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں پاکستانی نوجوان لڑکے لڑکیاں نمایاں کامیابیاں حاصل کر کے قانون کے شعبے سے لیکر برطانیہ کے اعلیٰ سرکاری دفاتر جن میں وزارت خارجہ، داخلہ، برطانوی افواج کے علاوہ محکمہ تعلیم اور بنکوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ ان میں بھاری اکثریت ان تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ ہے۔

میڈیکل اور کمپیوٹر کے شعبے میں بھی انکو اعلیٰ مقام حاصل ہو چکا ہے۔ اولمپک کھیلوں کے انعقاد کی وجہ سے ان مشرقی لندن کے یہ علاقے یعنی سٹیفرڈ، ایسٹ ہیم، منیئر پارک، فارسٹ گیٹ، گرین سٹریٹ اور بارکنگ روڈ لندن کے مہنگے ترین علاقوں میں شمار ہونے لگے ہیں۔ ان علاقوں میں گھروں کی قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں یورپ کے مختلف علاقوں سے کاروباری حضرات اب سٹیفرڈ، ایسٹ ہیم، مینئر پارک اور فارسٹ گیٹ کے علاقوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اسی علاقے میں واقع ریلوے سٹیشنوں سٹیفرڈ اور ویسٹ ہیم کو مکمل طور پر اپ گریڈ کیا جارہا ہے۔ سٹیفرڈ کا ریلوے سٹیشن یورپ کے دیگر شہروں سے لِنک کیا جارہا ہے۔ مشرقی لندن کا یہ تمام علاقہ لیبر پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ کا علاقہ ہے۔ سٹیفرڈ اور ایسٹ ہیم کے حلقے میں برطانوی ممبر پارلیمنٹ مسٹر سٹیفن ٹیم، ٹونی بلیئر اور گورڈن براﺅن کی کابینہ میں بطور جونیئر وزیر کے کام کر چکے ہیں اسی طرح ایسٹ ہیم ہی کے علاقے سے نیو ہیم کونسل کے میئر بھی لیبر پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں یعنی سر رابن ویلز یہ میئر دراصل اولمپک کھیلوں کے دوران باضابطہ طور پر میزبانی کے فرائض سرانجام دیں گے۔

نیو ہیم کونسل میں مقامی کونسلروں کی بھاری تعداد پاکستانی، بنگلہ دیشی، بھارتی اور سری لنکن شہریوں پر مشتمل ہے جو کہ اب برطانوی شہری ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی سیاست کے حوالے سے لندن اس وجہ سے بھی مشہور ہے کہ یہاں ماضی میں لندن پلان تشکیل پاتے رہے ہیں۔ یہ پلان کبھی فوجی آمریت کے خلاف جدوجہد کی شکل میں ہوں یا پھر میثاق جمہوریت کی شکل میں یہ سب محض اور محض حصولِ اقتدار اور اقتدار کی بندربانٹ کے سلسلے میں طے ہوتے رہے ہیں۔ ماضی میں طے پانے والا ”میثاق جمہوریت“ این آر او کی بھینٹ چڑھ گیا سابق صدر پرویز مشرف اپنے دورِ اقتدار میں خود اس امر کے مخالف تھے کہ سمندر پار سے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ اب خود لندن میں بیٹھ کر ”آل پاکستان مسلم لیگ“ کے نام سے اس سیاسی جماعت کے بانی بن گئے ہیں۔ یہ پارٹی ”پاکستان پہلے“ کا نعرہ لگا کر وجود میں آئی لیکن خود اس پارٹی کا سمندر پار قیام عمل میں آنا پارٹی کے بنیادی سلوگن کی نفی کرتا ہے۔ یہ پارٹی جن اصولوں پر بنائی گئی ہے۔ انہیں عوام میں کسی بھی طرح پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ بار بار اقتدار میں آنے کی خواہش، اقتدار کے بعد خودساختہ جلاوطنی میں زندگی، اقتدار کی بندربانٹ اور پھر آل پارٹی کانفرنس یہ تمام کے تمام حربے حصولِ اقتدار کے معاہدے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہئے کہ اگر پاکستان کی سیاست پاکستان کیلئے کرنی ہے تو پھر پاکستان کی سرزمین پر رہ کر سیاست کی جائے اور اپنے عوام میں ہی رہ کر عوام کی قیادت کی جائے اب عوامی حاکمیت کا دعویٰ حصولِ اقتدار کی جدوجہد میں بدل چکا ہے امریکی کانگریس اور برطانوی ممبران پارلیمنٹ کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کیلئے لابنگ ضروری ہو چکی ہے۔ یہ آج کل کی پاکستان کی سیاست کا حال جو کہ گذشتہ 15 سال سے لندن میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ لندن میں کم و بیش تمام پاکستانی سیاستدانوں کے اپنے گھر ہیں ان میں ریٹائرڈ جرنیل بھی برابر کے شریک ہیں۔ لندن کا ایجویٹر روڈ کا علاقہ اور لندن ہی کا وسطی علاقہ ان میں آصف علی زرداری، پرویز مشرف، رحمن ملک اور دوسری جانب پارک لین ہائیڈ پارک کے علاقے میں میاں برادران کے لگڑری فلیٹس اور پھر اسی طرح لندن کے دیگر علاقوں میں چودھری برادران، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے بے شمار عوامی نمائندوںکے اثاثے اور جائیدادیں مختلف ناموں سے لندن میں موجود ہیں اسکے مقابلے میں بھارتی اور بنگلہ دیشی سیاستدانوں کی جائیدادیں برائے نام ہیں عرب ممالک کے بادشاہوں اور شاہی خاندانوں کے افراد کی جائیدادیں ریکارڈ تعداد میں موجود ہیں لیکن پاکستان جو کہ غریب ممالک کی صف میں شمار ہوتا ہے۔ اسکے سیاستدانوں کی جائیدادیں لندن میں موجود ہونے سے برطانوی میڈیا پاکستان میں پائی جانیوالی بدعنوانیوں کو منظرعام پر لاتا ہے اس میں یقینا وزن ہوتا ہے۔

برطانیہ میں بسنے والا ہر پاکستانی پاکستان کو اپنی جان، آن اور پہچان تصور کرتا ہے اور ارضِ پاک میں ہونیوالی بدامنی اور دہشت گردی سے پریشان ہے۔ آزادِ مملکتِ خداداد پاکستان کی عظیم دھرتی کی خوشبو پاکستانیوں کیلئے سکون کا باعث بنتی ہے لیکن جب لندن میں بیٹھ کر اقتدار سے محروم سیاستدان اپنی دولت کے بل بوتے پر دوبارہ پاکستانی عوام پر مسلط ہونے کے منصوبے بناتے ہیں اور لندن کے انتہائی مہنگے ہوٹلوں اور کانفرنس ہالوں میں سیاسی اجتماعات منعقد کر کے اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو پھر برطانوی میڈیا اور خود برطانوی عوام بھی پاکستانی سیاستدانوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ پاکستان کے سیاستدان جو کہ اپنا زیادہ تر وقت برطانیہ میں گزارتے ہیں وہ یہاں کے سیاسی اور جمہوری نظام سے کچھ بھی تو حاصل نہیں کر پاتے۔ بجائے اسکے کہ وہ اپنے سیاسی اور جمہوری نظام کو بہتر بنانے میں یہاں کے نظام سے کوئی سبق حاصل کریں وہ یہاں ”لندن پلان“ میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور لوٹا ہوا ملکی سرمایہ مغربی بنکوں میں محفوظ کر کے اپنی جائیدادیں اپنی اولادوں کے نام خرید کر آئندہ پاکستان میں اقتدار کے ایوانوں میں جانے کی غرض سے مختلف ”میثاق“ طے کرتے ہیں۔

آج پاکستان جن گھمبیر مسائل کا شکار ہے اسکی بڑی وجہ سیاستدانوں کی ملکی خزانے میں لوٹ مار اور بنکوں سے قرضے لیکر معاف کروانے کی روش ہے۔ ملک میں دولت پر چند خاندانوں کا قبضہ ختم ہو جائے دولت کی مساوی اور منصفانہ تقسیم کا عمل شروع ہو اور ہر شہری کو برابری کی بنیاد پر انصاف ملے اور روزگار کے مواقع میرٹ کی بنیاد پر فراہم کئے جائیں۔ تعلیم کا حصول آسان اور عام کر دیا جائے تو کوئی بھی شہری اپنی اس مقدس دھرتی کو چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کریگا پوری دنیا میں کوئی جگہ بھی پاکستان جیسی نہیں ہے اس دھرتی کی مٹی مقدس ہے‘ اب ہونا یہ چاہئے کہ ”پاکستان کھپے کرپشن نہ کھپے“ کے اصول پر عمل کیا جائے پاکستان کی عظیم دھرتی کو پاکستان سے باہر بسنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی نوجوان نسلوں کیلئے اس دھرتی کو پرکشش بنا دیا جائے یہ صرف اسی صورت ممکن ہے کہ جب سیاستدان اس دھرتی پر سیاست کریں اور اپنا سرمایہ بھی اس دھرتی کی خوشحالی کیلئے صرف کریں اور اسے فلاحی مملکت بنائیں۔


کرپشن نہ کھپے
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ.

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 77
Reply With Quote
ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
com, ford, games, php, کوریا, کوریج, کمپیوٹر, پہچان, وزیر, لندن, مکمل, موقع, ممکن, مسائل, آج, انتظامیہ, اعلیٰ, تعلیم, حال, حضرات, خلاف, سیاست, سال, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
”شب برات کی پھلجھڑیاں“ فیصل ناصر گپ شپ 37 22-07-11 05:47 AM
کھپے کارڈ محمد عاصم قہقہے ہی قہقے 1 24-01-11 01:26 PM
بڑا آیا پھنے خاں عبدالقدوس قہقہے ہی قہقے 10 10-11-10 10:21 AM
چھپکلی کو گھر سے بھگانے کا طریقہ wajee گپ شپ 33 14-07-09 09:39 PM
آنکھ جھپکنے سے دماغ بند چاچا کمال شعبہ طب 4 02-11-07 06:45 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:24 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger