واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان




’لائف لائن‘ کو زندگی بخشنے والوں کے نام

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-12-10, 08:20 PM   #1
’لائف لائن‘ کو زندگی بخشنے والوں کے نام
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 23-12-10, 08:20 PM

پاکستان میں بھی ملک کو درپیش المیات میں سے سب سے بڑا المیہ اب کوئی خبر نہیں رہا ہے۔ اگرچہ چار ماہ سے زائد عرصے سے سیلاب نے ملک کی آبادی کے تقریباً دسویں حصے یعنی کہ دو کروڑ افراد کی زندگیاں متاثر کی ہیں لیکن ملک میں گفتگو کا محور سیلاب سے ہٹ کے اب سیاسی جوڑ توڑ بن چکا ہے۔ سیلاب کا آنا شہ سرخیوں میں رہا لیکن سیلاب کے بعد لوگوں کی مشکلات اس طرح کی جگہ نہ لے سکیں۔

انتیس سالہ آفتاب کا کہنا ہے کہ ’میں نے وطن کارڈ حاصل کرنے کے لیے جو سفر کیا ہے اس کے اخراجات ہی صرف پندرہ ہزار روپے ہیں۔‘

آفتاب کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اور جب وہاں سیلاب آیا تو وہ اپنے خاندان کے پانچ افراد کے ہمراہ حکومت کی طرف سے سیلاب متاثرین کے لیے بیس ہزار کے ڈیبٹ کارڈ، جسے وطن کارڈ کہا جاتا ہے، کے حصول کے لیے ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ کا چکر لگاتے رہے۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ باقی پانچ ہزار روپے سے کیا کریں گے تو ان کا جواب تھا کہ ’میں اپنے بچوں کے لیے کچھ کپڑے خرید لوں گا۔‘

ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا گیا بی بی سی کا اردو اور پشتو میں دن میں چھ مرتبہ پیش کیا جانے والا پروگرام بی بی سی لائف لائن پاکستان، آفتاب کو گھر یا اس کے خرچ ہونے والے پندرہ ہزار روپے تو نہیں دے سکتا، لیکن کم از کم اس بات کی یقین دہانی ضرور کرا سکتا ہے کہ انہیں بھلا نہ دیا جائے اور ان کی آواز لوگوں تک پہنچتی رہے۔

میں پڑھنا چاہتا ہوں لیکن یہاں بہت سردی ہے اور ہمارے سر پر چھت نہیں

آٹھ سالہ بچہ رؤف خالد

پہلے دو ماہ میں سیلاب اتنا شدید تھا کہ پاکستان کا کوئی بھی صوبہ اس کی تباہی سے نہ بچ سکا۔ سیلاب کے متعلق رپورٹنگ کرنے میں سب سے بڑے جس چیلنج کا ہمیں سامنا رہا وہ یہ تھا کہ متاثرین کی کہانیاں بھی اتنی ہی منفرد تھیں جتنا کہ وہ علاقے جہاں سے یہ آ رہی تھیں، چاہے وہ علاقے شمالی پاکستان کے گلگت اور بلتستان کے دور دراز پہاڑی علاقے ہوں یا جنوب کے ضلع جوہی جیسے ساحلی علاقے۔ ہم سب کہانیاں پیش نہیں کر سکے اور نہ ہی سب علاقوں کو مثاوی کوریج دے سکے۔ لیکن ہم نے ایسا کرنے کی پوری ایمانداری سے کوشش ضرور کی۔

اکتوبر میں ایک مخیر شخص عمر احسن نے ہمیں بی بی سی اسلام آباد کے دفتر میں فون کیا اور بتایا کہ وہ گلگت اور بلتستان کے دور دراز کے ایسے علاقے میں خوراک تقسیم کر رہے ہیں جہاں تک رسائی کافی مشکل ہے۔ سیلاب نے وہاں رہنے والے ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا ہے اور حکومت نے انہیں کوئی رہنے کی جگہ اور امدادی سامان بھی مہیا نہیں کیا۔ میں نے اپنی پریزینٹر رضوانہ مہتاب کو کہا کہ وہ مقامی لوگوں اور حکام سے اس کے متعلق بات کرے۔ آخر کار ہم وہاں کے وزیرِ اعلیٰ سید مہدی شاہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے جنہوں نے تسلیم کیا کہ وہاں کے متاثرین کی حالتِ زار پر دھیان نہیں دیا گیا۔ تاہم انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ وہ ’کچھ کریں گے۔‘

میں نے رضوانہ کو کہا کہ اس کہانی پر کام کرتی رہے۔ اس نے تین دن کے بعد پھر حکام سے معلوم کیا کہ کیا وہاں امداد بھیج دی گئی لیکن جواب ملا کہ ’وہ کچھ بھیج رہے ہیں۔‘ جب دو ہفتوں کے بعد عمر نے علاقے کا دورہ کیا تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ ہمارے پروگرام کے فوراً بعد علاقے کے لوگوں کو خوراک اور خیمے مل گئے تھے۔ انہوں نے ہمیں کہا کہ وہ متاثرین کا شکریہ ہم تک پہنچا رہے ہیں۔
سیلاب سے متاثر بچے

سیلاب کی وجہ سے سکول تباہ ہو گئے ہیں اور بچے عارضی کیمپوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں

لیکن حکام کے ساتھ رابطہ کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ ہم نے خیبر پختونخوا صوبے کے ضلع دیر میں حکام سے رابطہ کرنے کی بارہا کوشش کی کہ معلوم کریں کہ اس علاقے کو اب تک کیوں فراموش کیا گیا ہے لیکن یا تو وہاں پر ٹیلیفون کے ذریعے رابطہ ہی نہیں ہوتا تھا اور اگر ہو بھی جاتا تو حکام بات کرنے سے کتراتے۔ اگلے چار ماہ میں حکام کی اس آنکھ مچولی کے ہم عادی ہو گئے۔ ہمارے دو رپورٹر پشتو سروس کے اسد ضیا اور اردو کے مدثر حسین اصرار کر کے اپر دیر کے لیے روانہ ہو گئے۔ ہمیں چار دن تک ان کے متعلق کوئی خبر نہیں ملی۔ پانچویں دن جب ہماری اپنے ساتھیوں کے متعلق تشویش عروج پر پہنچ چکی تھی تو مدثر نے ہمیں کال کیا اور بتایا کہ وہ دونوں زندہ ہیں اور ان کے پاس پروگرام کے لیے بڑی کہانیاں ہیں۔ دونوں اپر دیر کے ایک سکول میں گئے جس کی نہ تو کوئی چھت تھی اور نہ کوئی دیوار۔ صبح کے ساڑھے نو بجے وہاں نو سال سے کم عمر بچے ہاتھوں میں سلیٹیں لیے پتھروں پر بیٹھے تھے اور ان کے سامنے ان کا استاد ایک بلیک بورڈ کے ساتھ کھڑا انہیں پڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے پاس بلیک بورڈ تو تھا لیکن اس پر لکھنے کے لیے چاک نہیں تھا۔

وہاں موجود ایک آٹھ سالہ بچے رؤف خالد نے مدثر کو بتایا کہ ’میں پڑھنا چاہتا ہوں لیکن یہاں بہت سردی ہے اور ہمارے سر پر چھت نہیں۔‘

شدید سردی میں رؤف کو پاؤں میں صرف پلاسٹک کا سینڈل پہنے ہوئے سکول تک پہنچنے کے لیے یا تو کیبل لفٹ پر دریا عبور کرنا پڑتا یا پھر پتھروں کے عارضی پل پر سے ہو کر سکول آنا پڑتا۔

اسسٹنٹ آفیسر محکمہ تعلیم محمد ظاہر شاہ نے مدثر کو بتایا کہ انہوں نے پیسوں کے لیے صوبائی حکومت کو لکھا ہے کیونکہ ان کے پاس سکول کی عمارت تعمیر کرنے کے پیسے نہیں ہیں۔ دیر میں تقریباً تمام سکول مکمل یا عارضی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

شاہ نے ہمیں بتایا کہ ٹھیک ہے کہ کچھ حکومتی اہلکار امدادی کاموں کے حوالے سے آئیں بائیں شائیں کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ سب بے بس ہیں۔ اس سکول سے کچھ دور لڑکیوں کے سکول میں آٹھویں جماعت کی ایک لڑکی اسی کے قریب طلبہ کو خود پڑھا رہی تھی کیونکہ اس کی استانی سکول نہیں پہنچ سکی تھیں۔ اسی طرح کی کہانیاں ہی تھیں جنہوں نے بی بی سی لائف لائن کو چار ماہ تک زندہ رکھا۔


‭BBC Urdu‬ - ‮پاکستان‬ - ‮’لائف لائن‘ کو زندگی بخشنے والوں کے نام‬
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ.

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 171
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
فرحان دانش (24-12-10), ھارون اعظم (31-12-10), نورالدین (24-12-10), حیدر (24-12-10), عبداللہ آدم (24-12-10)
پرانا 24-12-10, 08:39 AM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یار بی بی سی والوں کو بولو کہ "غیور بلوچوں" کے "غیور علاقے" روجھان مزاری میں "سارے ہی غیور سرداروں" کا احوال بھی لے لے۔ شاید ہزاروں اور لوگ بھی انکا شکریہ ادا کریں۔
میں انتہائی مجبور ہو کر کہہ رہا ہوں کہ "اللہ کی، اللہ کے رسول کی، تمام فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اُن پر"۔
یاد رہے میں بھی بلوچ ہوں اس لیے ان جملوں کو تعصب کے ذمرے میں نہ لیا جائے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فرحان دانش (24-12-10), ھارون اعظم (31-12-10), نورالدین (24-12-10)
جواب

Tags
pakistan, کوریج, کوشش, کارڈ, پاکستان, مکمل, معلوم, آبادی, اردو, اسلام, استاد, اعلیٰ, بچوں, تعلیم, جواب, خبر, زندگی, سفر, شخص, عروج, صوبہ, صوبے, صوبائی, صبح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بسوں، ویگنوں ، ٹرکوں اور رکشوں پر لکھی گئی شاعری, مصوری اور نثر نگاری ڈاکٹرنور گپ شپ 35 01-01-11 11:05 AM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 06:51 PM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 11:01 PM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) چاچا کمال خبریں 0 04-12-07 11:50 AM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 09:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:25 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger