|
|
#1 |
|
Senior Member
مقبول
|
اِک روز کوئی تو سوچےگا
فرزانوں کی اس بستی میں اک شخص تھا پاگل پاگل سا پر باتیں ٹھیک ہی کرتاتھا بارش کی طرح پُرجوش نہ تھا ... دریا کی طرح خاموش نہ تھا جن کو بلا کا چاہتا تھا ان ہی کے طعنےبھی سنتا تھا دنیا نے اسے کچھ نہ دیا پر اس نے سب کو پیار دیا جاں روتے روتے دے بیٹھا دل ہستے ہستے وار دیا کیوں جیتے جی درگور ہوا تن من کس پر وار دیا تھا دشمن کون بے چارے کا کس رنج نے اس کو مار دیا اک روز کوئی تو سوچے گا اور پہروں بیٹھ کے روئے گا ۔۔۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے کاشف جمیل کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (18-02-12), skjatala (04-02-12), فیاض انصاری (05-02-12), نبیل خان (04-02-12), بنت حوا (07-02-12), حیدر Rehan (07-02-12) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,139
کمائي: 12,572
شکریہ: 3,450
702 مراسلہ میں 1,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھی نظم ہے
|
|
|
|
| بنت حوا کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (07-02-12) |