| میری ڈائری میری ڈائری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 470
کمائي: 14,486
شکریہ: 347
380 مراسلہ میں 1,213 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تحریر : محمد الطاف گوہر
فراق کی وادیاں اب میری قربت کی ہمراز ہوئیں اور زندگی نے موسم خزاں کی را ہ تکنی شروع کردی ، آہ و قاہ مسرتوں سے نا آشا ہوئے اور ہجر کی تنی دھوپ اب سائے کو ترسنے لگی ، درختوں پر پتے اب اپنا چہرہ زردی میں چھپانے لگے اور دریا کی گھاٹیا ں اب پانی کی بوندوں کو ترسنے لگیں ،موجوں کی جگہ اب ریت کے ننگے ٹیلوں نےلے لی اور ہواؤں کے دوش محو رقص ہونے لگے ۔ اور تو پاس مرے ہجر ميں کيا رکھا ہے ایک پری زاد اور ایک انسان ، کیا یہ محبت کی راہوں کے ہمراہی رہ سکتے ہیں ؟ پیار کا کشتی میں سوار کر کے عشق کی تند و تیز موجوں کے رحم و کرم پر مجھے چھوڑ کر میری راتوں کی نیند چرانے والی نہ جانے کہاں چلی گئی؟ ہجر کی ظلمتیں ، کالی گھٹاؤں کیطرح برس رہی تھیں اور پیار کے سمندر میں عشق کے مدوجزر اٹھنے لگے تو صبر نے آگے بڑھ کر تھام لیا ۔جب آنکھوں نے دل و جاں سے نظارہ جاناں کیا تھا وہ موتی پرونے ختم کئیے ، اب ہجر کا طوفان تھما تو معاملات معمول پر آنے لگے ، وہی معمولات اور وہی سلسلہ تعلیم مگر اب طبعیت میں ایک ٹھہراؤ سا آ چکا تھا جیسے کسی سمندر میں مدوجزر آنے کے بعد خاموشی چھا جاتی ہے ۔ اک ترے درد کو پہلو ميں چھپا رکھا ہے اس سلسلہ کے دوران مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ کوئی اور میری طرف متوجہ بھی ہے ، میں اپنے آپ میں کھویا رہتا تھا لہذا کچھ احساس نہ ہوا کہ تم ایک "خاموش محبت" بن کر میرے سامنے آئی اور مجھے جھنجھوڑ کے رکھ دیا ، ان آنکھوں میں اپنے لئیے تیرتا پیار دیکھ کر میری سوچیں تھم گیں ، آہ ! مگر کبھی بھی تجھ سے اظہار محبت نہ کر سکا ، نہ معلوم مجھ میں اتنی جرات کیوں نہ ہو سکی ، تیری گہری نیلی آنکھوں نے میرے اندر محبت کی بجھتی چنگاریوں کو سلگا دیا اور پیار کا دریا اپنی آن و شان میں پھر سے موجزن ہو گیا۔ پیار اور محبت کا یہ رنگ پہلے رنگوں سے جدا تھا ، الفت کی زرد مرجھا تی پتیاں اب پھر سے ہری ہونے لگیں ، مروت کی کونپلیں پھوٹنے لگیں اور مسرت کی تتلیاں پھر سے وصل کے گلوں پر آنے لگیں اور فضائیں تیرے سانسوں کی مہک سے لبریز ہونے لگیں ۔ روزانہ تیرا انتظار صرف اک جھلک دیکھنے کو دل بے تاب رہتا تھا ، نظروں سے نظریں ٹکراتی تو پیمانہ دل چھلک جاتا، گھنٹوں اپنے دروازے پر تیری اک جھلک دیکھنے کو کھڑا رہتا کہ کب تو کتابیں سنبھالے گھر واپس آئے اور دیدار کی اک جھلک نصیب ہو اور جب بغور دیکھا تو پری زاد میں اور تیرے چہرے میں کوئی فرق تلاش نہ کر پایا ، تیری ہر ادا دلربا ہو گئی ۔ چلتے چلتے جب تو اپنی سہیلیوں کے ساتھ تو خوش گپیوں میں مصروف ہوتی تو میر ی اشتیاق بھری نگاہیں تیرا تعاقب کرتیں نہ تھکتیں ، تو نے اک نئے ولولے سے آشکار کیا ورنہ میں تو ہجر کی کھائی میں دھنستا چلا جا رہا تھا ، آہ! مگر کبھی تجھ سے اپنی محبت کا اظہار نہ کر پایا۔ جاری۔۔۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| گھر, پہلے, نیند, محبت, معلوم, معمولات, انسان, اتنی, بے, تلاش, تاب, تحریر, تعلیم, جانے, حصہ, خوش, دیکھ, دیکھا, دوش, دل, زندگی, شروع, عشق, صبر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سائنس دان ہمارے محسن ( چھٹاحصہ) | shafresha | کمپیوٹر کی تاریخ سے اقتباس | 7 | 01-09-10 02:23 AM |
| زلف کی کالی گھٹا کو تم نے بادل کردیا | جواد رضا خان جامی | جواد رضا خان جامی | 0 | 04-06-10 06:27 PM |
| مچھلی کا کھٹا | سحر | باورچی خانہ | 5 | 20-01-10 08:53 PM |
| ایک سردار نے ہیلی کاپٹر سے چھلانگ لگائی | The Great | قہقہے ہی قہقے | 1 | 08-09-09 07:02 PM |
| انگوراڈہ: پاک فوج اور قبائل نے امریکی ہیلی کاپٹرز مار بھگا ئے | مزمل فاروق | خبریں | 3 | 16-09-08 03:22 PM |