واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > میری ڈائری



میری ڈائری میری ڈائری


بوڑھے کی لاٹھی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-12-10, 11:42 AM   #1
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بوڑھے کی لاٹھی

بوڑھے کی لاٹھی

ایک باپ بیٹے کی کہانی !
باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔


ہرروز کی طرح آج بھی وہ اپنے باپ کے ساتھ ایسے بات کر رہا تھا جیسے خود ہی سے مخاطب ہو ۔
ابا جی ماں اپنے بچے کو دو چار سال تک سنبھالتی ہے۔ پھر اللہ کی ذات ماں کو وہ مقام دے دیتا ہے کہ جنت قدموں کے نیچے رکھ دیتا ہے۔
ابا جی میں تو دس سال سے آپ کی دیکھ بھال کر رہا ہوں ۔
کھلاتا ہوں، نہلاتا ہوں ،صفائی کرتا ہوں، زخموں پر مرہم رکھتا ہوں پھر تو میرا درجہ بھی ماں کا ہوا۔
"تیری مہربانی ہے "کے الفاظ جو اس کے کانوں میں پڑے تو بھونچکا رہ گیا۔ جلد ی میں اس نے صفائی کا کام مکمل کیا۔ ابا جی کو دونوں ہاتھوں میں اٹھایا اور پلنگ پر لٹا کر ڈریسنگ کی کٹ نکال کر پہلے کمر پھر پاؤں میں گہرے زخموں کو صاف کیا اور مرہم لگانے کے بعد بند کر دیا ۔
سامان سمیٹنے میں ایسے جلدی کر رہا تھا جیسے بہت ارجنٹ میٹنگ کا بلاوہ آیا ہو۔
وہ جلد سے جلد وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا اباجی کے کمرے سے نکل کر سگریٹ ہاتھ میں لئے باہر صحن میں چلا گیا ۔
بیوی آوازیں دیتی رہ گئی۔
جی سنئے !
کھانا لگا دوں کیا ۔
مگر آج اسے کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔ صرف ایک آواز کے سوا " تیری مہربانی ہے "
وہ سگریٹ کو سلگا کے گہرے گہرے کش ایسے لے رہا تھا جیسے کوئی دو دن کا بھوکا کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے۔
وہ بار بار اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ تجھے روز ایسے ہی ابا جی سے باتیں کرنے کی عادت ہے۔ یہ سوچ کر کہ وہ کب سمجھتے ہیں ان باتوں کو۔ الزائیمر کی بیماری نے ان کا سارا اعصابی نظام ہی مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔
آنکھوں میں روشنی باقی تھی یا صرف کھانے پینے کا نظام انہضام کام کر رہا تھا ۔اس کے علاوہ تو پورا وجود ایک گوشت پوست کے لوتھڑے سے زیادہ دکھائی نہیں دیتا تھا ۔
وہ سوچ رہا تھا کہ مجھ سے گناہ ہوا ۔ اباجی تو ایک سال سے ایک لفظ نہیں بولے۔ اتنی بڑی بات" تیری مہربانی ہے" کے الفاظ اس پر اتنے بھاری ہو چکے تھے کہ وہ اپنے قدموں کواٹھانا چاہتا مگر وہ ساتھ نہیں دے رہے تھے ۔
باپ کا بیٹے کو کہہ دینا کہ" تیری مہربانی ہے " بیٹے کی خدا کے حکم سے سراسر روگردانی کے مترادف ہے۔
وہ سوچتا ابھی تک تو میں اپنے اباجی کا حق ہی نہیں ادا کر پایا ۔ پھر میری مہربانی کیسی !
گہرے خیالوں میں کتاب ماضی سے ورق الٹ الٹ کر اس کی نظروں کے سامنے آرہے تھے۔
کہ اباجی نے اسے کیسےمحبت سے پال پوس کر بڑا کیا ۔
جب کبھی دوستوں کی محفل رات گئے جاری رہتی۔ تو باون سال عمر میں بڑا اس کا باپ رات بھر ٹہلتا رہتا۔ ماں سے کہتا تیری ہی دی گئی ڈھیل ہے جو وہ دیر تک گھر سے بھی باہر رہنے لگا ہے۔
جب وہ گھر کے دروازے پر دبے پاؤں پہنچتا ۔ تو ابا جی کی آواز آتی بیٹا خیریت تھی اتنی دیر لگا دی۔
پہلے سے تیار ایک نیا بہانہ سنا کر جلد کچن تک جاتا۔ ماں بھی پیچھے پیچھے وہیں آجاتی۔ سالن گرم کرتی اور ساتھ ہی کلاس شروع ہو جاتی۔ تیرے اباجی بہت غصے میں تھے ۔
مگر ماں مجھے تو کچھ نہیں کہا!
یہی تو ان کا مسئلہ ہے۔ مجھ ہی کو سناتے رہتے ہیں کہ میرے لاڈ پیار نے بگاڑ رکھا ہےخود بھی تو کبھی کچھ نہیں کہا ۔
لیکن ماں گھر میں اکیلا کیا کروں ------------------------------------
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (10-12-10), یاسر عمران مرزا (03-01-11), ڈفر (03-01-11), احمد بلال (11-12-10), حیدر (10-12-10), رضی (10-12-10), عدنان دانی (03-01-11), عروج (10-12-10)
کمائي نے بزم خیال کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
03-01-11 زارا بوڑھے کی لاٹھی 150
10-12-10 ھارون اعظم اچھی کاوش ہے۔ 50
پرانا 10-12-10, 11:47 AM   #2
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت خوب محمود بھائی۔ والدین اللٰہ کی نعمت ہیں۔ حدیث شریف کے مفہوم کے مطابق وہ انسان تباہ ہوگیا، جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور ان کی خدمت کرکے جنت کا حقدار نہ بن سکا۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (03-01-11), احمد بلال (11-12-10), بزم خیال (12-12-10), حیدر (10-12-10), عروج (10-12-10)
پرانا 11-12-10, 04:58 AM   #3
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default 2۔ بوڑھے کی لاٹھی


ایک باپ بیٹے کی کہانی !
باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔


یہی تو ان کا مسئلہ ہے۔ مجھ ہی کو سناتے رہتے ہیں کہ میرے لاڈ پیار نے بگاڑ رکھا ہےخود بھی تو کبھی کچھ نہیں کہا ۔
لیکن ماں گھر میں اکیلا کیا کروں۔

قصور اس کا بھی نہیں تھا۔اس کا بڑا بھائی جو اس کا دوست بھی تھا ۔ اب اس دنیا میں نہیں رہا تھا ۔
تب سے اس کے بوڑھے ماں باپ تنہائی میں یاس کے چراغ جلاکر زندگی گزار رہے تھے ۔
محلے میں بھی اس کا ہم عمر دوست کوئی نہیں تھا۔ 8،6 سال عمر میں بڑے بھائیوں کے دوستوں سے گپ شپ کرتا ۔ اب تو ان میں سے بھی زیادہ تراپنے اپنے کام کاج میں مصروف ہو چکے تھے اور چند ایک محلے سے ہی جا چکے تھے ۔
جب ہمارا دم نکل جائے گا لوگ ہی اطلاع کریں گے تمہیں !
تنہائی کی ماری ماں کھانا اگے رکھتے ہوئے غصے سے بولی!
وہ بھی بیچاری سچی تھی۔ ایک بار تو باتھ روم گئی اور کمزوری سے چکر کھا کر وہی گر کر بیہوش ہو چکی تھی۔ کافی دیر کے بعد اسے ہوش آیا تو اپنی بیٹی کو فون کیا اور رو پڑی ۔
وہ گھرانہ اتنی اولاد اور شہر کی گہما گہمی کے باوجود بھی ایک ایسی منزل کے مسافر تھے ۔جہاں دو بوڑھے اپنی آنکھوں کی کم ہوتی روشنی کو ایک نو عمر چراغ سے وابستہ کئے ہوئے تھے۔
کھانے سے فارغ ہو کر اس نے اپنے کمرے کی راہ لی۔ گولڈلیف کے پیکٹ سے ایک سگریٹ نکال کرسلگایا اور گہرے کش لیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کل سے دیر سے گھر آنے کی عادت کو ترک کرنا ہو گا۔
اس نے اس کا حل بھی تلاش کر لیا دوستوں کو اپنے گھر ہی بلایا جائے۔ کیونکہ اس کا کمرہ گھر سے الگ تھلگ باہر کی طرف تھا۔ وہاں سے قہقہوں اور شور کی آوازیں بھی باہر نہیں جا سکتی تھی۔
دس کمرے،تین باتھ روم، ڈرائنگ روم، دو اطراف میں برامدے اور سو سو فٹ لمبائی کے دونوں اطراف صحن پر مشتمل گھر دو کنال پر پھیلا ہوا تھا۔
جتنا بڑا گھر تھا تنہائیاں اس گھر میں اس سے بھی زیادہ پھیلی ہو ئی تھی۔
دن ہفتوں میں مہینے سالوں میں بیتے جارہے تھے ۔
اس گھر کی یہی معمولات زندگی رہی!
کبھی کبھار وہ سوچتا! میرے ابا جی مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔
مگر یہ خیال ذہن سے جھٹک دیتا کہ وہ کبھی اباجی کے قریب نہیں رہا ہمیشہ کسی انجانے خوف کی وجہ سے دور دور رہتا۔
عمر میں باون سال کا فرق بھی دوری کا سبب تھا کیونکہ دوسری شادی سے آخری نمبر تھا اس کا ۔
سب سے زیادہ پیار تو انہیں اس سے بڑے سے تھا ۔ سولہ سال کی عمر میں وہ اس فانی دنیا سے کوچ کر گیا ۔ پینسٹھ سال کے باپ کے کندھوں پر سولہ سال کے جوان بیٹے کا جنازہ ہو تو اسے جینا کب یاد رہ جاتا ہے ۔
خوف اور جدائی کا آسیب ہر دم اسے تنہائی میں ڈراتا ہو گا ۔
سب سے عزیز بیٹا دنیا سے چلا گیا۔ ان سے بڑے بیٹےاچھے مستقبل کی تلاش میں گھر سے دور اور چند ملک سے ہی دور جا چکے تھے ۔
اب صرف یہی ایک رہ گیا تھا ۔ شائد یہی ایک خوف ہمیشہ اس کے باپ کو رہتا ہوگا کہ کہیں یہ بھی اچھے مستقبل کا خواب آنکھوں میں نہ بسا لے۔ نہ ڈانٹنے کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی تھی۔
جیسے ہی ماضی کے خیالات کا سلسلہ ٹوٹا توکچھ دیر ٹہلنے کےبعد وہ واپس لوٹ آیا ۔اب وہ کافی حد تک مطمئن تھا اور تہیہ کر چکا تھا آئندہ کوئی بھی ایسی بات زبان پر نہیں لائے گا۔
مگر اس کی زندگی کا سفر یونہی گزر تا تھا ۔ صبح 6 بجے، دوپہر 2 اور رات 10 بجے وہ جہاں بھی ہوتا اپنے گھر واپس لوٹ جاتا۔
پہلے تو مشکل زیادہ تھی جب سے اس نے اپنے ابا جی کوپیمپر لگانا شروع کیا بستر بھیگنے سے بچ جاتے تھے۔
جاب، بزنس، بیوی بچے اور مہمان داری سبھی کام اکٹھے چل رہے تھے ۔ایسی زندگی گزارنے کی اسے عادت ہو گئی تھی ۔ مہمان آتے مہمان بن کر رہتے اور چلے جاتے ۔چار دن ہنسی مذاق کے بعد پھر وہی روز کے معمولات واپس آجاتے۔
جب بھی اس کےموبائل کی گھنٹی بجتی وہ چونک جاتا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب موبائل فون آسائش تھی، سہولت نہیں ۔ اس کے کسی بھی دوست کے پاس موبائل فون نہیں تھا ۔ اباجی کی وجہ سے اس نے کنکشن لیا تھا تاکہ ہر وقت گھر رابطہ رہ سکے۔
ایک روز دوستوں کی محفل میں خوش گبیوں میں مشغول تھا کہ فون کی گھنٹی بجی ۔فون کان سے لگاتے ہی وہ گھر کی طرف دوڑ پڑا ۔
اس کے ابا جی کو اکثر دماغ کی شریانوں میں خون صحیح نہ پہنچنے پر ایسا دورہ پڑتا کہ منہ سے جھاگ بہتی ،جسم جھٹکے لیتا۔ پھر تو دو دن تک اس کے ابا جی بالکل ڈھیلے ہو جاتے۔ کھانا پینا بہت کم ہو جاتا۔ پھر آہستہ آہستہ جسم صرف خوراک لینے کی حد تک نارمل ہو جاتا۔ لیکن آج کا دورہ بہت شدید تھا مسلسل سر اور گردن کے پٹھوں کی مالش سے فرق نہیں پڑ رہا تھا جھاگ منہ سے بہے جا رہی تھی۔
ڈاکٹر بھی ایسے مریض پر زیادہ توجہ نہیں دیتے جو زندگی کی نو دہائیوں سے اوپر جی چکا ہو اور بستر پر لیٹے لیٹے اس مریض کو چھ برس گزر چکے ہوں ۔
تیمارداری کے لئے گھر آنے والے سبھی سنیاسی نسخہ چھوڑ کر جاتے ۔مفت مشورہ دینے کے چکر میں ایک بار اس کے ابا جی نے فزیکل تھراپسٹ کے ہاتھوں بہت تکلیف اٹھائی تھی۔ بازو فزیکل تھیراپی سے ایسے پھولے کہ پھر وہ فزیکل تھراپسٹ گھر کا راستہ بھول گیا ۔
ا ب تو مشورہ دینے والے بھی خاموشی اختیار کر چکے تھے ۔عزیز رشتہ دار ہمدردی کا اظہار کرتے اور حوصلہ بندھاتے اور گھروں کو لوٹ جاتے۔
اکثروہ صحن میں تنہا سگریٹ سے دھواں چھوڑتے ہوئے ماضی میں کھو جاتا۔
بیس سال پہلے کی دوستوں کی آوازیں اس کے کانوں میں گونجتی۔
یار! تو تو خوش نصیب ہے۔ جب چاہے ملک سے باہر بھائیوں کے پاس جا سکتا ہے۔ ہمیں تو ویزہ دلانے والا کوئی نہیں۔ ہر بار سٹوڈنٹ ویزہ سے ان کو انکار ہو جاتا ۔ وہ تمام دوست اس کی قسمت پر رشک کرتے مگر وہ سوچتا کہ مجھے ایسی خواہش کیوں نہیں ---------------------------
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (03-01-11), احمد بلال (11-12-10), رضی (11-12-10), عروج (11-12-10)
پرانا 11-12-10, 01:51 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,914
شکریہ: 10,606
1,223 مراسلہ میں 3,229 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نہ جانے کیوں مجھے یہ کہانی 101% سچی لگتی ہے۔
کہیں‌محمود بھائی آپکی اپنی تو نہیں؟

بے شک وہ بہت خوش نصیب ہیں‌جن کو اللہ والدین کا بڑہاپا دیکھنا نصیب کرتا ہے اور انکی خدمت کرنے کی توفیق دیتا ہے۔
احمد بلال آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (03-01-11), بزم خیال (12-12-10), عروج (11-12-10)
پرانا 12-12-10, 05:37 AM   #5
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
بہت خوب محمود بھائی۔ والدین اللٰہ کی نعمت ہیں۔ حدیث شریف کے مفہوم کے مطابق وہ انسان تباہ ہوگیا، جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور ان کی خدمت کرکے جنت کا حقدار نہ بن سکا۔
شکریہ اعظم بھائی اس میں تو کوئی شک نہیں والدین اللٰہ کی نعمت ہیں۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (03-01-11), احمد بلال (12-12-10), عروج (14-12-10)
پرانا 12-12-10, 05:45 AM   #6
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : احمد بلال مراسلہ دیکھیں
نہ جانے کیوں مجھے یہ کہانی 101% سچی لگتی ہے۔
کہیں‌محمود بھائی آپکی اپنی تو نہیں؟

بے شک وہ بہت خوش نصیب ہیں‌جن کو اللہ والدین کا بڑہاپا دیکھنا نصیب کرتا ہے اور انکی خدمت کرنے کی توفیق دیتا ہے۔
احمد بلال بھائی ادھر میں نے کہانی شروع کی اُدھر آپ نے اندازے لگانے شروع کر دئیے ۔ جب اختتام کریں گے تب بتائیں گے کہ لکھنے کا محرک کیا ہے ۔ اس وقت تک کے لئے میری معزرت قبول کریں ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (12-12-10), عروج (14-12-10)
پرانا 02-01-11, 05:24 AM   #7
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default 3۔ بوڑھے کی لاٹھی

بیس سال پہلے کی دوستوں کی آوازیں اس کے کانوں میں گونجتی۔
یار! تو تو خوش نصیب ہے۔ جب چاہے ملک سے باہر بھائیوں کے پاس جا سکتا ہے۔ ہمیں تو ویزہ دلانے والا کوئی نہیں۔ ہر بار سٹوڈنٹ ویزہ سے ان کو انکار ہو جاتا ۔ وہ تمام دوست اس کی قسمت پر رشک کرتے مگر وہ سوچتا کہ مجھے ایسی خواہش کیوں نہیں -


اسے تو اپنے اباجی کے الفاظ یاد تھے کہ بیٹا میں ہائیکورٹ کا وکیل ہوں۔ چاہے آمدن کم ہے مگر عزت والا پیشہ ہے۔ وہ ہر پیشے کو پیسے سے نہیں عزت کی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
باپ بیٹے میں ایک ایسا رشتہ مضبوطی کے بندھن میں بندھ رہا تھا جو بڑھ کر عقیدت و محبت میں بدل گیا ۔
اس روز تو ابا جی کی خوشی دیکھنے والی تھی۔ جب اس نےکہاکہ میرا ایم اے کا آخری سال ہے۔ ایک نیا پرائیویٹ لاء کالج کھلا ہے مجھے اس میں داخلہ لینا ہے۔ خوشی خوشی انہوں نے روپوں کا بندوبست کیا اور اس کا لا ء کالج میں داخلہ ہو گیا ۔
اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ گھر میں ماں باپ اس کی زندگی کے بارے میں اہم فیصلے کرنے جارہے ہیں۔ ایم اے کی ڈگری اسکے ہاتھ میں تھی۔ ایف ای ایل کا امتحان دے چکا تھا۔ اس کے کانوں میں خبر پہنچی اب اس کی شادی کر دی جائے۔
لیکن ماں جی ! میرے پاس ہے کیا۔
وہ پریشانی کے عالم میں بولا ! بےروز گار ہوں ۔ ابا جی کی زرعی زمین کے ٹھیکے سے تو گھر کا خرچہ بمشکل چلتا ہے۔کیسے چلے گا ۔
بس! ماں حکم دینے کے انداز میں بولی۔ میں تھک چکی ہوں بیمار رہتی ہوں ۔ اب اس گھر کو ضرورت ہےایک بہو کی جو اسے سنبھالے۔
مگر ماں جی !
بات ادھوری کی ادھوری رہ گئی اس کی ایک بھی نہ چلی ۔
دور نزدیک کے رشتہ داروں میں اسکا رشتہ طے کر دیا گیا۔ اکتوبر میں منگنی کی رسم ادا ہوئی اور اگلے سال دسمبر میں شادی کا فیصلہ ہوا ۔
اسے تسلی تھی اس وقت تو لاء مکمل ہو چکا ہو گا۔ مگر حالات نے پھر ایک نیا رخ لیا اور شادی کو چار ماہ بعد ہی جنوری میں کرنے کا فیصلہ ہوا۔ کیونکہ اسی گھر میں بیٹے کی بھی شادی طے تھی جب اس کی تاریخ مقرر کی جانے لگی تو اصرار ہوا کہ بیٹی کی شادی بھی ساتھ ہی ہو اور وہ طے کر دی گئی۔ جلدی میں سارے انتظامات مکمل کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔
اس نے لیکچرار شپ کی آسامی کے لئے اپلائی کر دیا اور انٹرویو کی تیاری میں مشغول ہو گیا۔
دوسری طرف ان کی زرعی زمین جن کے پاس تھی ۔ ٹھیکہ کی بقایا رقم کی ادائیگی کئے بغیر چھوڑ گئے اور صرف یہی نہیں واپڈا کے بقایا جات بھی ان کے سر ڈال گئے۔
ٹیوب ویل کا پانی کم ہو نے کی وجہ سے اب کوئی نیا ٹھیکیدار بھی رسک لینے کے لئے تیار نہیں تھا مجبوری میں نئے ٹیوب ویل کے لئے نئے ٹھیکیدار ہی سے رقم ادھار اٹھائی گئی۔
اب شادی کے دن قریب آتے جارہے تھے اور اس کے ابا جی کی پریشانیاں بڑھتی جارہی تھی ۔
ان کے علاوہ اس صورتحال کا کسی کوعلم نہیں تھا۔ تمام لوگ انہیں خوشحال تصور کرتے۔ کئی مربع زمین، دو کنال کا گھر، بڑے بیٹے باہر کے ملکوں میں برسر روزگار ۔مگر اندر کبھی کسی نے جھانکا ہی نہیں۔ اسی پریشانی میں ہائیکورٹ سے واپس آ تے ہوئے تانگہ کے پائیدان سے چوٹ لگی تو سر سے خون بہنے لگا۔ پوچھنے پر کہنے لگے مجھے نہیں علم کیا ہوا۔ بس چگرا گیا تھا تانگہ سے ٹکرا کر گر گئے۔ بعد میں اس بات کا انکشاف ہو ا ۔انہیں فالج کا معمولی حملہ ہوا تھا ۔
انہوں نے ہمیشہ خودداری سے جینے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ۔ بیٹوں سے بھی کبھی تقاضا نہیں کیا تھا ۔
خودداری کا تو یہ عالم تھا ۔حسین شہید سہروردی جب پاکستان کا وزیراعظم تھا اسی پارٹی عوامی لیگ کے وہ فنانس سیکرٹیری کے عہدے پر فائز تھے ۔
ان کے چھوٹے بھائی نے ایم اے اکنامکس کیا۔ تو بھائی سے کہا کہ وزیراعظم سے کہہ کر کوئی نوکری دلوا دیں ۔وزیراعظم کی قیادت میں پارٹی اجلاس گورنر ہاؤس لاہور میں ہوتے شرکت کرنے جاتے تو چھوٹے بھائی کی درخواست کوٹ میں رکھ لیتے۔ واپسی پر بھائی کے استفسار پر کہہ دیتے مناسب وقت نہیں ملا بات کرنے کا اور بات ٹل جاتی۔
اس کی حکومت ختم ہو گئی ۔مگر انہوں نے درخواست اپنے کوٹ کی جیب ہی میں رکھی۔
انہوں نے ہمیشہ اپنے بیٹے کو یہی تلقین کی ۔کہ اپنے بل بوتے پہ زندگی جیو ۔ سفارش کی سیڑھی سے زندگی کی بلندیوں کو چھونے کی کوشش کرنے والے ہمیشہ سیڑھی کے محتاج رہتے ہیں اور وہ خود اس کی زندہ مثال تھے ۔ایک سپاہی سے صوبیدار میجر تک ترقی پانے والے کا بڑا بیٹا اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ملک کی حکومتی پارٹی کے اہم عہدوں پر فائز رہا اوریہ قیام پاکستان کے بعد کا وہ ابتدائی دور تھا جب صرف جاگیر دار اور وڈیرے ہی سیاست کے ستون تھے اور انہوں نے ان میں رہتے ہوئے اپنا مقام بنایا ۔
اپنی اولاد میں بھی ایسا ہی دیکھنے کی ان کی ایک خواہش تھی ۔جو ان کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہو ئی۔
شادی کی تیاری اپنے عروج پر تھی۔ سبھی بہت خوش تھے ایک نئی خوشی کا اضافہ یہ ہوا کہ اسے لیکچرار شپ مل گئی اور اپنی مہندی کے دن اس نےدوسرے شہر کے کالج میں جوائننگ رپورٹ کی۔
اب تو وہ بہت خوش تھا۔ زندگی کے اہم دو موڑ خوشیوں کے ساتھ ایک ساتھ اس کی زندگی میں وارد ہوئے۔
دوست احباب اس کی شادی کو خوش نصیبی سے تعبیر کر رہے تھے۔
مگر!
زندگی انسان کے ساتھ کیا کھیل کھیلتی ہے۔ وہ کوئی نہیں جانتا ۔ظاہری خوشی اور کامیابی دیکھ کر ہی مستقبل کے سنہرے خواب آنکھوں میں بسا لئے جاتے ہیں۔ ایک ایسا ان دیکھا خواب جو فیصلہ اپنے ساتھ لئے انسان کے ساتھ ساتھ اس کی خوشی ،غم، کامیابی، ناکامی کی شکل میں کبھی سامنے آتا۔ تو کبھی چھپ جاتا اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آدمی کو اپنے لئے راستہ کا تعین کرنا ہوتا ہے ۔
انسان وہی کاٹتا ہے جو وہ بوتا ہے۔ اچھائی کو اچھائی ہی سے رغبت ہوتی ہے۔
اسکے ابا جی کا کردار بےمثال تھا۔ گھر میں جتنی بھی شادیاں ہوئی ۔لڑکی والوں نے ان کی شخصیت ہی کو سامنے رکھا ۔برادری میں انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
وہ دن بھی آن پہنچا جب بادلوں کی گڑگڑاہٹ اور پھوار سے لاپرواہ بارات ایک سو میل کا سفر طے کر کے لڑکی والوں کے گھر پہنچی۔ بڑی دھوم دھام سے بارات کا استقبال کیا گیا۔
اس شہر کے لوگوں نے ایک نرالا ڈھنگ دیکھا۔ اس کے دوستوں کا حلقہ بہت بڑا تھا اور ان میں اسی پہلے دوست نےسہرا باندھنے کا اعزاز حاصل کیا۔خوشی میں بھنگڑا ڈالاگیا سارا شہر دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ تو یہ ہیں زندہ دلان لاہور ۔
ساری رسومات احسن طریقے سے انجام پائی خوشی میں ہر فرد مسکرا رہا تھا ۔
مگر !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (03-01-11)
پرانا 03-01-11, 11:49 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بے حد سبق آموز باتیں ھیں اس کہانی میں۔ شکریہ۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (03-01-11)
پرانا 03-01-11, 11:58 AM   #9
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

بہت اچھی باتیں ہیں۔ شیئرنگ کا بہت بہت شکریہ بھائی
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (03-01-11)
پرانا 03-01-11, 12:20 PM   #10
Junior Member
اجنبی
 
ڈفر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مقام: Dufferistan.com
مراسلات: 13
کمائي: 416
شکریہ: 28
11 مراسلہ میں 32 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

باقی کہانی کہاں‌ہے؟
The message you have entered is too short. Please lengthen your message to at least 20 characters.
ڈفر آف لائن ہے   Reply With Quote
ڈفر کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (03-01-11)
پرانا 03-01-11, 12:25 PM   #11
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عروج مراسلہ دیکھیں
بے حد سبق آموز باتیں ھیں اس کہانی میں۔ شکریہ۔
بہت شکریہ عروج بہن
آج کا دور نیا زمانہ ہے اچھی باتوں کی ترغیب کہاں ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (24-02-11)
پرانا 03-01-11, 12:27 PM   #12
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زارا مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم

بہت اچھی باتیں ہیں۔ شیئرنگ کا بہت بہت شکریہ بھائی
زارا بہن شکریہ
اچھائی کو ہمیشہ اچھائی سے پزیرائی ملتی ہے ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (24-02-11)
پرانا 03-01-11, 12:31 PM   #13
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ڈفر مراسلہ دیکھیں
باقی کہانی کہاں‌ہے؟
The message you have entered is too short. Please lengthen your message to at least 20 characters.
بھائی کہانی اس دھاگہ کے اندر ہی چل رہی ہے ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
ڈفر (03-01-11), عروج (24-02-11)
پرانا 03-01-11, 05:39 PM   #14
Junior Member
اجنبی
 
ڈفر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مقام: Dufferistan.com
مراسلات: 13
کمائي: 416
شکریہ: 28
11 مراسلہ میں 32 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ تو بڑی سلو چل ری جی
گئیر بدلیں نا
بڑا دل کر را تھا پوری کہانی ایک دم اکٹھی پڑھنے کو
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمودالحق مراسلہ دیکھیں
بھائی کہانی اس دھاگہ کے اندر ہی چل رہی ہے ۔
ڈفر آف لائن ہے   Reply With Quote
ڈفر کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (03-01-11)
پرانا 03-01-11, 10:02 PM   #15
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ڈفر مراسلہ دیکھیں
یہ تو بڑی سلو چل ری جی
گئیر بدلیں نا
بڑا دل کر را تھا پوری کہانی ایک دم اکٹھی پڑھنے کو
السلام و علیکم
بھائی دل تو میرا بھی چاہتا ہے کہ گئیر بدل لوں سپیڈ بڑھانے کا ۔ لیکن مصروفیت ایسی ہے کہ کچھ وقت ہی کمپیوٹر کو دے سکتا ہوں ۔
دوسری ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ کہانی اس انداز میں ہے کہ ایک ساتھ ساری کہانی پڑھنے سے خاکہ نہیں بن پائے گا کہ کہاں کیا بات کی جا رہی ہے ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
ڈفر (08-01-11), عروج (24-02-11)
جواب

Tags
color, green, ہے۔, کہانی, کلاس, کمر, گھر, پہلے, مکمل, ماں, آج, اللہ, اتنی, جلد, حکم, خدا, دیکھ, رات, سال, شروع, عادت, غصے, صاف, صحن, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بند مٹھی بزم خیال شعر و شاعری 2 12-12-10 05:17 AM
لکڑی کی کاٹھی سیپ فنون لطیفہ اور تخلیقات 0 08-12-10 01:42 PM
حق کے لئے احتجاج پر لاٹھی چارج گلاب خان خبریں 1 24-02-10 07:13 PM
لکڑی کی کاٹھی کاٹھی پہ گھوڑا ام طلحہ دلچسپ اور عجیب 4 25-10-09 10:35 AM
مٹھی گرم چاچا کمال قہقہے ہی قہقے 0 10-01-08 10:53 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:28 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger