|
|
#1 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() جس دن سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے اس دن سے اب تک خوشی اور غم انسان کے ساتھ ساتھ چلے آرہے ہے یہ دونوں ایک ایسا عمل ہے جسے ہم صرف اور صرف محسوس کر سکتے ہیں۔ خوشی اور غم کی تعریف میں کچھ اس طرح کر سکتا ہوں جیسے تم میری زندگی میں آئیں! خوشی۔ مجھ سے بچھڑ گئیں! غم۔ میر ے اور تمھارے درمیان تعلق کو خوشی اور ترک تعلق کو غم کہتے ہیں۔ ہم اپنے ذہنوں میں زرا سوچیں تو ہم کسی کی خوشی اور غم کوکچھ اسطرح محسوس کر سکتے ہیں۔ خوشی ایسی ہے جیسے مدت سے بہار کی امید میں سوکھا ہوا درخت اچانک ہرا بھرا ہو جائے۔ جیسے تپتے صحرا میں پانی مل جائے۔ جیسے روتے بسورتے معصوم بچے کو ماں کی گود مل جائے۔ جیسے جون کی جھلسا دینے والی دھوپ میں اک گھنا درخت مل جائے۔ جیسے دسمبر کی یخ بستہ ہوائوں میں ٹھٹرتے نگ دھڑنگ یتیم بچے کو کمبل مل جائے۔ جیسے دکھی اور کرب میں مبتل لوگوں کو قرار آجائے۔ جیسے راہ سے بھٹکے ہوئے مسافر کو منزل مل جائے۔ جیسے ہیر کو رانجھا، شیریں کو فرہاد، لیلی کو مجنوں، سسی کو پنو، جولیٹ کو رومیو، اور مجھ کو تم مل جائو۔ اور ان سب سے بچھڑنے کا نام ہی تو غم ہے جو خوشی سے زیادہ محسوس کیا جاتا ہے خوشی کو ہم بہت جلد بھول جاتے ہیں لیکن غم کو نہیں۔ غم آہستہ آہستہ انسان کی زندگی کو کھا جاتا ہے۔ اسطرح خوشی اور غم کا کھیل انسان کے ساتھ ہی دفن ہو جاتا ہے
__________________
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء * رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | فیاض انصاری (25-11-11), ابن جلال (23-10-08) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
بہت ہی اچھا لکھا ہے آپ نے پڑھ کے بہت مزا آیا
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Jul 2011
مراسلات: 160
کمائي: 1,861
شکریہ: 383
73 مراسلہ میں 119 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ بہت عمدہ شئیرنگ۔
|
|
|
|