|
|
#1 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() میں اکثر سوچتی ھوں کہ اگر یہ سب کچھ نہ ھوتا- میری مراد یہ سب کچھ سے اور کچھ نہیں صرف احساسات ھیں ۔ کہ یہ احساسات جو ھمیں ہر پل ٹوکتے ھیں ۔ جو ھمارا تنہائی میں اسطرح احتساب کرتے ھیں جیسے کہ ھم ان کے مجرم ھوں ۔ ھم نے ان کو برتنے میں اور ان کے اظہار میں کوتاھی کی ھو ۔ یہ احساسات بھی عجب ودیعت ھے ربِ باری تعالٰی کی ۔ کہ ادنٰی سے ادنٰی احساس بھی ھمیں اپنی موجودگی کا اس طرح احساس دلاتا ھے ۔ کہ اس وقت اس احساس کے آگے ھمیں اپنی باقی حسیات بہت معمولی اور بےتکی محسوس ھونے لگتی ھیں۔ بلکہ نہیں شاید میں غلط کہہ گیا کہ ایک احساس ھماری باقی کی حسیات کو بھی یرغمال بنا لیتا ھے۔ اور اپنے ھونے کا احساس شدت سے دلاتا ھے ۔ اور باقی کی حسیات ثانوی حیثیت اختییار کر لیتی ھیں ۔ اور کبھی وہ احساس اتنی شدت سے ھم پر وارد ھوتا ھے کہ باقی کی حسیات اس کی ھمنوا بن جاتی ھیں ۔ جیسے اگر کوئی چوٹ لگ جائےتو دیکھنے کی حس نم ھو کر دھندا جاتی ھے ۔ حسِ سماعت شائیں شائیں کرنے لگتی ھے ۔ حسِ شامہ صرف اور صرف زخم کا اور خون کا ادراک کرتی ھے ۔ اور بولنے کی حس رونے لگتی ھے ۔ اسی طرح بھوک کا اور دوسرے عوامل کا ھماری حسیات پر اثر ھوتا ھے ۔ اگر کوئی ایک حس دوسری حسیات سے زیادہ حساس ھے تو وہ حس دوسری حسوں کو وقتی طور پر دبا دیتی ھے ۔ میں نہ جانے کن چکروں میں الجھ گئی ھوں کہ میں کہنا کچھ چاہتی تھی اور بات کہیں سے کہیں نکل گئی ۔ بالکل اسی طرح جس طرح ایک غیر حاضر دماغ شخص جو کرنا کچھ چاھتا ھے اور کر کچھ اور دیتا ھے ۔ میں معذرت خواہ ھوں آپ سے کہ عجیب الجھی ھوئی بات شروع کی اور آپ کو بھی الجھا لیا ۔ تو میں اپنی حالت کے پیشِ نظر اپنے احساسات کی بات کرتی ھوں ۔ مجھے نہیں معلوم کے اس موقع پر دوسرے کسی شخص کا ردِ عمل کیا ھو گا ۔ کیوں کہ میں تو اپنے آپ کو ایک سیدھی اور سچی انسان بنانا چاہتی ھوں۔ اور ابھی تک خود کو تعمیر کر رہی ھوں ۔ شاید کبھی میری یہ تعمیر مکمل ھو جائے ۔ اور میں اپنی شخصیت کی تراش خراش اور تعمیر سے فارغ ھو جاؤں ۔ اور ایک اپنی ذات کو پسند آنے والی شخصیت کے روپ میں خود سے ملوں ۔ بالکل ایک عکس کیطرح ۔ کہ یہ میری سب سے بنیادی اور بڑی خواھش ھے ۔ میری تکمیلِ ذات کیلیے دعا کیجیے گا ۔ کہ اب اور کوئی کام بھی نہیں کہ جس کا بہانہ بنا کر میں اپنے اس مقصد سے دور ھو جاؤں ۔ یا اسے بھول جاؤں۔
__________________
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء * رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ |
|
|
|
| سیپ کا شکریہ ادا کیا گیا | ابن جلال (22-10-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا لکھا ہے ۔
اللہ پاک آپ کی نیک خواہشات پوری کردے۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
بہت ہی اچھا لکھا ہے آپ نے پڑھ کے بہت مزا آیا
|
|
|
|