|
|
#1 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم تعریف اُس خدائے با برکت کی جس نے مجھے بولنا، لکھنا اور پڑھنا سیکھایا۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ دو دھائیاں اور کچھ سال بیت گئے۔ایک عام سے علاقے کے ایک چھوٹے سے گھر میں ایک نئے مہمان کی آمد سے قبل کچھ دعائیں مانگی جارہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ وہ عورت جو پانچویں بار تکمیل کے مر حلے سے گز رہی تھی اُس نے منت مانی کہ اے اللہ پاک مجھے ایک اور بیٹی سے نواز دے، اس گھر میں ایک بیٹی پہلے سے موجود تھی اور اسے بھی ایک بہن کی ضرورت تھی تین بھائی بھی موجود تھےاللہ رب العالمین نے اس گھر والوں کی دعا سن لی اور پانچ مارچ کی ایک صبح ایک ننھی منی سی گڑیا کو اس گھر میں بھیج دیا۔ یہ بچی اپنے گھر کیMost Wanted بچی تھی اس کی پیدائش پر بہت خوشیاں منائی گئی کیونکہ اس گھرانے میں بیٹیاں بہت کم ہوتی ہیں۔یہ بچی اپنے گھر والوں کے لیئے بہت لکی ثابت ہوئی ۔اس کی پیدائش کے کچھ دنوں بعد ہی اس کے والد کی جاب میں ترقی ہو گئی۔بہت لاڈلی تھی یہ بچی آنکھ کھولتے ہی اس نے صرف پیار ہی پیار پایا۔ہر وقت اسے گود میں رکھا جاتا،اس کی دادی ماں کبھی فرش پر اسے بیٹھنے نہیں دیتی،اسی ناز و اندام میں ایک برس بیت گیا،اس کی سالگرہ پر اس کی ماں نے اس کے لیئے ایک سچا موتی خریدا وہ سچا موتی جو سیپ میں سے نکلتا ہے اسی موتی کی تخلیق کرتے کرتی سیپ اپنی جان گنوا دیتی ہے ایک سال کی ہوتے ہی اس بچی نے بولنا شروع کیا ۔ ۔ ۔ ۔ اس بچی نے اپنی زبان سے پہلا لفظ امی ادا۔ عام بچوں کے مقابلے میں اس نے بہت جلد بولنا سیکھ لیا تھا بہت ہنس مکھ سے بچی تھی ہر ایک کو اس پر پیار آتا،اسی طرح اس بچی کی دوسری سالگرہ بھی آگئی،اور ساتھ ہی ایک اور موتی بھی اس کی ماں نے اس کے لیئے لیا، اب یہ بچی بولنے لگی تھی، اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں بہت اچھا تلفظ ادا کرتی تھی ،اپنے بہن بھائیوں کی پینسلوں اور رنگوں سے کھیلتی تھی ان کی کتا بیں لے کر دیکھتی رہتی تھی،ڈھائی سال کی عمر اس اس کی ماں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پہلا لفظ اللہ لکھوایا تیسری سالگرہ تک یہ کافی کچھ لکھنا سیکھ گئی اور تیسرے جنم دن کے ساتھ ایک اور موتی اس کی ماں نے اس کے لیئے لے لیا۔ سب نے کہا کہ اب اسے اسکول داخل کرا دو مگر اس کی ماں نے کہا نہیں یہ بچی بہت نازک ہے اکیلی اسکول نہیں جا سکے گی ،اس کی ماں نے اسے خود گھر میں پڑھانا شروع کیا اور پھر اسی طرح اس کی زندگی کا ایک اور سال چوتھے موتی کے اضافے کے ساتھ بیت گیا، یہ بچی بہت حساس تھی، بہت ذیادہ کسی کے سامنے کچھ نہیں بولتی تھی ہر لمحے اپنی ماں کے ساتھ چپکی رہتی تھی،جب اس کی پانچویں سالگرہ کا دن آیا تو یہ فیصلہ کیا گیا کے اب اسے اسکول بھیجا جائے گا، یہ بچی بہت ڈر گئ مگر جب اسکول گئی تو یہاں بھی سب نے پیار سے اس کا استقبال کیا کیونکہ اس نے ایڈمیشن ٹیسٹ بہت ہی شاندار دیا تھا اور یوں پانچواں موتی بھی آگیا اس کے پاس۔ ایک دن یہ بچی اسکول سے گھر آئی تو اس کی دادی ماں نےاس کو اپنے پاس بٹھا لیا اور نہایت شفقت بھری نظروں سے دیکھا اور پانی مانگا، پھر اپنی آنکھیں بند کر لی یہ بچی پریشان ہو گئی پھر سب لوگ اس کے گھر میں جمع ہونے لگے اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے، پھر اس کی امی نے اسے روتے ہوئے سمجھایا کی اس کی دادی ماں کو اللہ پاک نے اپنے پاس بلا لیا ہے، اس بچی کا معصوم ذہن اس بات کو سمجھ ہی نہ سکا کہ یہ سب کیا ہےلیکن اس کے ذہن میں اس کی دادی کی شفیق ہستی ہر وقت گھومتی رہتی اسی طرح ایک اور برس بیت گیاایک اور موتی آگیا۔
__________________
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء * رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ |
|
|
|
| 31 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | Bhatti (23-01-11), Hope (05-09-11), فیاض انصاری (27-10-11), فرخ ظفر (14-12-10), کنعان (14-12-10), گلاب خان (15-12-10), پاکستانی (23-04-12), ھارون اعظم (13-12-10), یاسر عمران مرزا (13-12-10), نیلم خان (13-12-10), چیتا چالباز (19-04-12), نبیل خان (22-11-11), مون (14-12-10), محمد یاسرعلی (07-09-11), محمدعدنان (18-12-10), مرزا عامر (09-04-12), معظم (13-12-10), Zullu230 (14-12-10), آبی ٹوکول (13-12-10), ایس اے نقوی (14-12-10), احمد نذیر (10-09-11), بزم خیال (14-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (14-12-10), حیدر (14-12-10), رضی (14-12-10), عامرشہزاد (14-12-10), عبدالقدوس (13-12-10), عبداللہ حیدر (13-04-12), عبدالرحمن سید (18-12-10), عدنان دانی (20-12-10), عروج (14-12-10) |
| کمائي نے سیپ کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 15-12-10 | زارا | سیپ کے موتی | 50 |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ساتویں سال میں یہ بچی اپنے اسکول کی بھی
Most Favorite اسٹوڈینٹ بن گئی اور ہر ٹیچر کی زبان پر اس ہی نام ہونے لگا،صاف ستھرا یونیفارم پہنے لبمے لمبے بالوں کی دو پونی ٹیل بنائی ہوئی نازک سی اس بچی میں ایک خامی تھی یہ ہمیشہ اسکول دیر سے پہنچا کرتی تھی،آٹھویں سال میں اسے اسکول میں پروموٹ کیا گیا اور اگلی کلاس میں بٹھا دیا گیا،یہ بچی اپنے گھر میں تو بہت بولتی تھی مگر گھر سے باہر چپ چاپ اور ڈری سہمی سی رہتی تھی اس کی ماں اپنی اس بیٹی کو بہادر بنانا چاہتی تھی اس لیئے اس کی ماں نے اسے غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی طرف مائل کیا۔ وہاںبھی خوش قسمتی کا سائہ اس بچی کے سر پر رہا اور یہ بچی بہت سارے ایوارڈز اور میڈلز جیتے لگی اپنی امی کی لکھی ہوئی تقریروں کو یہ بچی بہت احسن طریقے سے اپنی آواز کے سانچے میں ڈھالتی تھی پہلی نظر میں کمزور سی نطر آنے والی یہ بچی جب بولتی تو سب لوگ بہت ستائش کرتے عمر کی مالا میں دس موتی اور جڑ گئے تھے،یہ بچی جہاں پر اپنے پیر رکھتی اس کے گھر والے وہاں اپنی ہتھیلیاں رکھتے،بہت فخر محوس کرتے جب لوگ اس بچی کی تعریفیں کرتےاسکول بدل چکا تھا مگر یہاں بھی اس کا نام اس کی پہچان بنا رہا، اس کی ماں کے لیئے گئے موتی اب تیرہ13 ہوگئے تھے اور یہ بچی اب میٹرک کی طالبہ تھی،اپنی کلاس میں یہ بچی خود کو بہت اجنبی سا محسوس کرتی تھی کیوں کہ ڈوپٹے کے بغیر گھومنے والی یہ بچی ابھی تک خود کو باربی ڈول ہی سمجھتی تھی اور اس کی کلاس فیلوز خود کو ینگ گرلز کہلوانا پسند کرتی تھی،اس بچی کی کوئی بھی بیسٹ فرینڈ نہیں تھی یہ اپنی ہر بات صرف اپنی ماں سے کہتی تھی اس نے اپنی ماں کو اپنی بیسٹ فرینڈ بنا لیا، ان ہی دنوں ایک پیاری بلی اس کے گھر آنے لگی اور اس نے اس بلی کا نام مانو رکھ لیا ، اپنی مانو سے بہت پیار تھا اس کو سفید اور پیلی سی یہ بلی اس کی ساتھی تھی۔ جس محلے میں یہ بچی پیدا ہوئی ،کبھی باہر نہیں نکلی اگر کبھی نکل بھی جاتی تو سب لوگ حیرت سے اس کو دیکھتے ،اس سے بات کرنا چاہتے، مگر اس کی تو اپنی ہی دنیا تھی،کتابوں کی دنیا،کتابوں سے محبت اسے ورثے میں ملی تھی،شاعری کا شوق اس کے لہو میں شامل تھا،نونہال،آنکھ مچولی،تعلیم و تربیت،ساتھی،اخبار جہاں پڑھتے پڑتھے اس کا دن بیت جاتا ،میٹرک کے پیپز کے بعد اس نے لکھنا شروع کیا،جنگ اخبار کے بچوں کے صفحے میں جب اس کی پہلی کہانی چھپی تو بہت خوش ہوئی اور یوں یہ باقائدگی سے لکھنے لگی۔13 برس بیت گئے ٹین ایج شروع ہوگئیاسکول سے نکل کر کالج کی زندگی کا آغاز ہو گیا |
|
|
|
| 25 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | Bhatti (23-01-11), Hope (05-09-11), فیاض انصاری (27-10-11), فرخ ظفر (14-12-10), پاکستانی (23-04-12), ھارون اعظم (13-12-10), یاسر عمران مرزا (13-12-10), نیلم خان (13-12-10), چیتا چالباز (19-04-12), نبیل خان (22-11-11), مون (14-12-10), محمد یاسرعلی (07-09-11), معظم (13-12-10), آبی ٹوکول (13-12-10), ایس اے نقوی (14-12-10), احمد نذیر (10-09-11), بزم خیال (14-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (14-12-10), حیدر (14-12-10), رضی (14-12-10), عبدالقدوس (13-12-10), عبداللہ حیدر (13-04-12), عبدالرحمن سید (18-12-10), عدنان دانی (20-12-10), عروج (14-12-10) |
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم تعریف اُس خدائے با برکت کی جس نے مجھے بولنا، لکھنا اور پڑھنا سیکھایا۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ یہ بچی بہت معصوم تھی لوگوں نے اس کی معصومیت کوDufferکا خطاب دیا، بچپن میں اسکے والدین نے اسے نصیحت کی تھی کہ بیٹا کبھی بھی جھوٹ نہیں بولنا کبھی کسی کو دھوکا نہیں دینا جہاں تک ممکن ہو دوسروں کے کام آنا یہ نصیحت اس کے خون میں شامل ہوگئی یہ خود بھوکی رہ کر اپنا لنچ دوسروں کو دے دیتی، اپنی محنت سے بنائے ہوئے نوٹس سب میں تقسیم کر دیتی کوئی کچھ بھی مانگے اس کے لب پر ناں نہیں ہوتا تھا،کالج میں پہنچ کر بھی اس کا بچپنا نہیں گیا تھا،کالج کے دوسرے دن سب اس پر بہت ہنسے تھے کیوں کہ دو پونیاں باندھے ہوئے اپنے بیگ کو سینے سے لگائے ہوئے یہ لڑکی رو رو کے ٹیچر سے کہہ رہی تھی کہ کل میں اس چئیر پر بیٹھی تھی یہ میری جگہ ہے، کالج میں آکر بھی اس میں کوئی میچورٹی نہیں آئی لائبیرری اس کی پسندیدہ جگہ تھی،کالج میں بیٹھی ہوئی بس یہی سوچتی رہتی کہ جلدی سے چھٹی ہوجائے اور یہ اپنے گھر چلی جائے جہاں دروازہ تھامے اس کی ماں اس کی منتظر کھڑی ہوگی،عمر کے اضافے کے ساتھ ساتھ اس کا دل اور حساس ہوتا گیا، ڈاکٹر بننے کی شوقین یہ لڑکی کسی کا درد دیکھ ہی نہیں سکتی تھی،یہ لڑکی تو تتلیوں ، رنگوں ،جگنوؤں سے محبت کرتی تھی، چاندنی راتوں میں رات کی رانی اور موتیاں کی خوشبوکو محسوس کیا کرتی تھی،16 سال کی عمر میں انٹر کر لیا اور اپنے ماں کے جمع کیئے ہوئے ان 16 موتیوں کو اپنے پاس رکھ لیا |
|
|
|
| 26 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | Bhatti (23-01-11), Hope (05-09-11), فیاض انصاری (27-10-11), فرخ ظفر (14-12-10), کنعان (14-12-10), پاکستانی (23-04-12), ھارون اعظم (13-12-10), یاسر عمران مرزا (13-12-10), نیلم خان (13-12-10), چیتا چالباز (19-04-12), نبیل خان (22-11-11), مون (14-12-10), محمد یاسرعلی (07-09-11), معظم (13-12-10), آبی ٹوکول (13-12-10), ایس اے نقوی (14-12-10), احمد نذیر (10-09-11), بزم خیال (14-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (14-12-10), حیدر (14-12-10), رضی (14-12-10), عبدالقدوس (13-12-10), عبداللہ حیدر (13-04-12), عبدالرحمن سید (18-12-10), عدنان دانی (20-12-10), عروج (14-12-10) |
| کمائي نے سیپ کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 15-12-10 | زارا | سیپ کے موتی | 10 |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم تعریف اُس خدائے با برکت کی جس نے مجھے بولنا، لکھنا اور پڑھنا سیکھایا۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ کہتے ہیں کہ سولہویں سال میں عہدِ شباب اپنے عروج پر ہوتا ہے۔مگر یہاں تو معاملہ بالکل ہی برعکس ہوا تھا سوئیٹ سیکسٹین کی عمر میں اس پر بھر پور بچپنا اُترامحلے کے سب بچوں سے اس کی دوستی ہو گئی،روز انہ شام کے 4 بجتے ہی اس کے چھوٹے سے گھر کے بڑے سے صحن میں میلا سا لگ جاتا تھا ،کبھی کرکٹ،کبھی آنکھ مچولی،کبھی چور سپاہی کھیلا جاتا تھا،اور کسی کسی دن تو چکنی مٹی خرید کر کھلونے بھی بنائے جاتے تھے،اس کی مانو اس کے ساتھ ہوتی تھی،زندگی سے بھرپور آوازیں اس کے صحن سے نکل کر باہر ہلچل مچاتی رہتی تھیں،اسے اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اتنی بڑی ہوکر بچی بن رہی ہے بچوں کے ساتھ کھیل رہی ہے ،کیونکہ اس گھر میں تو یہ ننھی منی سی گڑیا ہی تھی،ایک ایسی گڑیا کے جس کے لیئے اس کے بھائی نے آم کے درخت پر جھولا باندھا تھا، جس کے لیئے اس کی بہن روز لالی پاپ لاتی تھی ، جس کا منہ تک اس کی ماں دھلاتی تھی،یہ Teen ageاس کا بچپن تھی اس نے اس عمر میں وہ سب کیا جو سات آٹھ سال کے بچے کیا کرتے ہیں، ایک روز وہ کالج سے گھر لوٹی جنوری کی پچیس تاریخ تھی ابھی اپنے شوز بھی اتار نہیں پائی تھی کہ ایک بچے نے آکر کہا’’ثوبیہ باجی آپ کی بلی مری ہوئی پڑی ہے،یہ لڑکی بد حواس ہو کر باہر بھاگی اس کی مانو کی دیڈ باڈی کے کے ارد گرد بہت سے بچے کھڑے تھے کوئی کہہ رہا تھا کے پڑوسیوں کے ڈوگی نے اس کو مارا ہے، تو کوئی کہہ رہا تھا کہ نہیں گاڑی کے نیچے آگئی ہے اور ثوبیہ چلا رہی تھی مانو ،مانو کیا ہوا تم کو صبح تو ہم نے ایک ساتھ ناشتہ کیا تھا مگر اس کی مانو تو بے جان ہو گئی تھی،اس کو چھوڑ کر چلی گئی تھی، ثوبیہ بہت روئی ،اپنے دل پر اثر لے لیا اور ٹائیفائیڈ بخار میں مبتلا ہو گئی،ایک ماہ بستر پر پڑی رہی،اپنے سب دوستوں کو چھوڑ دیا کہ انہوں نے اس کی مانو کی حفاظت کیوں نہیں کی۔ بچے روز اس سے ملنے آتے مگر وہ کسی سے نہیں بات کرتی۔ پھرایک دن ایک دس سالہ بچی شمع نے یہ آئیڈیا دیا کہ ہم ثوبیہ باجی کی بلی کے لیئے قران خوانی کرتے ہیں اس سے بلی کو ثواب ہوگا اور ثوبیہ باجی پھر سے ہماری دوست بن جائیں گی،بڑے زور و شور سے بچوں نے چندہ جمع کیا اور نان ختائیاں خریدی اور گھر کے صحن میں بلی کا چالیسواں منعقد کیاسب نے خلوص دل سے بلی کی مغفرت کی دعا مانگی۔ ایک خلش ثوبیہ کے دل میں باقی رہ گئی کہ کاش اس کی بلی کی قبر ہوتی،جس طرح وہ اپنی دادی ماں کی قبر پر پانی ڈالتی ہے پھول چڑھاتی ہے اسی طرح اپنی مانو کی قبر پر بھی جاتی ۔ اس کا یہ بچپنا، یہ سادگی، یہ معصومیت اس کے گھر اور اس کے تمام ملنے والوں کو بہت پسند تھی، لوگ کہتے تھے کہ اس لڑکی میں زرا سی بھی بناوٹ نہیں ہے بلکل نیچرل ہے۔ پھر ایک دن اس کی ماں نے اسے ایک اور بات بتائی کہ ’’گڑیا لوگ عموما بڑھاپے میں عبادت کرتے ہیں مگر اللہ پاک کونوجوانی کی عبادت بہت پسند ہے میں جب تمھاری ایج کی تھی تو اللہ پاک کی بہت عبادت کیا کرتی تھی‘‘ ثوبیہ کی ذندگی میں ایک اور موتی کا اضافہ ہو چکا تھااور ایک مثبت تبدیلی بھی۔ قراں پاک تو گیارہ سال کی عمر میں ختم کر لیا تھا مگر اب یہ ترجمہ اورتفسیر بھی پڑھتی تاکہ سمجھ سکے کہ اس میں کیا کہا گیا ہے،ڈوپٹے سے بے نیاز ،اسکرٹ،فراک اور جینز پہننے والی یہ بچی ہر وقت اسکارف سے اپنا سر ڈھکے رہتی، اس نے عبایا بھی پہننا شروع کر دیا ایک دن اس نے اپنے پاپا سے پوچھا کی کیا سید ہمارا سر نیم ہے؟ تو اس کے پاپا نے اسے سمجھایا کہ ’’ہمارا شجرہ نسب نبی پاک کے گھرانے سے جا ملتا ہے‘‘ اس دن سے ثوبیہ کو اپنے نام سے محبت ہوگئی اور وہ بڑے فخرسے کہتی کہ میرا نام سیدہ ثوبیہ ناز ہے |
|
|
|
| 24 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | Bhatti (23-01-11), Hope (06-09-11), فیاض انصاری (27-10-11), فرخ ظفر (15-12-10), کنعان (14-12-10), پاکستانی (23-04-12), ھارون اعظم (13-12-10), یاسر عمران مرزا (13-12-10), نیلم خان (13-12-10), چیتا چالباز (19-04-12), نبیل خان (22-11-11), مون (14-12-10), محمد یاسرعلی (07-09-11), معظم (13-12-10), ایس اے نقوی (23-04-12), احمد نذیر (10-09-11), بزم خیال (14-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (14-12-10), حیدر (14-12-10), رضی (14-12-10), عبدالقدوس (13-12-10), عبداللہ حیدر (13-04-12), عبدالرحمن سید (18-12-10), عروج (14-12-10) |
| کمائي نے سیپ کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 15-12-10 | زارا | ہمارا شجرہ نسب نبی پاک کے گھرانے سے جا ملتا ہے | 10 |
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم تعریف اُس خدائے با برکت کی جس نے مجھے بولنا، لکھنا اور پڑھنا سیکھایا۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ اپنی گلابی ہتھیلی میں سترہ موتی سمیٹے ہوئے یہ لڑکی سب کے لیئے ایک معمہ تھی، یہ جس شوق سے نونہال پڑہتی تھی اسی ذوق سے یہ قدرت اللہ شہاب،سلمیٰ کنول،ممتاز مفتی،کو پڑھا کرتی تھی، پروین شاکر کی ’’خوشبو‘‘ اس کو ازبر تھی،فیض کا نسخہ ہائے وفا ہو یا اقبال کی بانگِ درا،مستنصر حسین تاڑر کے سفر نامے ہوں یا،واصف علی واصف کی باتیں،اشفاق احمد کا زاویہ ہو یا بانو قدسیہ کا راجہ گدھ، یہ لڑکی ہر چیز پڑھا کرتی تھی یہاں تک کے بیکری سے آنے والے لفافوں کو بھی احتیاط سے کھول کر پڑھا کرتی تھی،اس کا ڈاکٹر بننے کا ارادہ اب تبدیل ہوگیا تھا کیونکہ اسے اب تک وہ مینڈک ، کاکروچیز اور ارتھ وارمز یاد آتے تھے جن کا اس نے ڈائی سیکشن کیا تھا۔ یہ پاگل لڑکی اتنا چھوٹا دل رکھی ہے کہ اپنے آپ کو کاٹنے والے مچھر کو بھی نہیں ہٹاتی کہ ’’اللہ پاک نے مچھر کا رزق اس کے خون میں لکھا ہے‘‘ یہ اپنے رب کی بہت عبادت کرنے لگی،یہاں تک کہ نمازِتہجد بھی پڑھنے لگی اسے دعا مانگنی نہیں آتی تھی اور دعا میں کیا مانگتی؟سب کچھ تو تھا اس کے پاس ہر چیز سوچنے سے پہلے ہی اس کے پاس آجاتی تھی،کسی چیز کی خواہش ہی نہیں تھی ایک دن اس نے اپنی ماں سے پوچھا’ امی میں کیا دعا مانگا کروں؟‘‘اس کی ماں نے ایک کامل دعا اسے بتائی اور کہا کہ یہ دعا مانگا کرو’’یا اللہ پاک تو مجھے وہ عطا فرما جو میرے حق میں بہتر ہو‘‘ یہ لڑکی بہت صابر و شاکر تھی کبھی اس نے اپنے رب سے کوئی شکوہ نہیں کیا ،کبھی کچھ غلط ہوا بھی تو اسے اللہ کی مصلحت سمجھ کر مسکرا دیا ایک اور موتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب یہ لڑکی گریجویشن کر رہی ہے، کالج بھی نیا ،سب ساتھی بھی نئے ٹیچرز بھی نئے، یہاں بھی اس نے اپنے آپ کو منوا لیا اسے اب اپنے نام سے عقیدت تھی،ریڈیو پاکستان کا بزم طلبہ ہو یا ایف ایم کا کوئی ٹالک شو اس لڑکی شمولیت لازمی تھی،پی ٹی وی کے روشنی پروگرام میں اس نے شرکت کی ہر غیر نصابی سرگرمی میں سب سے آگے ہوتی،کچھ بننے کا شوق تھا اسے، ایک جذبہ تھا، ایک لگن تھی کہ اس کا نام بہت مشہور ہو جائے۔اس کے اللہ پاک نے اس بات کو اس کےحق میں شامل کیا،سب اس لڑکی کو جاننے لگے، اس کے آئی کیو لیول سے متاثر ہونے لگے،یہ بہت فخر محسوس کرتی جب لوگ اس کے والدین سے اس کی تعریف کرتے، یہ بڑے فخر سے بتاتی کہ اس کی امی صرف میٹرک پاس ہیں مگر ان کی نالج کسی پی ایچ ڈی جتنی ہے، امی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی امی اس کی سب کچھ تھی اس کی بہترین دوست اس کی ٹیچر اس کی محبت اس کی دنیا اس کا سب کچھ بہت لکی تھی یہ لڑکی ، دلوں کو جیتنے کا فن آتا تھا اس کو،جہاں جاتی لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی تھی،بہت سے لوگوں نے اس چھوئی موئی سی لڑکی کو اپنا نے کی خواہش ظاہر کی مگر اس کی ماں جانتی تھی ، کہ ان کی نازک سی یہ بچی ابھی میچیور نہیں ہوئی ہے اس کا بچپنا ابھی ختم نہیں ہوا ہے یہ لڑکی اب بھی بچوں سے کھیلتی تھی ۔ اس کے لبوں پر بس ایک ہی دعا تھی’’ یا اللہ پاک تو مجھے وہ عطا فرما جو میرے حق میں بہتر ہو‘‘ بیسواں موتی اس کے ہاتھ میں گریجوشن کی ڈگری بھی تھما گیا |
|
|
|
| 23 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | Bhatti (23-01-11), Hope (06-09-11), فیاض انصاری (27-10-11), فرخ ظفر (15-12-10), کنعان (14-12-10), پاکستانی (14-12-10), یاسر عمران مرزا (13-12-10), نیلم خان (13-12-10), چیتا چالباز (19-04-12), نبیل خان (22-11-11), مون (14-12-10), محمد یاسرعلی (07-09-11), معظم (13-12-10), آبی ٹوکول (13-12-10), ایس اے نقوی (14-12-10), احمد نذیر (10-09-11), بزم خیال (14-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (14-12-10), حیدر (14-12-10), رضی (14-12-10), عبدالقدوس (13-12-10), عبداللہ حیدر (13-04-12), عبدالرحمن سید (18-12-10) |
| کمائي نے سیپ کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 15-12-10 | زارا | یا اللہ پاک تو مجھے وہ عطا فرما جو میرے حق میں بہتر ہو | 2 |
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم تعریف اُس خدائے با برکت کی جس نے مجھے بولنا، لکھنا اور پڑھنا سیکھایا۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ وقت آگے جارہا تھا زندگی سے بھرپور یہ لڑکی زندگی کے مختلف رنگ دیکھ رہی تھی، اس نے کمپیوٹر سیکھا اور انٹر نیٹ کی دنیا میں بھی داخل ہوگئی ،انٹر نیٹ جہاں سب جھوٹ ہوتا ہے سب کا نام ،لوکیشن ،سیکس، ہر چیز جھوٹ ،اس جھوٹی دنیا دنیا میں بھی اس لڑکی نے سچ بولنے کا عہد کیا یہ سچ کی تعلیم تو اس کی گھٹی میں شامل تھی اس کے والد نے اس کی پرورش خالص رزقِ حلال سے کی تھی اس کی ماں نے اسے ہر وقت باوضو رہنے کا درس دیا تھا، ماں کہتی تھی ’’گڑیا اللہ پاک تمھاری شہہ رگ سے بھی قریب ہے جب بھی کسی سے بات کرو یہ بات مد نظر رکھنا کہ تم دونوں کے بیچ میں اللہ پاک بھی موجود ہیں 13 نومبر 2006 کو اس نے ایک فورم جوئن کیاآئی ٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں بھی اس نے اپنے آپ کو منوانا چاہا، یہ یہاں بھی بڑے فخر سے اپنے ہر تھریڈ پر بڑا بڑا سا سیدہ ثوبیہ ناز لکھا کرتی تھی اس کی معصومیت، اس کا بچپنا اب تک اس کی ذات کا حصہ تھاہر کسی سے بحث کرتی، اپنا آپ منواتی پھرر فتہ رفتہ ہر فورم پر یہ نام جگمگانے لگا کہیں نیلا رنگ،کہیں ہرا رنگ کہیں میرون کہیں پیلا،تتلیوں، پھولوں،رنگوں سے بنی یہ لڑکی اپنے سچے ہونے پر ہمیشہ فخر کیا کرتی تھی اس کے والدین نے یہ سیکھا یا تھا کہ جب بھی کسی سے بات کرو تو یاد رکھنا کے تمھارے الفاظ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تم کس فیملی سے تعلق رکھتی ہو۔اس لڑکی نے نیٹ پر اپنے سے بڑوں کو بھیا، بھائی اور آپی کہا، اپنے سے چھوٹوں کو بچے،بیٹا،چھوٹو،چندا کہہ کر پکارا یہ لڑکی ماس کمیونیکشن میں ماسٹرز کرنا چاہتی تھی بہت اونچے خواب دیکھے تھے اس نے ،مگر اس لڑکی کے ہاتھ میں موتی تھمانے والی ماں کو اب اس کی ضرورت تھی بہت سی بیماریوں نے گھیر رکھا تھا اس کی ماں کو،اس کی ماں انسولین پر تھی اس نے اپنے سارے خواب ،سارے ارادے اپنے دل کے کونے میں دفن کر لیئے اور اپنی زندگی اپنی عظیم ماں کے نام کر دی ۔ ماں کو ٹائم پر میڈیسن دینا،انسولین لگانا، بی پی، شوگر مانیٹر کرنا،پیر دبانا،سر میں تیل لگانا، یہ سب کر کے بھی میں مطمعئن نہیں ہوتی تھی، میری ماں میرا پیار،میری جنت،میرا بس چلتا تو میں اپنی ماں کو جنت کی حور بنا دیتی، سب کی مائیں اچھی ہوتی ہیں مگر میری ماں جیسا کوئی نہیں، کوئی بھی نہیں،میری ماں بہت عظیم عورت ہیں انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیئے اپنے آپ کو فنا کر لیا،اس کی ماں نے ایک اور موتی اسے دیا اور2007 میںجیو ٹی وی تک اس کی رسائی ہوئی، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نیٹ کی اس رنگین دینا میں یہ لڑکی کئی بار لوگوں کے رویوں سے بہت ہرٹ ہوئی۔ اسے یہاں بہت سے لوگ ملے۔ ،اس کو نصیحت کی کہ کبھی بھی کسی پر اعتبار مت کرنا یہاں سب جھوٹے ہیں مگر یہ لڑکی تو سب کو اپنے جیسا سمجھتی تھی، یہاں ڈاکٹر بھائی(میاں شاہد) جیسے معتبر انسان بھی ملے ،عبدالقدوس جیسے مدد گار بھی،زارا جیسی رازدار بھی، زین اور فصح جیسے چھوٹو سے بھائی بھی،خلیل بھائی جیسے چلبلےسے انسان بھی |
|
|
|
| 24 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | Hope (06-09-11), فیاض انصاری (27-10-11), فرخ ظفر (15-12-10), کنعان (14-12-10), پاکستانی (14-12-10), ھارون اعظم (13-12-10), یاسر عمران مرزا (13-12-10), نیلم خان (13-12-10), چیتا چالباز (19-04-12), نبیل خان (22-11-11), مون (14-12-10), محمد یاسرعلی (07-09-11), معظم (13-12-10), آبی ٹوکول (13-12-10), ایس اے نقوی (14-12-10), احمد نذیر (10-09-11), بزم خیال (14-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (14-12-10), حیدر (14-12-10), رضی (14-12-10), عبدالقدوس (13-12-10), عبداللہ حیدر (13-04-12), عبدالرحمن سید (18-12-10), عروج (14-12-10) |
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم تعریف اُس خدائے با برکت کی جس نے مجھے بولنا، لکھنا اور پڑھنا سیکھایا۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ ام طلحہ جی شفیق انسان بھی جو جب بھی بات کرتی تو یہی کہتی کہ ثوبیہ امی ابو کا خیال رکھا کرو،منتظمین جیسے پراسرار انسان بھی کہ جو اسے اپنا نام تک نہیں بتاتے اور یہ ان سے ساری باتیں شئیرکر لیتی ان سے ایسے لڑتی تھی جیسے وہ فورم کے ایڈمن نہیں اس کے سگے بھائی ہیں۔ بہت اچھے اچھے انسان ملے اس لڑکی کوجنہوں نے بہت سپورٹ کیا اسے۔ اس کے گھر میں بھی کافی تبدیلیاں آچکی تھی دو کمروں اور بڑے سے صحن پر مشتعمل گھر اب پانچ کمروں میں تبدیل ہو گیا تھا۔فیملی میمبرز میں ایک بھابی کا اضافہ ہو گیا تھا، پھر ایک پیارا سا بھتیجا ہی آگیا،کچے صحن میں لگی گھاس کی جگہ سمنٹ کے پختہ فرش نے لے لی تھی نہ آم کا درخت رہا نہ اس پہ بندھا جھولا،مگر اب بھی گملوں میں رات کی رانی اور موتیا مہکتا تھا ، اب بھی وہ چاندنی راتوں کو صحن میں بیٹھ اپنی امی سے گھنٹوں باتیں کیا کرتی تھی، گرمیوں کی راتوں میںجب کھلے بالوں سے لیٹی وہ آسمان کے چمکتے تارے دیکھتی تو اس کی ماں ڈر جایا کرتی تھی کہ ان کی اس پری پر کوئی جن نا عاشق ہو جائے۔ بڑی بے فکری کے دن تھے،وہ ہر بات اپنی ماں کو بتاتی تھی۔ جب اس کی ماں نے اکیسواں موتی دیا تو وہ ہسنے لگی اور اس نے ماں سے کہا کہ امی ان کا تو نیکلس بھی نہیں بن سکتا آپ ایک ساتھ ہی بہت سارے موتی لے دیں ناں اس کی ماں نے پوری موتیوں کی مالا لے دی۔یہ لڑکی اپنے آپ کو بہت خوش نصیب کہتی تھی ،اس کی ہر خواہش پوری ہو جاتی تھی، ہر سال نیا کیلنڈر دیوار پر لاتے ہی یہ لڑکی 5 مارچ کے گرد ایک دائرہ بنا دیتی اور جس جس سے جو گفٹ لینا ہوتا وہ لکھ دیتی، سب سے ذیادہ تنگ اسے اس کا بھائی جاوید کیا کرتا تھا،کچرا رانی کہتا تھا اس کو،گھر والے ٹام اور جیری کہتے تھے ان کو،ہر وقت لڑنا جھگڑنا،چھیڑنا،ان کا کام تھاگھر کی رونق تھی ان کے دم سے یہ دونوں مل کے اپنی بڑی بہن کو بہت تنگ کیا کرتے تھے،ویسے تو دو بھائی اور بھی تھے اس کے مگر جاوید کا اور اس کا حساب کتاب ہی الگ تھا،کبھی یہ لڑکی بڑے بھائی کی پرفیوم چرا کر جاوید کو دے دیتی تو کبھی دوسرے بھائی کی شرٹ۔ ۔ ۔ ۔ جاوید بھی بہت خیال رکھتا تھا اس کا اپنی ہر چیز اسی کے پاس رکھواتا ،اپنے سارے کام کرواتا اس سے،اور اس کی ہر خواہش کو پورا کرتا، جاوید نے اس کو فائرنگ تک کرنا سیکھائی ، ہر کام کرنے شوق تھا اس کو،سلائی کڑھائی ہو یا بجلی کی وائرنگ کرنا،پلمبر کا کام ہو یا کھانا پکانا سب کچھ کر لیتی تھی ملٹی ٹیلنٹد تھی یہ لڑکی،ہر کام میں گھر والوں بھر پور حمایت حاصل ہوتی تھی اسے، اب یہ اردو ادب میں ماسٹرز کر رہی تھی |
|
|
|
| 23 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | Hope (06-09-11), فیاض انصاری (27-10-11), فرخ ظفر (15-12-10), کنعان (14-12-10), پاکستانی (14-12-10), یاسر عمران مرزا (13-12-10), نیلم خان (13-12-10), چیتا چالباز (19-04-12), نبیل خان (22-11-11), مون (14-12-10), محمد یاسرعلی (07-09-11), معظم (13-12-10), آبی ٹوکول (13-12-10), ایس اے نقوی (14-12-10), احمد نذیر (10-09-11), بزم خیال (14-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (14-12-10), حیدر (14-12-10), رضی (14-12-10), عبدالقدوس (13-12-10), عبداللہ حیدر (13-04-12), عبدالرحمن سید (18-12-10), عروج (14-12-10) |
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم تعریف اُس خدائے با برکت کی جس نے مجھے بولنا، لکھنا اور پڑھنا سیکھایا۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ اس کی بائیسویں سالگرہ آن پہنچی حسبِ عادت ماں نے ایک اور موتی دیا،بہت سی تبدیلیاں آچکی تھی اس موتیوں والی لڑکی میں۔ ۔ ۔ ۔ جو اپنے کانوں میں موتیا کے پھول پہنا کرتی تھی،اس لڑکی نے محبت کے بارے میں بہت کچھ پڑھا تھا، بہت کچھ سنا تھا،مگر اس کے ارد گرد اتنی محبتیں تھی کہ کسی اور طرف اس کا دھیان ہی نہیں جاتا تھا،چاہئے نیٹ ہو یا عام زندگی صنفِ مخالف کی طرف کبھی دھیان ہی نہیں دیا تھا اس نے ، اس کی تو صبح اپنی ماں کے لمس سے ہوتی تھی اور اس کی رات اپنی ماں کا ماتھا چوم کر مگر کچھ دنوں سے کچھ تبدیلی سی ہونے لگی اس میں ،یہ لڑکی بہت چپ چپ سی رہنے لگی،کوئی تھا جس نے سچ سے بنی اس لڑکی کو ایک جھوٹی کہانی سنائی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس پاگل سی ڈفر لڑکی سے ہمدری حاصل کرنے لگا ۔ ۔ ۔ ۔اس پاگل لڑکی نے اس کے ہر جھوٹ پر یقین کر لیا، کیوں کہ وہ نہ تو خود جھوٹ بولتی تھی اور نہ ہی آج تک نیٹ پر کسی نے اس سے جھوٹ تھا ہمدردی اسے بہت مہنگی پڑی۔ ۔ ۔ ایک لفظ محبت ہے اسے کر کے دیکھو تم برباد نہ ہو جاؤ تو میرا نام بدل دینا اسے پتہ ہی نا چلا اور وہ نہ جانے کب اس تاریک جنگل میں داخل ہوگئی’’محبت تاریک جنگل کی طرح ہوتی ہے، ایک بار اس کے اندر چلے جاو پھر یہ باہر نہیں آنے دیتی. باہر آ بھی جاو تو آنکھیں جنگل کی تاریکی کہ اتنی عادی ہو جاتی ہیں کہ روشنی میں کچھ بھی نہیں دیکھ سکتیں، وہ بھی نہیں جو بالکل صاف، واضح اور روشن ہوتا ہے.‘‘ کتابوں کی دنیا میں دنیا میں رہنے والی لڑکی اس پرخطر راہ سے واقف نہیں تھی، مگر اسے اپنی لیمٹس کا پتہ تھا ،یہ لڑکی جانتی تھی کہ اس نے اپنے دائرے میں ہی رہنا ہے،اس نے کبھی بھی کوئی ایسا کام نہیں کرنا ہے کہ کوئی اس کے ماں باپ کی تربیت پر انگلی اٹھائیں مختصرا یہ کہ یہ لڑکی کوئی افیئر افورڈ نہیں کر سکتی تھی میری چاہت کا سفر اس لئے دشوار رہا میں محبت میں وفائوں کا طلبگار رہا اس نے اُس دروغ گو سے کہا کہ محبت ہے تو اپنا لو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اسے یہ بھی روزِاول سے بتا دیا کہ ’’ میرے گھر کے راستوں میں کوئی بھی کہکشاں نہیں ہے‘‘ اس نے ایک میل مجھے بھیجی بقول اس کہ کہ وہ پہلی بار سچ بول رہا ہے اور میں اسے نہ چھوڑوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس پگلی نے اعتبار کر لیا۔ ۔ ۔ ۔وہ آیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر اس کی فیملی نے ریجکٹ کر دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک ایسی لڑکی کہ جس کے ہزاروں لوگ طلبگار تھے، ریجیکٹ کر دی گئی ، مگر اس دروغ گو نے یہی کہا کہ میں اپنے گھر والوں کو منا لوں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس روز وہ آیا اسی روز جاوید کی طبعت خراب ہوگئی اور وہ اسپتال میں داخل ہو گیا۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 22 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | Bhatti (23-01-11), Hope (06-09-11), فیاض انصاری (27-10-11), فرخ ظفر (15-12-10), کنعان (14-12-10), پاکستانی (14-12-10), یاسر عمران مرزا (13-12-10), نیلم خان (13-12-10), چیتا چالباز (19-04-12), نبیل خان (22-11-11), مون (14-12-10), محمد یاسرعلی (07-09-11), معظم (13-12-10), آبی ٹوکول (13-12-10), ایس اے نقوی (14-12-10), احمد نذیر (10-09-11), بزم خیال (14-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (14-12-10), حیدر (14-12-10), رضی (14-12-10), عبداللہ حیدر (13-04-12), عبدالرحمن سید (18-12-10) |
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم تعریف اُس خدائے با برکت کی جس نے مجھے بولنا، لکھنا اور پڑھنا سیکھایا۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ جاوید اور اسپتال؟؟؟ جاوید وہ شخص تھا جس نے کبھی ایک پینا ڈول تک نہیں کھائی تھی،جسے کبھی وائریل فلو تک نہں ہوا تھا ایک 28 سالہ نوجوان جو خود اپنے ہاتھوں سے گاڑی ڈرائیو کر کے گیا ہے اسے ایڈ مٹ کر لیا گیا بہت شاکنگ نیوز تھی یہ۔ ۔ ۔ ۔ تین دن بعد اسے وینٹیلیٹر پر رکھ دیا گیا۔ ۔ ۔ ۔اور بیس دن بعد جو جاوید گھر لوٹا وہ ہمارا نہیں تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اللہ پاک کی اما نت تھا اسے کفن پہنا یا جا رہا تھاجس کے سہرے کے پھول کھنے کے دن تھے اس کی قبر کو پھولوں سے ڈھکا جا رہا تھا،اس سمے وہ لڑکی کچھ بھی سمجھ نہیں پائی وہ صرف چلاتی رہی ایسا نہ کرو اس کے بھائی کو چھوڑ دو ابھی اس کا بھائی ابھی اٹھے گا اسکے بال کھینچے گا،اس کا شیمپو چرا کر نہائے گااور کہے گا کہ اس کچرا رانی کے شیمپو سے تو بال ذیادہ سلکی ہو جاتے ہیں،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کسی نے اس کی بات نہیں مانی سب یہی کہتے رہی کہ آخری بار بھائی کو دیکھ لو ، اب چلا گیا بھائی ۔ ۔ ۔ ۔ کبھی نہیں آئے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
| 27 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | Bhatti (23-01-11), Hope (06-09-11), فیاض انصاری (27-10-11), فرخ ظفر (15-12-10), کنعان (14-12-10), پاکستانی (14-12-10), ھارون اعظم (18-12-10), یاسر عمران مرزا (13-12-10), نیلم خان (13-12-10), چیتا چالباز (19-04-12), نبیل خان (22-11-11), مون (14-12-10), محمد یاسرعلی (07-09-11), مرزا عامر (09-04-12), معظم (13-12-10), آبی ٹوکول (13-12-10), ایس اے نقوی (14-12-10), احمد نذیر (10-09-11), بزم خیال (14-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (14-12-10), حیدر (14-12-10), رضی (14-12-10), سحر (13-04-12), عبداللہ آدم (17-01-12), عبداللہ حیدر (13-04-12), عبدالرحمن سید (18-12-10), عروج (23-01-11) |
|
|
#10 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم تعریف اُس خدائے با برکت کی جس نے مجھے بولنا، لکھنا اور پڑھنا سیکھایا۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ مگر وہ اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھی وہ تو بھائی کو جھنجوڑ جھنجوڑ کر اٹھانا چاہ رہی تھی،۔ ۔ ۔ ۔ اس کی ماں نے اس کے آنسو پونجھے اور کہا کہ بھائی سے محبت ہے تو اس کے سرھانے بیٹھ کر سورۃ البقرہ پڑھو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ثوبیہ اس امید پر تلاوت کرنے لگی کہ شائد اس کا بھائی اٹھ جائے مگر جب سورۃ البقرہ کی یہ آیت پڑھی کہ ’’الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (٤٦) اور جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں تو اس کی سمجھ میں آگیا کہ اب دادی ماں اورمانو کی طرح اس کا بھائی بھی کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا،اس سے پیار کرنے والی ایک ہستی کم ہوگئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بات بے بات ہسنے والی لڑکی مسکرانا تک بھول گئی،روز صبح جاوید سے اخبار پر لڑنے والی اب اخبار ہی نہیں پڑھتی،کھانا کھانے بیٹھتی تو جیسے ہی خیال آتا کے اب جاوید کبھی بھی اس کی پلیٹ سے بوٹی نہیں اٹھا کر کھائے گا تو وہیں کھانا چھوڑ دیتی، اک دن اس کے والدین نے اس کو سمجھایا کہ ’’جاوید کو اپنے پاس واپس بلا کر اللہ پاک نے ہمارا امتحان لیا ہے ہمیں اس امتحان میں پورا اترنا، ‘‘ ثوبیہ اپنی کبھی ماں کے چہرے کی طرف دیکھتی کہ جس نے اپنے آنسوؤں کو پی کو باقی بچوں کو صبر کا درس دیا ہے، کبھی اپنے پاپا کی طرف کہ جنہوں نے اپنے جوان بیٹے کو کاندھا دے کر قبر میں اتارا ہے مگر اپنی ہمت و حوصلہ ٹوٹنے نہیں دیا اور اللہ پاک سے کوئی شکوہ نہیں کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2010 کا کلینڈر دیوار پر لگاتے ہوئے یہ لڑکی بہت روئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کس طرح اب یہ 5 مارچ پر دائرہ بناتی کیسے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عمر کی مالا 23 کے ہندسے کو چھو چکی تھی مگر اس کی ہتھیلی اب تک بائیس موتی ہی سنبھا لے ہوئے تھی، اس کی ماں میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ ایک اور موتی اسے دیتی شائد ماں کو پتہ تھا کہ وہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھی اپنی گڑیا کو چھوڑ کر جانے والی ہے |
|
|
|
| 22 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | Bhatti (23-01-11), فرخ ظفر (15-12-10), کنعان (14-12-10), پاکستانی (14-12-10), ھارون اعظم (18-12-10), یاسر عمران مرزا (13-12-10), نیلم خان (13-12-10), چیتا چالباز (19-04-12), نبیل خان (22-11-11), مون (14-12-10), محمد یاسرعلی (07-09-11), معظم (13-12-10), آبی ٹوکول (13-12-10), ایس اے نقوی (14-12-10), احمد نذیر (10-09-11), بزم خیال (14-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (14-12-10), حیدر (14-12-10), رضی (14-12-10), عبداللہ آدم (17-01-12), عبداللہ حیدر (13-04-12), عبدالرحمن سید (18-12-10) |
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم تعریف اُس خدائے با برکت کی جس نے مجھے بولنا، لکھنا اور پڑھنا سیکھایا۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ ایم اے کا رزلٹ آگیا تھا، پوزیشن لینے کے باوجود آنکھوں میں آنسو تھےجو لائی کا مہینہ آگیا، ماہِ رمضان بھی قریب تھے ہم یہ سوچ کر رونے لگتے کہ افطار میں جاوید نہیں ہوگا تو کیسا لگے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر ہمیں کیا پتہ تھا کہ کیا ہونے والا ہے 20 جولائی کی صبح اس کی ماں گر گئی اور فیکچر ہوگیا،بظاہر معمولی سی بات تھی شہر کے معروف آرتھوپیڈیک ہوسپٹل لے کر گئے تو امی unconscious ہو گئی تھیں شوگر ہائی اور بی پی ہائی تھا امی کوآئی سی یو میں شفٹ کیا گیا6 دن اس کی ماں زندگی کی جنگ لڑتی رہی۔ بستر پر لیٹی ہوئی بھی یہی فکر کرتی کہ اُن کی گڑیا نے کھانا کھایا ہے یا نہیں ۔ ۔ ۔ ان کے سرھانے اتنی دیر سے کھڑی ہے اس کے پیروں میں درد نہ ہو جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔بال بکھرے ہوئے ہیں ان کی لاڈلی کے۔ ۔ ۔ ۔ بیٹے کی جدائی کاوہ درد جو وہ پچھلے 8 ماہ سے اپنے دل میں چھپائے بیٹھی تھی اس درد نے انہیں کھوکھلا کر دیا تھا،بہت محنت سے پالا تھا اس عظیم ماں نے اپنے بچوں کو، ۔ ۔ ۔ 26 جولائی کو اپنی لاڈلی بیٹی کے ہاتھوں میں اس کی ماں نے آخری سانس لی اور اس کی طرف مسکرا کر دیکھا ،وہ چلا ئی امی کیا ہوا؟ امی آنکھیں کھولو ، امی، امی اٹھو ناں سب ڈاکٹرز اس کی ماں کے گرد موجود تھے،کارڈیو گرافی مشین تھم چکی تھی،مصنوعی سانس بھی کچھ نہ کر پائی |
|
|
|
| 26 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | Bhatti (23-01-11), Hope (06-09-11), فیاض انصاری (27-10-11), فرخ ظفر (15-12-10), کنعان (14-12-10), پاکستانی (14-12-10), ھارون اعظم (18-12-10), یاسر عمران مرزا (13-12-10), نیلم خان (13-12-10), چیتا چالباز (19-04-12), نبیل خان (22-11-11), مون (14-12-10), محمد یاسرعلی (07-09-11), مرزا عامر (09-04-12), معظم (13-12-10), آبی ٹوکول (13-12-10), ایس اے نقوی (14-12-10), احمد نذیر (10-09-11), بزم خیال (14-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (14-12-10), حیدر (14-12-10), رضی (14-12-10), سحر (14-04-12), عبداللہ آدم (17-01-12), عبدالرحمن سید (18-12-10), عروج (23-01-11) |
|
|
#12 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم تعریف اُس خدائے با برکت کی جس نے مجھے بولنا، لکھنا اور پڑھنا سیکھایا۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ ماں،امی جی،مما،امی جان،مائی ڈیر موم، کتنے ہی ناموں سے اپنی ماں کو پکارا کرتی تھی یہ لڑکی،کبھی ایک پل کے لیئے بھی اپنی ماں سے جدا نہیں رہی تھی،کہیں بھی ہوتی تو بس اک ہی خیال رہتا کی جلدی سے گھر پہنچ جائے اس کی امی پر یشان ہو رہی ہوگی،کھانے کا پہلا لقمہ اپنی ماں کے ہاتھ سے لیا کرتی ،صبح اس کی ماں ہی اسے جگاتی جب تک ماں آکر اس کا ماتھا نہ چوم لے وہ بستر سے نکلتی ہی نہیں تھی،ماں کی گود میں سر رکھ کر گھنٹوں ماں سے ہر ٹاپک ڈسکس کیا کرتی تھی،اس کی ماں اس کی آئیڈیل تھی، اس کی دوست تھی،وہ ماںجو اس کی ہر بات مانتی تھی آج کی بات ہی نہیں سن رہی تھی وہ چلا رہی تھی کہ امی جی سانس لو نا ،امی آنکھیں کھولو نا، میری طرف دیکھو، دیکھو ناں امی میں رو رہی ہوں ،آپ میری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتی ہیں ناں اٹھو امی میرے آنسو پونچھ دو ،اٹھو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر اس کی ماں کی روح جسم کا لباس چھوڑ چکی تھی، اللہ پاک کی اس فیصلے کے آگے بے بس تھی،ماں اس کی بہن سے کہتی تھی کے میری گڑیا کا دل بہت چھوٹا ہے اسے نا لایا کرو ہاسپٹل یہاں طرح طرح کے مریض ہیں یہ انہیں دیکھ کر بیمار نہ ہوجائے،اس کا خیال رکھو۔ آئی سی یو میں بہت سختی ہوتی تھی مگر اس کی ماں سے محبت دیکھ کر ڈاکٹرز لڑکی کو ماں کے پاس کھڑا ہونے دیتے تھے کہ یہ مطمعن رہے ۔ 26 جولائی کو یہ اپنی ماں کے سرھانے کھڑی آیاتِ شفا پڑھ تھی، اس کی ماں نے کہا اپنا خیال رکھنا،اور اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی،ماں نے اس آخری پل بھی اپنی لاڈلی کا ہاتھ تھاما ہوا تھا،مگر پہلی بار یہ ماں اپنی لاڈلی کے بغیر جا رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ 6 دن میں اس لڑکی نے ہر پل ماں کی صحتابی کی دعائیں مانگی،مگر’’الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (٤٦) اور جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں‘‘ شعبان کی 13 تاریخ تھی قبرستان کو سجایا گیا تھا،آسمان سے رحمت برس رہی تھی،یہ لڑکی چلاتے چلاتے اپنے ہوش گنو بیٹھی تھی، نیم پاگل ہو گئی تھی چپ چاپ بیٹھی تھی ،سب کہہ رہے تھے ثوبیہ رو،تو روتی کیوں نہیں ہے، تیری ماں مر گئی ہے، مگر اس کی تو تمام صلاحیتیں کام کرنا چھوڑ چکی تھی، اسے تو یہ بھی ہوش نہ تھا کہ ماں کے سرھانے سورۃالبقرہ ہی پڑھ دیتی،سفید لباس میں پرنور چہرہ لیئے اس ماں لیٹی تھی،کافور و عطر کی خوشبو ہر سمت پھیلی تھی،یہ جاگنے والی رات تھی، شبِ برات۔ ۔ ۔ ۔ اس کی ماں ہر بڑے دن اس کے لیئے نئے کپڑے بنایا کرتی تھی مگر آج ۔ ۔ ۔ آج اس کی ماں نے خود اکیلے ہی یہ سفید لباس پہنا،پوری جاگ کریہ اور اس کی ماں نفلی عبادت کیا کرتے تھے ، مگر آج ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت بارش ہورہی تھی اس شب، رات کے گیارہ بج چکے تھے ، اس ماں کو اس کے نئے گھر منتقل کیئے جانے کا وقت تھا، آسمان بھی روتے روتے تھک گیا تھا شاید، تدفین تک آسمان بھی چپ چاپ یہ نظارا دیکھتا رہا۔ ۔ ۔پھر اگلے تین روز تک ٹوٹ کر برسا۔ ۔ ۔ ۔ ۔یہ لڑکی بھی روئی ،اتنا روئی کہ اس کی پلکوں کناروں سے لہو رسنے لگا، اس پر تو نیند کی دوا بھی کوئی اثر نہیں کرتی تھی،وہ جس کیفیت سے گزری شائد اس کیفیت کو بیان کرنے کے الفاظ ہی نہیں ہیں میرے پاس ۔ ۔ ۔ ۔ 22 موتی دینے والی اس ماں میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ تئیسواں موتی دیتی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ چوبیسواں موتی دینے تک وہ اس دنیا میں نہیں رہے گی |
|
|
|
| 24 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | Bhatti (23-01-11), Hope (06-09-11), فیاض انصاری (27-10-11), فرخ ظفر (15-12-10), کنعان (14-12-10), پاکستانی (14-12-10), یاسر عمران مرزا (13-12-10), نیلم خان (13-12-10), چیتا چالباز (19-04-12), نبیل خان (22-11-11), مون (14-12-10), محمد یاسرعلی (07-09-11), معظم (13-12-10), آبی ٹوکول (13-12-10), ایس اے نقوی (14-12-10), احمد نذیر (10-09-11), بزم خیال (14-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (14-12-10), حیدر (14-12-10), رضی (14-12-10), سحر (14-04-12), عبداللہ آدم (17-01-12), عبداللہ حیدر (13-04-12), عبدالرحمن سید (18-12-10) |
|
|
#13 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم تعریف اُس خدائے با برکت کی جس نے مجھے بولنا، لکھنا اور پڑھنا سیکھایا۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ روتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیں کچھ خواب میرے عین جوانی میں مرے ہیں روتی ہوں میں ان لفظوں کی قبروں پہ کئی بار جو لفظ میری شعلہ بیانی میں مرے ہیں کچھ تجھ سے یہ دوری بھی مجھے مار گئی ہے کچھ جذبے میرے نقل مکانی میں مرے ہیں اس عشق نے آخر ہمیں برباد کیا ہے ہم لوگ اسی کھولتے پانی میں مرے ہیں کچھ حد سے زیادہ تھا ہمیں شوق محبت اور ہم ہی محبت کی گرانی میں مرے ہیں قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو ہم لوگ محبت کی کہانی میں مرے ہیں میں ثوبیہ کی زندگی کے اس پہلو پر بھی لکھنا چاہتی ہوں میں نے جب اس شخص کا ذکر شروع کیا تو اس نے بہت غصہ کیا،سختی سے منع کر دیا کہ کچھ مت لکھنا ، آج مجھے منتظمین بھائی نے روک دیا کہ میں اس پر کچھ ناں لکھوں میں ابھی یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ میں لکھوں یا نہیں ، میرے لکھنے سے اس کی رسوائی ہوگی اور میں یہ نہیں چاہتی ’’ میری وجہ سے کسی کی رسوائی ہو‘‘ ثوبیہ تو محبتوں سے بنی ہوئی لڑکی ہے ،اس نے تو محبت ہی دیکھی تھی،اس شخص نے کہا ہے کہ’’ ثوبی میں کوئی سرخاب کے پر تو لگے ہوئے نہیں تھے‘‘ ہاں میں مانتی ہوں کوئی بھی پر نہیں تھا اس میں وہ توصرف محبت کرتی تھی ، اور اب بھی کرتی ہے |
|
|
|
| 23 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | Bhatti (23-01-11), Hope (06-09-11), فرخ ظفر (15-12-10), کنعان (14-12-10), پاکستانی (14-12-10), یاسر عمران مرزا (13-12-10), نیلم خان (13-12-10), چیتا چالباز (19-04-12), نبیل خان (22-11-11), مون (14-12-10), محمد یاسرعلی (07-09-11), معظم (13-12-10), آبی ٹوکول (13-12-10), ایس اے نقوی (14-12-10), احمد نذیر (10-09-11), بزم خیال (14-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (14-12-10), حیدر (14-12-10), رضی (14-12-10), عبداللہ آدم (17-01-12), عبداللہ حیدر (13-04-12), عبدالرحمن سید (18-12-10), عروج (14-12-10) |
|
|
#14 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم تعریف اُس خدائے با برکت کی جس نے مجھے بولنا، لکھنا اور پڑھنا سیکھایا۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ اب تک کہانی پڑھ کر اتنا تو آپ سب جان ہی گئے ہوں گے کے یہ لڑکی بہت پاگل ہے مگر کیا ہے ناں کہ میری دیوانگی پہ اِس قدر حیران ہوتے ہو میرا نُقصان تو دیکھو، محبت گمشدہ میری دادی ماں کی محبت، مانوکی محبت،بھائی کی محبت،ماں کی محبت اور وہ۔ ۔ ۔ ۔ جس نےاپنا ذکر کرنے سے منع کر دیا ہے پھر بھی اس پاگل کا دل کہتا ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دُعا کی صورت میں اُس کی خاطر جو میرے ہونٹوں سے لفظ نکلے جو میری آنکھوں سے اشک نکلے اُنہی کے بدلے میں اے خدایا جب بھی اُسکا نصیب لکھنا عروج لکھنا کمال لکھنا کبھی نا حرفِ زوال لکھنا ویسے بھی وہ تو اس بات کی قائل تھی کہ ’’ جس بھی محبت کرو اسے آزاد چھوڑ دو ،اگر وہ تمھارا ہوگا تو لوٹ کر ضرور آئے گا،اگر نہیں آیا تویہ جان لینا کے وہ کبھی تمھارا تھا ہی نہیں‘‘ ‘ اور ربِ کریم نے بھی تواس کی یہ دعا قبول کی ہوئی ہے کہ’’’’یا اللہ پاک تو مجھے وہ عطا فرما جو میرے حق میں بہتر ہو‘‘ یہی اس کے حق میں بہتر تھا۔ کائنات کی وسعتوں میں ایک ایک کر کے محبتوں کا نقصان ہوتا جا رہا تھا۔ مگر اس نے اپنے رب سے کوئی شکوہ نہیں کیا ،اسے علم ہے کہ اللہ پاک تو ستر ماؤں سے ذیادہ پیار کرنے والا ہے،اس نے تو 23 سال تک ماں کا پھرپور پیار دیکھا ہے ایسے بھی بچے ہوتے ہیں کہ جن کی مائیں انہیں جنم دیتے ہی چلی جاتی ہیں،وہ بھی تو ہوتی ہیں جن کے بھائی ہی نہیں ہوتے ہیں، وہ بائیس موتی اس کا سرمایہء حیات ہیں ان بائیس سالوں میں ہی اس نے اپنی پوری زندگی کو جی لیا تھا،خود کو پانے کی جستجو تھی اس کو، پروردگار نے سب کچھ اس پر منکشف کر دیا،شہرِذات کے اس سفر میں اس نے کئی صدیوں کا سفر صرف 22 سال میں ہی طے کر لیا تھا،یہ کیسا آشوبِ آگہی تھا،وہ شکوہ کرتی بھی تو کیسے کرتی اس نے تو ہمیشہ اپنے رب کا شکر ہی ادا تھا ،وہ تو پھولوں کی ہمسفر تھی، رنگوں کی گلیکسی تھی اس کے پاس ۔ آج یہی لڑکی حیران آنکھوں ،شبنمی رخساروں،بکھرے بالوں اور اداس سی مسکان سجائے اس لڑکی کو کھوج رہی ہے جس کی کالی آنکھیں کاجل سے بھری رہتی تھیں ،جس کے رخسار کی شوخیاں سب کے چہروں پر مسکراہٹ لے آتی تھی،جس کے بالوں کی گھٹا سب کو الجھا دیتی تھی، جس کی ہنسی کی آواز دور سے ہی اس کی زندہ دلی کا ثبوت دیتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس لڑکی کی روح مر چکی تھی ،فرق صرف اتنا ہے کہ روح کے مرنے کے باوجود بھی جسم میں زندگی رمق باقی تھی،یہ سانس بھی لیتی ہے ،اس کا دل بھی ڈھرکتا ہے،ماں کے جانے کے بعد تین ماہ تک یہ سو نہ سکی مگر، اب یہ سوتی بھی تھی، روح میں بیداری لوٹ آئی تھی کیونکہ ابھی ایک اور آزمائش اس کے جیون میں آنے کے لیئے دن گن رہی تھی۔ ام طلحہ آپی جب بھی فون کرتی ہمیشہ یہی کہتیں کہ ’’ابو کا خیال رکھا کرو‘‘ یہ اب پاپا کا خیال رکھتی مگر پاپا کے دل سے جاوید کا خیال کیسے نکالتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
| 23 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | Bhatti (23-01-11), فرخ ظفر (15-12-10), کنعان (14-12-10), پاکستانی (14-12-10), یاسر عمران مرزا (13-12-10), نیلم خان (13-12-10), چیتا چالباز (19-04-12), نبیل خان (22-11-11), مون (14-12-10), محمد یاسرعلی (07-09-11), معظم (13-12-10), آبی ٹوکول (13-12-10), ایس اے نقوی (14-12-10), احمد نذیر (10-09-11), بزم خیال (14-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (14-12-10), حیدر (14-12-10), رضی (14-12-10), عامرشہزاد (14-12-10), عبداللہ آدم (17-01-12), عبداللہ حیدر (13-04-12), عبدالرحمن سید (18-12-10), عروج (14-12-10) |
|
|
#15 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم تعریف اُس خدائے با برکت کی جس نے مجھے بولنا، لکھنا اور پڑھنا سیکھایا۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ پاپا سے ذیادہ کلوز نہیں تھی کیونکہ اس کی بڑی بہن پاپا کی لاڈلی تھی۔مگر اس کو اپنے پاپا پر فخر تھا، اس لیئے نہیں کہ کہ وہ اس کے پاپا تھے بلکہ اس لیئے کہ اس کے پاپا جیسا کوئی نہیں تھا ، کوئی ہوتا بھی تو کیسے اس کے پاپا تو ہمیشہ صراطِ مستقیم پر چلے تھے،محکمہ پولیس کی ایسی برانچ میں انسپکٹر تھے کہ جہاں ان کے قلم کی ایک جنبش انہیں اس چھوٹے سے گھر سے نکال کر کسی محل میں منتقل کر سکتی تھی،مگر اس کے پاپا کو تو جنت کا محل چاہیئے تھا،اس کے پاپا نے اپنے بچوں کو بہت دولت مند بنایا، علم کی اس دولت سے مالا مال کیا جیس کا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا تھا، ثوبیہ کو سمجھ نہیں آتا تھا کے اس کے پاپا کا اتنا بڑا عہدہ ہے اس کے حالات دوسروں سے مختلف کیوں ہیں؟اس نے ایک دن ایک دن یہ فرق سمجھنے کی کوشش کی تو اس پرزندگی کے کئی بھید کھلے، حلال اور حرام کا فرق سمجھ میں آیا جو باتیں سمجھ میں آنے سے رہ گئی تھیں ان کی تکمیل ’’بانو قدسیہ کی راجہ گدھ‘‘ کو پڑھ کر ہو گئی، بانو آپا لکھتی ہیں کہ’’جس وقت حرام رزق جسم میں داخل ہوتاہےوہ انسانی genes کومتاثرکرتاہےرزق حرام سےایک خاص قسم کی mentation ہوتی ہےجوخطرناک ادویات شراب اورradiationسےبھی زیادہ مہلک ہےرزق حرام سےجوgenesتغیرپذیرہوتےہیں۔ وہ لولےلنگڑےاوراندھےہی نہیں ہوتےبلکہ ناامیدبھی ہوتےہیں نسل انسانی سے۔جب نسل درنسل ہم میں سفرکرتےہیں توان genes کےاندرایسی ذہنی پراگندگی پیداہوتی ہےجس کوہم پاگل پن کہتےہیں۔یقین کرلورزق حرام سےہی ہماری آنے والی نسلوں کوپاگل پن وارثت میں ملتاہے۔اورجن قوموں میں من حیث القوم رزق حرام کھانےکالپکاپڑجاتاہے۔وہ من حیث القوم دیوانی ہونےلگتی ہیں۔۔ ’’حرام حلال کی حدسب سےپہلےبہشت میں لگائی تھی اللہ نے۔حرام کیاہے؟جس سےمنع کیاگيا۔۔۔۔اچھےاوربرےکاسوا ل نہیں،صرف جوچیزمنع فرمائی ہےاللہ نےوہ حرام ہےاسی لیےحرام وحلال کاجھگڑاسب سےپہلےجنت میں پیداہوا۔جب حضرت آدم علیہ السلام نےشجرممنوعہ سےتوڑکرکھایا۔اچھےبرےکاسوا ل نہیں تھا۔۔۔بس وہ منع تھااپنےپرحلال کیا۔۔اس گندم کےدانےکارزق حرام جس وقت ان کےجسم میں داخل ہوا۔۔۔۔ایک خطرناک تغیرآیاان کےجسم میں ان کےgenensمیں ۔۔۔اس تغیرسےاللہ نےانہیں ڈرایاتھا۔اس وقت تک حضرت آدم علیہ السلام اوراماں حوا علیہ السلام کےتمام خلیےصالح تھے۔ان کانیوکلیس محفوظ طریقےسےٹوٹتاہےلیکن اب اس نیوکلیس میں چھپےہوئےgenesمیں تبدیلی genens mutat ہوئےلولےلنگڑےاندھےاورناام ید اورآنےوالی نسلوں میں منتقل ہوگئے ۔۔۔اسی لیئےدیوانہ پن کےپہلےآثارہابیل اورقابیل کےجھگڑےمیں واضح ہوئے۔پہلاقتل ہوا ! دیوانگي خودکشی کی مشکل میں منتج ہوئي کہ قتل کی شکل میں اس سےکون انکارکرسکتاہےکہ دیوانگی کی شدیدشکل انسان کش ہے۔۔۔۔جھگڑاہابیل قابیل میں نہ ہواتھا۔۔۔یہ ان کی وجہ تھی جوحضرت آدم علیہ السلام کےوجودمیں شجرممنوعہ کےکھانےکی وجہ سےٹوٹےپھوٹےتھے۔۔پھرچل سوچل ہوا۔۔۔ایک سےدوسری پودتک ’’جورزق حلال ہم اندرڈالتےہیں۔ اس کابلڈکیمسٹری پرمثبت اثرہوتاہےاورجورزق حرام اندرداخل ہوتاہےاس کامنفی اثرہوتاہےہمارےلہوپر۔” جو شخص حرام کی بوری سےکھائےگا۔اس کےلہوکی کیمائی حالت مختلف ہوگی اوراس لہومیں genesکی توڑپھوڑمنفی ہوگی۔” کتنی خوش نصیب تھی ثوبیہ کہ اس نے اس گھر میں میں آنکھ کھولی۔۔۔۔ میں نے صحیح لکھا ہے ناں کے اس کے پاپا بہت اچھے تھے،اس کے پاپا جیسے لوگ تو شازوناد ہی نظر آتے ہیں ۔ |
|
|
|
| 24 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | Bhatti (23-01-11), Hope (06-09-11), فرخ ظفر (13-12-10), کنعان (14-12-10), پاکستانی (14-12-10), یاسر عمران مرزا (13-12-10), نیلم خان (13-12-10), چیتا چالباز (19-04-12), نبیل خان (22-11-11), مون (14-12-10), محمد یاسرعلی (07-09-11), مرزا عامر (09-04-12), معظم (13-12-10), آبی ٹوکول (13-12-10), ایس اے نقوی (14-12-10), احمد نذیر (10-09-11), بزم خیال (14-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (14-12-10), حیدر (14-12-10), رضی (14-12-10), عامرشہزاد (14-12-10), عبداللہ حیدر (13-04-12), عبدالرحمن سید (18-12-10), عروج (14-12-10) |
![]() |
| Tags |
| color, گھر, گئی, پہلے, پاک, وقت, لوگ, نواز, ماں, اللہ, بھائی, بچوں, جلد, خود, دیکھا, دعائیں, زندگی, سال, سالگرہ, شاندار, شروع, عورت, علاقے, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| میں تو ہوں اک سیپ کا موتی | سیپ | میری ڈائری | 3 | 05-02-11 01:33 PM |
| ایک سیپ میں دوجڑواں موتی | سیپ | میری ڈائری | 1 | 01-02-11 11:51 PM |
| سمندری سیپ سے موتی | سیپ | میری ڈائری | 2 | 01-02-11 11:43 PM |
| محبت نہ اتنی پاس ہوتی تو دل کو آس ہوتی | The Great | مزاحیہ شاعری | 0 | 14-09-09 12:37 PM |
| قومی سلطنتوں میں شعرا کی قدر مفید ہوتی ہے مگر شخصی حکومت میں مضر ہوتی ہے | خرم شہزاد خرم | آئیں شاعری سیکھیں | 0 | 22-09-07 11:47 AM |