واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > میری ڈائری



میری ڈائری میری ڈائری


شہر سائیباں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-04-11, 01:41 PM   #1
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,239
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default شہر سائیباں

شہر سائیباں

مصنف: مشتاق احمد یوسفی
تحریر و تحقیق: عدنان دانی
پروف ریڈنگ: راجہ اکرام

ابن انشاء نے کہا ہے کہ ہم مزاح کے عہد یوسفی میں بستے ہیں، اور مشتاق احمد یوسفی لکھتے ہیں کہ اس کا مطلب میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے دامن پیچھے سے پھٹے ہوئے ہیں، اور آگے سے پھٹنے کی امید میں جی رہے ہیں۔

حاجی اورنگ زیب خان ٹمبر مرچنٹ ڈوبی ہوئی رقموں کی ادائیگی اور وصولی کی سلسلے میں اکثر پشاور سے کراچی آتے رہتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ میں جب کراچی آتا ہوں حیران و پریشان رہتا ہوں، میرا دل بہت اداس ہوتا ہے۔ جس سے ملوں جس سے بولوں کراچی سے کچھ نہ کچھ گلہ ضرور رکھتا ہے۔ ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جو اپنے شہر پر فخر کرتا ہو۔
خان صاحب کہتے ہیں کہ اس کے دو سبب ہیں۔ پہلا تو یہ کہ یہاں فخر کے لائق کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ دوسرا سبب بتانے کیلے انہوں اپنی انگشت شہادت ابھی سوئے پلک بلند کی ہی تھی کہ مرزا عبدالودود بیگ بیچ میں کود پڑے اور کہنے لگے صاحب، دوسرا سبب یہ کہ مہاجر،پنجابی، سندھی، بلوچ، پٹھان، سب اپنے رب کا فضل تلاش کرنے کیلے یہاں آ آکر آباد ہوئے ، کڑی دھوپ پڑ رہی تھی ، سب کے سروں پر کراچی نے مادر مہرابان کی طرح اپنی پھٹی پرانی چادر کا سائبان تھام لیا۔
ان پر بھی جو بسر کرنے کیلےفقط ٹھکانہ مانگتے تھےمگر پھر پھسرتے چلے گئے۔لیکن سب شاکی، سب آزردہ خاطر، سب برہم۔ مہاجر ہی کو لیجئے؛ دلی، لکھنو، بمبئی ، بارہ منکی،جونا گڑھ، حد یہ کہ اجاڑ جنجنوں ( میرا پرانا وطن ) کو یاد کر کے آہیں بھرتے ہیں۔ اسے یہ احساس نہیں کہ جنہیں یاد کر کے وہ خود پر دائمی رقت طاری رکھتا ہے، وہ چھوڑا ہوا شہر نہیں بلکہ اسکی روٹھی جوانی جو لوٹ کر نہیں آسکتی، کسی بھی شہر میں۔۔
پنجابی جنہیں سب سے پہلے سرسید احمد خان نے زندہ دلان پنجاب لا لقب دیا تھا جنت میں پہنچ کر بھی لاہور لاہوراے ہی پکارے گا۔ انہیں کراچی ذرا نہیں بھاتا۔ وہ سندھ کے چتی دار کیلے، چیکو ، اور پپیتے میں ملتان کے انور رٹول اور منٹ گمری کے مالٹے کا مزہ نہ پا کر سچ مچ اداس ہو جاتے ہیں۔

فرنٹیئرکا گل زمان خان چوکیدار ، شیر شاہ کالونی کے جونگھڑہ ( جھونپڑی) میں اپنے وطن کے کوہ و دشت اور دریا مانگتا ہے۔ کوئی نہیں جو اٹھا لائے گھر میں صحرا کو۔۔وہ صبح دلی کی نہاری کھاتا ہے، سہ پہر کو سیٹھ کی کوٹھی کے ایک اوجھل کونے میں اپنی مکئی کے بے موسم پودے کو بڑے لاڈ سے پانی ڈالتا ہے۔ اور یہ ٹپہ گاتا ہے۔
پہ پردی وطن ہر یو غمگین ئی
ما پہ پردی وطن کرلی دی گلونہ
ترجمہ ( یوں تو پردیس میں ہر شخص غمگین رہتا ہیں،مگر مجھے دیکھو میں نے پرائی زمین میں اپنے وطن کے پھول کھلا دئے ہیں)
وہ دن بھرپشتو لہجے میں بمبئی اردو بولنے کے بعد شام کو ریڈیو پر پشتو گانوں سے دل پشوری کر لیتا ہے۔اور رات کو پشاور ریلوے سٹیشن کو آنکھوں میں بھر کے سڑک کے کنارے جھگی میں سو جاتا ہے۔ سڑک پر رات بھر پٹاخے چھوڑتی موٹر سائیکل، رکشے اور دھاڑتے ٹرک گزرتے رہتے ہیں، پر اسے خواب میں ڈھول سر، رباب ، اور گھڑے پر ٹپے سنائی دیتے ہیں۔
ادھر کوئٹہ اور زیارت سے آیا ہوا بلوچ کراچی کا نیلا سمندر دیکھتا ہے اور بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں اور ان پر چرتے دنبوں کو یاد کر کر کے آبدیدہ ہو جاتا ہے۔ جنکے وہ بڑے خستہ سجی کباب بنا سکتا تھا۔
اب رہا پرانا سندھی تو وہ غریب اس زمانے کو یاد کر کے آہیں بھرتا ہے جب یہ چاروں حضرات کراچی تشریف نہیں لائے تھے۔
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا
مت سوچو !
عدنان دانی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (25-04-11), نورالدین (25-04-11), مرزا عامر (25-04-11)
پرانا 25-04-11, 02:16 PM   #2
Senior Member
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,388
شکریہ: 9,614
4,227 مراسلہ میں 12,048 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کاش اس شہر مہربان و سائباں کی اہمیت کا ان سب کو اندازہ ہو جائے اور یہ سمجھ لیں، مل بیٹھ کر کھانے میں‌ہی برکت ہے۔۔۔۔۔

ایک اقتباس پیش کرنا چاہوں گا۔۔۔۔۔

اقتباس:
مل بانٹ کر کھانے کی برکت

ہم اب ”حمدانہ “سے گزر کر ”مظلائف“ کے قصبے میں داخل ہورہے تھے۔ یہ سب چھوٹے چھوٹے قصبے تھے۔ میں ان لوگوں کی معیشت کے بارے میں سوچنے لگا۔ سعودی عرب کا صرف مشرقی صوبہ تیل کی دولت سے مالا مال ہے لیکن اس دولت کو بیچ کر جو آمدنی حاصل ہوتی ہے وہ پورے ملک کے عوام پر خرچ کی جاتی ہے جس سے پورے ملک میں خوشحالی آتی ہے۔ انسان اگر مل بانٹ کر کھائے تو سب لوگوں کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں لیکن قوم پرستی کے تنگ نظریے نے انسان کو محدود کر دیا ہے۔ چھوٹے چھوٹے گروہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دولت پر قابض ہیں۔ وہ اسے اپنے مفاد کے لئے خرچ کرتے ہیں اور زمین کے دوسرے حصوں پر موجود ان کے بھائی اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔
سعودی عرب میں جیزان، فیفا اور ابہا کا سفر
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com
یاسر عمران مرزا آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا
skjatala (28-04-11), نورالدین (25-04-11), عبداللہ حیدر (25-04-11), عدنان دانی (25-04-11)
جواب

Tags
color, کوئٹہ, کباب, کراچی, گھر, پھول, پشاور, مزاح, اردو, بے, تلاش, حضرات, خان, دیکھو, دل, ذرا, رات, شہر, شام, شخص, عہد, عدنان, غریب, صبح, صحرا


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:30 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger