واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > میری ڈائری



میری ڈائری میری ڈائری


عشق سے عشق تک

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-11-11, 10:32 AM   #1
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عشق سے عشق تک

عشق سے عشق تک

اونچی آواز میں دعا مانگوں یا اللہ مجھے محبت عطا کر تو ارد گرد نمازی تجسس بھری نگاہوں سے گھورے گے ضرور ۔ بد بخت مسجد میں بھی نفسانی خواہشیں لپیٹ لایا ہے ۔ گھر میں لبوں پہ یہی دعا گنگنائے تو رات کا کھانا خراب طبیعت کے بہانے میں رہ جائے ۔
جو رہتا ہے تو رہ جائے جو بگڑے سو بگڑے مگر دل کی بات کہنے سے نہ کوئی روک پائے ۔ ایک محبت کی کمی نے زندگی بے رنگ کر دی ۔ خواہشیں انگڑائی لینا بھول گئیں ۔ گناہ توبہ کی کسوٹی سے پرکھنے لگے ۔ نیکیاں آرزؤں کی سولی پر لٹک کر جھولنے لگیں ۔ ارمان گھٹ گھٹ مرنے لگیں ۔ لطیف سانس اکھڑ اکھڑ کر حلق میں اٹکنے لگے تو قلب رازِ محبت کے بار سے بیٹھنے لگے ۔ خشک ہونٹ نامراد ناکام عاشق کی طرح اجڑنے کا منظر پیش کرنے لگیں ۔ قدم آگےبڑھنے سے پہلے دل سے اجازت مانگیں جو دھڑکنوں کی گنتی خود یاد کرنے میں دھک دھک کر نے میں مصروف عمل ہو تو بے چاری عقل جو مغز کی ماری ہو سوچ کے کونے کھدرے سے نکال نکال کر قصیدے قرینے سے پلکوں پر بٹھا کر آداب بجا لاتی رہے ۔ بن پنکھ کے کہیں اُڑنے کے لئے پر تولتی ہو تو خون آشام کے پروردہ ہاتھوں پہ رنگ حنا لئے بہلانے پھسلانے کو آسمانوں می‫‫ں اُڑا اُڑا چہرے کی رنگت شفق سےفق ہونے لگے ۔ دلاسے ہمت باندھتے کم جکڑمحبت میں مذید گانٹھیں لگانے میں پیش پیش زیادہ ۔
عشق سے عشق تک پہنچنے کے تمام مراحل خود سے طے ہونے لگیں ۔ جنون محبت کا ، ارادے قربت کے ، چاہت پانے کی ، خوشی لذت کی ، انتظار آنے کا مگر جانے کا غم بچپن کے یاد کئے پہاڑےکےسبق کی طرح دو سے دو چار خود بخود ہوتے چلے جاتے ہیں ۔
تنہا ایک خود ہے پہاڑے دو سے سولہ تک یاد رکھتا ہے ۔ اکیلے کا مول الگ ہے دو کا تول الگ سے ۔
محبت بنیاد نہیں سطح آب ہے جہاں جزبات کے بخارات اُٹھتے تو اُداسیوں ، ناکامیوں کے بادل برستے کہیں اور ہیں ۔
جنہیں محبت کا جنوں ہے انہیں خود کی تلاش ہے ۔ پانے کی چاہت کمزور ہے جیتنے کی لگن زورآور ۔
انا کا ایک خاموش بت شخصیت کے گرد حلقہ بنائے محبت کے پجاریوں کے جھکنے سے تسکین پانے میں نشہ کے جام چھلکاتا ہے ۔
محبت کی داستان سچی ہو تب بھی ہیر رانجھا ، شیریں فرہاد ، لیلی مجنوں اور سسی پنوں کے نام سے بیان ایک داستان رہے گی ۔ جنہیں بچھڑنے کے غم نے نڈھال کر دیا ۔ کھونے کا غم کسی کے بدن سے جان لے گیا ۔
آغاز محبت میں شدت ایمان کی صورت اور انجام سے بے خبری کسی کافر کے گناہوں میں لت پت ہونے جیسی ۔
عشق مجازی سے عشق حقیقی تک پہنچنے کی راہ ۔
مگر کیسے ؟
کسی کو پانے کی شدت ہے یا خود کو منوانے کی ۔ ناکامی و نامرادی کا حزن نہیں تو ملال کا گزر بھی نہیں ۔
پھر دل تھام تھام ہمدردی کی جھولی پھیلانے سے درد کے افاقہ کی سیل توڑی نہیں جا سکتی ۔
دل ٹوٹے ٹوٹے گانے میں اچھا ہو سکتا ہے مگر جینے میں بار بار ٹوٹنا سامان رسد باندھ لینا خوشیوں کے روٹھ جانے پر ۔
محبت میں جیت کا راستہ دیکھیں تو کیسے ؟ محبت کا مفہوم ہی نہیں سمجھ پائےتو محبوب کے جلوہ کا تصور ہی آنکھوں کو چندھیا دے ۔
عشق میں گداگر کی طرح مانگتے جاؤ ۔کشکول میں ڈالنے والے محبوب ہو جاتے ہیں ۔
بزم میں شمع جلاؤ تو بند کواڑ سے عاشق لپکتے ہیں ۔ جو جلنے پر بضد ہوتے ہیں ۔
تنہائیوں کے خوف انہیں موت کے گھاٹ نہیں اتارتے بلکہ جلوہ افروزی پر فریفتہ اپنی جان کے نذرانے پیش کرتے ہیں ۔
جو پانے کے لئے دکھوں کے روگ پال لیتے ہیں ۔ کھونا جنہیں دل کا روگی بنا دے ۔ ہمدردی سے ایک بار پھر انا کی بازی جیتنے سے توانائی کے طالب ہوتے ہیں ۔
قابل رحم ہیں جو سچی محبت کا روگ الاپتے مگر پانے اور کھونے کے غیر محسوس ڈر کا شکار رہتے ہیں ۔
سچی محبت کا حقدار تو صرف وہی ہے جو داتا ہے ۔ غنی ہے ۔ غفور ہے ۔ رحیم ہے ۔ محبتیں اس کی امین ہیں ۔ ہمارے پاس تو امانتیں ہیں ۔ جنہیں لوٹانے میں پس و پیش اور لیت و لعل کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔
سچ لکھنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے تو کسی تار بابو سے خط لکھوانے کی ضرورت نہیں ۔
قلب ِقلم کو نعمت ِخداوندی کے شکرسے خوب بھر لو ۔
محبت کے سفید کاغذ پر عشق کی انمٹ روشنائی سے لکھتے جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔

تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو
تیرے راستے میں کانٹے ہوں میرا سفر ختم نہ ہو
پھیلا دوں روشنی کی طرح علم خضر ختم نہ ہو
توبہ کرتا رہوں اتنی میرا عذر ختم نہ ہو
سجدے میں سامنے تیرا گھر ہو یہ منظر ختم نہ ہو
تیری رحمتوں کی ہو بارش میرا فقر ختم نہ ہو
مجھ ادنیٰ کو تیرے انعام کا فخر ختم نہ ہو
جہاں جہاں تیرا کلام ہو میرا گزر ختم نہ ہو
تیری منزل تک ہر راستے کی ٹھوکر ختم نہ ہو
آزمائشوں کے پہاڑ ہوں میرا صبر ختم نہ ہو
زندگی بھلے رک جائے میرا جذر ختم نہ ہو
وجود چاہے مٹ جائے میری نظر ختم نہ ہو
تیری اطاعت میں کہیں کمی نہ ہو میرا ڈر ختم نہ ہو
بادباں کو چاہے کھینچ لے مگر لہر ختم نہ ہو
خواہشیں بھلا مجھے چھوڑ دیں تیرا ثمر ختم نہ ہو
تیری عبادت میں اتنا جیئوں میری عمر ختم نہ ہو
بھول جاؤں کہ میں کون ہوں مگر تیرا ذکر ختم نہ ہو
جاگوں جب غفلتِ شب سے میرا فجر ختم نہ ہو
تیری محبت کا جرم وار ہوں میرا حشر ختم نہ ہو
تیری حکمت سے شفایاب ہوں مگر اثر ختم نہ ہو
میرے عمل مجھ سے شرمندہ ہوں مگر فکر ختم نہ ہو
منزلیں چاہے سب گزر جائیں مگر امر ختم نہ ہو
سپیدی و سیاہی رہے نہ رہے مگر نشر ختم نہ ہو
دن چاہے رات میں چھپ جائے مگر ازہر ختم نہ ہو



تحریر و اشعار ! محمودالحق
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
فیاض انصاری (23-11-11), ننھا بچہ (21-11-11), نبیل خان (20-11-11), محمدعدنان (23-11-11), رضی (20-11-11), عروج (21-11-11)
پرانا 21-11-11, 09:36 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ۔ محمود بھائی جان۔ الفاظ کے طلاطم میں بہترین پیغام عنایت کردیا۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (21-11-11), بزم خیال (21-11-11)
پرانا 21-11-11, 10:01 PM   #3
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عروج مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ۔ محمود بھائی جان۔ الفاظ کے طلاطم میں بہترین پیغام عنایت کردیا۔
شکریہ عروج بہن
جو اس راہ کے تھکے ہارے مسافر ہیں شائد صرف پیغام پڑھ کر پلٹ نہ سکیں ۔ یہ دور ہی ایسا ہے ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-11-11, 10:41 PM   #4
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,510
کمائي: 52,546
شکریہ: 5,871
3,229 مراسلہ میں 6,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو
واہ سبحان اللہ

محمود بھائی ہمیشہ کی طرح جاندار اور جنجھوڑ دینے والی تحریر
آپ کا جواب نہیں
ننھا بچہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (23-11-11), بزم خیال (21-11-11)
جواب

Tags
قدم, چاہت, موت, محبت, مسجد, ایمان, اللہ, اشعار, بچپن, تلاش, جام, جرم, حنا, خون, دل, دعا, رات, راستہ, زندگی, سفر, عقل, عبادت, عشق, غم, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:31 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger