| میری ڈائری میری ڈائری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
عمیرہ احمد میری پسندیدہ مصنف ہیں ۔ ان کے ناولز سے کچھ اقتباسات آپ کے ساتھ شئر کر رہی ہوں جو چیز اللہ نہ دے – اسے انسانوں سے نہیں مانگنا چاہیے ۔ ۔ ۔انسان بہت خوار ہوتا ہے ۔
من و سلوی بعض دفعہ چہرے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔صرف آوازوں کی ضرورت ہوتی ہے کسی ایسی آواز کی جس میں ہمدردی ہو جو آپ کے وجود کے تمام ناسوروں کو نشتر کی طرح کاٹ پھینکے اور پھر بہت نرمی سے ہرگھاؤ کو سی دے- آؤ پہلا قدم دھرتے ہیں آپ نے کبھی یہ سوچا ہے دنیا میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم روپے سے نہیں خرید سکتے ۔ ۔ ۔جنہیں دعائیں بھی ہمارے پاس نہیں لاسکتیں اور آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ بعض دفعہ وہ چیزیں ہی ہماری پوری دنیا ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ دل کی دنیا ۔ ۔ ۔ کیا انسان زمین پر دل کی دنیا کے بغیر رہ سکتا ہے ؟؟ کس جہاں کا زر لیا کیا آپ کو پتا ہے ماماجان دنیا کتنی خوبصورت ہے؟؟ “ہاں میں جانتی ہوں دنیا کتنی خوبصورت نظر آتی ہے“ “کتنی خوشی ہوتی ہے نا ماما جان جب کسی دکان میں جائیں اور اس قابل ہوں کی وہاں موجود قیمتی چیز بھی خرید سکتے ہوں-“ “اور تمہیں پتہ ہے مریم دنیا میں سب سے سستی چیز کون ہے؟؟؟ خریدار“ “ماما جان کیا مجھے خوش نہیں ہونا چاہیے کہ مجھے وہ چیز مل گئی ہے جس سے مجھے محبت ہے؟؟ “تمہیں دعا کرنی چاہیے کہ تمہارے پاس وہ چیز رہے جس سے تمہیں محبت ہے“ لاحاصل انسان کا مئسلہ یہ ہے کہ وہ جانے والی چیز کے ملال میں مبتلا رہتا ہے -آنے والی چیز کی خوشی اسے مسرور نہیں کرتی ایمان ،امید اور محبت “جو لوگ دوسروں کے دلوں کو کانٹوں سے زخمی کرتے ہیں ان کے اپنے اندر کیکر اگے ہوئے ہوتے ہیں وہ چاہے یا نہ چاہے ان کے وجود کو کانٹا ہی بننا ہوتا ہے-وہ پھول نہیں بن سکتے”- لاحاصل کوئی شخص اپنی بند مٹھیوں میں دھول لے کر آتا ہے اور آپ کی آنکھوں میں دھو ل پھینک کر چلا جاتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر شخص کی بند مٹھی میں دھول ہی ہو جس سے بچنے کے لئے آپ کو اپنی آنکھیں بند کرنی پڑیں ایمان ،امید اور محبت دنیا وہ دو دھاری تلوار ہے جس پر ننگے پاؤں چلنا پڑتا ہے – چلنا ہی ہوتا ہے ۔ ۔ پیروں کو زخمی کرنے والی چیز سے کیسے محبت کرنے لگتے ہیں لوگ ؟؟؟ کیوں کرنے لگتے ہیں؟؟؟ لا حاصل “ زندگی میں ایک چیز ہوتی ہے جسے کمپرومائز کہتے ہیں -پر سکون زندگی گزارنے کے لئے اس کی بہت ضرورت پڑتی ہے- جس چیز کو تم بدل نہ سکو اس کے ساتھ کمپرومائز کر لیا کرو مگر اپنی خوائش کو کبھی جنون نہ بنانا – کیونکہ زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں کبھی نہیں مل سکتیں - چاہے ہم روئیں ،چلائیں یا بچوں کی طرح ایڑیاں ر گڑیں وہ کسی دوسرے کے لیے ہوتی ہیں - مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ زندگی میں ہمارے لئے کچھ ہوتا ہی نہیں کچھ نہ کچھ ہمارے لئے بھی ہوتا ہے “- امربیل “محبت تاریک جنگل کی طرح ہوتی ہے ،، ایک بار اس کے اندر چلے جاؤ پھر یہ باہر آنے نہیں دیتی – باہر آ بھی جاؤ تو آنکھیں جنگل کی تاریکی کی اتنی عادی ہوجاتی ہیں کہ روشنی میں کچھ بھی نہیں دیکھ سکتیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔وہ بھی نہیں جو بالکل صاف اور واضح اور روشن ہوتا ہے“- ایمان؛ امید اور محبت “بعض دفعہ خاموشی وجود پر نہیں دل پر اترتی ہے پھر اس سے زیادہ مکمل، خوبصورت اور بامعنی گفتگو کوئی اور چیز نہیں کر سکتی اور یہ گفتگو انسان کی ساری زندگی کا حاصل ہوتی ہےاور اس گفتگو کے بعد ایک دوسرے سے کبھی دوبارہ کچھ کہنا نہیں پڑتا- – - -کچھ کہنے کی ضرورت رہتی ہی نہیں“۔ ۔ ۔ لاحاصل آپ کو پتا ہے اللہ مجھے کیوں نہیں مل سکتا ؟؟ میرے اور اللہ کے درمیان خوائشوں کی دیوار ہے- آسائشوں کی دیوار ہے-میں نے اپنے اردگرد دنیا کی اتنی چیریں اکٹھی کرلی ہیں کہ اللہ تو میرے پاس آہی نہیں سکتا جسے وہ اپنی محبت دے دیتا ہے اسے پھر کسی اور چیز کی ّ خوائش نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ ۔اور جسے دنیا دیتا ہے اس کی خوائش بھوک بن جاتی ہے جو کبھی ختم ہی نہیں ہوتی شہرِ ذات “اسے اللہ سے خوف آرہا تھا ۔ ۔بے پناہ خوف ---- وہ کس قدر طاقتور تھا کیا نہیں کر سکتا؟ وہ کس قدر مہربان تھا ۔ ۔ ۔ ۔کیا نہیں کرتا ۔ ۔ ۔انسان کو انسان رکھنا اسے آتا ہے- کبھی غضب سے کبھی احسان سے ۔ ۔وہ اسے دائرے میں رکھتا ہے“ پیر کامل ایمان کے شیشے پر کتنی ہی گرد اور مٹی کیوں نہ ہو اسے صاف کیا جاسکتا ہے- بس ہاتھ پھیرنا پڑتا ہے اور شیشے میں سے عکس نظر آنا شروع ہوجاتا ہے - - -اور پھر ہر ہاتھ کے ساتھ عکس پہلے سے زیادہ صاف اور چمکدار ہوتا جاتا ہے ۔ ۔ اور وہ ہاتھ اس محبت کا ہوتا ہے جو ایمان سے ہوتی ہے۔۔ (ایمان،امیداو محبت) انسان کبھی نہ کبھی اللہ کو اپنی عبادت جتاتا ضرور ہے-کبھی اس سے مول تول کے لئے ضرور بیٹھتا ہے -کبی نہ کبھی اس سے عبادت کا سودا کرنے کے لئے اپنے اور اس کے رشتے کو 'پیورلی کمرشل' ضرور بناتا ہے۔۔ (درباردل)۔ انسان کی خوائشات سے اللہ کو دلچسپی نہیں ہے - وہ اس کی تقدیر اپنی مرضی سے بناتا ہے-اسے کیا ملنا ہے اور کیا نہیں ملنا اس کا فیصلہ وہ خود کرتا ہے- جو چیز آپ کو ملنی ہےآپ اس کی خوائش کریں یا نہ کریں وہ آپ کی ہے- وہ کسی دوسرے کے پاس نہیں جائے گی- مگر جو چیز آپ کو نہیں ملنا ہے-وہ کسی کے پاس بھی چلی جائے گی آپ کے پاس نہیں آئے گی۔۔ (ایمان،امید اورمحبت)۔ زندگی میں ہم کبھی نہ کبھی اس مقام پر آجاتے ہیں جہاں سارے رشتے ختم ہو جاتے ہیں-وہاں صرف ہم ہوتے ہیں اور اللہ ہوتا ہے-کوئی ماں باپ،کوئی بہن بھائی کوئی دوست نہیں ہوتا- پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہمارے پاؤں کے نیچے نہ زمین ہے نہ ہمارے سر کے اوپر کوئی آسمان، بس صرف ایک اللہ ہے جو ہمیں اس خلا میں تھامے ہوئے ہے - پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہم زمین پر پڑی مٹی کے ڈھیر میں ایک زرے یا درخت پر لگے ہوئے ایک پتے سے زیادہ کی وقعت نہیں رکھتے- پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہمارے ہونے یا نہ ہونے سے صرف ہمیں فرق پڑتا ہے - صرف ہمارا کردار ختم ہو جاتا ہے - کائنات میں کو ئی تبدیلی نہیں آتی کسی چیز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ پیر کامل صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم اسلام کو سمجھ کر سیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس میں کتنی وسعت ہے۔ یہ تنگ نظری اور تنگ دل کا دین نہیں ہے نہ ہی ان دونوں چیزوں کی اس میں گنجائش ہے۔ یہ میں سے شروع ہو کر ہم پر جاتا ہے۔ فرد سے معاشرے تک۔ اسلام آپ سے یہ نہیں کہتا کہ آپ چوبیس گھنٹے سر پر ٹوپی، ہاتھ میں تسبیح پکڑے ہر جگہ مصلٰے بچھائے بیٹھے رہیں۔ ہر بات میں اس کا حوالے دیتے رہیں۔ نہیں، یہ تو آپ کی زندگی سے۔۔۔۔۔آپ کی اپنی زندگی سے حوالہ چاہتا ہے۔ یہ تو آپ سے راست بازی اور پارسائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ دیانتداری اور لگن چاہتا ہے۔ اخلاص اور استقامت مانگتا ہے۔ ایک اچھا مسلمان اپنی باتوں سے نہیں اپنے کردار سے دوسروں کو متاثر کرتا ہے۔“ پیر کامل صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم از عمیرہ احمد۔ مجھے کبھی اس چھوٹے، ترقی پذیر، گندے، ٹوٹی سڑہکوں والے ملک کا شہری ہونے پر شرمندگی نہیں ہوئی- شاید اس وجہ سے کیوں کے میں نے کبھی اس کے مسائل میں اضافہ نہیں کیا میں نے ہمیشہ اسے اپنے پاس موجود سب سے بہترین شے دی- آپ میں سے کوئی بھی اس چیز کو نہیں سمجھ سکتا آج آپ سے آپکا گھر چھین لیا جائے اور پھر آپ لڑ جھگڑ کر میری طرح خون دی کر اس گھر کو واپس لیں تو پھر آپکو وہ ٹوٹا پھوٹا گیا گزرا گھر جنّت سے کم نہیں لگے گا تب آپ کسی کو اسکی دیوار پر ہاتھ تک نہیں رکھنے دیں گے -- کہاں یہ کے کسی کو اندر آنے دیں میں سوچتا ہوں ابّو بڑھاپا پاکستان میں ہی گزاروں. ساٹھ ستر سال عمر میں یہیں آجاؤں گا. انسان کو دفن اپنی مٹی میں ہی ہونا چاہیے. ہے نا؟ وہ مجھ سے اپنی حب الوطنی کی داد چاہ رہا تھا۔ میں نے اسکا چہرہ دیکھا اور کہا۔۔۔ پاکستان کو تمہارے قبروں ور تابوتوں کی ضرورت نہیں ہے. پاکستان کو تمھاری جوانی اور وہ گرم خون چاہیے جو تمہارے رگوں میں خواب اور آیڈیلزم بن کر دوڑتا ہے. اگر پاکستان کو اپنی جوانی نہیں دے سکتے تو اپنا بڑھاپا بھی مت دو. جس ملک میں تم جینا نہیں چاہتے وہاں مارنا کیوں چاہتے ہو... باہر کی مٹی کی ٹھنڈک مرنے کے بعد برداشت نہیں ہوگی تب اپنی مٹی کی گرمی چاہیے؟ نہیں شاہد جمال آپ وہیں رہیں جہاں آپ رہ رہے ہیں.۔۔۔ ہر شخص کے مقدّر میں باوطن ہونا نہیں لکھا ہوتا. بعض کے مقدّر میں جلا وطنی ہوتی ہے، اپنی خوشی سے اختیار کی جانے والی جلا وطنی۔۔۔۔ مٹھی بھر مٹی جو لوگ آج جناح کو کافر کہتے ہیں وہ کل جناح کا ہاتھ چوما کریں گے اس کا مزار بنا کر اس پر فاتحہ پڑھا کریں گے جو لوگ آج پاکستان کے مطالبے کو ذہنی فتور کہتے ہیں وہ کل اسی پاکستان میں پناہ لینے کے لئے بھاگیں گے جناح کافر نہیں ہے وو پرکٹیکل مسلمان ہے وہ مولویوں کی طرح دین کی بات نہیں کرتا دین پر عمل کرتا ہے یہ وہ مولوی ہیں جو پچھلے ١٠٠ سال میں ہندوستان کے مسلمانو کو انگریز کی غلامی سے آزاد نہیں کروا سکے اور اب جو آزادی کی بات کر رہا ہے وہ شخص انکو کافر نظر آتا ہے یہ لوگ دستاریں اور چوغے پہن کر بھی اگر میرے لئے آزادی نہیں لا سکے تو مجے اس شخص کے پیچھے کھڑا ہونے دیں جو پینٹ کوٹ پہن کر اور سگار پی کر مجھے وہ زمین لا دے گا جہاں میں بلند آواز میں اذان دوں تو میرا سر کاٹنے کے لئے ہندو اندر نا آ جائیں
__________________
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء * رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (01-11-11), فیاض انصاری (01-11-11), یاسر عمران مرزا (01-11-11), راجہ اکرام (01-11-11), رضی (01-11-11), شبنم (20-02-11), عبداللہ آدم (20-02-11), عروج (01-11-11) |
| کمائي نے سیپ کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 20-02-11 | عبداللہ آدم | jzak allah | 100 |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
لاحاصل میں نے آج ہی پڑھا ہے جس کا ایک جملہ بہت زبردست لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے خوش قسمت انسان کون ہو سکتا ہے جو اپنے اختیار کی زندگی پارسائی سے گزارے۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Jul 2011
مراسلات: 160
کمائي: 1,861
شکریہ: 383
73 مراسلہ میں 119 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت عمدہ پوسٹنگ ۔ شکریہ بہت شکریہ
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
عمیرہ احمد واقعی بہت خوبصورت الفاظ لکھتی ہیں، ان کے ناول پیر کامل میںان کا انداز اپنے عروج پر ہے۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com |
|
|
|
| یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا گیا | عروج (01-11-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
عمیرہ احمد نے جتنے کمال سے الفاظ کو موتی بنایا سیپ نے انتے ہی کمال سے چند انمول موتیوں کو ایک مالا میں پرو یا ہے
بہت بہت شکریہ ثوبیہ آپی
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب https://www.facebook.com/groups/pak.net دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (01-11-11), عروج (01-11-11) |
|
|
#6 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | محمد یاسرعلی (01-11-11), عروج (01-11-11) |
|
|
#7 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
تخلیے کی باتوں میں گفتگو اضافی ہے پیار کرنے والوں کو تو اک نظر ہی کافی ہے |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی تحاریر لگیں ثوبیہ، عمیرہ احمد سے تعارف پر شکرگزار ھُوں۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پھول, پاکستان, پسندیدہ, قدم, لوگ, نظر, ماں, محبت, مسائل, ایمان, اللہ, بہترین, بھائی, بچوں, خون, دوست, دل, دعائیں, رشتے, زندگی, سودا, سال, شخص, طاقتور, عبادت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|