واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > میری ڈائری



میری ڈائری میری ڈائری


عمیرہ احمد کے ناولز سے اقتباسات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-02-11, 03:46 PM   #1
Administrator


 
سیپ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 11,419
کمائي: 1,071,282
شکریہ: 6,963
7,340 مراسلہ میں 17,744 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عمیرہ احمد کے ناولز سے اقتباسات

عمیرہ احمد کے ناولز سے اقتباسات

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

عمیرہ احمد میری پسندیدہ مصنف ہیں ۔ ان کے ناولز سے کچھ اقتباسات آپ کے ساتھ شئر کر رہی ہوں


جو چیز اللہ نہ دے – اسے انسانوں سے نہیں مانگنا چاہیے ۔ ۔ ۔انسان بہت خوار ہوتا ہے ۔
من و سلوی

بعض دفعہ چہرے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔صرف آوازوں کی ضرورت ہوتی ہے
کسی ایسی آواز کی جس میں ہمدردی ہو
جو آپ کے وجود کے تمام ناسوروں کو نشتر کی طرح کاٹ پھینکے اور پھر بہت نرمی سے ہرگھاؤ کو سی دے-
آؤ پہلا قدم دھرتے ہیں

آپ نے کبھی یہ سوچا ہے دنیا میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم روپے سے نہیں خرید سکتے ۔ ۔ ۔جنہیں دعائیں بھی ہمارے پاس نہیں لاسکتیں اور آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ بعض دفعہ وہ چیزیں ہی ہماری پوری دنیا ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔
دل کی دنیا ۔ ۔ ۔
کیا انسان زمین پر دل کی دنیا کے بغیر رہ سکتا ہے ؟؟
کس جہاں کا زر لیا

کیا آپ کو پتا ہے ماماجان دنیا کتنی خوبصورت ہے؟؟
“ہاں میں جانتی ہوں دنیا کتنی خوبصورت نظر آتی ہے“
“کتنی خوشی ہوتی ہے نا ماما جان جب کسی دکان میں جائیں اور اس قابل ہوں کی وہاں موجود قیمتی چیز بھی خرید سکتے ہوں-“
“اور تمہیں پتہ ہے مریم دنیا میں سب سے سستی چیز کون ہے؟؟؟ خریدار“
“ماما جان کیا مجھے خوش نہیں ہونا چاہیے کہ مجھے وہ چیز مل گئی ہے جس سے مجھے محبت ہے؟؟
“تمہیں دعا کرنی چاہیے کہ تمہارے پاس وہ چیز رہے جس سے تمہیں محبت ہے“
لاحاصل

انسان کا مئسلہ یہ ہے کہ وہ جانے والی چیز کے ملال میں مبتلا رہتا ہے -آنے والی چیز کی خوشی اسے مسرور نہیں کرتی
ایمان ،امید اور محبت

“جو لوگ دوسروں کے دلوں کو کانٹوں سے زخمی کرتے ہیں ان کے اپنے اندر کیکر اگے ہوئے ہوتے ہیں
وہ چاہے یا نہ چاہے ان کے وجود کو کانٹا ہی بننا ہوتا ہے-وہ پھول نہیں بن سکتے”-
لاحاصل

کوئی شخص اپنی بند مٹھیوں میں دھول لے کر آتا ہے اور آپ کی آنکھوں میں دھو ل پھینک کر چلا جاتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر شخص کی بند مٹھی میں دھول ہی ہو جس سے بچنے کے لئے آپ کو اپنی آنکھیں بند کرنی پڑیں
ایمان ،امید اور محبت

دنیا وہ دو دھاری تلوار ہے جس پر ننگے پاؤں چلنا پڑتا ہے – چلنا ہی ہوتا ہے ۔ ۔
پیروں کو زخمی کرنے والی چیز سے کیسے محبت کرنے لگتے ہیں لوگ ؟؟؟ کیوں کرنے لگتے ہیں؟؟؟
لا حاصل

“ زندگی میں ایک چیز ہوتی ہے جسے کمپرومائز کہتے ہیں -پر سکون زندگی گزارنے کے لئے اس کی بہت ضرورت پڑتی ہے- جس چیز کو تم بدل نہ سکو اس کے ساتھ کمپرومائز کر لیا کرو مگر اپنی خوائش کو کبھی جنون نہ بنانا – کیونکہ زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں کبھی نہیں مل سکتیں -
چاہے ہم روئیں ،چلائیں یا بچوں کی طرح ایڑیاں ر گڑیں وہ کسی دوسرے کے لیے ہوتی ہیں -
مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ زندگی میں ہمارے لئے کچھ ہوتا ہی نہیں کچھ نہ کچھ ہمارے لئے بھی ہوتا ہے “-
امربیل

“محبت تاریک جنگل کی طرح ہوتی ہے ،،
ایک بار اس کے اندر چلے جاؤ پھر یہ باہر آنے نہیں دیتی – باہر آ بھی جاؤ تو آنکھیں جنگل کی تاریکی کی اتنی عادی ہوجاتی ہیں کہ روشنی میں کچھ بھی نہیں دیکھ سکتیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔وہ بھی نہیں جو بالکل صاف اور واضح اور روشن ہوتا ہے“-
ایمان؛ امید اور محبت

“بعض دفعہ خاموشی وجود پر نہیں دل پر اترتی ہے پھر اس سے زیادہ مکمل، خوبصورت اور بامعنی گفتگو کوئی اور چیز نہیں کر سکتی اور یہ گفتگو انسان کی ساری زندگی کا حاصل ہوتی ہےاور اس گفتگو کے بعد ایک دوسرے سے کبھی دوبارہ کچھ کہنا نہیں پڑتا- – - -کچھ کہنے کی ضرورت رہتی ہی نہیں“۔ ۔ ۔
لاحاصل

آپ کو پتا ہے اللہ مجھے کیوں نہیں مل سکتا ؟؟ میرے اور اللہ کے درمیان خوائشوں کی دیوار ہے- آسائشوں کی دیوار ہے-میں نے اپنے اردگرد دنیا کی اتنی چیریں اکٹھی کرلی ہیں کہ اللہ تو میرے پاس آہی نہیں سکتا جسے وہ اپنی محبت دے دیتا ہے اسے پھر کسی اور چیز کی ّ خوائش نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ ۔اور جسے دنیا دیتا ہے اس کی خوائش بھوک بن جاتی ہے جو کبھی ختم ہی نہیں ہوتی
شہرِ ذات

“اسے اللہ سے خوف آرہا تھا ۔ ۔بے پناہ خوف ----
وہ کس قدر طاقتور تھا کیا نہیں کر سکتا؟
وہ کس قدر مہربان تھا ۔ ۔ ۔ ۔کیا نہیں کرتا ۔ ۔ ۔انسان کو انسان رکھنا اسے آتا ہے- کبھی غضب سے کبھی احسان سے ۔ ۔وہ اسے دائرے میں رکھتا ہے“
پیر کامل



ایمان کے شیشے پر کتنی ہی گرد اور مٹی کیوں نہ ہو اسے صاف کیا جاسکتا ہے- بس ہاتھ پھیرنا پڑتا ہے اور شیشے میں سے عکس نظر آنا شروع ہوجاتا ہے - - -اور پھر ہر ہاتھ کے ساتھ عکس پہلے سے زیادہ صاف اور چمکدار ہوتا جاتا ہے ۔ ۔ اور وہ ہاتھ اس محبت کا ہوتا ہے جو ایمان سے ہوتی ہے۔۔

(ایمان،امیداو محبت)


انسان کبھی نہ کبھی اللہ کو اپنی عبادت جتاتا ضرور ہے-کبھی اس سے مول تول کے لئے ضرور بیٹھتا ہے -کبی نہ کبھی اس سے عبادت کا سودا کرنے کے لئے اپنے اور اس کے رشتے کو 'پیورلی کمرشل' ضرور بناتا ہے۔۔

(درباردل)۔


انسان کی خوائشات سے اللہ کو دلچسپی نہیں ہے - وہ اس کی تقدیر اپنی مرضی سے بناتا ہے-اسے کیا ملنا ہے اور کیا نہیں ملنا اس کا فیصلہ وہ خود کرتا ہے- جو چیز آپ کو ملنی ہےآپ اس کی خوائش کریں یا نہ کریں وہ آپ کی ہے- وہ کسی دوسرے کے پاس نہیں جائے گی- مگر جو چیز آپ کو نہیں ملنا ہے-وہ کسی کے پاس بھی چلی جائے گی آپ کے پاس نہیں آئے گی۔۔

(ایمان،امید اورمحبت)۔




زندگی میں ہم کبھی نہ کبھی اس مقام پر آجاتے ہیں جہاں سارے رشتے ختم ہو جاتے ہیں-وہاں صرف ہم ہوتے ہیں اور اللہ ہوتا ہے-کوئی ماں باپ،کوئی بہن بھائی کوئی دوست نہیں ہوتا- پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہمارے پاؤں کے نیچے نہ زمین ہے نہ ہمارے سر کے اوپر کوئی آسمان، بس صرف ایک اللہ ہے جو ہمیں اس خلا میں تھامے ہوئے ہے - پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہم زمین پر پڑی مٹی کے ڈھیر میں ایک زرے یا درخت پر لگے ہوئے ایک پتے سے زیادہ کی وقعت نہیں رکھتے- پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہمارے ہونے یا نہ ہونے سے صرف ہمیں فرق پڑتا ہے - صرف ہمارا کردار ختم ہو جاتا ہے - کائنات میں کو ئی تبدیلی نہیں آتی کسی چیز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

پیر کامل صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم


اسلام کو سمجھ کر سیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس میں کتنی وسعت ہے۔ یہ تنگ نظری اور تنگ دل کا دین نہیں ہے نہ ہی ان دونوں چیزوں کی اس میں گنجائش ہے۔ یہ میں سے شروع ہو کر ہم پر جاتا ہے۔ فرد سے معاشرے تک۔ اسلام آپ سے یہ نہیں کہتا کہ آپ چوبیس گھنٹے سر پر ٹوپی، ہاتھ میں تسبیح پکڑے ہر جگہ مصلٰے بچھائے بیٹھے رہیں۔ ہر بات میں اس کا حوالے دیتے رہیں۔ نہیں، یہ تو آپ کی زندگی سے۔۔۔۔۔آپ کی اپنی زندگی سے حوالہ چاہتا ہے۔ یہ تو آپ سے راست بازی اور پارسائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ دیانتداری اور لگن چاہتا ہے۔ اخلاص اور استقامت مانگتا ہے۔ ایک اچھا مسلمان اپنی باتوں سے نہیں اپنے کردار سے دوسروں کو متاثر کرتا ہے۔“

پیر کامل صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم از عمیرہ احمد۔





مجھے کبھی اس چھوٹے، ترقی پذیر، گندے، ٹوٹی سڑہکوں والے ملک کا شہری ہونے پر شرمندگی نہیں ہوئی- شاید اس وجہ سے کیوں کے میں نے کبھی اس کے مسائل میں اضافہ نہیں کیا میں نے ہمیشہ اسے اپنے پاس موجود سب سے بہترین شے دی-
آپ میں سے کوئی بھی اس چیز کو نہیں سمجھ سکتا آج آپ سے آپکا گھر چھین لیا جائے اور پھر آپ لڑ جھگڑ کر میری طرح خون دی کر اس گھر کو واپس لیں تو پھر آپکو وہ ٹوٹا پھوٹا گیا گزرا گھر جنّت سے کم نہیں لگے گا تب آپ کسی کو اسکی دیوار پر ہاتھ تک نہیں رکھنے دیں گے -- کہاں یہ کے کسی کو اندر آنے دیں




میں سوچتا ہوں ابّو بڑھاپا پاکستان میں ہی گزاروں. ساٹھ ستر سال عمر میں یہیں آجاؤں گا. انسان کو دفن اپنی مٹی میں ہی ہونا چاہیے. ہے نا؟

وہ مجھ سے اپنی حب الوطنی کی داد چاہ رہا تھا۔ میں نے اسکا چہرہ دیکھا اور کہا۔۔۔


پاکستان کو تمہارے قبروں ور تابوتوں کی ضرورت نہیں ہے. پاکستان کو تمھاری جوانی اور وہ گرم خون چاہیے جو تمہارے رگوں میں خواب اور آیڈیلزم بن کر دوڑتا ہے. اگر پاکستان کو اپنی جوانی نہیں دے سکتے تو اپنا بڑھاپا بھی مت دو. جس ملک میں تم جینا نہیں چاہتے وہاں مارنا کیوں چاہتے ہو... باہر کی مٹی کی ٹھنڈک مرنے کے بعد برداشت نہیں ہوگی تب اپنی مٹی کی گرمی چاہیے؟ نہیں شاہد جمال آپ وہیں رہیں جہاں آپ رہ رہے ہیں.۔۔۔ ہر شخص کے مقدّر میں باوطن ہونا نہیں لکھا ہوتا. بعض کے مقدّر میں جلا وطنی ہوتی ہے، اپنی خوشی سے اختیار کی جانے والی جلا وطنی۔۔۔۔


مٹھی بھر مٹی

جو لوگ آج جناح کو کافر کہتے ہیں وہ کل جناح کا ہاتھ چوما کریں گے اس کا مزار بنا کر اس پر فاتحہ پڑھا کریں گے جو لوگ آج پاکستان کے مطالبے کو ذہنی فتور کہتے ہیں وہ کل اسی پاکستان میں پناہ لینے کے لئے بھاگیں گے جناح کافر نہیں ہے وو پرکٹیکل مسلمان ہے وہ مولویوں کی طرح دین کی بات نہیں کرتا دین پر عمل کرتا ہے یہ وہ مولوی ہیں جو پچھلے ١٠٠ سال میں ہندوستان کے مسلمانو کو انگریز کی غلامی سے آزاد نہیں کروا سکے اور اب جو آزادی کی بات کر رہا ہے وہ شخص انکو کافر نظر آتا ہے یہ لوگ دستاریں اور چوغے پہن کر بھی اگر میرے لئے آزادی نہیں لا سکے تو مجے اس شخص کے پیچھے کھڑا ہونے دیں جو پینٹ کوٹ پہن کر اور سگار پی کر مجھے وہ زمین لا دے گا جہاں میں بلند آواز میں اذان دوں تو میرا سر کاٹنے کے لئے ہندو اندر نا آ جائیں
__________________
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ


مرے چارہ گر کو نوید ہو صفِ دُشمناں کو خبر کرو
جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چُکا دیا

کرو کج جبیں پہ سرِ کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا


سیپ آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (01-11-11), فیاض انصاری (01-11-11), یاسر عمران مرزا (01-11-11), راجہ اکرام (01-11-11), رضی (01-11-11), شبنم (20-02-11), عبداللہ آدم (20-02-11), عروج (01-11-11)
کمائي نے سیپ کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
20-02-11 عبداللہ آدم jzak allah 100
پرانا 20-02-11, 07:40 PM   #2
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,542
کمائي: 109,255
شکریہ: 25,360
5,342 مراسلہ میں 15,778 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لاحاصل میں نے آج ہی پڑھا ہے جس کا ایک جملہ بہت زبردست لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سے خوش قسمت انسان کون ہو سکتا ہے جو اپنے اختیار کی زندگی پارسائی سے گزارے۔
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
سحر (01-11-11), عروج (01-11-11)
پرانا 01-11-11, 12:16 AM   #3
Senior Member
مقبول
 
فیاض انصاری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2011
مراسلات: 171
کمائي: 2,101
شکریہ: 399
78 مراسلہ میں 126 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت عمدہ پوسٹنگ ۔ شکریہ بہت شکریہ
فیاض انصاری آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-11-11, 12:34 PM   #4
Senior Member
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,914
کمائي: 92,836
شکریہ: 10,016
4,431 مراسلہ میں 12,650 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عمیرہ احمد واقعی بہت خوبصورت الفاظ لکھتی ہیں، ان کے ناول پیر کامل میں‌ان کا انداز اپنے عروج پر ہے۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (01-11-11)
پرانا 01-11-11, 12:52 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 31
مراسلات: 10,476
کمائي: 9,179
شکریہ: 11,156
5,278 مراسلہ میں 11,293 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابوحجاب کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ابوحجاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عمیرہ احمد نے جتنے کمال سے الفاظ کو موتی بنایا سیپ نے انتے ہی کمال سے چند انمول موتیوں کو ایک مالا میں پرو یا ہے

بہت بہت شکریہ ثوبیہ آپی
ابوحجاب آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ابوحجاب کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (01-11-11), عروج (01-11-11)
پرانا 01-11-11, 01:01 PM   #6
Administrator

 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 7,728
کمائي: 193,517
شکریہ: 9,530
6,649 مراسلہ میں 23,777 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
“بعض دفعہ خاموشی وجود پر نہیں دل پر اترتی ہے پھر اس سے زیادہ مکمل، خوبصورت اور بامعنی گفتگو کوئی اور چیز نہیں کر سکتی اور یہ گفتگو انسان کی ساری زندگی کا حاصل ہوتی ہےاور اس گفتگو کے بعد ایک دوسرے سے کبھی دوبارہ کچھ کہنا نہیں پڑتا- – - -کچھ کہنے کی ضرورت رہتی ہی نہیں“۔ ۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ابوحجاب (01-11-11), عروج (01-11-11)
پرانا 01-11-11, 03:05 PM   #7
Senior Member
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 23,466
کمائي: 337,594
شکریہ: 25,733
17,490 مراسلہ میں 44,357 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
“بعض دفعہ خاموشی وجود پر نہیں دل پر اترتی ہے پھر اس سے زیادہ مکمل، خوبصورت اور بامعنی گفتگو کوئی اور چیز نہیں کر سکتی اور یہ گفتگو انسان کی ساری زندگی کا حاصل ہوتی ہےاور اس گفتگو کے بعد ایک دوسرے سے کبھی دوبارہ کچھ کہنا نہیں پڑتا- – - -کچھ کہنے کی ضرورت رہتی ہی نہیں“۔ ۔ ۔
ویسے بھی
تخلیے کی باتوں میں گفتگو اضافی ہے
پیار کرنے والوں کو تو اک نظر ہی کافی ہے
راجہ اکرام آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ابوحجاب (01-11-11), سحر (01-11-11), عروج (01-11-11)
پرانا 01-11-11, 04:06 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 42
مراسلات: 3,749
کمائي: 45,326
شکریہ: 11,681
2,307 مراسلہ میں 5,354 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی تحاریر لگیں ثوبیہ، عمیرہ احمد سے تعارف پر شکرگزار ھُوں۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پھول, پاکستان, پسندیدہ, قدم, لوگ, نظر, ماں, محبت, مسائل, ایمان, اللہ, بہترین, بھائی, بچوں, خون, دوست, دل, دعائیں, رشتے, زندگی, سودا, سال, شخص, طاقتور, عبادت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:44 PM

cpanel hosting 

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2014, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2014,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger