واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > میری ڈائری



میری ڈائری میری ڈائری


قصّہ چہار درویش

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-04-11, 09:03 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,381
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قصّہ چہار درویش

قصّہ چہار درویش

قصّہ چہار درویش



شاہدبھائی ہمارے بڑے پرانے دوستو ں میں سے ایک ہیں ۔ ایک دن کہنے لگے یار منصور بھائی ایک کام کی بتاؤں میں نے کہا پہلے وعدہ کرو بات کام کی ہی ہوگی ۔تو کہنے لگے یار سنو تو میں نے ایک فورم جوائن کیا ہے ۔ہائیں تمہیں مرغیوں میں اتنی دلچسپی کب سے ہوگئی ارے بھائی مرغیاں پوچھ کر تھوڑا ہی مراکرتی ہیں بس ایویں مرجاتی ہیں تم کیوں ان کے پیچھے پڑ گئے اب مرغیوں کا کیا بنے گا ان کے بارے میں تو سوچا ہوتا ۔یار میں پولٹری فارم کی بات نہیں کر رہا ۔ہیں تو پھر پلیٹ فارم ارے یار میں نیٹ پہ اردو فارم کی بات کر رہا ہوں شاہد بھائی نے میری بات کاٹنے ہی میں عافیت سمجھی۔ کون سا فارم ؟ پاک ڈوٹ نیٹ یہ اردو کا ایک مقبول فارم ہی۔ اچھا اچھا اب ہماری سمجھ میں آیا اسے فِل کرنا ہوگا ۔ ابے یہ فل کرنے والا فارم نہیں ہے اس میں کالم لکھے جاتے ہیں بحث و مباحثے ہوتے ہیں لوگ اپنے نظریات شیئر کرتے ہیںوغیرہ وغیرہ۔اوہو تو ایسا کہونہ کہ لڑنے جھگڑنے کا سامان پیدا کر لیا ہی۔ بس کچھ ایسا ہی سمجھ لو شاہد بھائی بولے ۔مگر بھائی اس کا کروگے کیا اس عمر میں۔ تو موصوف فرمانے لگے کہ بھائی میں نے کچھ لکھنے شکھنے کا کام شروع کیا ہے ۔مجھے ہنسی آگئی یار اگر کچھ کرنا ہی تھا تو کوئی ڈھنگ کا کام شروع کیا ہوتااس سے کیا ہوگا لیکن موصوف کی خواہش سن کے ہماری رہی سہی خواہش بھی ہمارا ساتھ چھوڑ گئی کہنے لگے یار میں چاہتا ہوں مرنے سے پہلے کچھ لوگ کم سے کم مجھے جان ہی لیں ۔یہ عجیب سی خواہش سن کے ہمارے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ ہم بھی اپنی آخری خواہش ابھی سے لکھوا دیں۔بہر حال ہم نے حقِ دوستی کے تقاضے کے تحت اپنا حق پورا کرنا ضروری سمجھا او ر کہا کہ یار یہ کیا بات ہوئی میں تمہیں جانتا ہوں تمہارے لئے اتنا کافی نہیں کہ اور لوگ بھی تمہیں جانیں انسان کو اتنا بے صبرا بھی نہیں ہونا چاہئی۔بہر حال اچھا مشغلہ ہے لگے رہو منا بھائی۔
کچھ دن بعد موصوف سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو پھر وہی مرغی کی ایک ٹانگ کہنے لگے ہاں پھر کچھ سوچا میں نے کہا ہاں ہاںکیوں نہیں روز سوچتا ہوں بھول جاؤں تجھے روز یہ بات بھول جاتا ہوںتو کہنے لگے بھائی میں اپنے بارے میں نہیں پاک نیٹ کے بارے میں سوچنے کی بات کر رہا ہوں میں نے کہا ہاں ہاں کیا ہوا اس کو کیا نیٹ ناپاک ہوگیا موصوف کہنے لگے یار اس میں ہمیں ایک پوسٹ مل گئی ہے ہم نے کہا پیسے کتنے ملیں گے تو نظریں جھکا کے کان کھجانے لگے پھربولے یار پیسے تو نہیں ملیں گے ہاں پوائنٹس ضرور ملیں گے میں نے کہا یا ر یہ آج کل مرغی کیا پوائنٹس چل رہی ہے تو ہنس کے کہنے لگے یار تم تو ہم سے مخول کر رہے ہو میں نے کہا میری یہ مجال کہ میں آپ سے مخول کروں میں تو خوامخواہ کر رہا ہوں کہنے لگے کیا مطلب میں نے کہا مطلب یہ کہ ایک کلو مرغی کتنے پوئنٹس میں آئے گی تو فرمانے لگے بھائی یہ اسٹوک ایکسچینج والے پوائنٹس تھوڑا ہی ہیں یہ تو صرف دکھاوے کے پوائنٹس ہیں ۔اچھا تو سیدھا سیدھا کہو نہ کہ یہ ہاتھی کے دانت ہیں ۔اماں چھوڑو یار یہ دیکھو میں نے کیا لکھ مارا چلو دیکھے لیتے ہیں آپ نے کیا تیر مارا ہے ۔
اور جب ہم نے دیکھا تو دیکھا ہی کئے کیا خوب لکھ مارا تھا بھئی واہ سواد آگیا پھر کہنے لگے یہ دیکھ یہ پنجتن کا ٹولہ ہے ۔پنجتن کا ٹولہ کیا مطلب؟ مطلب خود دیکھ لو کہنے لگے پڑھو اور پھر ہم پڑھتے ہی چلے گئے ۔یار یہ کیا بد تمیزی ہے تم نے نیٹ پہ بھی مجھے بدنام کرنے سے نہیں چھوڑا۔
اور پھر واقعی شاہد بھائی نے اپنی دوستی کا حق ادا کردیا ۔ انہو ں نے جو کچھ لکھا خوب لکھا اور جب انہوں نے پنجتن کا ٹولہ لکھ کر مجھے پڑھوایا تو میں سنجیدگی سے یہ سوچنے پر مجبور ہوگیاکہ واقعی یہ ایک اچھا ذریعہ ہے دنیا تک اپنی آواز پہنچانے کا۔
&پنجتن کا ٹولہ لکھ کے شاہد بھائی نے مجھے اپنا مقروض کر دیا اور اب مجھ پر یہ واجب تھا کہ میں ان کا یہ قرض اتاروں یہ اسی قرض کی ادائیگی ہی ہے جس کے لئے میں نے اتنی بڑی تمہید باندھی ہے ۔اس قرض سے سبکدوش ہونے کے لئے میں ایک طویل داستان رقم کر رہا ہوں جس میں جس طرح شاہد بھائی نے میری بے جا تعریف کی ہے میرا بھی حق بنتا ہے کہ میں بھی ان کی باجا تعریف کروں یعنی ان کا باجا بجاؤں۔ میری اس طویل سوانح عمری کا نام ہے '' قصّۂِ چہار درویش " کیوں کہ اس میں ابھی پانچویں شخص ،ذاکر ، کا اضافہ نہیں ہوا تھا یہ اضافہ بہت بعد میں جا کے ہوا تھا ۔
اس کے علادہ ایک بات بڑی عجیب ہے شاہد بھائی کے پنتجن کے ٹولے میں اورمیری شاعری میں وقت کا بہت طویل فاصلہ ہے میں نے یہ شاعری تقریبا 10 12 سال قبل لکھی تھی اور پنجتن کا ٹولہ اتنے عرصے بعد لکھی گئی ہے لیکن ایک چیز جس نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا کہ جب میں نے شاہد بھائی سے یہ سوال کیا کہ آپ نے پنجتن کے ٹولے میں سب سے اوپر میرا نام کیوں رکھا ہے تو وہ کہنے لگے یا ر یہ تومجھے خود پتہ نہیں کہ میں نے ایسا کیوں کیا اور آج جب میں قصہ چہار درویش کو دیکھتا ہوں تو اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ میں نے شاہد بھائی کا نام سب سے اوپر کیوں رکھا تھا تو مجھے بھی اس کا جواب نہیں ملتا کہ میں نے ایسا کیوں کیا تھا حالانکہ میری دوستی زیادہ پرانی شعیب سے تھی لیکن یہ سب اوپر والے کے کھیل ہیں ۔
+یہاں تک کی تمہید میں آپ اتنا تو جان ہی گئے ہوں گے کہ میں وہی منصور ہوں جس ناچیز کو شاہد بھائی نے پنجتن کے ٹولہ میں سر فہرست رکھا ہے اور یہی کچھ قصہ چہار درویش میں بھی ہوا ہے ۔ لیکن میں یہ بات اس لئے نہیں بتا رہا کہ یہ میرے لئے کوئی فخر کی بات ہے بلکہ اس تمہید کا مطلب صرف اتنا ہے کہ جب شاہد بھائی نے پنجتن کا ٹولہ لکھی تو میں اسکرین سے آؤٹ تھا لیکن آج میں آپ کے سامنے ایک اور داستان بیان کرنے جا رہاہوں تو اس داستان کا اول کردار آپ کے سامنے ہے اس وقت غائب کی تعریف تھی لیکن اس وقت خاضر کی تعریف ہے جس سے آپ سب حضرات واقف ہیں ۔
یہ طویل داستان جس کو میں نے قصہ چہار درویش کا نام دیا ہے 180 اشعار پر مشتمل ہے ،کئی محافل کی زینت بن چکی ہے سنی اور پڑھی جاتی رہی ہے میں اسے آپ لوگوں سے شیئر کرتے ہوئے دلی خوشی محسوس کر رہا ہوں ۔اب چونکہ یہ کافی طویل قصہ ہے اس لئے یہ کئی اقساط پر مشتمل ہے ۔اس کے شروع کے اشعار میں شاید آپ کو کچھ بے ربطگی نظر آئے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ساتھ جو حالات چل رہے تھے اس سے ہم چاروںہی متاثر اور واقف تھے اس لئے کسی خاص تفصیل کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی لیکن کیا خبر تھی تیری محفل میں سنانا ہوگا۔ اگر آپ تھوڑی سی توجہ دیں گے تو اس بے ربطگی میں بھی اس ربط کو پا لیں گے جسکی یہ متقاضی ہے ۔دوستوں یہ شاہد بھائی کا ایک قرض تھا جو مجھے اتارنا تھا انہوں نے جس محبت اور اپنائیت کا ثبوت دیا ہے مجھ پر بھی لازم تھا کہ میں بھی اس محبت کا جواب اسی محبت اور اپنائیت سے دوں ۔تو لیجئے اس قصہ سے محظوظ ہوئیے ۔
باقی باقی


وہ گزری عمر کا زمانہ ہمارا
اجل دیکھ کر جس کو کرلے کنارا

سناتاہوں تم کو میں روداد اپنی
ہے قلب و جگر پاش فریاد اپنی

وہ قصے وہ باتیں وہ لمبی کہانی
کہ ہو طولِ شب کا جگر جس سے پانی

بٹیروں کے قصے لٹیروں کے قصی
وہ دنیا جہا ں کے بکھیڑوں کے قصی

ہوئی جب بغل گیر ہم سے جوانی
تو ہنسنے لگی زندگی کی کہانی

یوں ہنسنے ہنسانے میں گزرہ لڑکپن
پھر ہم دوش ہم سے ہوئے آکے سب غم

جماعت تھی اک جس کا چرچا بہت تھا
گراں زندگانی کا پرچہ بہت تھا

پئے ذوق آسانی اس میں گئے ہم
یہ سمجھے کہ جنت میں گھر پا گئے ہم

اسی بل پہ بس ناؤ بہتی تھی اپنی
کہ جنت تو بس گھر کی کھیتی تھی اپنی

ہوا کچھ زمانہ یونہی آتے جاتے
کسی کو ہنساتے کسی کو رلاتے

ملے ہم سخن کچھ اسی ہاؤ ہو میں
مدامی ہوئے ایک تھے رنگ و خو میں

اگر ایک روئے رلائے سبھی کو
اگر ایک خوش تو ہنسائے سبھی کو

اگر ایک کھائے تو سب کو کھلائے
اگر ایک مفلس تو سب بھوکے آئے

غرض کیا بیاں ان کی یک جانیاں ہوں
سفر میں حضر میں جو قربانیاں ہوں

جو باتوں میں بیٹھیں تو راتیں ہوں چھوٹی
اسی میں کئی ایک راتیں ہوں کھوٹی

ہو ا غلغلہ ایک زمانے میں ان کا
نہیں کوئی ثانی گھرانے میں ان کا

مثالِ مہر بن کے چمکے فلک پر
تھے عشاق ان کی فدا اک جھلک پر

مبلغ تھے چاروں مثالی کمالی
خلف میں کسی نے نہ گدی سنبھالی

مگر ہیں زمانے کے دستو ر اعلی
بنے وہ ہی دشمن جو جپتے تھے مالا

تھا جرم ان کا علم و عمل کی کسوٹی
جماعت تھی لیکن سرابوں میں کھوٹی

جماعت تھی تقلیدکی خو میں پکی
نہیں تھی گوارہ کوئی بات سچی


اس منظوم قصے کا دوسرا حصہ یہاں‌سے پڑھیئے:
قصہ چہار درویش ''دوسری قسط ''

M A Ansari

Last edited by shafresha; 06-04-11 at 08:34 AM. وجہ: لنک کا اضافہ!
M A Ansari آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-04-11), نورالدین (05-04-11), منتظمین (06-04-11), حیدر (04-04-11)
پرانا 04-04-11, 09:09 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

الســلام علیـــکم

ہو ا غلغلہ ایک زمانے میں ان کا
نہیں کوئی ثانی گھرانے میں ان کا

مثالِ مہر بن کے چمکے فلک پر
تھے عشاق ان کی فدا اک جھلک پر

شیئرنگ کا شُکریہ
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-04-11), نورالدین (05-04-11)
پرانا 04-04-11, 09:14 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
۔مگر بھائی اس کا کروگے کیا اس عمر میں۔ تو موصوف فرمانے لگے کہ بھائی میں نے کچھ لکھنے شکھنے کا کام شروع کیا ہے ۔مجھے ہنسی آگئی
ہاہاہاہا۔۔۔ واقعی ۔ مجھے بھی بہت ہنسی آئی۔ منتطمین تو پھر بھی "سرورق کے لیے پیش کریں" لکھ ڈالتے ہیں یہ تو ان سے بھی بڑے کنجوس ہیں لکھنے کے معاملے میں۔ ہاہاہاہاہاہا شافی بھائی نے لکھنے کا کام شروع کیا ہے ،،،،،، حد ہے یار۔۔،۔ سارے دن کی تھکاوٹ اتار دی اس جملے نے۔ شکریہ انصاری چچا یا بھائی
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (04-04-11)
پرانا 04-04-11, 09:20 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قصہ چہار درویش منظوم کی تمہید تو خوب تھی ۔ جب قصہ شروع ہو گا تو اُمید ہے مزا آئے گا۔

اگر شاعری کے ساتھ ساتھ نثر کا بھی تڑکہ لگتا رہے تو کیا ہی بات ہو۔

اگرتو اس تھریڈ کو آگے بھی چلانا ہے تو میری درخواست ہے کہ اس کو چپکو کر دیا جائے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (04-04-11)
پرانا 04-04-11, 09:36 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,381
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یار حیدر بھائی میں آپ کو چچا کدھر سے لگا ابھی تو میں جوان ہوں ابھی تو میں جوان ہوں
دوسری بات یہ کہ مجھے ابھی چپکو کرنا نہیں آتا اور تیسری بات یہ کہ یہ کافی طویل داستان ہے سرورق اس کو افورڈ کر لےگا ؟ اور یہ منظوم ہی ہے آپ ابھی دیکھتے جائیں آگے آگے ہوتا ہے کیا ویسے ابھی آج ہی میری تحریر سرورق پر لگی ہے یہ کچھ زیادہ ہی ہو جائے گی۔
M A Ansari آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-04-11), حیدر (04-04-11)
پرانا 04-04-11, 09:48 PM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق سب کُچھ افورڈ کر لیتا ہے۔ پہلے آپ مکمل تو کر لیں ۔ پھر دیکھیں گے انشا اللہ

چپکو کرنے کے لیے چپکو سپیشلسٹ سے رابطہ کرنا پڑتا ہے یعنی فورم کے ناظم سے۔
اُمید ہے کہ اگر کوئی ناظم یا ناظم اعلیٰ اس تھریڈ کا طوفانی دورہ کرے گا اور میری گزارش پر ہمدردانہ غور کرے گا تو اسکو چپکا بھی دے گا۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (04-04-11)
پرانا 04-04-11, 10:28 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,381
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ حیدر بھائی اگر ایسا ہوجائے تو مزہ آجائے گا
M A Ansari آف لائن ہے   Reply With Quote
M A Ansari کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (04-04-11)
پرانا 05-04-11, 11:52 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,381
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قصہ چہار درویش ''دوسری قسط''

امیرِ جماعت کی ہر بات مانیں
کہے رات کو دن تو دن اسکو جانیں

امیر ان کا ہو گر کسی کے مخالف
تو پوری جماعت ہو اس کے مخالف

اگر بات سچی کو کہ دے غلط وہ
کسی کی مجال ان کو کہ دے غلط وہ

جماعت ہوئی ایسی اس خو میں پکی
عمر بھر چلے جیسے کولہو کی چکی

غرض خضر کی رہبری واں تھی بے جا
نصیحت ،ہدایت ،حکایت تھی بے جا

وہاں علم و عرفاں کی باتیں ندارد
شہود و حضوری کی راتیں ندارد

وہ جوہر جو تھا حاصلِ علم و عرفاں
ہوا خوئے تقلید سے ان میں ارزاں

اسی قافلے میں وہ چاروں تھے شامل
نہ خوگر تھے تقلید کے تھے وہ کامل

سمجھنا پرکھنا کسوٹی پہ کسنا
کرامات سن کے نہ باتوں میں پھنسنا

اسی واسطے لوگ جلتے تھے ان سے
ولیکن نہیں بات کرتے تھے ان سے

جماعت تھی تنقید پر کمر بستہ
نہ خالی تھا تنقید سے کوئی رستہ

جدھر دیکھئے گرما گرمی یہی ہے
کہ جیسے جماعت کی منزل یہی ہے

گئی پیر تک ان کے یہ گرما گرمی
نہ پہنچے اصل تک تھی خم دل کی چمنی

مریدوں کا بھرنا عجب رنگ لایا
مریدوں کی باتوں نے قبضہ جمایا

اب اس رات کا مجھ سے قصہ سنو تم
جسے سن کے اپنے سروں کو دھنو تم

خوابوں خیالوں میں گم رات تھی وہ
اشاروں کنایوں کی بارات تھی وہ

اٹھایا پیامی نے اک اک کو گھر سے
امیر جماعت بھی آئے تھے گھر سے

چلے گھر سے اپنے پریشاں و رنجور
اشفاق و شاہد ،شعیب اور منصور

نہ تھی حاضری کچھ یہ نیکی کی خاطر
گماں اس میں مضمر تھا لوگوں کی خاطر

جو پہنچے وہاں لوگ تکتے تھے ہم کو
بہت بد گماں لوگ لگتے تھے ہم کو

غرض مختصر بات امیر ہم سے بولے
کمالِ تکلم کے گر ہم پہ کھولے

بہت طول کھینچا کہانی نے ان کی
شکستہ کیا لن ترانی نے ان کی

کی حجب تمام ان کی اس لے نے آخر
کہ اشفاق و شاہد کی ہے بات آخر

ہے پابندی تم دو پہ ملنے کی باہم
نہ مانوں گے گر تم تو ہوں گے مزاحم

تمہارے عمامے بھی لیتے ہیں واپس
نہیں تم ملوگےکسی سے بھی اب بس

نہ تم درس دوگے نہ تم درس لوگے
کسی کام میں تم نہ شرکت کروگے

ولیکن یہ دو نام کیا ہیں تمہارے
شعیب اور منصور لڑکے پکارے

تمہیں اتنی مہلت ہے میری طرف سے
نہیں ہو شکایت تمہاری طرف سے

یہ ہے آخری موقع منصور تم کو
اور اے بھائی حافظ یہی تم بھی سمجھو

بس اب جاؤ واپس کرو جو کہا ہے
اسی کام میں اب تمہارا بھالاہے

یہ اک باب تھا زندگی کا ہماری
اسی میں چھپی تھی جوانی ہماری


M A Ansari
M A Ansari آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-04-11), فیصل ناصر (06-04-11)
جواب

Tags
color, فورم, فارم, پوسٹ, پاک, قصہ, لوگ, محبت, آج, انسان, اردو, اسکرین, اشعار, جواب, جرم, حال, حضرات, خبر, دیکھو, زندگی, زمانہ, سال, شاعری, شخص, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ڈیرہ اسمٰعیل خان میں تباہی کی چند تصاویر ام طلحہ میرا پاکستان 12 25-12-11 12:41 AM
کونسی ویب سائٹ ،تصاویر اور ویڈیوز کے لیے لامحدود اسٹوریج کی سہولت فراہم کرتی ہے عبیداللہ عبید Ask Experts ماہرین کی رائے 3 29-03-11 04:53 PM
وکی پیڈیا ویب سائٹ پر پیغمبرِ اسلام کی خیالی تصاویر شائع کرنے پر مسلمانوں کا شدید احتجاج champion_pakistani خبریں 18 21-12-10 09:29 AM
انڈیا میں عید الفطر ( تصاویر ) نورالدین عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ 2 20-09-10 05:50 PM
ویب سا ئیٹ پروفشنل کمپنی سے بنوائیں ، ویب ہوسٹنگ اور ڈومین ۔۔۔۔۔۔ محمد عامر ریاض آپکے کاروباری اشتہارات 23 20-04-09 01:22 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:31 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger